Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 21 by Munaza Niaz


زہرِ عشق

قسط 21

از منزہ نیاز 


پرائیوٹ ہاسپٹل کے پرائیوٹ روم میں سفید روشنی اور ٹھنڈک تھی۔ کمرہ پورا لگثری تھا۔


سفید چادر، مدھم روشنی اور ہاتھ پر لگی ڈرپ۔ اس کی سانس کبھی تیز ہو جاتی تو کبھی بالکل ہی مدھم۔ جیسے جسم بھی کنفیوز ہو گیا کہ لڑنا ہے یا ہار جانا ہے۔


کمرے میں ڈاکٹر اور دو نرسز موجود تھیں۔ ایک نرس انجیکشن ڈرپ میں لگا رہی تھی۔ دوسری رپورٹ پڑھ کر ڈاکٹر کو سنا رہی تھی۔ ڈاکٹر نے سر ہلاتے فائل تھامی اور اسے اشارہ کیا۔ 


نرس سر ہلاتی باہر چلی گئی۔ ایک منٹ بعد وہ دانش کے ہمراہ اندر داخل ہوئی۔ ڈاکٹر نے دانش کی طرف دیکھا پھر فائل کی طرف۔


" ان کا فزیکل ڈیمج کافی ہے، ملٹی پل fractures نہیں ہیں لیکن پوری باڈی میں contusions ہیں۔ ریسنٹ اور پرانے دونوں۔ malnutrition کی وجہ سے کمزوری اور ایکسٹریم ہے اور۔۔۔" 

وہ رکے اور فائل بند کی۔

 

" مینٹل سٹیٹ کریٹیکل ہے۔ پی ٹی ایس ڈی کے سیور سائنز ہیں۔ چھونے یا اونچی آواز پر ریئکٹ کرے گی۔ شاید وائلنٹ ہو جائے۔ اس وقت اسے سب سے زیادہ سٹیبلٹی اور سیفٹی چاہیے۔ سمجھ رہے ہیں۔"  


دانش بلکل چپ رہا۔ ڈاکٹر نے ہلکا سا سر ہلایا اور باہر چلا گیا۔ 


وہ ایک قدم آگے آیا اور اس کو پکارا۔

"مشال۔"

مشال نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ اس کو دیکھا اور کانپ گئی۔ جھٹکے سے وہ پیچھے ہوئی۔


" دد۔۔۔دور۔۔۔ دور رہو مجھ سے۔مت چھوو۔"  

وہ غصے سے چلانے لگی۔


دانش کے اندر کچھ ہل گیا۔ نرس نے مشال کو نرمی سے پکڑا اور واپس لٹایا لیکن وہ غصے سے اسے بھی پیچھے دھکیل رہی تھی۔ 


دوسری نرس نے فورا انجیکشن بھرا اور اس کے بازو میں لگا دیا۔ کچھ لمحوں بعد اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ جسم ڈھیلا ہو گیا۔ دانش نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ 


اس کے دماغ میں بس ایک ہی چیز چل رہی تھی۔


حارث کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرنا۔


☆☆☆


کچن میں کھٹ پٹ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اس نے آرام سے کافی مگ میں ڈالی اور کچن سے باہر نکل آئی۔ اس کا رخ سیڑھیوں کی طرف تھا۔


اوپر جاتے ہوئے اس نے پہلے سٹڈی روم میں جھانکا جہاں یحیی لیپ ٹوپ پر بزی تھا۔ وہ بنا کوئی آہٹ پیدا کیے چھت پر چلی گئی۔ نظر سیدھا آسمان پر گئی۔ 


سفید بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہلکی ہوا سے تیر رہے تھے۔ چاند غائب تھا اور ستارے ناپید۔ اس نے گھونٹ لیا پھر موبائل کی اسکرین اوپن کی۔


کال لاگ اوپن کر کے اس نے ایک نمبر ڈائل کیا۔ غیر ارادی طور پر اس کی انگلیوں کی گرفت مگ پر سخت ہوئی تھی۔ 


اس نے موبائل کان سے لگایا۔ بیل جاتی رہی مگر کسی نے نہیں اٹھایا۔ اس نے دوبارہ ٹرائی کیا۔


" لالی کہاں ہے تو؟ پلیز فون اٹھا لے۔"  

اس نے بے چینی سے کہا۔ 


دوسری طرف بیل جاتے جاتے فون بند ہو گیا۔ اس نے گہری سانس لے کر فون کان سے ہٹا لیا۔


" کس کو کال کی جا رہی ہے بیگم!"  

وہ یحیی کی آواز پر اچھل پڑی۔


"آ۔۔۔ وہ لالی۔۔۔ میرا مطلب لایان کو کال ملا رہی تھی۔ بہت یاد آرہی ہے اس کی۔ پتہ نہیں کیسی ہوگی۔"  


لایان کے نام پر یحیی کے کان کھڑے ہوئے۔ پہلا خیال زاویان کی طرف گیا۔ کیا اس نے لایان کو چھوڑ دیا ہوگا؟  


اس نے دیکھا وہ دوبارہ کال ملا رہی تھی۔ مگر پھر مایوسی سے چہرہ جھٹک دیتی۔ یحیی نے نرمی سے اس کا مگ لے لیا۔ روحا کا منہ کھل گیا۔


" یہ میری تھی۔" 

" تم بھی تو میری ہو۔" 

یحیی نے ایک گھونٹ لے کر کہا۔مسکراتے مگ واپس پکڑایا۔


روحا نے منہ بنا کر لے لیا۔

" میرے ساتھ زیادہ فری نہیں ہونا۔"  

" ایک بیوی یہ بات اپنے شوہر کو کہہ رہی ہے۔ کول۔" 

وہ ہنسا پھر دلچسپی سے اس کو دیکھا۔ 


" ایک بات بتاؤ! اگر تم آج اس وقت یہاں نہ ہوتی تو کہاں ہوتی اور کیا کر رہی ہوتی؟" 


روحا نے ایک گھونٹ بھر کر اس کی طرف دیکھا۔


" میں اس وقت اپنا ڈریم پورا کر رہی ہوتی۔" 

وہ مسکرائی۔


" کیسا ڈریم؟"  

" مجھے فل اسپیڈ میں کار چلانی ہے۔ 180 کی سپیڈ پہ، بنا بریک لگائے۔"  


" 180؟ تمہیں گیئر شفٹ کرنے آتے ہیں؟"  

یحیی نے چونک کر اس سے پوچھا۔


" گیئر لگاتے کتنے ہیں؟ تین یا چار؟" 

اس نے معصومیت سے پوچھا۔


یحیی نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی۔

" تمہیں پہلے کار کے اندر بیٹھنا سیکھنا چاہئے، سپیڈ سے پہلے۔" 


" تم دیکھنا ایک دن میں ریس لگاؤں گی اور جیت بھی جاؤں گی۔" 


یحیی نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما۔

" اکیلے چلو گی اس روڈ پر یا مجھے ساتھ لے کے جاؤ گی؟"  


روحا نے مگ بنا دیکھے منڈیر پر رکھ دیا۔ نظریں یحیی کے چہرے پر تھیں۔


" ابھی تک گیئر کی گنتی بھی نہیں آتی مجھے مگر تمہارے ساتھ کوئی بھی ڈرائیونگ مشکل نہیں لگے گی۔"  

اس کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ تھی۔


یحیی نے اس کی پیشانی کو نرمی سے چھوا پھر جھک کر گردن کو اور آہستہ سے خود سے لگا لیا۔


روحا پہلے ہچکچائی پھر مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھ اس کی بیک پر باندھ دیے۔ 


" مجھے صرف تم چاہیے روحا! بنا کسی وجہ کے، ہر لمحہ۔"  

اس نے روحا کے سر پر نرمی سے لب رکھے۔ 


روحا آج پہلی بار اس کو اور اس کی محبت کو پوری جان سے محسوس کر رہی تھی۔ اس نے چہرہ اٹھا کر یحیی کو دیکھا جو اس کے بالوں کو نرمی سے پیچھے کر رہا تھا۔ 


روحا نے بے اختیار اس کا کالر پکڑ لیا۔ 

" بہت بری ہوں نا میں! مگر تم میرے اچھے ہو یحیی۔" 

یحیی نے کچھ بھی نہیں کہا۔ بس دوبارہ اسے بانہوں میں بھر لیا۔


اگلے دن روحا سفید ہوڈی اور جینز میں بلکل تیار تھی۔ پیروں میں سفید جوگرز اور بال کھلے ہوئے مگر بنے ہوئے تھے۔ 


اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ وہیل کو پکڑے ہوئے تھے۔ یحیی اس کے ساتھ ہی پیسنجر سیٹ پر بیٹھا تھا۔ آستینیں مڑی ہوئیں۔ سن گلاسز لگائے ہوئے۔ ایک ہاتھ ڈیش بورڈ پر، دوسرا روحا کی سیٹ پر تھا۔


" ریڈی ہو روحا جان؟ پہلی ڈرائیونگ کلاس ہے۔ جان کی امان اللہ کے حوالے۔"  


" یحیی میر میں سیریس ہوں۔ ہنسی مذاق کا موڈ نہیں ہے۔ مجھے پوری طرح سیکھنا ہے۔" 

روحا نے سنجیدگی سے کہا۔


" اور مجھے پوری طرح زندہ رہنا ہے۔ اس لیے اسٹیئرنگ کو صحیح طرح پکڑو۔" 

یحیی نے کہا۔


کار چلی ٹھک ٹھک ٹھک۔ جھٹکے لگنا شروع۔ روحا میڈم طوفان کی رانی بن گئی۔ بریک لگانا بھول گئی۔


"روحا بریک لگاؤ بریک۔" 

یحیی نے گھبرا کر کہا۔


" بریک لگانے کا موڈ نہیں ہے ابھی۔"  

" تمہیں لگتا ہے تم کار چلانا سیکھ رہی ہو۔ ارے یہ تو میری قبر کھودنے کی پلاننگ لگ رہی ہے۔" 

یحیی کو غصہ آگیا۔


کار ایک جھٹکے سے رک گئی۔ دونوں کچھ پل ایک دوسرے کو گھورتے رہے پھر روحا ہنس دی۔


" اوکے اوکے سوری۔" 

" روحا کونسنٹریٹ کرو۔ مجھے ہنسی نہیں چاہیے۔ مجھے چاہیے کہ تم ایک دن میرے ساتھ ڈرائیو کرتے ہوئے سیف لگو۔ تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو اور کار ایک دم سموتھ چلے۔"  

یحیی نے اسے سمجھایا۔ روحا بھی سنجیدہ ہو گئی۔ 


" پرامس ایک دن ایسا ہی ہوگا۔" 

" ایک دن نہیں ہر روز۔"  

یحیی کی بات پر اس کے گال گلابی ہوئے۔


اس نے پھر سے کار سٹارٹ کی۔ تین دنوں تک وہ مکمل سنجیدگی سے ہر ایک چیز یحیی سے پوچھ کر سیکھتی گئی۔ چوتھے دن اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔


یحیی نے اسے کہہ دیا تھا کہ آج وہ خود ڈرائیو کرے گی۔

" اب اگر تم نے کوئی حرکت کی نا تو۔۔۔۔"  

اس کے بولنے سے پہلے ہی روحا نے انجن کو جگا دیا۔


" روحا بریک کا پتہ ہے نا؟" 

یحیی نے پوچھا۔


" وقت پہ لگاؤں گی۔"  

روحا کا چہرہ سپاٹ اور چہرے پر آدھی مسکراہٹ۔


یحیی کا چہرہ سفید ہوا۔ کار چلی۔ روحا میڈم خود کو فل ہیروئن موڈ میں لے آئی۔ بال ہوا سے پیچھے کی طرف اڑنے لگے۔ آنکھوں پر گلاسز لگے تھے۔


"اتنی کانفیڈنس لگ رہی ہو۔ آخر تمہارا پلان کیا ہے۔" 

یحیی نے پہلو بدلا۔


" پلان یہ ہے کہ مجھے زندگی فل سپیڈ میں جینی ہے اور کار بھی۔ اگر ہم مر بھی گئے تو اسٹائلش طریقے سے مریں گے نا۔" 


" تم پاگل تو نہیں ہو گئی۔" 


روحا نے پوری سپیڈ میں ایک ٹرن لیا۔ یحیی نے سیٹ بیلٹ پکڑ لی۔


" یا اللہ! یہ تو واقعی چلا رہی ہے۔" 

روحا نے ایک اور شارپ کٹ لیا اور کار کھلے روڈ پر رک گئی۔


" تمہیں ڈر نہیں لگا؟" 

روحا نے گلاسز اتار کر اس کی طرف دیکھا۔ پھر مسکرائی۔


" ڈر مجھے اس بات کا لگتا ہے کہیں زندگی میں کوئی یحیی جیسا انسان لیٹ نہ ہو جائے۔" 


" تم پہلی لڑکی ہو جو مجھے امپریس کر گئی اور ڈرا بھی گئی۔" 

وہ مسکرایا۔


" تو یحیی میر! کیا آپ کی ڈرائیور سلیکٹ ہو گئی؟" 

اس نے چھیڑتے ہوئے پوچھا۔


" ڈرائیور نہیں پارٹنر۔" 

اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی سیٹ بیلٹ کھول دی۔


اگلے لمحے وہ اس کی گود میں بیٹھی تھی۔ وہ گھبرائی۔ نظریں چرا گئی۔


" یحیی۔۔۔" 

اس نے ہلکی آواز میں ہچکچا کر پکارا۔


"ہمممم۔۔۔۔"  

یحیی کی بھاری آواز اس کے گرد گونجی۔


" مجھے بھوک لگی ہے۔" 

یحیی نے غور سے اس کو دیکھا۔


اس کی شکل ایسی ہو رہی تھی جیسے اسے شوہر نہیں شوارما چاہیے۔


اس نے ہنسی دبائی پھر نرمی سے اس کے ہاتھ کی پشت کو چوما۔ تھوڑا سا جھک کر اس کی گردن پر لب رکھے۔ 


اور اسی وقت روحا کے دل کی دھڑکن ٹو ایکس کی سپیڈ پر چلی گئی۔ 


کار سے بھی زیادہ۔


جاری ہے۔


Comments

Popular Posts