Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 15 - By Munaza Niaz - Urdu Novel - Possessive Hero - Revenge base

 


زہرِ عشق

قسط 15

از منزہ نیاز 


سورج کی سنہری روشنی شیشے سے چھن کر آتی اس کے معصوم چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ ایک فائل پر جھکی اس پر تیز تیز سائن کر رہی تھی۔ 


اذان بالکل اس کے سامنے بیٹھا بغور اس کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اٹھا اور اس کے پاس چلا آیا۔ ایشل نے فائل بند کی اور سیدھی ہو کر اس کو دیکھا۔ 


"تمہیں معلوم ہے، اس شہر میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ ایک طاقت کے آگے جھک جاتے ہیں اور دوسرے جو طاقت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔"  

اذان نے ہلکی اور ٹھنڈی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ایشل کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم بکھرا۔


"اور تم چاہتے ہو میں دوسروں کی طرح جھک جاوں۔"  


اذان ایک قدم اور پاس آیا اور سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔


"نہیں! میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ کھڑی ہو۔ میری شریک جرم۔۔۔ میری شریک حیات۔۔۔ میرے ملکہ۔"  


ایشل نے گہری سانس لے کر نظریں جھکائیں، پھر دوبارہ اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

" اور بدلے میں؟"  


اذان کی آنکھیں گہری ہوئیں۔


"بدلے میں تمہیں اس شہر کا آدھا تخت ملے گا اور باقی آدھا ہم دونوں مل کر جلا دیں گیں۔"  


آفس روم میں ایک پل کو خاموشی چھا گئی۔ اذان نے جیب سے ایک مخملی ڈبا نکالا۔ کھولا تو اندر سیاہ ڈائمنڈ کی انگوٹھی تھی۔ 


نایاب اور خطرناک حد تک دلکش۔ 


"ایشل رحیم! کیا تم میرے ساتھ اس کھیل میں اترنے کو تیار ہو؟"  

اذان نے سنجیدہ چہرے کے ساتھ کہا۔


ایشل نے وہ انگوٹھی اٹھائی اور سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ہونٹوں پر گہری، پر اسرار مسکراہٹ تھی۔  


" تیار؟ میں تو اس کھیل کی اگلی چال ہوں اذان شاہ ویر۔"  


اذان نے وہ انگوٹھی لی اور اس کو پہنا دی۔ دونوں کی نظریں ملیں اور دونوں نے ہی نظریں نہیں چرائیں۔


☆☆☆


سناٹے کو گاڑی کی آواز نے توڑا تھا۔ یحیی تیزی سے باہر نکلا۔ ہیڈ لائیٹس کی روشنی سیدھا زاویان پر پڑی رہی تھی۔ وہ گیراج کے باہر ایک کرسی پر بیٹھا، سیدھ میں دیکھ رہا تھا۔ یحیی اس کے پاس گیا۔


آسمان پر ہلکے ہلکے سفید بادل اور چاند کی دودھیا روشنی زمین پہ گر رہی تھی۔ یحیی نے دھیرے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا۔ اسے رایان کی موت سے زیادہ زاویان کی حالت کا دکھ تھا۔


" زاویان۔۔۔۔کیا تم ٹھیک ہو؟ مجھے پتہ ہے تم بہت جلد رایان کے قاتل کو۔۔۔" 


"اذان۔"  


زاویان کے ہونٹ ہلے۔ یحیی نے دھیرے سے ہاتھ اس کے کندھے سے ہٹا دیا۔


" کیا؟"  

" اذان نے مارا اسے۔"  

زاویان آہستہ، دھیمی سرگوشی میں بولا۔ یحیی کچھ بول نہیں سکا۔ 


" تو جانتا ہے میں کتنا برا انسان ہوں۔ مجھے حق بھی نہیں کہ میں خود کو بھائی کہلوا سکوں۔ رایان۔۔۔ میرے دل کا ٹکڑا۔۔۔ کیسے۔۔۔ کیسے اس اذان نے اسے مار دیا۔ کیسے اس کے ساتھ۔۔"  


زاویان کے لفظ ٹوٹ گئے۔ 


"اگر ابھی تھوڑی دیر پہلے دانش آ کر مجھے نہ بتاتا کہ اذان اصل میں قاتل ہے۔۔۔ تو میں اس لڑکی کو مار چکا ہوتا۔"  

زاویان کا لہجہ بدلا تھا۔ زخم کھل گئے تھے۔ 


"وہی لڑکی؟ جس کا ذکر اس دن اذان نے آفس میں کیا تھا۔"  

یحیی نے کچھ یاد آنے پر کنفیوز ہو کر پوچھا۔ 


زاویان کی گلٹی ابھری۔ اس کی آنکھیں سرخ ہوئیں۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ 


یحیی نے گہری سانس لی۔ دونوں ہی سمجھ گئے کہ اذان نے انہیں بے وقوف بنا کر کھیل میں پھنسایا تھا۔


" اب تم کیا کرو گے؟"  

یحیی نے کچھ سوچ کر آہستہ سے پوچھا۔


" میں رایان کا بدلہ لوں گا، مگر اذاناتنی آسان موت کا حقدار نہیں ہے۔ میں اس کا اس سے بھی بدتر حشر کروں گا جیسا اس نے رایان کے ساتھ کیا۔"  


اور پھر لایان کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔


روتی ہوئی خوفزدہ آنکھیں۔ بکھرے بال اور خوبصورت چہرہ۔ جس کو بیسمنٹ کی تاریکی اور اس کے اپنے ہاتھوں کے سلوک نے برباد کر دیا تھا۔ 


زاویان کے دل کی دھڑکن سست ہوئی۔ سمجھ نہیں آیا یہ احساس کیا ہے۔ 


"زاویان میں اس لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔"  

یحیی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ زاویان کھڑا ہوا اور گاڑی کی طرف بڑھا ۔


"اس لڑکی کا نام کیا ہے ویسے؟"  


" لایان ہاشمی۔" 

زاویان نے بنا اس کی طرف دیکھے کہا۔ 


ان کی گاڑیاں آگے پیچھے حویلی میں داخل ہوئی تھیں۔ زاویان نے ایک سیکنڈ سوچا اور گاڑی سے نکل کر سیدھا ٹارچر روم کی طرف بڑھا۔ 


یحیی اس کے ہم قدم تھا۔ زاویان نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ کمرہ خالی تھا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک اٹھا۔ 


وہ فورا بیسمنٹ کی طرف بھاگا۔ بنا سوچے سمجھے۔ یحیی اس کے پیچھے تھا۔


اس نے تیزی سے بیسمنٹ کا دروازہ دھکیلا۔ گہرا اندھیرا۔ گھٹن بھرا ماحول۔ اس کی نظر سیدھا فرش پر گئی۔ جہاں وہ گہری نیند میں بے خبر سو رہی تھی۔ جیسے صدیوں کے بعد چین کی نیند سوئی ہو۔ 


اس کے بال بکھرے اور الجھے ہوئے تھے۔ زاویان کے قدم بھاری اور سست ہوئے۔ وہ اس کی طرف بڑھا۔


یحیی آگے آیا۔ ایک نظر زاویان کو دیکھنے کے بعد اس نے لایان کی طرف دیکھا۔ غور سے۔۔۔۔ جیسے کچھ تلاش رہا ہو۔ تب ہی اسے جھٹکا لگا۔ 


یہ لڑکی تو وہی تھی جو اس دن روحا کے ساتھ تھی۔ جب اس نے ان دونوں کو پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ کنفیوز سا ایک قدم پیچھے ہٹا۔ دماغ میں ایک ہی سوال گونجنے لگا تھا۔


یہ کون ہو سکتی ہے؟ روحا کی بہن؟  دوست یا کزن؟ اور اگر کبھی روحا کو معلوم ہوا، اس سب کے بارے میں۔ تب وہ کیا کہے گی؟ کیا سوچے گی؟ یحیی نے ماتھا مسلتے زاویان کی طرف دیکھا۔ 


" چھوڑ دو اس کو۔ جانے دو۔"  

اس نے نرمی سے کہا پھر تیزی سے پلٹ گیا۔


زاویان کی نظر لایان پر ٹکی ہوئی تھیں۔ وہ ٹٹکی باندھے اس کو دیکھ رہا تھا گویا یحیی کو سنا ہی نہ ہو۔


وہ پنجوں کے بل دھیرے سے اس کے پاس جھکا۔ لایان ہلکا سا ہلی اور پھر آنکھیں کھول دیں۔ نظر سیدھا زاویان  پر گئی۔ اس نے نیند بھری آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ زاویان کا دل الجھا، سانس اٹکی۔ لایان تیزی سے اٹھی۔


" تم۔۔۔ آگئے؟" 

زاویان چپ رہا، بس دیکھتا رہا۔ لایان نے نفرت سے اس کو دیکھا۔


" میں یہاں اس لیے تھی تاکہ تمہیں یاد دلا سکوں کہ تم کون ہو۔"  

زاویان نے اب بھی کچھ نہیں کہا۔ بس خاموش، گہری نگاہوں سے دیکھتا رہا۔ 


" تم ایک بے حس انسان ہو۔۔۔۔ بلکہ ایک شیطان اور۔۔۔"  

وہ رک گئی، جیسے الفاظ ڈھونڈ رہی ہو۔ زاویان کا چہرہ بے تاثر رہا اور تب وہ بول اٹھا۔


" ہاں۔۔۔شیطان۔۔۔قاتل۔۔۔۔ پتھر دل۔۔۔انسانیت سے خالی۔۔۔اور تم جیسے کمزور لوگوں کا خدا بن بیٹھا تھا۔" 

وہ خود پر ہنسا جیسے اپنی اصلی تصویر دیکھ رہا ہو۔ 


لایان جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔ ابھی وہ قدم اٹھاتی، زاویان نے راستہ روک لیا۔ اس نے حیرت سے اس کو دیکھا۔


" اب کیوں روک رہے ہو؟ کیا مار کر ہی چھوڑو گے؟"  

وہ ایک دم چلائی تھی۔ آنکھوں میں آنسو آ کر ٹھہر گئے تھے۔ وہ چپ رہا۔


وہ پھر سے جانے لگی تبھی زاویان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے کر لیا۔ 


اس کا رکا ہوا آنسو بہہ نکلا۔ 


"ہاتھ چھوڑو میرا۔" 

اس نے گال صاف کرتے ہوئے ہاتھ کھینچا۔ زاویان بنا کچھ کہے اسے پکڑے باہر نکلا۔ 


اس طرح نہیں، جیسے پہلے لے کر گیا تھا۔ گھسیٹ کر۔۔۔ سختی سے۔۔۔ غصے سے۔ 


بلکہ اس بار اس کی پکڑ ہلکی مگر مضبوط تھی۔ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اور حیرت انگیز طور پر وہ حیران بھی نہیں تھا۔ 


اوپر جا کر اس نے ایک بند کمرے کا دروازہ کھولا اور اسے اندر لے گیا۔


" اب کیوں قید کر رہے ہو؟ جانے کیوں نہیں دیتے؟" 

وہ غصے سے بولی۔ ہاتھ ایک جھٹکے سے کھینچا۔ زاویان نے بنا کچھ کہے اپنا موبائل نکال کر کال ملائی۔


" یہ لڑکی حویلی میں کہیں بھی جا سکتی ہے، سوائے باہر کے۔" 


لایان نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ جیسے ہی وہ جانے لگا وہ اس کے سامنے آگئی۔


"پلیز جانے دو مجھے، میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔"  

اس کی آواز میں التجا تھی۔ 


زاویان نے کچھ نہیں کہا بلکہ دروازے کی طرف بڑھا۔ لایان کا دماغ سن ہو گیا۔ اچانک اس کے سامنے بیسمنٹ کا اندھیرا گھوم گیا۔ 


وہی گھٹن، وہی تنہائی، وہی ڈر۔ سب ایک ساتھ اس کے دماغ پر ہاوی ہو گئے۔ اس کے دل کی دھڑکن مدھم ہو گئی۔


زاویان جیسے ہی دروازے کے قریب پہنچا۔ وہ الٹے قدم کھڑکی کی طرف بھاگی۔ زاویان کے کان کھڑے ہوئے۔ وہ پلٹا اور اگلے سیکنڈ اس کی طرف بھاگا۔ 


وہ جو کھڑکی سے کودنے والی تھی۔ ایک جھٹکے میں اس کا ہاتھ زاویان کی سخت گرفت میں آیا تھا۔ 


وہ ہوا میں ہی جھول گئی۔ زاویان نے تیزی سے اسے اوپر کھینچ لیا۔ وہ اس کے سینے سے ٹکرائی، دونوں کا بیلنس بگڑ گیا۔ وہ غصے سے دور ہوئی۔ 


" چھوڑ دو مجھے۔ تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو؟ میں مر جاؤں گی مگر تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی۔"  


اس کا ضبط جواب دیا گیا، وہ چیخ پڑی۔ زاویان کا چہرہ سخت ہوا۔ 


" میں تمہیں مرنے نہیں دوں گا۔سمجھی! تمہارا مرنا میری مرضی سے ہوگا تمہاری نہیں۔"  

لایان کا دل رک سا گیا۔ دماغ خالی اور آنکھیں ویران ہو گئیں۔ 


اس کا ہاتھ ابھی بھی زاویان کی گرفت میں تھا۔ 


" تم اگر بھاگی۔۔۔ تو میں تمہیں واپس لے آؤں گا۔ چاہے تم جتنی بھی نفرت کرو۔" 


زاویان نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور تیزی سے پلٹ گیا۔ لایان کی آنکھیں دھندلا گئیں۔ 


کچھ دیر بعد چہرہ صاف کرتی وہ کھڑکی تک آئی اور نیچے جھانک کر دیکھا۔


وہاں زاویان کی آدمی کھڑے تھے۔ اس کے ہاتھ کانپے اور وہ دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی آئی اور بیڈ پر گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔


جاری ہے۔

Comments

Post a Comment

Popular Posts