Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 25 by Munaza Niaz

 


زہرِ عشق

قسط 25

از منزہ نیاز 


شام گہری ہو رہی تھی۔ یحیی کا پرائیویٹ ریسنگ ٹریک، ڈوبتا سورج اور کانوں کو چیرتی انجن کی تیز آواز۔


روحا آنکھوں میں مسکراہٹ لیے انگلی میں کار کی چابی گھماتی ریمپ والک جیسی چال چلتی یحیی کے سامنے آئی۔


" چیلنج اسیپٹ کرنا ہے یا ایکسکیوز ریڈی ہے؟"   


یحیی نے کار کے بونٹ پر ہاتھ رکھا۔ 

" میں ان چیزوں کو چیلنج نہیں سمجھتا، انٹرٹینمنٹ کہتا ہوں۔"  


روحا نے گھور کر اس کو دیکھا پھر اپنی سیاہ سپورٹ کار کی طرف بڑھ گئی۔ اگنیشن آن ہوا۔ انجن دھاڑا۔ اس نے سامنے کھڑے یحیی کو دیکھا جو اسے گھور کر ہی دیکھ رہا تھا۔ جیسے کہہ رہا ہو۔ 

" یہ لڑکی سچ میں پاگل ہے۔"  


ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین 

دونوں گاڑیاں بھوت کی طرح نکلی تھیں۔ دھواں، ہوا اور جاموشی۔ سب کچھ پیچھے رہ گیا۔


روحا نے مضبوطی سے اسٹیئرنگ پکڑ رکھا تھا۔ چہرہ مکمل سنجیدہ تھا۔ سپیڈ اتنی تیز تھی کہ یحیی نے کنفیوژ ہو کر اس کو دیکھا۔


" یہ لڑکی کسی دن میری نقلی جان لے لے گی۔" 


روحا نے ایک شارپ ٹرن لیا اور کار کو پورا 90 ڈگری پر گھما دیا۔ بنا بریک لگائے۔ یحیی نے اپنی کار کا اسٹیئرنگ زور سے پکڑ لیا۔


روحا کی گاڑی سلپ ہوئی لیکن اس نے کمال مہارت سے سنبھال لی۔ 


" بریک کے لیے بگینرز ہوتے ہیں۔ کوائن فل گرپ پر چلتی ہے۔" 

وہ مسکرائی۔


یحیی نے ڈیش بورڈ پر زور سے مکا مارا۔

" غلطی کر لی جو تمہیں اتنا آسان سمجھ لیا۔" 


روحا نے پہلے فنش لائن کراس کی۔ تیز بریک مار کر ڈرفٹ (drift) کر دیا۔ کار گول گول گھومنے لگی۔ دھول اڑی اور پھر خاموشی چھا گئی۔


وہ اتری اور یحیی کی کار کے شیشے پر جھکی۔

" میرا نام روحا یحیی میر ہے، اور اب دنیا مجھے تمہاری کوئین نہیں بلکہ اسپیڈ کی کوئین بھی یاد رکھے گی۔" 


اس نے یحیی کی شرٹ پر نادیدہ سی دھول صاف کی۔ یحیی نے خاموش نظر اس پر ڈالی پھر دھیرے سے بولا۔ 


" تمہارے جیسی خطرناک لڑکی میری لائف میں ہو تو موت سے بھی دوستی لگتی ہے۔"  


" تو چلو۔۔۔ اگلا راؤنڈ موت سے ملنے چلتے ہیں۔" 


وہ پلٹی۔ پیچھے یحیی کی کار کا انجن دھاڑ اٹھا۔ روحا نے پلٹ کر دیکھا۔ یحیی کی بھوری آنکھوں میں خطرناک ٹھنڈک چمک رہی تھی۔ جیسے کار لے کر کسی مشن پر نکلنے والا ہو۔ روحا نے آنکھیں چھوٹی کر کے اس کو دیکھا۔ 


سفید شرٹ کی آستینیں فولڈ کیے، رسٹ واچ دھیمی روشنی میں شائین کر رہی تھی۔ بال تھوڑے سے ماتھے پر بکھرے ہوئے اور اس کی وینز؟  


اسٹیئرنگ پکڑتے وقت صاف دکھ رہی تھیں۔ روحا کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔ اس نے گاڑی کا لاک کھولا اور اس کے ساتھ کار میں بیٹھی۔


" سیٹ بیلٹ باندھ لو۔"  

یحیی نے اسے بنا دیکھے کہا۔


" مجھے بچانے کے لیے؟ " 

ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے سیٹ بیلٹ لگائی۔


" نہیں خود کو۔" 

خاموشی ٹوٹی۔ کار جھٹکے سے آگے بڑھی۔

BOOOMMMMM.....


روحا نے سیٹ بیلٹ پکڑ لی۔

"یحیی سلو چلو۔" 

وہ چیخ پڑی۔ آنکھیں پوری کھل گئیں۔ منہ بھی کھل گیا۔ 


یحیی کی گرفت اسٹیئرنگ پر ٹائٹ ہوئی۔ کار ڈرفٹ ہوئی۔ سڑک کو کاٹ گئی۔ جیسے کوئی انڈر گراؤنڈ ریس ہو۔ 


" یہ ہوتی ہے سپیڈ میڈم۔ تم تو صرف ٹرائی کر رہی تھی۔"  


ایک زوردار بریک لگی۔ وہ تھوڑا آگے کو جھک گئی۔ یحیی نے فورا ہاتھ اس کے آگے کیا۔

" سنبھل کے۔"  

" یحیی مجھے مارنا مت پلیز۔ مجھے زندہ رہنے دو۔ میری شادی ہوئی ہے اور تم سے ہی ہوئی ہے۔ بٹ اسٹل۔"  


یحیی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔ اس نے گیئر تیز کر دیا۔

" تو زندہ رہنا سیکھو۔ میری دنیا میں سپیڈ کمزوروں کے لیے نہیں ہوتی۔" 


اس نے سائیڈ گلینس دیا۔ روحا کا بس چلتا وہ اسی لمحے میں آف ہو جاتی۔ 

کار نے ایک اور ڈرفٹ مارا اور سنسان سڑک پر دوڑنے لگی۔


" مجھے پیار ہو رہا ہے تم سے یحیی۔"  


یحیی نے بریک مار کر کار روکی اور ہلکا سا اس کی طرف جھکا۔ 

" پیار؟ صرف اس لیے؟ تو پھر مجھے اور پاگل ہونا پڑے گا۔"  


روحا کے گال سرخ ہوئے۔ اس نے تیزی سے سیٹ بیلٹ کھولنی چاہی مگر یحیی نے روک دیا۔ روحا نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔


اگلے ہی سیکنڈ یحیی نے خود اس کی سیٹ بیلٹ کھولی اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔


☆☆☆


مافیا کا ویئرہاؤس عموما شہر کے کنارے پر ہوتا ہے۔ جہاں پولیس اور قانون کی پکڑ کمزور ہوتی ہے۔ یہ اکثر بندرگاہ کے قریب بنایا جاتا ہے تاکہ اسمگلنگ کا سامان آسانی سے لایا اور چھپایا جا سکے۔ 


ویئرہاؤس عموما ایک بڑی، لمبی اور چوکور عمارت ہوتی ہے۔ اوپر سے لوہے کی چادروں کی چھت اور باہر زنگ آلود بڑے بڑے پھاٹک یا رولنگ شٹر لگے ہوتے ہیں۔ باہر اکثر مال بردار اور کنٹینرز کھڑے نظر آتے ہیں۔ کھڑکیاں چھوٹی اور زیادہ تر بند رہتی ہیں۔ بس ایک یا دو داخلی دروازے ہوتے ہیں۔


کئی جگہوں پر سی سی ٹی وی کیمراز اور پہرے دار بھی موجود ہوتے ہیں۔ اندر مدھم بلب جل رہے ہوتے ہیں۔ کچھ ٹمٹماتے ہیں جس سے ماحول اور زیادہ خوفناک لگتا ہے۔ 


لکڑی کے کریٹ، اسٹیل کے ڈرم اور بڑے بڑے کنٹینرز ہر طرف لگے ہوتے ہیں۔ جس میں اسلحہ، منشیات اور کالا دھن چھپے ہوتے ہیں۔


ایک کونے میں کیبن نما چھوٹا سا دفتر ہوتا ہے جہاں میز، فائلیں اور سی سی ٹی وی کے مانیٹر رکھے ہوتے ہیں۔ 


فرش پر تیل کے دھبے، سگریٹ کے ٹکڑے اور خالی بوتلیں اکثر بکھری ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ خون کے نشانات بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔


ایک کونے میں ٹارچر روم ( تشدد کمرہ)  بھی ہوتا ہے جہاں لوہے کی زنجیریں لٹکی ہوتی ہیں۔ ایک کرسی اور قریب ہی اذیت دینے والے اوزار رکھے ہوتے ہیں۔ 


مافیا کے لوگ اس جگہ کو چار طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔

پہلا؛ ذخیرہ گاہ۔ 

یہاں اسمگل شدہ سامان، اسلحہ اور منشیات رکھی جاتی ہیں۔ 


دوسرا؛ خفیہ ملاقات کی جگہ۔

بڑے بڑے سودے، پیسے یا اسلحے کی لین دین یہیں پر ہوتی ہے۔


تیسرا؛ پناہ گاہ۔

یہاں مافیا اپنے آدمی اور یرغمالیوں کو چھپاتے ہیں۔


چوتھا؛ قتل گاہ۔

مخالفین یا دھوکہ دینے والے افراد کو یہی لایا جاتا ہے اور مار کر لاش ٹرکوں میں ڈال کر پھینک دی جاتی ہیں یا جلا کر نا معلوم جگہوں پر دفن کر دی جاتی ہیں۔


آج بھی وقت رات کا تھا۔ ویئرہاؤس کے باہر ٹرک کھڑے تھے۔ فضا میں سگریٹ کی بو رچی ہوئی تھی۔ اندر بھی گھٹن اور بارود کی ہلکی سی بو محسوس ہو رہی تھی۔ ہلکی آہٹ سے بھی ہر کونے میں گونج سنائی دیتی تھی۔


ماحول ایسا کہ قدموں کی آہٹ بھی ڈراؤنی لگتی ہے۔ اسی ماحول میں ایک طرف ایک سیاہ ہیولہ کریٹس کے بیچ گھوم رہا تھا۔ اس کی آنکھیں اندھیرے میں بھی چمک رہی تھیں۔ جیسے کوئی درندہ شکار پر نکلا ہو۔


ایک ایک کر کے اس نے سارے آدمیوں کا پیچھے سے منہ دبا کر گلا کاٹ دیا۔ زمین پر صرف خون کے ریشے گرے تھے۔ مگر آواز؟ 

ایک کی بھی نہیں نکلی تھی۔ 


وہ کوریڈور میں پہنچا۔ ایک آدمی اسے دیکھ کر بھاگنے لگا مگر اس نے ایک ہی جست میں چاکو اس کے سینے میں گھسا کر آواز دبا دی۔ 


اس نے چہرے سے ماسک ہٹایا۔ سرخ روشنی میں اس کا چہرہ واضح ہوا۔ 


یحیی میر۔ 


باہر زاویان نے دوسری طرف اپنی گاڑی سے اتر کر سامنے کے گیٹ پہ فائر سٹروم کھول دیا۔ مشین گن کی گولیاں رات کی پاک خاموشی کو چیر گئیں۔


ویئرہاؤس کے اندر الارم بج اٹھا تھا۔ آدمی بھاگ بھاگ کر باہر نکلنے لگے اور باہر زاویان کی گولیاں ان کا سینہ پھاڑ گئیں۔ اس کی آنکھیں سرخ ہوئیں۔


" اذان میں تمہیں برباد کر دوں گا۔"  


اندر یحیی نے ایک اور بندہ پکڑا اور اسے کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ زاویان کی گولی اس گرتے ہوئے بندے کا سر کھول گئی۔ 


جلد ہی ویئرہاؤس خالی ہو گیا۔ ہر طرف خون اور لاشوں کا انبار جمع ہو چکا تھا۔ بس لہو اور گولیوں کی خوشبو باقی رہ گئی تھی۔ 


زاویان نے سگریٹ جلائی۔ یحیی اس کے ساتھ آ ملا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے۔ 


" شور اور خاموشی! جب دونوں مل جائیں تو عذاب بن جاتے ہیں۔" 

یحیی کی آواز دھیمی تھی۔


زاویان نے دھواں فضا میں بکھیرا۔

" اور یہ عذاب اذان کا حق بنتا ہے۔" 


جاری ہے


Comments

  1. Uffff no words to describe 🫶🥺😭🤣❤️💖💕💞🥰😍😘😭

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts