Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 18 - by Munaza Niaz - Romantic Novel - possessive Hero

 


زہرِ عشق

قسط 18

از منزہ نیاز 


وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ آنکھوں میں بے چینی، چہرے پر اداسی۔ سامنے نیچے حویلی کے وسیح پورچ میں بڑا سا گیٹ کھلا اور سیاہ کار اندر داخل ہوئی۔


وہ تیزی سے سیڑھیوں کی طرف نیچے بھاگی۔ زاویان نے ڈور کھولا اور اندر کی طرف قدم بڑھا دیے۔ جب وہ لاؤنچ میں پہنچا، لایان بھاگ کر اس کے سامنے آئی۔ زاویان رک گیا۔


" بس ایک بار۔۔۔ صرف ایک بار بتا دو کہ کیوں مجھے روک رہے ہو۔ جانے کیوں نہیں دیتے۔ کیا چاہتے ہو تم۔ کیا وجہ ہے۔ کچھ تو بولو۔"  

اس کی آواز میں بے بسی، غصے اور نمی کی آمیزش تھی۔ 


زاویان نے کچھ پل اس کی آنکھوں میں دیکھا جیسے کچھ سوچ رہا ہو کہ کیا جواب دے۔ لایان منتظر سی کھڑی تھی۔ بے چین سی۔


" میں خود نہیں جانتا۔" 


وہ حیران ہوئی۔ جب کہ زاویان سائیڈ پر ہو گیا۔


" تم جا سکتی ہو۔" 

" کیا؟" 

لایان نے بے یقینی سے اس کو دیکھا۔ پھر بنا کچھ کہے گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔ 


گارڈ نے اسے جانے دیا۔ وہ باہر نکلی۔ سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ہوا ساکن تھی۔ جیسے ہی اس نے آگے جانا چاہا وہی تھم گئی۔ 


اس کے دماغ میں آوازیں گونجنے لگیں۔ اس کے گھر والے، محلے کے لوگ۔ وہ کیا سوچے گیں؟ کہ میں اتنا عرصہ کہاں تھی، کس کے ساتھ تھی۔ کیا میرے گھر والوں نے مجھے تلاش کیا ہوگا۔ میرے واپس جانے پر مجھے قبول کر لیں گے؟  یا کبھی نہیں کریں گے۔


اس کے پیر کانپ گئے۔ ہاتھ سن ہو گئے۔ آنکھوں میں بے اختیار آنسو امڈ آئے۔ اس نے سر دونوں ہاتھوں میں تھاما اور وہیں گیٹ کے کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ 


زاویان جو مونیٹر میں اس کی حرکات و سکنات دیکھ رہا تھا فورا کھڑا ہوا۔ 


"اسے کیا ہوا؟ یہ جا کیوں نہیں رہی۔" 

وہ گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ بے اختیار، بنا سوچے۔ 


لایان کے سر پر گرتی دھوپ غائب ہوئی جب ایک سایہ اس کے سامنے آ کر ٹھہر گیا۔ اس نے چہرہ اٹھایا۔ زاویان سامنے کھڑا تھا۔


" کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو؟" 

وہ زمین پر پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا۔ 


لایان نے غصے بھری نم آنکھوں سے اس کو دیکھا۔


" تمہیں پتہ بھی ہے کہ تم نے کیا کیا؟  تمہاری وجہ سے میری عزت خطرے میں ہے۔ تمہاری وجہ سے میں۔۔۔۔ میں گھر بھی نہیں جا سکتی۔ میرے گھر والے مجھے اپنائیں گے بھی نہیں۔ تم نے مجھے برباد کر دیا۔۔۔۔ برباد کر دیا تم نے۔"  

آخر میں وہ چیخ اٹھی۔


زاویان کا جسم ٹھنڈا پڑا۔ آنکھوں میں بے سکونی کی لہر دوڑ گئی۔


اس نے پہلی مرتبہ سوچا کہ کنٹرول کرنا اور کسی کی زندگی برباد کرنا دونوں الگ چیزیں ہیں۔


" چلو، اندر چلو۔"  

اس نے نرمی سے کہا مگر لایان اتنی دکھی تھی کہ بنا سوچے اسے دھکا دے دیا اور بنا کچھ کہے غصے سے سڑک کے کنارے چلنے لگی۔


زاویان کھڑا ہوا۔ وہ اسے روکنا چاہتا تھا مگر اس نے خود کو روکا اور گیٹ سے اندر داخل ہو گیا۔


لایان  بنا سوچے سمجھے چلتی جا رہی تھی۔ نہ منزل کا پتہ تھا نہ راستے کا۔ بس ایک ہی خیال تھا۔


یہاں سے بھاگ جاؤں۔ بہت دور۔


اس کے قدم بھاگتے۔۔۔۔ کبھی ہولے چلتے۔ چلتے چلتے اسے احساس ہوا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ ایک سیاہ کار سست روی سے چلتی ایک دم رکی ہے۔ 


اس نے حیران ہو کر دیکھا پھر غور سے۔ زاویان اندر تھا۔ آنکھوں پر گلاسز لگے تھے۔ اس نے غصے سے دیکھا پھر سر جھٹکا اور واپس چلنے لگی۔


گاڑی پھر سٹارٹ ہوئی اور اسی کی رفتار میں آگے بڑھنے لگی۔ اندر بیٹھا زاویان وہ خود سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ بس اسے یہ معلوم تھا کہ وہ کر رہا ہے۔


لایان ایک دم رکی۔ کار نے اس کے قریب بریک لگائے۔ وہ کچھ پل کھڑی رہی جیسے سوچ رہی ہو کہ کیا کرے۔ 


زاویان نے دیکھا وہ پلٹ کر اس کی طرف آ رہی ہے۔ لایان نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی۔ 


زاویان نے گلاسز اتار کر ڈیش بورڈ پر رکھ دیے۔ اور بیک ویو مرر میں اس کا چہرہ دیکھا۔ صدمے سے۔۔۔۔


" کیا میں۔۔۔ میں اس کا کوئی ڈرائیور ہوں۔"  

اس کا چہرہ ہلکا سا سرخ ہوا۔ 


" کہاں جانا ہے؟"  

زاویان نے تیزی سے انجن کو جگایا۔


اس نے ڈائریکٹ مرر میں لایان کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ لایان نے کوئی جواب نہیں دیا بس گھور کر مرر میں اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ 


زاویان نے گہری سانس لی۔ گلاسز واپس لگائے۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ ایک سیکنڈ کے لیے ابھر کر غائب ہو گئی۔ 


" ٹھیک ہے! حویلی۔" 

کار سموتھلی چلتی ہوئی واپس حویلی کے پورچ میں آ کر رکی۔ لایان نے بے اختیار دوبارہ مرر میں اس کی طرف دیکھا۔ 


وہ گلاسز لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ تھوڑی کنفیوز ہو گئی۔


" یہ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہا ہے؟" 


اس نے تیزی سے ہینڈل گھمایا۔ دروازہ نہیں کھلا۔ اس نے ہڑبڑا کر دوبارہ گھمایا مگر ندارد۔ زاویان مسکراہٹ چھپائے باہر نکلا اور آہستہ سے دروازہ کھول دیا۔ وہ تیزی سے باہر نکلی۔ 


زاویان جو پیچھے بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ ایک دم سے اس سے ٹکرا گئی۔ زاویان نے بے اختیار ایک بازو اس کے کمر کے گرد ڈال دیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ لیا۔ اگر وہ اسے نہ سنبھالتا تو وہ سیدھی دروازے میں لگ جاتی۔ 


یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ دونوں ہی سمجھ نہیں پائے۔ زاویان کا سر جھکا ہوا تھا۔ نظریں سیدھا اس کی آنکھوں میں۔ لایان کا ایک ہاتھ اس کے بازو پر تھا۔ وہ چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھ رہی تھی۔ بنا پلک جھپکائے۔


زاویان پہلی مرتبہ اس کو اتنے قریب سے، غور سے دیکھ رہا تھا۔ایک لمحہ ایسا آیا جہاں سب ٹھہر گیا۔ وہ بنا غصے، بنا نقاب کے اس کو دیکھ رہا تھا۔ 


"یہ آنکھیں! کیوں لگتا ہے جیسے کوئی کہانی سمیٹے بیٹھی ہوں۔ اگر یہ آنکھیں کسی اور کو دیکھیں گی تو میں برداشت نہیں کروں گا۔ انہیں صرف میری طرف دیکھنا ہوگا۔ میری آنکھوں میں ڈوبنا ہوگا۔" 

عجیب سی سوچ اس کے دماغ پر حاوی ہونے لگی۔

اس نے لایان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے یہ سب سوچا تھا۔


آنکھوں سے ہوتی اس کی نظر لایان کی پیشانی پر گئی، جو سورج کی روشنی میں ہلکی سی چمک رہی تھی۔ بالکل صاف۔

" کاش میں یہ چھو سکتا۔"

اچانک دل نے خواہش کی اور اس خیال پر خود ہی ایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آگئی۔


پیشانی سے نظر پھسل کر رخساروں پر گئی۔ دھوپ کی روشنی میں لالی سی ابھری ہوئی تھی۔ بالوں کی ایک لٹ اس کے گال سے ٹکرائی۔ اس کا دل کیا کہ ہٹا دے مگر اس کے ہاتھوں نے انکار کر دیا جو لایان کو تھامے ہوئے تھے۔ 


رخساروں سے نظر ہٹی اور ہونٹوں پر ٹھہر گئی۔ جہاں نہ غصہ تھا نہ مسکراہٹ۔ بس خاموشی تھی۔


" یہ چپ ہے پر سب کچھ کہہ پا رہی ہے۔ میں سن رہا ہوں اور بول نہیں پا رہا۔" 


ہونٹوں سے نظر پھسل کر ٹھوڑی پر ٹک گئی۔

ٹھوڑی پر ننھا سا تل تھا۔ اس کا دل الجھ سا گیا۔ نظریں ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں۔ ایک چھوٹا سا تل ہی تو تھا۔ اسے لگا پوری دنیا اسی میں سمٹ آئی ہے۔


" میں یہ چہرہ کبھی بھول نہیں سکوں گا۔" 

اس کے دل نے چپکے سے کہا۔ 


لایان کا چہرہ ہلا۔ گردن تھوڑی اور اوپر اٹھی۔ زاویان کے لیے یہ سب کچھ پہلی بار تھا۔ اس کا دل ایک عجیب سی تازگی اور بوجھل پن محسوس کرنے لگا تھا۔


جیسے کچھ کھویا بھی ہو اور کچھ مل بھی رہا ہو۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کسی کا چہرہ اسے اپنی طرف کھینچے گا۔ 


اس نے دوبارہ اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر پہلی دستک ہوئی۔ دل پر۔۔۔ محبت؟؟؟؟


"نہیں۔"  

دل نے فورا انکار کر دیا۔ 


یہ الگ تھی۔ نظریں دوبارہ اس کی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ جیسے ہر نقش یاد کر لینا چاہتا ہو۔ جو دل پہ چھاپ بن جائے اور تب اس کا دماغ ہل گیا۔


نظروں کے سامنے گارڈز گھوم گئے جو گیٹ کے پاس، ٹیرس پر، دیوار کے کنارے کھڑے تھے۔ سب کی نظریں ان دونوں پر تھیں۔


وہ فورا پیچھے ہٹا۔ لایان میڈم کا بیلنس بگڑا۔ وہ کار کے کنارے سے لگ گئی۔ زاویان نے دوبارہ اس کو تھام لیا۔ لایان کا چہرہ ہلکے درد سے سکڑ گیا۔ اس نے غصے سے زاویان کو گھور کر دیکھا۔


" رخسانہ!" 

اس نے پیچھے کی طرف دیکھا اور زور سے چلایا۔


گیٹ کے پاس کھڑے گارڈز جو چپکے سے ہنسی دبا رہے تھے یکدم ادھر ادھر کھسک گئے۔ ٹیرس والے غائب، جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔ 


حویلی کے اندر سے ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی۔


" ان کو اندر لے جاؤ۔"  

اس نے پاٹ دار آواز میں کہا۔ ملازمہ تھوڑی گھبرا گئی جبکہ لایان کی آنکھیں پھیل گئیں۔


" ان کو۔۔؟؟"  

زاویان کی ٹون پہلی دفعہ ریسپیکٹ سے لبریز تھی۔ لایان نے دیکھا، غور سے۔ مگر کچھ کہا نہیں۔ 


وہ اس عورت کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئی۔ دوبارہ دھیان زاویان کی طرف گیا۔ ہلکا سا سر جھٹکا۔


"نو۔۔۔ اگنور اٹ۔" 

اس نے چہرہ موڑ کر دوبارہ زاویان کی طرف دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 


وہ گھبرائی اور تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ زاویان وہی کھڑا واپس اسی لمحے میں پہنچ گیا جہاں وہ اس کے قریب تھی۔ جہاں اس کی آنکھوں نے پہلی مرتبہ اس کا چہرہ اتنی فرصت سے دیکھا تھا۔ اور تب جا کر اس کے دل میں ایک خاموش سا انکشاف ہوا۔


کیا۔۔۔ میں۔۔۔ اس لڑکی سے۔۔۔

☆☆☆


وہ کھڑکی کے پاس ایک اسٹول پر اداس سی بیٹھی تھی۔ آنکھیں باہر کے منظر کا نظارہ کر رہی تھیں۔ شام کا وقت تھا۔ موسم نارمل تھا۔ پول کا پانی ٹھہرا ہوا تھا۔ درختوں پر پرندوں کی بولیاں اور ڈوبتے سورج کا منظر جو فارم ہاؤس کو مزید خوبصورت بنا رہا تھا۔


اس نے گہری سانس بھری اور گھٹنے اٹھا کر گال ان پر ٹکا دیا۔ اس کی خوبصورت آنکھوں میں نمی ابھر آئی۔ 


کمرے میں گہری خاموشی تھی اور اس خاموشی کو کسی کے بھاری قدموں نے توڑا۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا۔ یحیی سامنے کھڑا تھا۔


"یہ لو، بات کرو۔"  

اس نے فون روحا کی طرف بڑھایا۔


"کیا؟" 

روحا نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔


" تمہارا بھائی ہے۔" 

یحیی نے نظریں نہیں ہٹائیں۔


روحا نے فٹ سے موبائل تھاما۔ یحیی پلٹ گیا۔ اس نے بے قراری سے موبائل کان سے لگایا۔ 


" ہیلو بھائی۔۔"  

اس نے بے تابی سے پکارا۔


" ہیلو روحی۔۔۔ کیسی ہو تم؟"  

دوسری طرف حسن کی بھی وہی حالت تھی۔ بے یقین، اتاولی۔


"میں۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔ آپ بتائیں کیسے ہیں؟ اور امی۔۔۔ وہ کیسی ہیں؟"  


" میں ٹھیک ہوں۔ امی تمہیں بہت یاد کرتی ہیں۔"  

حسن نے نم لہجے میں کہا۔ اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ ابھی روحا کو گھر لے آتا۔ روحا نے سر کھڑکی کے پٹ سے ٹکا دیا۔ 


" مجھے بھی آپ دونوں کی بہت یاد آتی ہے۔"  

آنسو گالوں پر پھسل گئے۔


" روحا ایک بات بتاؤ۔۔۔ وہ یحیی۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا تمہارے ساتھ؟ کہیں وہ تمہیں مارتا۔۔۔" 


روحا بالکل چپ ہو گئی۔ اس نے یاد کرنے کی کوشش کی۔ یحیی نے کب اس کے ساتھ برا سلوک کیا؟ کب اس پر ہاتھ اٹھایا۔ کب اسے ذلیل کیا۔ کب کب اسے تنگ کیا۔


مگر کوئی ایک بھی ایسی چیز اس کے دماغ میں نہیں آئی۔ الٹا وہ خود تھی جو اسے تنگ کرتی تھی۔ رات کو تو اس نے تھپڑ تک مار دیا تھا۔


" نہیں بھائی، ایسا کچھ نہیں ہے۔ وہ اچھا انسان ہے۔" 

روحا کو اپنے الفاظ ہی بیگانے لگے۔ 


حسن پرسکون ہو گیا۔ دونوں بہن بھائی کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس نے امی کی آواز سنی تو آنسوؤں کو روک نہیں پائی۔ شام ڈھل گئی، رات ہو گئی۔ مگر اسے احساس تک نہیں ہوا۔ 


یحیی ایک مرتبہ بھی اس کے پاس نہیں آیا تھا۔ وہ سمجھی تھی کہ ابھی آئے گا اور موبائل چھین کر کہے گا تمہارا وقت ختم ہوا۔ مگر اس کا خیال غلط ثابت ہوا تھا۔ 


رات گہری ہوئی۔ چاند کی روشنی اس کے چہرے پر پڑی اور اس نے دھیرے سے موبائل کان سے ہٹا دیا۔ اس کے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ تھی۔ وہ اٹھی اور بنا چپلوں کے باہر کی طرف بھاگی۔ لاونچ میں وہ صوفے پر نیم دراز ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا۔ 


وہ دونوں ہاتھوں میں موبائل تھامے اس کے سامنے آئی۔


" تھینکس۔" 

روحا نے موبائل اس کی طرف بڑھایا۔ یحیی نے اسے دیکھا، موبائل کو نہیں۔ 


"یہ اب تمہارا ہے۔" 

روحا کا منہ کھل گیا۔

" تم سچ کہہ رہے ہو؟"  

وہ اس کے ساتھ ہی صوفے پر ٹک کر بیٹھ گئی۔یحیی مسکرایا۔


" تم کتنے اچھے ہو یحیی اور صرف میرے ہو۔"  

روحا نے نرمی سے اس کا بازو تھاما۔ سر اس کے کندھے سے لگایا۔


یحیی کے ہاتھ سے ریموٹ چھوٹ کر کارپٹ پر گر گیا۔ اس نے ہلکا سا چہرہ موڑ کر اس کا سر دیکھا۔ 


روحا کے لمبے، خوبصورت ریشمی بال اس کے سینے اور بازو پر بکھرے ہوئے تھے۔ یحیی سانس نہیں لے سکا۔ روحا نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔


" ایم سوری، کل والے تھپڑ کے لیے۔"  


یحیی نے اس کے چہرے پر شرمندگی دیکھنا چاہی مگر وہاں صرف شرارت تھی۔


" بہت زور سے مارا تھا نا؟" 

اس نے یحیی کا گال ہلکا سا چھوا۔


یحیی کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں۔ وہ تھوڑا اونچا ہوئی اور اس کا گال نرمی سی چھو لیا۔ پھر ہنسی دباتی اٹھی اور کچن کی طرف بھاگ گئی۔ 


پیچھے یحیی کارپٹ پر گر گیا تھا۔


جاری ہے


Comments

  1. Wow so nice why am i blushing 😍👉👈🫰🫶

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts