Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 17 - By Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 17
از منزہ نیاز
دروازے کا تالا گھوما اور حارث نے اندر قدم رکھے۔ دروازہ بند کر کے جب اس نے کمرے میں دیکھا تو وہیں رک گیا۔
پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا۔ شیشے کے ٹکڑے، گلدان کے کرچیاں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔ بستر الٹ پلٹ اور ایک کونے میں بیٹھی ہوئی وہ۔
اس کے بالوں میں شیشے کے ٹکڑے پھنسے ہوئے تھے۔ دوپٹے سے بے نیاز وہ فرش کو گھور رہی تھی۔ حارث نے پہلے غصے سے پھر مسکرا کر اس کو دیکھا۔
" سناؤ جان! کیا حال ہے؟"
مسکراتے ہوئے اس کے پاس آیا۔
مشال نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ گالوں پر آنسوؤں کے نشان جمے ہوئے تھے۔ وہ جھک کر اس کے سامنے بیٹھا۔
" مجھے تم ایسے ہی پسند ہو۔ ٹوٹی ہوئی، بے بس اور میری۔"
اس نے بنا اس کے چہرے سے نظر ہٹائے اس کا خون سے بھرا زخمی ہاتھ پکڑ لیا۔
جیب سے صاف رومال نکالا اور نرمی سے صاف کرنے لگا۔ جیسے محبت کا ناٹک نہیں بلکہ اصل میں فکر کر رہا ہو۔
ہاتھ صاف کرتے کرتے اس کی انگلی مشال کی خون آلود زخمی ہتھیلی پہ رکی۔ اس نے وہ انگلی اپنے ہونٹوں سے لگائی۔ چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں شیطانی سکون تھا۔ مشال کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
" تمہارا درد ۔۔۔ میرا سکون۔"
وہ ہنسا۔ مشال کے آنسو گلے میں پھنس گئے۔
اس کا ہاتھ اس کے کندھے سے سرکتا ہوا اس کی گردن تک گیا۔
مشال کے اندر وہ درد دوبارہ جاگ اٹھا جو صبح اس نے چھوڑا تھا۔
" مجھے تمہیں اس طرح دیکھ کر بہت سکون مل رہا ہے مشال! تمہیں اس طرح توڑ توڑ کر اپنا بنانا۔ مجھے واقعی اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب اتنا دلچسپ ہوگا۔"
مشال نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔ اس نے اس کا گلا چھوڑا پھر کھڑا ہوا۔
"مجھے پانچ منٹ میں یہ کمرہ صاف نظر آنا چاہیے۔"
اس کی کھردری آواز گونجی۔ مشال نے اب بھی کچھ نہیں کہا۔
حارث کی آنکھوں میں غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے جھپٹ کر مشال کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
" میں جو کہوں گا تم نے اسی وقت بنا ایک لفظ منہ سے نکالے ماننا ہے۔ اگر اسی طرح چپ کر کے بیٹھی رہی تو میں تمہاری چمڑی ادھیڑ دوں گا۔"
اس نے جھٹکے سے اس کے بال چھوڑے اور باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
مشال نے گال پر بہتے آنسو صاف کیے اور کانچ کے ٹکڑے اٹھانے لگی۔
جب حارث واپس آیا تو مشال بلکل چپ اپنے کام میں مصروف دکھائی دی۔ وہ ٹہلتا ہوا بستر پر نیم دراز ہو گیا اور خاموشی سے اس کی پھرتیاں ملاحظہ کرتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے پورا کمرہ صاف کر دیا تھا۔
" کچن میں جاؤ، فریج میں کھانا رکھا ہوگا اسے گرم کرو اور لے آو۔"
اس نے اگلا حکم صادر کیا۔
وہ بنا کوئی لفظ منہ سے نکالے کچن کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے خاموشی سے کھانا گرم کر کے پلیٹ میں نکالا اور اس کے سامنے رکھ کر جیسے ہی پلٹی حارث نے اس کی کلائی پکڑ لی۔
" بیٹھو یہاں۔"
اس نے کھینچ کر اسے سامنے بٹھایا۔
مشال نے ڈر کر اس کو دیکھا پھر چہرہ موڑ لیا۔
" کھاؤ اسے۔"
وہ بولا۔
مشال نے آنسو اندر اتارے۔ ساکت بیٹھی رہی۔
" میں نے کہا کھاو اسے۔"
اب کی بار اس کی آواز میں سختی تھی۔
مشال نے کانپتا ہوا ہاتھ کھانے کی طرف بڑھایا جب ہی حارث نے ٹرے کھینچ کر دور کر دی۔
مشال کا دل رکا، سانس بھی رک گئی۔ اس کا ہاتھ ہوا میں ہی ٹھہر گیا۔
" کچن میں جاؤ سلائس گرم کرو اور چائے کے ساتھ کھاو۔"
مشال کا ہاتھ گود میں آ گرا۔
" مجھے بھوک نہیں ہے۔"
اس کی ٹوٹی پھوٹی آواز نکلی۔
حارث کا ہاتھ اٹھا اور سیدھا اس کے چہرے پر۔
" مجھے اگر جواب دیا تو زندہ جلا دوں گا۔"
وہ دھیرے سے اٹھی اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔
چائے ابل رہی تھی اور اس کے آنسو بھی۔ گال سلگ رہا تھا۔ تپش اندر تک پہنچ چکی تھی۔
تھوڑی دیر بعد کچن سے باہر نکلی۔ حارث نے اسے دیکھا، مسکرایا اور نیم دراز ہو گیا۔
اگلی صبح مشال نے کسی روبوٹ کی طرح ناشتہ بنا کر اس کے سامنے رکھا۔ حارث نے جب دیکھا تو کھانے کی ٹرے اٹھا کر دیوار میں دے ماری۔
" عورتوں کو صرف دو چیزیں کرنی آتی ہیں۔ کھانا بنانا اور مردوں کا سکون بننا، اور تم دونوں میں فیل ہو۔"
اس دن کے بعد مشال نے اپنی مرضی کا کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔
ایک دن کپڑے بدلنے کے لیے اس نے الماری کھولی۔ حارث نے اس کا دوپٹہ کھینچ کر پھینک دیا۔
" یہ تمہاری عزت ہے۔"
اس نے قہقہہ لگایا اور اپنی مرضی کا سوٹ نکال کر مشال کی طرف بڑھا دیا۔
مشال نے خاموشی سے تھام لیا۔ اب صرف حارث ڈسائڈ کرتا تھا کہ اس نے کیا پہننا ہے۔
ایک رات وہ سونے کے لیے لیٹی تو حارث نے تکیہ کھینچ کر زمین پر پھینک دیا۔
" میری مرضی سے سو گی تم۔"
پوری رات اس کے آنسو بہتے رہے۔
ایک ہفتہ گزر گیا۔ اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ آنکھوں کے نیچے گہرے کالے داغ۔ ہونٹ بالکل سوکھ گئے تھے۔ بال بے رنگ اور الجھے ہوئے۔
حارث اسے دو دو، تین تین دن تک بند کر کے غائب ہو جاتا تھا۔ وہ پوری پوری رات جاگتی رہتی۔ ہر آہٹ پر اس کا دل پھٹتا۔ باہر کسی مرد کی آواز آتی۔ ہلکی باتیں، دھیمی سرگوشیاں سنائی دیتیں اور آگے بڑھ جانا۔
وہ سن کر خود میں سمٹتی جاتی۔ جسم کانپنے لگتا۔ ایک رات حارث اس کے قریب آیا۔ اس کا چہرہ پکڑ کر اپنے پاس کیا اور مسکرایا۔
" اب تم پرفیکٹ ہو، بالکل ویسی جیسا میں چاہتا تھا۔ ٹکڑوں میں بٹی، میرے مطابق چلنے والی۔"
اس نے پھر مشال کی خالی آنکھوں میں دیکھا۔
" مجھے تمہاری یہ خالی آنکھیں بہت پسند ہیں جان! ان میں اب تم نہیں صرف میں ہوں۔"
مشال نے کچھ نہیں کہا۔ صرف اس کے چہرے کو دیکھتی رہی۔ نہ آنسوؤں سے نہ چیخوں سے۔ بس ویرانگی سے اور خالی پن سے۔
حارث سمجھ رہا تھا اس نے مشال کو اپنی مرضی سے جیت لیا ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ مشال کے خالی پن میں ایک چنگاری ابھی بھی باقی تھی۔ جو ایک دن اس کو جلا کر راکھ کر دے گی۔
☆☆☆
کمرے کا اندھیرا دیوار گیر کھڑکی سے آنے والی سورج کی روشنی سے غائب ہو رہا تھا۔ آئینے کے سامنے اذان شاہ ویر کھڑا اپنی ٹائی کو آخری گراہ لگا رہا تھا۔ اس کی نظریں خود پر نہیں بلکہ آئینے میں موجود ایشل کے عکس پر تھیں۔
ایشل کاوچ پر بیٹھی ہلکا سا سائڈ پوز میں جھکی سینڈلز کے سٹریپس بند کر رہی تھی۔ نرمی اور سکون سے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی ہر چھوٹی حرکت پر اذان کی نظر ہے۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سی مسکان تھی۔
" میٹنگ میں زیادہ بولنا مت ورنہ لوگ تمہیں انڈراسٹیمیٹ نہیں کریں گے بلکہ ڈرائیں گے۔"
اذان نے شیشے میں دیکھتے ہوئے پرسکون اور بھاری آواز میں کہا۔ایشل نے ہلکی سی گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
" میں ڈرتی نہیں ہوں، ختم کرتی ہوں۔"
اذان گھوما اور بھاری قدموں سے اس کے پاس آیا۔
" اور یہی تمہاری پرابلم ہے۔ تم خود کو کم سمجھتی ہو۔ حالانکہ تم میری سب سے بڑی ویپن ہو۔"
ایشل سیدھی ہوئی۔ اٹھ کر اس کے رو برو کھڑی ہو گئی۔ ہلکا سا مسکرائی اور ہاتھ بڑھا کر اذان کا کالر ایڈجسٹ کیا۔
" میرے بنا تم کبھی مکمل نہیں ہو سکتے اذان۔"
اس کی آنکھوں میں زہر جیسی چمک تھی۔ اذان بھی مسکرایا۔
دونوں ایک ساتھ باہر کی طرف بڑھے۔ نہ کوئی پہلے، نہ کوئی بعد میں۔
دونوں برابر تھے۔
☆☆☆
دانش اپنے پرائیویٹ روم میں مصروف سا بیٹھا تھا۔ سامنے ٹیبل پر بہت سی فائلیں، تصویریں اور کاغذات بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔ دماغ ایک ہی چیز پر اٹکا ہوا تھا۔
وہی لڑکی، پارک والی۔ اس کی آنکھوں میں ابھی بھی وہی منظر قید تھا۔
خالی بینچ پر اکیلی بیٹھی، ہونٹوں سے ہلکا ہلکا کچھ بولتی ہوئی۔ آنکھوں میں درد اور آنسو لیے۔ اس نے تیزی سے موبائل اٹھایا۔
" میں نے کہا تھا مجھے اس لڑکی کی معلومات دو دن کے اندر چاہئے۔"
اس کی آواز میں غصے کے ساتھ ہلکی سی لرزش تھی۔
" ساری معلومات مل چکی ہیں بس کنفرم کر رہا تھا۔"
دوسری طرف سے کہا گیا۔
دانش نے گہری سانس لی۔
" میرے پاس پہنچو ابھی۔"
اور فون رکھ دیا۔
تھوڑی دیر بعد ایک آدمی فائل اٹھائے اندر داخل ہوا۔
" لڑکی کا نام مشال فاروقی ہے۔ ایک بھائی ایک بہن۔ ماں باپ زندہ ہیں اور۔۔۔"
وہ پل بھر کو رکا۔ دانش نے فائل لی اور کھول کر دیکھنا شروع کر دیا۔
" اس کی شادی ہو چکی ہے۔ اس کے کزن کے ساتھ۔ اس کا نام حارث ہے۔"
دانش کا تیزی سے فائل کا صفحہ پلٹتا ہاتھ رکا۔ زخم پر کسی نے زہر ڈالا دیا ہو جیسے۔
" اور؟"
اس نے فائل واپس رکھ کر سپاٹ انداز میں پوچھا۔ آدمی نے تھوک نگلا۔ ماتھے پر پسینہ چمکا۔
" شادی کی رات اس کا شوہر اسے لے کر کہیں غائب ہو چکا ہے۔ گھر والے لڑکی کی تلاش میں ہیں۔"
" کیا؟"
دانش نے الجھن سے اس کو دیکھا۔
" اور یہ شادی اس لڑکی کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی اور وہ لڑکا اچھے کریکٹر کا نہیں ہے۔ اور۔۔۔۔"
"جس دن وہ مشال فاروقی کو لے کر گیا، اس دن کی اور اس رات کی۔ ہر جگہ کی ساری فٹیج نکلواو۔ وہ جہاں جہاں سے گزرا ہر جگہ کو ٹریپ کرو۔ وہ لڑکی ٹھیک نہیں ہوگی۔ اسے ڈھونڈنا ہے۔"
اس کی بات کاٹ کر دانش نے تیز لہجے میں کہا۔ اسے مشال کی ادھوری باتیں بھول ہی نہیں رہیں تھیں جو وہ پارک میں بول رہی تھی۔ اکیلی بیٹھی، روتی ہوئی۔
" کیا خاص بات ہے اس میں؟"
اس آدمی نے تجسس سے پوچھا۔
" وہ زندہ تھی مگر اس کی آنکھیں مر چکی تھیں۔"
وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔ آدمی نے غور سے اس کو دیکھا۔
"ہر ہاسپٹل کا ریکارڈ چیک کرو۔ شاید کوئی مسنگ پرسن رپورٹ ملی ہو۔ اس لڑکی کو ہر حال میں ڈھونڈنا ہے۔"
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Wow write G ❤️
ReplyDeleteAj Eid ho gai 2 episode ek sath 😍
ReplyDelete