Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 19 - By Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 19
از منزہ نیاز
وہ رات بے حد سرد تھی۔ مشال کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے یخ ہو چکے تھے۔ اس کی وجہ سردی نہیں حارث تھا۔ حارث اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ زرد چہرہ لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
" سنو جان! آج میں تمہیں ہماری یادگار چیزیں دکھاتا ہوں۔"
حارث نے اس کو دیکھا پھر مسکراتے ہوئے الماری کھولی اور ایک چھوٹا سا باکس نکال کر زمین پر پھینک دیا۔
ڈھکن کھلا اور بہت سے کاغذ اور تصویریں نکل کر فرش پر بکھر گئیں۔ مشال سرخ چہرہ لیے اس کو دیکھے گئی جو ایک ایک چیزیں نکال کر فرش پر پھینکتا جا رہا تھا۔
پرفیوم، ڈائری، گھڑی، سوکھے گلاب۔ سب کچھ مشال کے قدموں میں ڈھیر ہو چکا تھا۔ اس نے ماچس جلائی اور مشال کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ جلانے لگا۔ مشال کا دل پھٹنے لگا۔
یہ ان دونوں کی محبت کی نشانیاں تھیں جنہیں انہوں نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا اور اب وہ سب ایک راکھ کر ڈھیر بنتا جا رہا تھا۔
اس کی نظریں اس خوبصورت سے ٹیڈی بیئر پر جمی تھیں جس میں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔ وہ اس کے قریب آیا اور ہنسی دبا کر اس کو دیکھا، پھر مشال کی نظروں کے تعاقب میں۔ جہاں اس کی خوبصورت ڈائری کا آخری صفحہ جل رہا تھا۔
جہاں ان دونوں کا نام لکھا تھا۔
" یہ ہم دونوں کا ماضی ہے جان! جسے میں ہمیشہ یادگار بنانا چاہتا ہوں۔ غور سے دیکھو ان سب چیزوں کو۔ مجھے پتہ ہے تمہارا دل کیسے سکڑ رہا ہوگا ان کو جلتا دیکھ کر۔"
وہ ہنسا۔
مشال کے آنسو بہتے اس آگ پر گر رہے تھے۔ حارث کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس نے جھٹکے سے اس کو پکڑ کر ایک کرسی پر باندھ دیا۔
مشال نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ اس کا جسم اب اس کی کوئی بات نہیں مان رہا تھا۔ حارث چلا گیا اور اگلے دن رات کو واپس آیا۔
وہ ایک ہی جگہ پڑی ہوئی تھی۔ اس کی گردن ایک طرف ڈھلک چکی تھی۔ نہ پانی کا ایک قطرہ اس کے حلق میں گیا نہ کھانے کا نوالا۔
حارث نے کرسی کے بازو پر ہاتھ ٹکایا اور اس کے کان پر جھکا۔
" یہ سب تمہاری اپنی غلطی ہے جان۔ مان جاو کہ تم ایک مرد کے بغیر جی نہیں سکتی۔"
وہ زہر اگل رہا تھا۔
اس نے مشال کا چہرہ پکڑ کر اس کا سر اٹھایا۔ اس کی آنکھیں بند، ہونٹ سوکھے اور سانسیں ہلکی ہلکی چل رہی تھیں۔
" اب تم ویسی لگ رہی ہو جیسا میں سوچا کرتا تھا۔ ایک خالی خول۔"
اس نے رسیاں کھول دیں اور سختی سے اس کا بازو پکڑ کر کھڑا کیا۔
اس کا ہاتھ ابھی مشال کے چہرے کو چھونے والا تھا کہ اس کا موبائیل بج اٹھا۔ اس نے ناگواری سے فون نکال کر نمبر دیکھا پھر مشال کو۔ اگلے سیکنڈ وہ اسے چھوڑتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
مشال لڑکھڑا کر نیچے گر گئی۔ کافی دیر گزر گئی وہ نہیں آیا۔ فلائٹ کا دروازہ کھلا تھا۔ مشال کے گلے میں کانٹے اگے ہوئے تھے۔ گلا سوکھا اور ہاتھ پیر کانپنے لگے تھے۔
اور تب فلیٹ کے کھلے دروازے سے اسے کوئی اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ اس نے سوچا حارث ہوگا۔ اس نے خود کو کس لیا۔ جیسے اس زہریلے پلوں سے بچنا چاہتی ہو۔
مگر جو اندر آیا وہ حارث نہیں تھا۔ اس نے دیکھا تو اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
وہ ایک لمبا سایہ تھا۔ سیاہ کپڑوں میں لپٹا ہوا۔ ایک ہاتھ میں گن تھی اور چہرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا۔ مشال پیچھے کی طرف کھسکنے لگی کیونکہ وہ لگاتار اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
دانش اس کو پیچھے گھسٹتا دیکھ وہیں رک گیا تھا۔
" مشال!"
اس کی بھاری آواز کمرے میں گونج گئی۔ مشال نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کیونکہ سامنے کھڑا شخص ایک مرد تھا۔ ایک زہر، جسم کا پجاری۔ جیسے باقی سب تھے۔
" میرے قریب مت آنا۔ سنا تم نے۔ دور رہو۔"
اس کے دل کی رفتار تیز ہو چکی تھی۔ وہ پیچھے ہو کر بیڈ کے کونے سے چپک گئی اور دانش کا دل وہیں رک گیا۔
وہ سمجھ گیا یہ وہ لڑکی نہیں تھی جو اس دن پارک میں بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ زندہ تو تھی مگر اس کی روح مر چکی تھی۔
مشال نے دونوں بازووں میں خود کو چھپا لیا یوں جیسے دانش کی نظروں سے چھپنا چاہتی ہو۔
" میں تمہیں چھونا نہیں چاہتا۔ کیا تم میرے ساتھ چلو۔۔۔۔"
مشال نے تیزی سے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ اٹھایا اور پوری طاقت سے اس کی طرف پھینک دیا۔
دانش ہلکا سا سائیڈ پر ہو گیا۔
" تم سب ایک جیسے ہوتے ہو۔۔۔ شروع میں میٹھی باتیں کرنے والے، محبت کا ڈرامہ کرنے والے، پھر ہاتھ لگانے والے اور آخر میں سانسیں چھین لیتے ہو۔ چلے جاؤ یہاں سے۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔"
وہ چلائی۔ اس کا سانس پھول چکا تھا۔ آنکھوں میں ڈر اور خوف کا رنگ تھا۔
دانش کا چہرہ سرخ ہوا۔ اس نے الٹے قدم لیے اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
مشال نے دوبارہ بازو خود کے گرد لپیٹ لیے۔ کمرے میں اس کی تیز سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔ آنکھوں سے آنسو بنا رکے بہہ رہے تھے۔ کافی دیر گزر گئی وہ اسی حالت میں بیٹھی روتی رہی، کانپتی رہی۔
تب اسے دوبارہ آواز آئی۔ ہلکے قدموں کی۔ اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔ حارث اندر داخل ہو رہا تھا۔
" اللہ۔"
اس کی زبان ہلی جیسے صدیوں بعد اس نام کو پکارا ہو۔
" اللہ پلیز۔۔۔"
وہ بنا آواز کے بول رہی تھی۔
آنسو اس شدت سے بہہ رہے تھے کہ اس کی آنکھیں شکوہ کرنے لگیں۔
" یا اللہ مجھے بچا لے۔ اس جہنم سے نکال دے۔"
اس کا دل تڑپ اٹھا۔
حارث نے ایک ہی جھٹکے میں اس کا بازو دبوچا اور اسے زور سے بیڈ پر پھینک دیا۔
" کتنی چپ ہو گئی ہو ہاں۔"
حارث کے چہرے پر حیوانیت تھی۔
مشال پیچھے کی اور کھسکنے لگی۔ آنسو اس کی گردن تک پہنچ چکے تھے۔ آواز گلے میں رک چکی تھی۔
" اللہ۔"
اس نے ایک بار پھر پکارا۔ بنا آواز نکالے۔ بنا لب ہلائے۔
حارث نے ایک گھٹنا بیڈ پر رکھا اور تبھی دروازہ بجا۔ زور سے۔ وہ چونکا۔ دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی۔
" کوئی یہاں؟ کون ہوگا؟"
وہ سیدھا ہوا۔
مشال نے سانس روک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ اس کا پورا چہرہ گیلا ہو چکا تھا۔
دروازہ اب کی بار اس زور سے بجا کہ حارث اچھل پڑا۔ وہ دبے قدموں دروازے کے پاس پہنچا۔ ابھی وہ جھک کر کی ہال میں دیکھنے لگا تھا کہ کسی نے پوری طاقت سے دروازہ توڑ دیا۔
وہ اچھل کر پیچھے گر گیا۔ دانش اور اس کے تین آدمی تیزی سے اندر داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ دو لڑکیاں بھی تھیں۔ کالے کپڑوں میں لپٹی ہوئیں۔ وہ دونوں تیزی سے مشال کی طرف بڑھیں۔ جبکہ اس کے آدمی حارث پر ٹوٹ پڑے اور بنا کچھ کہے اسے دھونا شروع کر دیا۔
گھٹنے، گھونسے،ٹھڈے، تھپڑ، کہنیاں، سب کچھ۔
اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر دانش کے آدمی کسی کتے کی طرح اس کو پیٹ رہے تھے۔ وہ ایک لفظ بھی نہیں نکال سکا۔
دانش نے سکون سے حارث کو پٹتے دیکھا پھر نظر مشال کی طرف موڑ لی۔
" سیف ہو۔۔۔ اب تم سیف ہو۔"
ایک لڑکی اس کے قریب آئی اور نرمی سے کہا۔
دونوں نے اس کو آہستہ سے تھامنا چاہا مگر وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی۔
"مت چھوو۔۔۔ہاتھ مت لگاؤ مجھے۔"
وہ چلائی، روئی، پیچھے ہوئی۔
دانش لب بھینچے ان کو دیکھ رہا تھا۔ وہ لڑکیاں نہیں رکیں بلکہ اس کو نرمی سے پکڑ کر اپنے حصار میں لیے دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔
دانش نے ان کو جاتے دیکھا پھر حارث کو۔ جو نیم وا آنکھوں سے خون میں لت پت ان کو دیکھ رہا تھا۔
چہرے پر اتنا خوف تھا جیسے موت سامنے کھڑی ہو۔ دانش آگے بڑھا اور بنا ایک لفظ کہے اس کے منہ پر پوری طاقت سے تھپڑ کھینچ کر مارا۔
حارث کا ایک کان بند ہو گیا اور خون تک کان سے نکل آیا۔ گال پر بہتا خون گردن تک پہنچا اور ایک دانت ٹوٹ کر منہ میں ہی گر گیا۔
وہ جھولتا ایک طرف گر گیا۔ اس کے آدمی حارث کا جسم گھسیٹ کر باہر لے جا رہے تھے۔ جبکہ دانش کھڑا سوچ رہا تھا۔
" اس کو میں کون سی موت ماروں، جس سے اس کی ہر سانس کا حساب پورا ہو۔"
☆☆☆
کمرے کا ماحول بے حد بھاری تھا۔ لمبی میز پر فائلز کھلی ہوئی تھی۔ ہتھیاروں کی ترسیل کے معاہدے، رقم اور باقی معاہدے طے ہو رہے تھے۔
ایشل رحیم اور اذان شاہ ویر برابر بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے روسی سنڈیکیٹ کا سربراہ وکٹر بیٹھا تھا۔
نیلی برفیلی آنکھوں والا۔ چہرے پر گہرا، پرانے زخم کا نشان تھا۔ پیچھے اس کے دونوں طرف ہاتھ باندھے اس کے گارڈز کھڑے تھے۔
" پندرہ فیصد مزید حصہ ورنہ معاہدہ ختم۔"
وکٹر نے آخری بات کہی۔
اذان کی آنکھیں سخت ہوئیں۔ ایشل کے چہرے پر اطمینان اور پرسکون مسکراہٹ تھی۔
" یہ سودے بازی نہیں خودکشی ہے۔"
اذان کا لہجہ تیکھا ہوا۔
ایشل وکٹر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی پلکوں کا جھپکنا، اس کے چہرے کی مسکراہٹ۔ اس کے بات کرنے کا انداز۔ وہ تقریبا بور لگ رہی تھی۔ جیسے یہ کوئی اللیگل میٹنگ نہیں بلکہ بورنگ گیم ہو۔
" تمہاری سلطنت مظبوط ہے مگر ناقابل شکست نہیں۔"
وکٹر نے سیدھا اذان کی طرف دیکھا۔
اذان کا غصہ دماغ پر چڑھ گیا۔ ایشل نے ہلکے سے اپنا ہاتھ اس کے بازو پر رکھا جیسے کہہ رہی ہو۔ اب مجھے ہینڈل کرنے دو۔
ایشل نے تھپ سے فائل بند کی۔ نظریں اسی پر۔ پھر وہ پر سکون لہجے میں بولی۔
" پندرہ فیصد حصہ اور ایک شرط۔ شپمنٹ کے راستے ہم طے کریں گے اور تم ہمارے ڈاکس سے اپنے جاسوس صاف کرو۔"
کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔
وکٹر کی آنکھیں تنگ ہوئیں۔
" تم بہت سخت سودے کرتی ہو مسز اذان۔"
" میں سو بازی نہیں کرتی میں ڈیل بند کرتی ہوں۔"
ایشل کی آنکھوں میں مسکراہٹ تھی۔
اذان بالکل چپ بیٹھا رہا۔ میٹنگ ختم ہوئی۔ سب باہر نکلے۔ اذان نے ایشل کی کلائی پکڑ کر روکا۔
" تمہیں پتہ بھی ہے کہ تم نے کیا کیا؟"
" ہاں تمہاری سلطنت کو بڑھایا ہے۔"
مسکرا کر نرمی سے کلائی چھڑوائی اور آگے بڑھ گئی۔
اذان نے اس کی بیٹھ کو دیکھا پھر شاطر مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس کے پیچھے چل دیا۔
دونوں آفس روم میں داخل ہوئے۔ ایشل نے کلچ میز پر رکھا اور شیشے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔
انگلی میں سیاہ ہیرے کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ اذان اس کے پاس آیا۔ جیب سے چھوٹا سا ریموٹ نکالا۔
کلک۔
پورا آفس اندھیرے میں ڈوب گیا۔
" تم نے میرے بغیر فیصلہ بدل دیا۔ تمہیں لگتا ہے میں اس بات کو نظر انداز کر دوں گا۔"
ایشل مڑی اور سیدھا اس کی طرف دیکھا۔
" میں نے فیصلہ نہیں بدلا۔ تم شطرنج کھیل رہے تھے، میں نے ایک چال آگے چل دی۔"
اذان نے دلچسپی سے اس کو دیکھا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر اس کے گال پر جھولتی کرلی لٹ کو اپنی انگلیوں میں الجھایا۔
" تم ایک دن یہ کھیل ہار دو گی اور اس دن میں تمہیں نہیں بچاؤں گا۔"
ایشال ہلکا سا ہنسی۔
" شاید میں وہ دن کبھی آنے ہی نہ دوں۔"
اذان کا چہرہ سپاٹ ہو گیا۔
وہ پیچھے ہٹا اور فائل میز پر رکھی پھر دروازے کی طرف بڑھا۔
" اگلی بار یہ مت بھولنا کہ یہ میرا بورڈ ہے۔"
دروازہ سختی سے بند ہوا۔
ایشل نے ہلکا سا سر جھٹکا اور دوبارہ کھڑکی کی طرف مڑ گئی۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Super as always 💞💕🫶❤️❤️❤️❤️ jldi upload kiya karain 😭
ReplyDelete