Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 23 by Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 23
از منزہ نیاز
پہلی دفعہ چانس ملا تھا اور زاویان کا فون اس کے ہاتھ میں تھا۔
" بس ایک کال کروں گی۔ روحا کو۔۔۔ بس ایک۔"
اس نے تیزی سے سکرین اوپن کی۔
" یہ کیا؟"
موبائل پر پیٹرن لگا تھا۔ پاسورڈ یا پن ہوتا تو شاید وہ کھول لیتی۔
اس نے تکا مارا نہیں کھلا، پھر مارا ناکامی۔ کئی مرتبہ غلط ملانے پر دس منٹ کا ٹائمر لگ گیا۔ اس کا دماغ ہل گیا۔
" اب میں مر گئی۔"
اسی وقت کوریڈور میں بھاری قدموں اور زاویان کی گرج دار آواز گونج گئی۔
" میرا فون کہاں ہے؟ ہر جگہ دیکھو۔ ابھی کے ابھی چاہیے مجھے۔"
لایان کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
" اگر پتہ چل گیا تو زندہ نہیں چھوڑے گا۔"
پوری حویلی میں ہڑبونگ سی مچ گئی۔ اس کے آدمی اور حویلی کا ہر بندہ ہر جگہ پھیل گیا۔ لایان نے کمرے سے باہر جھانکا کوریڈور خالی تھا۔ وہ باہر نکلی موبائل ہاتھ میں دبا تھا۔
اس نے زاویان کے کمرے کا دروازہ کھولا اور موبائل چپ چاپ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اور تب ہی دروازہ کھلا۔ وہ جھٹ پلٹی۔
" تم یہاں؟ میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟"
وہ آنکھیں گھماتا اس کے پاس آیا۔
لایان کا گلا سوکھ گیا۔ زاویان نے اس کی شکل دیکھی پھر نظریں ڈریسنگ ٹیبل پر ٹھہر گئیں۔
" تم سب بے وقوف گدھے ایک چھوٹا سا موبائل نہیں ڈھونڈ سکتے۔"
وہ وہی کھڑے کھڑے اپنے آدمیوں پر چلایا۔
حویلی کانپ گئی۔ اس کے آدمی فورا ہی کسی جن کی طرح غائب ہوئے۔ لایان نے تیزی سے کھسکنا چاہا مگر زاویان نے راستہ روک لیا۔ اس کی سٹی گم ہو گئی۔
" میرا فون کیوں اٹھایا تھا؟"
اس نے کاٹ دار لہجے میں پوچھا۔
لایان کا چہرا سفید پڑا۔
" جواب دو لایان۔"
وہ ایک قدم آگے آیا۔ لایان نے ہونٹ کاٹ لیے۔ آنکھوں میں گھبراہٹ دوڑ گئی۔
" میں کیا پوچھ رہا ہوں تم سے!"
لایان کی شکل روونی بن گئی۔ ہونٹ کسی بچے کی طرح کانپے۔ پلکیں تھر تھرا گئیں۔
زاویان کی نظر اس کی آنکھوں پر ٹھہر گئیں۔ غصہ مدھم ہوا۔ اس کا ہاتھ جو غصے سے کانپ رہا تھا دھیرے سے سیدھا ہوا۔ وہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا۔ لایان اسے بے بسی سے دیکھ ( گھور ) رہی تھی۔ گھبرا بھی رہی تھی۔
" تم۔۔۔ تم ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے؟"
وہ بولنا چاہتی تھی مگر زبان گنگ ہو چکی تھی۔
زاویان کی نظر اس کی آنکھوں سے ہونٹوں تک گئی پھر واپس آنکھوں تک۔ اس نے محسوس کیا جیسے اس کی دنیا یہی رک گئی ہے۔
" اب۔۔۔ اب نہیں کروں گی ایسا۔ جانے دو۔"
وہ پھنسی پھنسی آواز میں بولی۔
وہ آگے آیا۔ لایان نے بھاگنا چاہا کہ زاویان نے بازو پھیلا کر اس کا راستہ روک لیا۔ لایان بری طرح پھنس گئی۔ دروازہ کھلا تھا۔ اس نے دیکھا زاویان کا بازو اس کے چہرے کے سامنے تھا۔ ابھی وہ نیچے ہو کر بھاگنے لگی کہ زاویان پورا اس کے سامنے آ گیا۔
" فون کیوں اٹھایا تھا؟"
لایان چپ رہنا چاہتی تھی لیکن اسے غصہ آگیا۔
" میں نے کون سا کھول کر کوئی خزانہ نکا لیا تھا۔ کھلا ہی نہیں اور ٹائمر لگ گیا۔"
زاویان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی جسے وہ ایک سیکنڈ سے بھی پہلے چھپا گیا تھا۔
لیکن لایان کی نظر تیز نکلی تھی۔
" تم ہنستے کیوں نہیں ہو؟ مجھے پتہ ہے تمہیں ہنسی آ رہی ہے۔"
وہ کہنا چاہتی تھی لیکن۔۔۔
" فون سے کیا کرنا تھا؟"
زاویان نے چہرہ سپاٹ کر لیا۔
" بات۔"
اس نے دوبارہ ہونٹ کاٹے۔
" کس۔۔۔ سے۔۔۔ بات؟"
ایک ایک لفظ پر زور دیتا وہ آگے ہوا۔ تھوڑا اور جھکا اور سیدھا اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ لایان گھبرائی۔ اس نے غور کیا وہ رایان سے بھی لمبا تھا۔ وہ پوری گردن اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ اس کے باوجود بھی کہ وہ جھکا ہوا تھا۔ وہ اس کے سینے تک بمشکل آ رہی تھی۔ اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔
"کک۔۔۔۔ کیوں بتاؤں تمہیں۔"
اس نے تنک کر کہا۔
وہ سیدھا ہوا۔ الماری کھولی اور ایک فون اٹھا کر اس کے سامنے آیا۔ لایان کا چہرہ ساکت ہوا۔ وہ اس کا فون تھا۔
" میرا فون زاویان کے پاس کیسے آیا؟"
اس نے حیرت سے سوچا۔
" جب یہ مجھے اٹھوا سکتا ہے تو میرا فون کیا چیز ہے۔"
اس نے سر جھٹکا پھر مسکرائی جیسے یقین ہو وہ اسے لوٹا دے گا۔
زاویان نے فون اس کے سامنے لہرایا اور پھر۔ "کریک" کی آواز کمرے میں گونج گئی۔ فون کے ٹکڑے فرش پر گر گئے۔ لایان کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔ آنکھوں کی جوت بجھ گئی۔ اس نے شاکڈ ہو کر اس کو دیکھا پھر ایک دم غصے سے۔ آنکھوں میں نمی آئی اور دل بھاری ہو گیا۔
" میرے ساتھ ہی کیوں؟ میرا فون ہی کیوں توڑا؟"
وہ بولنا چاہتی تھی۔ مگر رو دی۔
زاویان نے اس کے آنسو دیکھے تو دل مچل اٹھا۔ لایان کے آنسو زمین پر نہیں اس کے دل پر گرے تھے۔ اس کا دل چاہا آگے بڑھ کر ان آنسوو کو سمیٹ لے لیکن وہ چپ کھڑا رہا جیسے اپنے ہی احساسات سے ہار گیا ہو۔
بول دے زاویان، بتا دے سب۔ کہہ دے کہ کیوں توڑا فون۔ کہہ دے کہ تو نہیں چاہتا کہ وہ تجھے چھوڑ کر جائے۔ نہیں چاہتا کہ اس کا دھیان کسی اور طرف جائے۔ کہہ دے کہ تو چاہتا ہے وہ بس تجھے دیکھے، تجھے سنے، بس تیرے سامنے رہے۔
اس کا دل چلا رہا تھا۔ زبان خاموش تھی۔
" تم۔۔۔ تم ہو ہی زہر۔ جو اندر گھس کر سب برباد کر دیتا ہے۔"
وہ چلائی اور غصے سے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے پوری طاقت سے دھکا دیا۔
" دو رہو مجھ سے سمجھے۔"
زاویان نہیں ہلا مگر اس کا دل ہل گیا۔ اس کے ہونٹوں سے ہلکی سی سانس نکلی۔ اس نے بے اختیار لایان کو کندھوں سے پکڑ لیا۔ لایان سٹپٹا گئی۔
" تم۔۔۔ تم کچھ بھی کر لو۔ مجھے دھکیلو، نفرت کرو، چیخو چلاؤ۔"
وہ رکا۔ سانس لینے کو۔
" بس۔۔۔ بس مجھے یہ مت کہنا کہ تم اس جگہ کو چھوڑ کر چلی جاؤ گی۔ تم۔۔۔تم مجھے چھوڑ کر چلی جاو گی۔ میرے دل کو ہلا کر اسے گراؤ مت۔"
لایان کا دماغ گھوم گیا۔
" یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔"
اس کے دل کی کسی کونے میں وہ بات ٹھہر گئی جسے زاویان کہنے سے ڈرتا تھا۔
زاویان کی سانسیں بھاری ہو گئیں۔
" تم میری کمزوری بن رہی ہو اور میں کمزوری کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔"
اس کی بھاری سانسیں۔ گہری نظریں۔ لایان گھبرا گئی۔ دونوں کے درمیان خاموشی کا لمحہ بڑھنے لگا۔
" زاویان تم پاگل ہو گئے ہو۔ ہٹو راستہ چھوڑو میرا۔"
لایان بول اٹھی۔
زاویان نے پلکیں جھپکائیں۔ اس نے فورا اسے چھوڑ دیا۔ جیسے ہوش میں آیا ہو۔ وہ فورا دروازے کی جانب بڑھا پھر ٹھٹک کر رکا۔
" ایک منٹ! یہ کمرہ تو میرا ہے۔"
اس کا دماغ سنسنا گیا۔ وہ پلٹا اور لایان کو پکڑ کر کمرے سے نکال دیا۔ دروازہ اس کی پیٹھ پر بند کر دیا۔
اس نے شرٹ اتار کر سائیڈ پر پھینکی اور آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ نظریں چہرے سے سینے پر گئیں اور وہ لمحہ پھر زندہ ہو گیا جب لایان نے اسے چھو کر پیچھے دھکیلا تھا۔
اس کا وہ ہلکا سا چھونا بھی زاویان کے لیے زہر اور دوا دونوں بن چکا تھا۔
☆☆☆
وہ کھڑکی کے قریب کرسی پر بیٹھی باہر نیلے آسمان پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ اس کے چہرے پر زردی گھلی تھی البتہ وہ پر سکون دکھ رہی تھی۔ دروازہ ہلکی آواز سے کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔ مشال نے گردن موڑ کر دیکھا پھر واپس چہرہ کھڑکی کی طرف موڑ لیا۔
دانش بھاری قدموں سے چلتا اس سے ذرا فاصلے پر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ مشال اتنے دنوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ سب جان گئی تھی کہ یہی ہے جس نے اسے بچایا تھا۔
کیوں بچایا تھا؟ وہ اسے کیسے جانتا تھا؟ یہ وہ نہیں جاتی تھی مگر اب جاننا چاہتی تھی۔
"تم واپس اپنی فیملی کے پاس جانا چاہتی ہو؟"
دانش کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔ مشال نے پورا چہرہ موڑ کر اس کو دیکھا۔
" فیملی؟ وہی جس نے مجھے جہنم میں پھینکا۔۔۔۔ اب واپس جاؤں؟"
اس کی آواز لرز گئی۔
" اگر وہ حارث۔۔۔(دانش کا دل کیا اپنی زبان کھینچ لے) سامنے آگیا تو؟"
دانش نے اطمینان سے دوسرا سوال کیا۔
مشال کے چہرے کا رنگ بدلا۔
" وہ اگر سامنے آیا تو شاید اب میں واقعی مر جاؤں گی۔"
اس نے پھر سے چہرہ کھڑکی کی طرف موڑ لیا۔
دانش نے سمجھ کر سر ہلایا۔
" تمہاری فیملی تمہیں تلاش کر رہی ہے اور اس نے تمہیں شادی۔۔۔۔ "
وہ رکا۔
" تمہیں شادی کی رات اغوا کیا، یہی سمجھو اور بنا کسی کو بتائے دوسرے شہر لے آیا۔ تمہارے گھر والے پریشان ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ تم واپس جاؤ۔ یہ تمہاری کہانی ہے جسے تم خود لکھو گی۔ میں صرف صفحہ پلٹنے والا ہوں۔"
مشال نے دوبارہ اس کو دیکھا۔
" اپنا خیال رکھنا۔"
وہ اٹھا۔ جبکہ وہ کہنا چاہتا تھا۔
" میں ہوں خیال رکھنے کے لیے۔"
وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ مشال نے اسے دروازے تک جاتے دیکھا اور اس کے جاتے ہی کوئی دھیرے سے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا تھا۔
مشال نے گیلی آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ وہ لڑکی پورے قدم اٹھاتی اس کرسی پر بیٹھی جہاں کچھ دیر قبل دانش بیٹھا تھا۔
مشال کو لگا وہ کہے گی۔
" تم نے میری بات کیوں نہیں مانی تھی؟ منع کیوں نہیں کیا تھا نکاح کے لیے۔ اگر اس وقت نہ کہہ دیتی تو آج اس حالت میں نہ ہوتی۔"
مشال نے بھرائی آنکھوں سے سوچا۔
وہ لڑکی نرم مسکراہٹ کے ساتھ اس کو دیکھتی رہی پھر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا۔
" اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو شاید میں بھی یہی کرتی۔ چپ رہتی فیملی کے ہر شخص کا چہرہ دیکھتی اور ان کی عزت کا بھرم رکھ لیتی۔ تم نے غلط نہیں کیا تھا۔ تم مجبور تھی۔ مجھے صرف تمہاری فکر تھی۔ اگر تم اس وقت سب کے سامنے نہ کہہ دیتی تو شاید تم کبھی خوش نہ رہتی۔ ہمیشہ گلٹ میں رہتی کہ تم نے اپنی ماں کا اپنے باپ کا دل توڑا مگر ایک بات یاد رکھنا ہمیشہ۔۔۔"
وہ رکی اور مشال کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
" تمہاری خاموشی تمہاری کمزوری نہیں ہے۔ تم نے جو چپ رہنے کا بوجھ اٹھایا ہے نہ! وہ تمہاری طاقت ہے۔ تم خود کو الزام مت دینا۔ تمہاری اصل خطا یہ نہیں کہ تم نے ہاں کہی تھی بلکہ اصل خطا یہ ہوگی کہ تم نے اپنی زندگی اسی درد میں گزار دی۔ ابھی بھی وقت ہے تم اپنی کہانی خود لکھ سکتی ہو۔"
وہ رو دی۔
" مم۔۔۔ میں کیسے؟ تم جانتی ہو میں کچھ نہیں کر سکتی۔ مجھے ابھی بھی حارث سے خوف آتا ہے۔ میں واپس بھی نہیں جانا چاہتی۔ میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔"
اس نے سر ہاتھوں میں گرایا۔
" اپنے محافظ کو کبھی مت بھولنا مشال۔"
مشال نے چونک کر چہرہ اٹھایا۔
لڑکی نے مسکرا کر سر ہلایا پھر کھڑی ہو گئی۔ مشال نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا پھر کھڑکی کی طرف چہرہ موڑ لیا۔
باہر کھڑا دانش ساکت نگاہوں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔
" پھر سے؟؟ پھر سے وہی؟ اس دن کی طرح جب پارک میں تمہیں دیکھا تھا۔ مشال تم کس سے باتیں کرتی ہو۔"
اس کا شاکڈ کم نہیں ہو رہا تھا۔کمرہ خالی تھا۔
وہ پلٹا اور سیدھا مشال کے ڈاکٹر کے پاس گیا۔ جو اس کا کیس اسٹڈی کر رہا تھا۔ دانش اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھا۔ چہرے پر غصہ اور پریشانی دونوں تھے۔ اس نے میز پر ہاتھ مارا۔
" میں کہیں پاگل تو نہیں ہو رہا۔ جبکہ میں خود دیکھ کر آیا ہوں۔ مشال۔۔۔۔ وہ کسی سے باتیں کرتی ہے۔۔۔ روتی ہے۔۔۔ جواب دیتی ہے۔۔۔ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔ آخر یہ سب کیا ہے؟"
ڈاکٹر نے فائل سے نظریں اٹھا کر اس کو دیکھا پھر گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھے۔
" مسٹر دانش! جو آپ کہہ رہے ہیں اسے ہم میڈیکل ٹرمز میں 'schizophrenia' یا کبھی کبھی 'psychotic Disorder' کہتے ہیں۔ ایسی کنڈیشن میں پیشنٹ کے دماغ میں آوازیں گھومتی ہیں۔ ان کو لگتا ہے کوئی ان سے بات کر رہا ہے یا ان کے سامنے کوئی شخص موجود ہے۔ ان کے لیے وہ سب بالکل real ہوتا ہے جیسے آپ ابھی میرے سامنے بیٹھے ہیں۔"
ڈاکٹر نے فائل اس کی طرف بڑھائی۔
" مطلب مشال کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے جس نے اسے اس حد تک توڑ دیا کہ وہ اپنی دنیا بنا بیٹھی۔"
ڈاکٹر نے ہاں میں سر ہلایا۔
" بالکل! زیادہ ایموشنل ٹراما، ڈر، Abuse یا غصہ۔۔۔ یہ سب انسان کے دماغ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اور پیشنٹ اپنے آپ کو پروٹیکٹ کرنے کے لیے alternate world create کر لیتا ہے۔ جیسے ایک version جو اصل میں ہے ہی نہیں اور وہی پیشنٹ کے لیے سب سے بڑا سہارا بن جاتا ہے۔"
ڈاکٹر نے کہا۔
دانش نے فائل واپس رکھ دی۔
" اور اس کا حل کیا ہے؟ کیا یہ سب رک سکتا ہے؟ مشال دوبارہ نارمل ہو سکتی ہے؟ یا زندگی بھر اسی دکھاوے میں جیے گی۔"
دانش مزید پریشان ہوا تھا۔
" 'Dissociative identity Disorder' یا 'Hallucinations'
کا اصل حل صبر، تھراپی اور لمبی ٹریٹمنٹ ہے۔ اس کا کوئی شارٹ کٹ یا فوری علاج نہیں ہے۔ اگر پیشنٹ نے کوئی گہرا ٹراما جھیلا ہے تو اس کا دماغ خود ہی اس ٹراما سے بچنے کے لیے Alternative ریئلٹی Create کرتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس ٹراما کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ پیشنٹ کو ٹرسٹ اور سیف ماحول دیں۔۔۔ تھراپی اور میڈیسنز سے انہیں ریئلٹی اور امیجینیشن کا فرق سمجھائیں تو دھیرے دھیرے ان کا دماغ ہیل( Heal ) کرنا شروع کر دیتا ہے۔ مشال کے کیس میں خطرناک بات یہ ہے کہ اگر اسے مجبور کیا گیا یا نظر انداز کیا گیا تو وہ اور گہرا ڈوب سکتی ہے۔۔۔۔ اپنی خیالی دنیا میں۔۔۔۔ لیکن اگر سپورٹ اور کیئر (care) ملے تو وہ دھیرے دھیرے سمجھ پائے گی کہ اصل کیا ہے اور جھوٹ کیا۔"
دانش ڈاکٹر کو سن رہا تھا۔ ڈاکٹر نے گہری سانس لی۔
" حل ممکن ہے مسٹر دانش شاہ! لیکن آسان نہیں ہے۔ صبر اور بہت زیادہ صبر کی ضرورت ہے۔"
ڈاکٹر نے گلاسز واپس لگائے اور فائل اٹھا کر ایک ریک کی طرف بڑھ گیا۔
دانش کسی گہری سوچ میں ڈوب چکا تھا۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Wow amazing din ba din interesting hota ja raha hai 🫶❤️💞💕💖
ReplyDelete