Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 20 - By Munaza Niaz - Urdu Novel - Dark Love - Romantic Novel - Dark Romance
زہرِ عشق
قسط 20
از منزہ نیاز
لایان حویلی کے کوریڈور سے گزر رہی تھی۔ آنکھوں میں اشتیاق اور دلچسپی تھی۔ وہ ہر ایک چیز کا گہری نظروں سے جائزہ لے رہی تھی۔
حویلی کی ہر چیز پرانی تھی۔ جیسے قدیم اور پر اسرار حویلی ہو۔ وہ لاؤنج سے گزر کر پورچ میں چلی آئی اور پورچ سے گھومتی حویلی کی پچھلی سائیڈ پر چلی گئی۔
اسے وہ دن یاد آیا جب زاویان اسے گھسیٹ کر ٹارچر روم میں لے گیا تھا۔ اس دن تو وہ کچھ سمجھ نہیں پائی تھی مگر آج اس کے اندر سسپنس جاگ اٹھا تھا۔
وہ دبے قدموں سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ قدم اپنے آپ اس روم کی طرف بڑھے۔ وہ وقت سوچ کر ہی اسے جھرجھری آگئی۔
دروازہ بند تھا۔ وہ جھکی اور کی ہول سے اندر جھانکا۔ منظر سے پہلے اسے آواز سنائی دی تھی۔ کسی کے کرہانے کی، پانی کے ٹپکنے کی۔ اس کا دل عجیب ہونے لگا۔
اس نے جب دیکھا تو اس کی سانسوں کا تال میل بگڑ گیا۔ پورا کمرہ اندھیر تھا۔ درمیان میں چھوٹا سا سرخ بلب لٹک رہا تھا اور اس روشنی کے نیچے ایک الٹا لٹکا ہوا شخص۔
اس کی نظر گھومی اور زاویان پر ٹھہر گئی۔ جس کے ہاتھ میں چھوٹا سا نوکیلی چمک والا چاقو تھا۔ چہرہ کسی پتھر کی طرح سخت اور آنکھوں میں درندگی تھی۔ اس کے ہاتھ کانپ گئے۔
" تم لوگ سمجھتے ہو میں بھول جاؤں گا؟ اپنے دشمنوں کو ایسے ہی چھوڑ دوں گا؟"
اس نے چاقو سے اس کا کان کاٹ ڈالا۔
آدمی کی درد بھری چیخ لایان کا کان پھاڑنے لگی۔ اس کا دل جیسے سینے سے نکلنے کو تھا۔ سانس بھاری اور تیز ہوگئی۔
وہ جھٹکے سے مڑی۔ نظر سیڑھیوں سے آتے دو آدمیوں پر پڑی جنہوں نے خون میں لت پت ایک اور نیم مردہ شخص کا دبوچ رکھا تھا۔ اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔
وہ بنا سوچے اندھا دھند سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔ اس کی ٹانگیں اتنی کانپ رہی تھیں کہ وہ پہلے زینے سے پھسلتی گئی۔
اس نے چکراتے سر کے ساتھ سامنے دیکھا۔ کوئی اس کے پاس آیا تھا۔ اس نے اسے بازووں سے پکڑ کر اٹھایا۔
" چھوڑ دو زاویان۔۔۔ چھوڑو مجھے۔"
وہ چلائی۔
زاویان سپاٹ چہرہ لیے اسے پکڑ کر حویلی کے اندر لے گیا۔ جب اس نے کمرے کا دروازہ کھولا لایان تیزی سے خود کو چھڑواتی باہر کی طرف بھاگی۔
ہر قدم کے ساتھ اس کا خوف گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ گیٹ کے قریب پہنچنے پر زاویان اس کے سامنے آگیا۔ زاویان نے اس کی کلائی پکڑ لی۔
اس کے ہاتھ پر لگا خون لایان کی کلائی اور کپڑوں پر لگ چکا تھا۔
" چھوڑ دو۔۔۔ مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔ تم انسان نہیں ایک حیوان ہو۔"
وہ روئی۔ زور سے کلائی کھینچی۔
زاویان نے پورے جھٹکے سے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ لایان کا جسم ہل گیا۔ آنسو آنکھوں میں ہی تھم گئے۔ دماغ سن ہو گیا۔
" تم جو دیکھو گی، جو محسوس کرو گی، جو سمجھو گی مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ تم ہمیشہ یہیں رہو گی۔۔۔ میرے پاس۔"
زاویان کی کھردری ٹھنڈی آواز اس کے کانوں میں کسی لاوے کی طرح گئی۔
" تم ایسا نہیں کر سکتے۔ مجھ سے غلطی ہو گئی جو میں یہاں رک گئی۔ مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔ جانے دو مجھے۔"
وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بولی۔
زاویان کی نظریں اس کے چہرے پر ایسے جم چکی تھیں جیسے اس کا ہر ری ایکشن اپنے ذہن میں قید کر لینا چاہتا ہو۔
" جاؤ۔"
زاویان نے اسے چھوڑ دیا۔
بس ایک لفظ۔ جس کا اس کے سامنے کوئی مطلب ہی نہ تھا۔ لایان نے ٹھہر کر اس کو دیکھا۔ کیونکہ یقین نہیں آیا کہ وہ جانے دے رہا ہے۔
اس نے ایک قدم پیچھے لیا، پھر دوسرا اور پھر بنا کچھ سوچے گیٹ کی طرف بھاگی۔
زاویان کے آدمی نے گیٹ پورا کھول دیا۔ جیسے اسے پہلے سے پتا تھا کہ زرقاد نے اسے چھوڑ دینا تھا۔
گیٹ کھلا وہ باہر نکلی۔ دونوں طرف سے روڈ سنسان تھے اور کناروں پر گھنے جنگلوں کے سائے۔ وہ سنسان سڑک پر بنا پیچھے مڑے بھاگتی گئی۔
اسے لگا اگر وہ رک گئی تو یہی ہمیشہ کے لیے قید ہو جائے گی۔ وہ بھاگتی گئی۔ اس کا سانس پھولتا گیا۔ دل کے تیز دھڑکنے کی آواز کانوں تک پہنچ چکی تھی۔ تب ہی اس کے قدموں کو بریک لگی۔
دور کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ہیڈلائٹس کی روشنی اس پر پڑ رہی تھی۔ اس نے جب دیکھا تو وہ زاویان کے آدمی تھے۔ خوف کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔
سامنے راستہ بند تھا اور پیچھے وہ پلٹنا نہیں چاہتی تھی۔ فیصلہ ایک سیکنڈ میں ہوا۔ وہ جنگل کی طرف مڑ گئی۔
زمین پگڈنڈی تھی۔ پتھر، جھاڑیاں اور سوکھے پتے اس کے قدموں تلے چرچرانے لگے۔
جھاڑیاں اور درخت کی ڈالیاں بار بار اس کا دوپٹہ پکڑ لیتیں۔ لیکن وہ رک نہیں رہی تھی۔ پوری طاقت سے بھاگ رہی تھی۔
سانس گھٹنے لگی تھی۔ آنسو گلے تک پہنچ گئے تھے۔ ایک بڑا پتھر اس کے پیر تلے آیا۔ وہ پھسلی اور گھٹنوں کے بل گر گئی۔
" امی۔۔"
اس کا گھٹنا چھل گیا تھا۔ دونوں ہتھیلیوں پر کھردری مٹی کے نشان چپک گئے تھے۔
وہ درد بھول کر پھر سے اٹھی۔ اسے یہاں سے نکلنا تھا۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ وہ بھاگی مگر اب کی بار اس کی رفتار دھیمی ہو گئی تھی۔ وہ رکی اور ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
اس نے بھاری سانسوں کے ساتھ گردن اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ لمبے لمبے درخت اور اوپر سیاہ بادل۔ اسے لگا درخت آسمان کو چھو رہے ہیں۔
چاروں طرف گہرا سکوت تھا۔ صرف اس کی تیز سانسوں کی آواز پورے جنگل میں گونج رہی تھی۔ موسم کے تیور کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔ ہوا بھی رک سی گئی تھی۔ وہ پوری طرح پسینے اور درد میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اسے لگا اب صرف وہ ہے اور یہ جنگل۔
اس نے گہرے سانس لے کر خود کو سنبھالا اور چاروں طرف دیکھا۔ دور دور تک سیاہ اور سبز اندھیرا تھا۔
کوئی بھی راستہ سیدھا نہیں تھا۔ اس کے دل نے کہا بھاگو ورنہ کوئی آ جائے گا۔ اس نے سر درخت سے لگایا اور پھر اسے سیٹی کی آواز آئی جو پورے جنگل میں گونج رہی تھی۔
اس کا جسم تھرتھر کانپنے لگا۔ اس نے جیسے ہی چہرہ گھمایا کوئی اچانک اس کے سامنے آگیا۔ اس نے پلک جھپکتے دونوں ہاتھ لایان کے گرد درخت پر رکھ دیے۔ وہ سکڑ کر رہ گئی۔
" بہت بھاگ لی، اب واپس چلو۔"
اس کی سرسراتی سرگوشی جیسی بھاری آواز جنگل میں گونج گئی۔
لایان نے جھٹکے سے اس کو پیچھے دھکا دے دیا اور پھر سے بھاگی۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں پھنس گئی ہے۔ اندھیرا تھا کہ اسے نگلنے کو تیار کھڑا تھا۔ وہ بھاگی اور بھاگتی ہی گئی۔
کافی دیر بعد اس کو احساس ہوا کہ زاویان کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ وہ جھکی اور گھٹنوں پر دونوں ہاتھ رکھ دیے۔
بال بکھر چکے تھے۔ چہرہ زیادہ بھاگنے کی وجہ سے سرخ ہو چکا تھا۔ جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی اس کی روح فنا ہوئی۔
نہ کوئی آواز آئی تھی، نہ ہی کسی قدموں کی آہٹ۔ بس وہ تھا اور سامنے کھڑا تھا۔ اپنی ازلی اور خطرناک مسکراہٹ کے ساتھ۔
لایان نے بھاگنا چاہا مگر اس کے پیروں نے جواب دے دیا تھا۔ وہ بس اس کو دیکھتی رہ گئی۔ صدمے اور بے یقینی سے۔ وہ اس کے پاس آیا۔
" کیا ہوا بھاگ کیوں نہیں رہی؟"
لایان کا گلا خشک ہوا۔ زبان تالوں سے چپک گئی۔
" اب چلو۔"
زاویان نے نرمی سے کہا۔
لایان نیچے گر گئی۔
" تم ایک شیطان ہو۔۔۔ تمہارے اندر ایک بھی انسانوں والی صفت نہیں ہے۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ تمہارے ساتھ جانے سے بہتر ہے میں اس جنگل میں بھٹک بھٹک کر مر جاؤں۔"
لایان نے غصے سے کہا۔ زاویان کے چہرے کا رنگ بدلا۔
" مرنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔"
وہ مسکراتا پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا۔
" چاہتی ہو بتا دوں"
اس کا انداز چڑانے والا نہیں تھا۔
نظریں اس کی آنکھوں میں گھسی ہوئی تھیں۔ لایان نے زخمی نظروں سے اس کو دیکھا۔
زاویان نے گننا شروع کیا۔
" پہلا: زہر۔
ایک گھونٹ، سینے میں جلن، پیٹ میں آگ اور تم اندر سے گل سڑ جاؤ۔
دوسرا: خود کو بھوکا رکھو۔
پہلے پیٹ پھر دماغ کام کرنا چھوڑ دے گا۔ پھر بس سانس ہی تھک جاتی ہے۔
تیسرا: پانی میں ڈوب کر مرنا۔
پہلے ہلکی ہلکی سانس رکتی ہے۔ پھر دماغ میں آخری تصویر چپک جاتی ہے۔
چوتھا: زندہ زمین میں گاڑ دینا۔
مٹی کا بوجھ۔ سانس لینے کے لیے جگہ کا کم ہونا اور موت آہستگی سے آتی ہے۔
پانچواں: زخم پر نمک۔
پہلے ہوا گرم لگتی ہے اور پھر نمک کی وجہ سے زخم اپنی خود کی آگ میں جلتا ہے۔
چھٹا: اتنا مار دو کہ ہڈی اندر سے ٹوٹ کر اپنے ہی ماس میں چبھ جائے۔ سانس لینا بھی زہر لگتا ہے۔
ساتواں: آگ۔
جس میں ماس چپک کر جلتا ہے اور تم اپنے ہی چہرے کی بو محسوس کرتے ہو۔
اٹھواں: چھری کا ہر وار۔
ایک ایک انچ محسوس ہوتا ہے۔
نواں: گردن کا ٹوٹنا۔ ایک پل میں سب کچھ ختم۔
دسواں: آنکھوں پر کپڑا اور گلے پر چاکو۔ تم سمجھ بھی نہ پاؤ اور سب ختم۔
گیارہواں: ایک رسی تمہارے گلے میں اور موت تک سانس کا کھیل چلتا رہے۔
بارہواں: ایک ڈور گلے میں پھنسی ہوئی۔ جو دھیرے دھیرے محسوس کرواتی ہے کہ موت آتی کیسے ہے۔
تیرہواں: ٹھنڈ سے جم کر مرنا۔
جس میں تمہارا خون برف بن جائے۔ دل دھڑکنا بھول جائے۔ تم چپ چاپ ایک پتھر کی طرح گر جاؤ۔
چودھواں: اونچائی سے کودنا۔
وہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب تم زمین کی طرف گر رہی ہوتی ہو اور تم جانتی ہو کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔
اور پندرھواں گولی۔"
وہ اپنا چہرہ اس کے اور قریب لے گیا۔ لایان سانس لینا بھول گئی۔ زاویان نے انگلی سے اس کے سینے کی طرف اشارہ کیا۔
" سینے پر لگے تو پہلے ہوا کا ایک زور کا جھٹکا لگتا ہے پھر اندر سے درد کی ایک ایسی لہر اٹھتی ہے کہ تم بس ہوا کو پکڑنے کی کوشش کرتی ہو لیکن ہوا ہوتی ہی نہیں ہے۔ تمہارا خون تمہارے کپڑوں سے تیزی سے بہتا زمین پر گرتا ہے اور تمہاری سانسیں شاید دس یا پھر آٹھ رہ جاتی ہیں۔"
اس نے انگلی اس کے پیٹ پر رکھی۔
" یہاں لگے تو گولی تمہارے اندر کا سب کچھ چیر کے نکالتی ہے۔ خون کا ذائقہ تمہارے گلے تک چڑھ جاتا ہے اور تم سوچ بھی نہیں پاتی کہ درد زیادہ ہے یا جلن۔ "
پھر اس کا ہاتھ لایان کی گردن کے پاس آیا۔
" گردن پہ لگے تو پہلے تمہاری آواز چلی جاتی ہے پھر سانس، پھر آنکھوں کے آگے اندھیرا۔"
وہ تھوڑا اور قریب آیا۔
لایان کے سانسیں خشک ہو چکی تھیں۔ زاویان نے انگلی اس کی کنپٹی پر رکھی۔
" اور اگر دماغ پر لگے تو تم ایک پل میں بس بند ہو جاتی ہو۔ جیسے کسی نے تمہارا سوئچ آف کر دیا ہو۔"
لایان کا دل رکنے لگا۔
زاویان کی آنکھیں اس کے چہرے سے پیروں تک گھوم گئیں۔ بنا کچھ اور کہے اس نے لایان کو بانہوں میں اٹھا لیا۔
" نہیں رک جاؤ۔۔۔چھوڑ دو مجھے۔"
لایان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
زاویان نہیں رکا۔
" اب تم صرف میری ہو۔ جنگل ہو یا حویلی۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔"
اس نے لایان کو خود میں لپیٹ لیا۔ جیسے ہر نظر، ہر اندھیرے، ہر خوف سے چھپا دینا چاہتا ہو۔
وہ اسے واپس حویلی لے جا رہا تھا۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Itni short 😭😭😭😭😭
ReplyDeleteSuper but her din upload kiya kery
ReplyDelete