Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 16 - by Munaza Niaz - Urdu Novel - Possessive Hero

 


زہرِ عشق

قسط 16

از منزہ نیاز 


اذان ولا کا بڑا سا ہال سنہری روشنی سے چمک رہا تھا۔ ہر طرف سیاہ سوٹ میں ملبوس گارڈز اور مہمان۔ 


اذان اپنے ٹیلرڈ تھری پیس سوٹ میں ایشل کے ساتھ کھڑا تھا۔ ایشل نے گہرا مہرون سلک کا نفیس اور خوبصورت کام والا برائڈل لہنگا پہن رکھا تھا۔ 


دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ ان کے آگے دو اور پیچھے تین گارڈز تھے۔ ہال میں سب کی نظریں ان پر تھیں۔ نکاح ہو چکا تھا۔ اذان نے اس کی طرف دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔


ایشل کی مسکراہٹ سمٹی۔ ان کی شادی نہ محبت کی تھی نہ عشق کی اور نہ ہی نفرت کی۔


"آج سے تم میری زندگی کا حصہ بن چکی ہو، لیکن یاد رکھنا یہ رشتہ محبت کا نہیں، طاقت کا ہے اور طاقت میں کسی سے شیئر نہیں کرتا۔" 

وہ اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا۔ 


ایشل نے ہاتھ کھینچنا چاہا مگر اذان کی گرفت اور مضبوط ہو گئی۔ وہ ہل نہیں سکی۔ اسے لیے وہ اسٹیج کی طرف بڑھا۔ کھانا کھول دیا گیا۔


اذان نے اس کا ہاتھ ابھی تک پکڑ رکھا تھا۔ اس کے اندر کچھ بدلنے لگا مگر اس نے چہرہ بے تاثر ہی رکھا۔ وہ کچھ بھی نہیں کھا رہی تھی بس مسکراتے ہوئے سامنے دیکھ رہی تھی۔


" تمہاری دنیا بدل چکی ہے، تم میری ملکیت ہو۔ تم میرے پاس میرے رولز کے مطابق رہو گی اور میرا پہلا رول ہے تم مجھے " کبھی نہ "  نہیں کہہ سکتی۔"  

وہ ہلکا سا اس کی طرف جھکا۔ ایشل ابھی بھی مسکراتی رہی۔ 


" جتنی خوبصورت تم آج لگ رہی ہو اتنی ہی خطرناک بھی۔ مجھے مزہ آئے گا تمہیں اپنا بنانے میں۔"  

ایشل نے چہرہ موڑ کر سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ پھر بنا کچھ کہے چہرہ واپس موڑ لیا۔


اذان نے آہستہ سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ مہمان دھیرے دھیرے رخصت ہونے لگے۔ ہنسی اور شور مدھم پڑ گئے۔ 


اذان نے سب کے جانے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں لے آیا۔ کمرے میں ٹھنڈک اور اذان کے پرفیوم کی ہوش اڑا دینے والی خوشبو تھی۔ 


پورا کمرہ سیاہ گلابوں سے سجا تھا۔ اذان نے کوٹ اتار کر اپنی جگہ پر رکھا۔ ایشل ڈریسنگ کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی اور اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی۔ 


اذان بھاری قدم اٹھاتا اس کے قریب چلا آیا۔ اس نے غور سے ایشل کو دیکھا۔ اس کے معصوم اور خوبصورت چہرے پر نرم مسکراہٹ تھی۔


" تمہیں پتہ ہے نا کہ دنیا تمہیں ایک بیچاری اور سیدھی سادی لڑکی سمجھتی ہے۔"  

وہ ایک اور قدم پاس آیا۔


" مگر اصل میں تم معصوم ہو ہی نہیں۔"  

وہ ہنسا۔ 


ایشل کے ہاتھ رکے۔ اس نے چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔


" تو تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں؟"  

ایشل کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ بکھری۔


" شیطان!  اور حیرت کی بات یہ ہے کہ تم اس چیز کو چھپانا جانتی ہو۔"  

اذان کی آنکھوں کا رنگ گہرا ہوا۔ اس کے لبوں پر ترچھی مسکراہٹ تھی۔


" اور تم کون ہو اذان شاہ ویر؟"  

ایشل کی بڑی بڑی آنکھوں میں شیطانی چمک تھی۔ اذان اس کے کان کے قریب جھکا۔ 


" میں وہ ہوں جو تمہاری اس شیطانی کا مالک بنے گا۔"  

اس نے ایشل کا دوپٹہ پکڑ لیا۔ ایشل نے سیدھا اس کی طرف دیکھا۔


" میں بھی دیکھنا چاہوں گی کہ تم کتنے دنوں تک سنبھال پاؤ گے۔"  

اذان اسی طرح مسکراتا رہا اور اس کا دوپٹا اتار کر نیچے گرا دیا۔


☆☆☆


یحیی کی کار فارم ہاؤس میں داخل ہوئی۔ ہر طرف گہرا سکوت تھا۔ وہ باہر نکلا۔ اس کی آنکھوں میں کنفیوژن تھی۔ وہ سیدھا اندر داخل ہوا۔ 


پہلے کمرے میں، پھر کوریڈور پھر لاونچ اور پھر چھت پر۔ سب کچھ خالی تھا۔ اس کا دماغ ہل گیا۔


" روحا۔"  

اس نے پکارا اور فارم ہاؤس کی پچھلی سائڈ پر چلا گیا لیکن وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔


وہ بھاگ کر اپنے جم خانہ گیا پھر کچن میں۔ پورا فارم ہاؤس خالی تھا۔ اس کے دل کے دھڑکن تیز ہوئی۔


" یہ۔۔۔ یہ کہاں گئی؟ فارم ہاوس تو لاک تھا پھر وہ کیسے کہی جا سکتی ہے۔؟"  

اگلے سیکنڈ وہ گیٹ کی طرف بھاگا اور بنا سوچے روڈ پر بھاگنے لگا۔ 


" روحا۔۔۔"  

ہر دوسرے سیکنڈ وہ اسے پکار رہا تھا۔ 


کبھی قدم ہلکے کبھی تیز ہوتے۔ کبھی رک کر چاروں طرف دیکھتا کبھی پکارتا اور پھر سے بھاگنے لگتا۔ لیمپ پوسٹ کی روشنی لمبے سائے بنا رہی تھی۔ 


پیچھے دور کہیں گیٹ کے دروازے سے کوئی باہر نکلا تھا۔ اس کا چہرہ ہلکی روشنی میں واضح ہوا۔ اس نے پہلے یحیی کو آگے بھاگتے دیکھا اور پلک جھپکتے وہ اس کی الٹی سمت بھاگی۔ 


یحیی جیسے ہی مڑا اسے وہ دوسری سمت بھاگتی دکھائی دی۔ روحا اپنی پوری طاقت سے دوڑ رہی تھی۔ سر پر لیا دوپٹہ سرک کر کندھے پر آگیا تھا۔ اس نے ایک بار بھی مڑ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ جیسے ہی اس نے محسوس کیا کہ وہ یحیی کی دسترس سے دور ہو چکی ہے تب ہی ایک مضبوط ہاتھ نے اس کا بازو جھپٹ لیا۔ اسے جھٹکا لگا۔ یحیی نے اسے گھما کر اپنی طرف کھینچ لیا۔


" چھوڑو مجھے۔۔۔ میں نے کہا میرا بازو چھوڑو۔"  

وہ چلائی۔ اگلے لمحے اس کا ہاتھ اٹھا مگر یحیی نے اس کا دوسرا بازو بھی پکڑ لیا۔ 


" پاگل ہو گئی ہو تم؟"  

یحیی گرجا۔ روحا کی آنکھیں سلگنیں لگیں۔


" ہاں پاگل ہو گئی ہوں۔ چھوڑو مجھے، میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ جانے دو مجھے۔"  

اس کا ضبط ٹوٹا۔ اس نے زور سے بازو جھٹکے۔ یحیی کی گرفت اور مضبوط ہو گئی۔


" بکواس بند کرو اور واپس چلو۔" 

روحا نے زور سے پیر زمین پر مارے۔


" مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا۔ میں نہیں رہنا چاہتی تمہارے ساتھ۔ گھٹن ہوتی ہے مجھے، سارا دن اکیلی پڑی رہتی ہوں، میرا دم گھٹتا ہے، نفرت ہے مجھے تم سے۔"  

اس کی آنکھوں کے کونے گیلے ہو گئے۔ 


یحیی کا چہرہ نرم ہوا۔

" تم جو بھی سوچو، جو بھی کہو، میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔ چاہے تم مجھے پسند کرو یا نہ کرو۔ تمہارے بغیر جینے کا سوچتا ہوں تو میری سانسیں رکنے لگتی ہیں۔" 


روحا پر تب بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ اس نے دوبارہ بازو کھینچے کہ یحیی نے اسے لیمپ پوسٹ کے ساتھ لگا دیا۔

سڑک پر دونوں کے سائے مل گئے۔ 


" تم پاگل ہو؟"  

وہ مچلی۔


" ہاں تمہارے لیے۔"  

اس کا ہاتھ روحا کے بازو سے سرکتا ہوا اس کے ہاتھ میں گیا۔ 


اس نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسی خاموش کے ساتھ اسے فارم ہاوس کے اندر لے گیا۔ 


روحا جتنا شور مچا رہی تھی یحیی اتنا ہی پرسکون تھا۔ اسے اندر دھکیل کر یحیی نے گیٹ لاک کر دیا۔ روحا تیزی سے پیچھے ہٹی۔ 


" تم۔۔۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ہو۔ میں۔۔۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔"  


اس کی آواز کانپی۔ یحیی اس کے سامنے آکر رک گیا۔


" کیوں نہیں؟" 


" میرے گھر والے۔۔۔ امی۔۔۔ حسن بھائی۔۔۔ اور اور لایان۔۔۔۔ مجھے ان سب کی یاد آتی ہے۔ تم نے میرا فون تک چھین لیا۔ بات تک نہیں کر سکتی میں ان سے۔ روز لگتا ہے میں یہاں۔۔۔ ان کے بغیر۔۔۔ ان کو دیکھے بغیر۔۔۔ گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گی۔" 


وہ روتے ہوئے دیوار سے ٹیک لگا گئی۔ 


" میں گھر جانا چاہتی ہوں۔"  

وہ پھسل کے نیچے بیٹھ گئی۔ یحیی بالکل چپ کھڑا رہا۔ 


اس کی دماغ میں لفظ لایان اٹک گیا تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدلا۔ غصہ ہوا ہو گیا۔ 


کیا میں روحا کو بتا دوں کہ وہ کہاں تھی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا اور زاویان؟؟  اس نے اس کا کیا حشر کیا۔ 


اس نے روحا کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ 


نہیں۔۔ میں نہیں بتا سکتا۔ اب تو سچ سامنے آگیا ہے۔ زاویان اسے چھوڑ دے گا۔


وہ دھیرے سے اس کے سامنے بیٹھا۔ اس نے نرمی سے ہاتھ بڑھا کر روحا کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر روحا کا صبر اب جواب دے چکا تھا۔


اس کا ہاتھ ایک دم اٹھا اور سیدھا یحیی کے گال پر پڑا۔


پورے فارم ہاؤس میں تھپڑ کی آواز گونج گئی۔ یحیی کا چہرہ دوسری طرف مڑ گیا۔ 


اس نے دھیرے سے چہرہ واپس موڑ کر روحا کی طرف دیکھا۔ روحا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کا خون خشک ہو گیا، کیونکہ یحیی کی نظر ہی ایسی تھی جس سے اس کا سانس رکنے لگا تھا۔


اس نے دوپٹہ اٹھا کر پلو منہ میں ٹھونس دیا۔ دماغ میں صرف تین چیزیں گھومنے لگیں تھیں۔


ابھی یحیی اسے اٹھائے گا اور باہر جنگل میں چھوڑے گا۔

یا اسے اٹھا کر سوٹ کیس میں بند کرے گا اور ندی میں پھینک دے گا۔

یا پھر ابھی اس کا یہیں پر دی اینڈ کر دے گا۔ 


یحیی کچھ پل اس کو دیکھتا رہا پھر ہلکا سا جھک کر اس کے گال پر لب رکھ دیے۔ 


روحا کا منہ کھل گیا۔ دوپٹہ نکل کر نیچے گر گیا۔


" تم مجھے دس اور تھپڑ بھی مارو گی، تب بھی میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔"  


ابھی وہ کچھ کہتی یحیی نے اس کا بازو پکڑا اور اسے بانہوں میں اٹھا لیا۔


روحا کے پیر ہوا میرے لٹک رہے تھے۔ 


" یحیی چھوڑو مجھے، نیچے اتارو۔ مجھے نہیں جانا اندر۔"  

وہ چلائی۔ 


یحیی نے کوئی جواب نہیں دیا اور اندر بڑھ گیا۔


جاری ہے


Comments

  1. Thank God ap ne episode to share kr di itna wait krwaya 😭 super as always 💞💕🫶

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts