Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 22 by Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 22
از منزہ نیاز
سٹڈی روم کی خاموشی گھڑی کی ٹک ٹک سے ٹوٹ رہی تھی۔ میز پر کاغذات اور فائلوں کا ڈھیر لگا تھا۔ اذان کے ہاتھ میں ایک فائل تھی جسے وہ مکمل سنجیدگی سے پڑھ رہا تھا۔
کھڑکی کے پٹ کھلے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی۔ دروازہ کھلا اور ایشل سیاہ سلک کی نائٹی میں وائن کا گلاس تھامے اندر داخل ہوئی۔
وہ اس کے قریب آئی اور غور سے اذان کے تاثرات ملاحظہ کیے۔ اذان نے اس کی موجودگی محسوس کی مگر کوئی حرکت نہیں کی۔ ایشل کے ماتھے پر بل آئے۔
" تم اتنے چپ کیوں ہو؟"
ایشل کی ہلکی آواز چبھتی ہوئی تھی۔ اذان سیدھا ہوا۔ سگار کا دھواں باہر نکالا۔
" زاویان اب تک خاموش ہے۔ رایان میرے ہاتھوں مارا گیا اور وہ بس چپ ہے کچھ کر نہیں رہا۔"
ایشل نے گلاس ٹیبل پر رکھا۔
" یا تو وہ بدلے کا صحیح وقت تلاش کر رہا ہے یا پھر وہ اتنا کمزور ہے کہ سوچنے میں ہی مر جائے گا۔"
اذان نے اس کی طرف دیکھا۔
" کمزور؟ زاویان؟ نہیں۔۔۔۔ وہ محض خاموش ہے، اس کا مطلب وہ دیکھ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم انتظار کریں یا اسے کھیل شروع کرنے پر مجبور کریں۔"
ایشل اس کے پاس صوفے کے بازو پر بیٹھی۔ ہاتھ اذان کے کندھے پر رکھ دیا۔
" کھیل اس وقت مزہ دیتا ہے جب دشمن اپنی مرضی کے خلاف پہلا قدم اٹھانے پر مجبور ہو۔ ہم بس اس کے چاروں طرف دیواریں بند کرتے جائیں گے۔ جب وہ سانس لینے کے لیے تڑپے گا تب ہم وار کریں گے۔"
اذان نے سگار ٹرے میں بجھا دی۔ اٹھ کر کھڑکی کے پاس چلا گیا۔
" پلیننگ اچھی ہے لیکن تمہارا انداز مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔"
ایشل کی آنکھوں میں چمک ابھری۔ وہ چل کر اس کے پاس گئی۔
" اور تم ہمیشہ سمجھتے تھے کہ صرف تم ہی بہتر چال چل سکتے ہو۔"
اذان نے گردن موڑ کر اس کو دیکھا۔
" ہاں لیکن تمہاری اکثر چالیں خطرناک ہوتی ہیں اور مسئلہ یہی ہے وہ مجھے بھی جکڑ لیتی ہیں۔"
ایشل نے ایک اور قدم اٹھایا اور اس کے بالکل قریب آگئی۔
" جکڑنا نہیں، قابو پانا۔ فرق سمجھو اذان۔"
اس کا ہاتھ اذان کر کالر پکڑ چکا تھا۔
" قابو پانے کی کوشش کرو اور پھر دیکھو کون کس پر بھاری پڑتا ہے۔"
اس نے ایشل کا ہاتھ کالر سے ہٹا کر نیچے کیا مگر چھوڑا نہیں۔ایشل نے دوسرا ہاتھ اس کے سینے پر رکھ دیا۔
" یہ کھیل صرف زاویان کے لیے نہیں ہے۔ ہم دونوں کے بیچ بھی ایک جنگ چل رہی ہے اور یہ زیادہ خطرناک ہے۔"
اذان کا ہاتھ دھیرے سے اس کی بیک پر گیا اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
وہ محبت نہیں تھی، ایک دعوی تھا۔ایک ملکیت۔ ایشل دھیما سا ہنسی۔
" ایک بات یاد رکھنا اذان! دعوی ہمیشہ ٹوٹ سکتا ہے لیکن سلطنت؟ وہ تب تک رہتی ہے جب تک دونوں حکمران ایک دوسرے کو ختم نہ کر دیں۔"
اذان جھکا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔
" تو پھر دیکھتے ہیں کون پہلے کس کو ختم کرتا ہے۔"
☆☆☆
گاڑی حویلی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ زاویان نے اس کی طرف آ کر دروازہ کھولا اور اسے سہارے سے باہر نکالنا چاہا مگر وہ بدک گئی۔
" مجھے نہیں آنا۔ تم مجھے واپس چھوڑ آو۔"
زاویان کو سمجھ نہیں آیا اسے کیسے سمجھائے۔ اس نے ہاتھ بڑھایا اور اسے بانہوں میں اٹھا لیا۔
وہ چلانا چاہتی تھی لیکن آواز اندر ہی دب گئی۔ کمرے میں لے جا کر اس نے اسے صوفے پر بٹھا دیا۔
"مجھے یہاں نہیں رہنا۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ہو؟ تم ایک قاتل ہو۔۔۔ تم انسان کے لباس میں ایک جانور ہو۔"
وہ غصے سے کانپنے لگی۔ زاویان نے گہری نظروں سے اس کو دیکھا۔ مگر ایک لفظ نہ بولا۔
" تمہیں انسانوں کو مارتے ہوئے ذرا ڈر نہیں لگتا۔ تم کس طرح اپنی شکل دیکھتے ہو آئینہ میں۔"
زاویان کی آنکھوں میں سرخی دوڑ گئی۔
" انسان؟ تم نے انہیں انسان کہا جنہوں نے میرا بھائی مجھ سے چھین لیا؟"
لایان نے بولنا چاہا زاویان نے موقع نہیں دیا۔
" تم نے جو دیکھا سو دیکھا مگر میں نے جو دیکھا تم وہ نہیں جانتی۔ رایان۔۔۔ میرا بھائی تھا۔ میرا سب کچھ۔ انہوں نے میرے رایان کو مار دیا۔ تمہیں لگتا ہے میں انہیں جینے دوں گا؟"
اس کا لہجہ تیز ہوا۔
" کسی کے سامنے رایان کا ذکر مجھے اتنا نہیں توڑتا جتنا تمہارے سامنے توڑ دیتا ہے۔ جب بھی اس کو سوچوں تو میرا دل پھٹنے لگتا ہے کہ کیسے۔۔۔کیسے اس کے ساتھ۔۔۔"
اس نے سامنے رکھی میز پر زور سے ہاتھ مارا۔ وہ اچھل پڑی۔ زاویان کی نظریں اس پر گڑی ہوئی تھیں۔ اس کا لہجہ ہلکا سا نم تھا۔
" جنہیں تم انسان کہہ رہی ہو میں ان سب کا حساب لوں گا۔ ہر خون کے قطرے کا۔ میں صرف زاویان نہیں ہوں۔ میں رایان کا بھائی ہوں۔ اس کی قسم کھائی ہے میں نے۔"
اس کے اونچی آواز اب ہلکی ہوتی گئی۔ ہر لفظ کے پیچھے چھپا درد سامنے آنے لگا۔ لایان بول نہیں سکی۔ سن بیٹھی اس کو دیکھے گئی۔
" تم مجھے جتنا بھی جانور کہہ لو، جتنی بھی نفرت کر لو پر یاد رکھنا۔ میرا درد میرا ہے اور میرا انتقام بھی میرا ہے۔"
وہ میز پر دونوں ہاتھ رکھے جھکا اس کو سرخ نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اب کی بار اس کی آواز میں غصہ نہیں تھا۔
اس نے گہری سانس اندر کھینچی۔ خود کو سنبھالا پھر لایان کو دیکھا جس کے کپڑوں اور چہرے پر مٹی کے نشان تھے۔ گھٹنوں کی جگہ کپڑے خون سے بھرے ہوئے۔ شاید گرنے کی وجہ سے چوٹ لگ گئی تھی۔ پھر پیروں کو دیکھا جہاں سے خون کی ننھی بوندیں ماربل کے فرش پر گر رہی تھیں۔
اس کی سانس اٹک گئی۔ وہ تیزی سے الماری کی طرف پلٹا اور فرسٹ ایڈ باکس نکال لایا۔ اس کے سامنے کاؤچ رکھ کر بیٹھا اور اس کا پیر پکڑ کر سامنے رکھی میز پر رکھ دیا۔
لایان نے حیران ہو کر اس کو دیکھا۔ پھر ہچکچا گئی۔
" رر۔۔۔ رہنے دو۔۔۔میں خود۔"
اس نے پاؤں کھینچنا چاہا لیکن زاویان نے مضبوطی سے پکڑ لیا۔
" چپ! اب بولنا نہیں۔"
اس نے بھاری آواز میں بنا اس کو دیکھے کہا۔ وہ یکدم ہی چپ ہوئی۔
زاویان نے کپاس نکال کر دوا لگائی اور خون صاف کرنے لگا۔ درد دوہرا ہوا۔ دوا نے پہلے زخم کو ہلایا پھر لہر پورے جسم میں دوڑ گئی۔
اس نے پیر جھٹکا۔ زاویان نے ہاتھ روک کر اس کو دیکھا۔ وہ دھندلی آنکھوں سے درد چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ زاویان نے دوبارہ نرمی سے زخم صاف کرتے پیر پر پھونک ماری۔
لایان کا تیز دھڑکتا دل مزید تیز ہوا۔ اس نے گہری سانس لے کر اس کو دیکھا۔
" تمہیں کیا فرق پڑتا ہے، چاہے مجھے جتنی بھی تکلیف ہو۔"
زاویان نے اس کے دوسرے پیر کو میز پر رکھا اور اس پر دوا لگانے لگا۔
" فرق پڑتا ہے پر تم نہیں سمجھو گی۔"
اس نے کپاس واپس رکھی اور بینڈج نکال لی۔
لایان خاموشی سے اس کے ہاتھوں کی حرکت دیکھ رہی تھی۔
" تم سوچ رہی ہو میں بیسٹ ہوں۔ ہوں بھی، پر یہ بیسٹ بھی اپنی چیزوں کی حفاظت کرتا ہے۔ چاہے وہ چیزیں خود نفرت سے ہی کیوں نہ دیکھیں۔"
کمرے کی ہوا بھاری ہو گئی تھی۔ زاویان نرمی سے اس کے پیروں کو کور کرتا گیا۔ بینڈج پٹی اس کے پیروں کے گرد لپٹ گئی۔ اس نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
لایان نے ہاتھ نہیں کھینچا۔ وہ اس حالت میں نہیں تھی۔
زاویان نے اس کی انگلیوں کا زخم صاف کیا پھر ہتھیلی پر دوا لگائی۔ جہاں گرنے کی وجہ سے رگڑ آ گئی تھی۔
لایان کو جلن ہونے لگی۔ زاویان نے اس کے ہتھیلی پر پھونک ماری۔ اس کی ٹھنڈی سانس لایان کے زخم پر کسی پھوار کی طرح گری تھی۔
اسے بے اختیار روحا یاد آ گئی۔ جب ایک مرتبہ گراؤنڈ میں نیٹ بال کی پریکٹس کرتے ہوئے وہ منہ کے بل گری تھی۔ دونوں ہتھیلیاں چھل گئی تھیں۔ روحا اسے کھینچ کر گراونڈ سے باہر لے گئی تھی۔
" اتنا جنونی ہو کر کون بھاگتا ہے؟ دیکھا! لگ گئی نہ چوٹ۔"
روحا خفا خفا سی اس کا ہاتھ پکڑ کر دوا لگانے لگی البتہ جلن اتنی زیادہ ہوئی کہ اس کی سسکی نکل گئی۔
روحا نے اس کا چہرہ دیکھا پھر اس کے ہاتھ پر پھونک ماری۔ ٹھنڈی ہوا اس کے زخم کو برف کی طرح چھونے لگی۔
" اب درد نہیں ہوگا۔ کیا ہو رہا ہے؟"
روحا نے پریشانی سے پوچھا۔
" نہیں! بالکل بھی نہیں۔"
لایان ہلکا سا نم آنکھوں کے ساتھ مسکرائی۔
روحا نے اس کو خود سے لپٹایا۔
" چل آجا تجھے کچھ کھلاتی ہوں۔"
اسے کھینچ کر وہ کینٹین کی طرف بڑھ گئی تھی۔
لایان رونے لگی۔ اسے وہ شدت سے یاد آئی تھی۔ زاویان نے اسے روتا دیکھا تو پریشان ہو گیا۔
" کیا زیادہ تکلیف ہو رہی ہے؟ ڈاکٹر کو بلاؤں؟"
" نہیں میں ٹھیک ہوں۔"
اس نے چہرہ صاف کرنا چاہا کہ زاویان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
" دوا آنکھوں میں لگ جائے گی۔"
اس نے اپنا رومال نکال کر اس کے دوسرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔
لایان نے خاموشی سے لے کر گال پر بہتے آنسو پونچھے۔ اس کے دماغ میں ایک ہی جنگ چل رہی تھی۔
زاویان کون ہے؟ ایک قاتل؟ سفاک؟ بیسٹ یا ان سب کے پیچھے چھپا ایک حساس انسان۔
زاویان نے باکس الماری میں رکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
" ان کے لیے کھانا لے جاؤ۔ وہ چینج کریں گی مدد کروانا۔"
کچن میں کام کرتی میڈ سے کہا۔
میڈ نے سر ہلا دیا۔
" جی صاحب۔"
وہ ٹارچر روم کی طرف بڑھا۔ اندر اذان کا ایک آدمی ٹھکانے لگ چکا تھا اب دوسرا اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
ملازمہ کھانا لے کر لایان کے پاس گئی۔ اسی لمحے پوری حویلی کسی کی چیخوں سے گونج اٹھی۔ لایان نے گھبرا کر ملازمہ کو دیکھا جو سکون سے اس کے لیے کپڑے نکال رہی تھی۔
" انسان بھی انسان ہوتا ہے۔ زاویان تو اس سے بھی زیادہ خونی لگتا ہے ۔"
اس نے جھرجھری لی۔
" تم نے میرا بھائی لیا تھا۔ میں تمہارے کتوں کو ایک ایک کر کے دفن کروں گا۔"
اس نے وہ چٹ لاش پر چپکائی اور اسے اذان کو بھجوا دیا۔
اگلے دن سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ لایان کمرے میں تھی۔
" آپ کو صاحب ناشتے کے لیے بلا رہے ہیں۔"
ملازمہ نے اسے کہا۔ وہ ٹھنڈی سانس بھرتی لاونچ میں چلی آئی۔
زاویان ٹیبل پر بیٹھا ٹیب اسکرول کر رہا تھا۔ اس کے آدمی پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے اسے کوئی رپورٹ دے رہے تھے۔ جسے وہ بنا سر ہلائے سن رہا تھا۔ وہ اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
" صحیح! جس دن اذان اپنے خاص آدمی کی شادی میں پہنچے اس فنکشن میں دھماکہ کروا دینا اور میرا میسج ضرور دینا۔ اس کی ہر محفل میں اب موت ناچے گی۔"
اس کے آدمی تیزی سے پلٹ گئے۔ لایان دلچسپی سے اس کو دیکھ رہی تھی۔
" یہ جو کچھ تم کر رہے ہو نا یہ تمہیں اور خون کا عادی بنا دے گا۔"
اس نے چائے کا کپ اٹھانا چاہا، زاویان نے روک دیا۔
" پہلے کچھ کھاؤ پھر چائے۔"
زاویان نے دوبارہ نظر اسکرین کی طرف موڑ لی۔ لایان نے آنکھیں چھوٹی کیں پھر ٹرے اپنی طرف کھسکالی۔
زاویان نے مسکراہٹ چھپاتے کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔ لایان کی نظر بار بار بھٹک کر اس کی طرف جاتی پھر واپس ناشتے پر۔
زاویان اٹھا اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔ لایان نے گھور کر اس کی پیٹھ دیکھی جو ٹیب بھی ساتھ لے گیا تھا۔
وہ ناشتہ ختم کرنے کے بعد سست قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ دوپہر ہوئی اور پھر شام۔ زاویان آ چکا تھا۔ کچھ سوچ کر وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھی۔
کمرہ خالی تھا۔ وہ پہلے ہچکچائی پھر اندر چلی آئی۔ اگلے ہی لمحے وہ کمرے سے باہر تھی۔ چہرے پر گھبراہٹ اور پسینہ تھا۔ کمرے میں پہنچتے ہی اس نے جھٹ دروازہ لاک کر دیا۔
پہلی دفعہ چانس ملا تھا اور زاویان کا فون اس کے ہاتھ میں تھا۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Wow wow surprised episode love it 😍❤️
ReplyDelete