Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 26 by Munaza Niaz - Dark Romance
زہرِ عشق
قسط 26
از منزہ نیاز
حویلی میں جان لیوا خاموشی کا راج تھا۔ باہر آسمان سیاہ بادلوں کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔ بجلی وقفے وقفے سے کڑکتی۔ حویلی کی لائٹ خرابی کی وجہ سے جا چکی تھی۔
لایان اپنے اندھیر کمرے میں بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔ زاویان دو دن سے غائب تھا اور آج تیسرا دن تھا وہ واپس نہیں آیا تھا۔
اس نے بے اختیار کھڑکی کی طرف دیکھا جو کھلی ہوئی تھی۔ تیز ہوا سے پردے لہرا رہے تھے۔ اس نے فورا کھڑکی بند کی اور تبھی ٹھٹک کر رک گئی۔
باہر ایک ہیولہ کھڑا تھا۔ اس نے آنکھیں چھوٹی کر کے غور سے دیکھا۔ بجلی دوبارہ کڑکی۔ پوری حویلی پل بھر کو روشن ہوئی۔ ہیولہ واضح ہوا۔
" زاویان۔"
اس کے ہونٹ ہلے۔
زاویان کی آنکھیں ہلکی سرخ، جیسے کئی راتوں سے سویا نہ ہو۔ اگلے ہی پل وہ غائب ہوا تھا۔
لایان تیزی سے باہر نکلی۔ لمبا کوریڈور اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ وہ آگے بڑھتی گئی لیکن اسے احساس ہوا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔
اس کی دھڑکن تھوڑا تیز ہوئی اور پھر اچانک کوئی اس کے پیچھے آیا اور اس کا راستہ روک دیا۔ وہ ڈر گئی۔ زاویان اس کے بالکل پاس تھا۔
وہ تیزی سے گھومی اور دیوار سے لگ گئی۔ زاویان نے فورا دونوں ہاتھ اس کے سر کے دائیں بائیں رکھ دیے۔ لایان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ آنکھیں پوری کھل گئیں۔ ہونٹ ہلکے سے کانپے۔ اس نے لرزتی ہوئی پلکیں اٹھا کر زاویان کو دیکھا مگر ناکام رہی۔ اس کی سانس سینے میں ہی اٹک گئی تھی۔
زاویان صرف اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ اس کی پلکوں کی لرزش، چہرے پر چھایا ڈر اور خوف اور وہ عجیب سی کشش جو اسے پاگل بنا رہی تھی۔
وہ بے اختیار اور قریب ہوا۔
" جانتی ہو۔۔۔"
اس نے سرگوشی کی۔
" تمہاری یہ آنکھیں میری موت کا سبب بن رہی ہیں۔"
اس کے ہاتھ ٹھنڈی دیوار میں گھسنے لگے۔
لایان نے تھوڑا سا چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔ وہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر خوف نے اس کو جکڑ لیا تھا۔
" ڈر رہی ہو۔"
زاویان نے مدھم آواز میں کہا۔
لایان نے اسے پیچھے ہٹانا چاہا لیکن زاویان نے آہستگی سے اس کی کلائیاں پکڑ کر اس کے چہرے کے دونوں طرف دیوار پر رکھ دیں۔
لایان فریز ہو گئی۔ زاویان کی بھاری سانسیں وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔ اور تب ہی اس نے جانا۔
یہ آدمی صرف غصہ یا طاقت نہیں بلکہ ایک نشہ بھی ہے۔
" میرا سب کچھ تم سے ڈرتا ہے۔ میری خاموشی۔۔۔ میرا جنون۔۔۔ میرا پاس آنا۔۔۔ میرا دور رہنا۔ سب تمہارے دشمن لگتے ہیں نا۔"
اس کی دھیمی آواز لایان کے کانوں سے ٹکرائی۔
وہ ہل نہیں سکی۔
" پر سچ یہ ہے کہ۔۔۔"
اس کا چہرہ اور پاس آیا۔
" جو میں محسوس کرتا ہوں، وہ نا تمہاری نفرت روک سکتی ہے اور نہ ہی یہ خاموشی۔ یہ عشق ہے لایان، اور عشق کبھی پوچھ کر اندر نہیں گھستا۔"
اس کے لب لایان کے ماتھے سے ہلکا سا فاصلے پر رکے۔ لایان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ زاویان نے دھیرے سے اس کی کلائیاں چھوڑ دیں۔
لایان نے آنکھیں کھول کر اس کا چہرہ دیکھا۔ دونوں ہاتھ نیچے گر گئے۔
" عشق کا اصل نشہ چھو لینا نہیں بلکہ ساتھ سانس لینے میں ہے۔"
اس نے ہلکا سا چہرہ جھکایا۔ لایان کے چہرے پر پھونک ماری۔ لایان کا دل رکنے لگا۔
زاویان کی آنکھوں کا جنون، اس کے لفظوں کا زہر، اس کے پاس ہونے کی آگ۔ سب کچھ اس کا ہوش بھلا رہے تھے۔ اس نے پہلی مرتبہ محسوس کیا۔ یہ درد بھی ایک نشہ ہے۔
ایک ایسی آگ جو بجھتی نہیں بلکہ اور بھڑکتی ہے۔ اس کی پلکیں ایک دم بھاری ہوئیں۔ پہلی دفعہ وہ اپنے دل سے نہیں بھاگی تھی۔ اس نے دوبارہ زاویان کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا۔
وہ آنکھیں جو نفرت کے سائے میں بھی پیار سے قتل کر رہی تھیں۔
اس نے سانس اندر کھینچی۔ زاویان کے کولون کی مہک اس کے اندر گھل گئی۔ وہ اتنا قریب تھا۔
" عشق صرف پانا نہیں ہوتا۔ عشق وہ زہر ہے جو سانس لینے بھی نہ دے اور تم اسی میں جینا چاہو۔ تم سمجھتی ہو کہ تم دور بھاگ جاؤ گی مجھ سے۔۔۔ خود سے کب بھاگ پایا ہے کوئی۔"
لایان کے اندر جیسے کچھ ہل گیا تھا۔ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ زاویان دھیرے سے پیچھے ہٹا۔ اس کے دونوں ہاتھ لایان کے اطراف سے اپنے پہلو میں آ گرے۔
اس نے ایک قدم پیچھے لیا اور پھر دوسرا۔ لایان کا دل بوجھل ہو گیا۔ سانسیں بھاری ہوئیں۔ اس نے زاویان کی شرٹ کا کالر پکڑ اور واپس کھینچ لیا۔
اس کے ہاتھوں کی گرفت زاویان کے کالر پر ایک دم سخت ہوئی۔ آنکھوں میں خوف کے علاوہ بھی کچھ تھا۔
ایک نشہ۔۔۔ ایک زہر۔۔۔ یہ بے اختیاری کیسی ہوئی وہ جان نہیں سکی۔
" یہ۔۔۔ یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟ تمہاری نظروں نے۔۔۔ تمہاری سانسوں نے مجھے قید کیوں کر لیا ہے۔"
اس کی آواز دھیمی، لرزتی ہوئی تھی۔
زاویان دوبارہ اس کے چہرے پر جھکا۔ اس کی آنکھوں کی گہرائی میں وہ درد تھا جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا تھا۔
" جو تمہیں ہو رہا ہے وہ زہر ہے اور وہ زہر صرف میرا ہے۔ تم جس احساس میں ڈوب رہی ہو وہ میری روح کا رنگ ہے۔ تمہیں سمجھ بھی نہیں آئے گا اور تمہاری ساری دھڑکنیں میری بن چکی ہوں گی۔"
لایان نے اور زور سے اس کا کالر کھینچا۔ وہ پاگل ہونے کے قریب تھی۔ وہ بس زاویان کو یہی اپنے آس پاس روک دینا چاہتی تھی۔ یہ کیسا احساس تھا جو اسے اس حد تک لے آیا تھا۔
" یہ کیسا احساس ہے جو مجھے تم سے دور جانے ہی نہیں دے رہا۔ یہ کیسا عشق ہے جو درد بھی بن رہا ہے اور سکون بھی۔"
وہ بے چین ہونے لگی۔
" یہ عشق نہیں لایان۔۔۔ یہ زہرِ عشق ہے۔ جس میں گرنے کے بعد تم کبھی سنبھل نہیں پاؤ گی اور میں؟ میں تمہیں کبھی گرنے سے بچاؤں گا بھی نہیں۔"
بجلی اتنی زور سے کڑکی جیسے آسمان گرنے والا ہو۔ بارش کے قطرے حویلی پر پتھروں کی طرح برسنے لگے۔
لایان کا دل پھٹنے کو تھا۔ دل کی دھڑکنیں کان پھاڑنے لگی تھیں۔ جیسے پہلی مرتبہ اس نے زندگی کے اصل زہر کا مزہ لیا ہو۔
اس کے ہونٹ کھلتے، کبھی بند ہوتے، سانس اٹکتی، کبھی تیز ہو جاتی، آنکھوں میں گھبراہٹ، جنون اور نشہ ایک ساتھ تھے۔
دونوں اتنا قریب تھے کہ سانس بھی الگ ہوتی تو زندہ نہ رہ پاتی۔
" یہ درد۔۔۔ اتنا خوبصورت کیوں؟"
زاویان نے اپنے کالر پر اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہوئی محسوس کی۔
" کیونکہ اس درد کا نشہ اب تمہارا بھی ہے اور میرا بھی۔"
یہ وہ لمحہ تھا جو دونوں کو ہی کھا گیا تھا۔ دونوں کو لگا کہ وہ کبھی الگ نہیں ہو سکیں گیں۔
زاویان نے پہلو میں گرا اپنا ہاتھ اٹھایا اور نرمی سے اپنا کالر اس کی گرفت سے نکال دیا۔
لایان نے اس کی گرم انگلیوں کا لمس محسوس کیا اور پھر وہ ہوش میں آئی اور تب اسے احساس ہوا۔
ٹھنڈی دیوار کا، اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کا، اپنی بکھری سانسوں کا، اپنے رکے ہوئے دل کا اور زاویان کے کوریڈور میں گونجتے قدموں کا۔
اس نے دھیرے سے گال پر ہاتھ رکھا اور نیچے بیٹھتی چلی گئی۔
" یہ مجھے کیا ہو گیا تھا؟ میں کیوں اسے روک رہی تھی؟ کیوں اس کی بانہوں میں خود کو قید کرنے دے رہی تھی۔"
اس کا دماغ چیخ رہا تھا۔
" نہیں نہیں یہ غلط ہے۔ مم۔۔۔ میں ایسے کیسے؟"
زاویان جا چکا تھا، مگر اس کی موجودگی، اس کی مہک، اس کی بھاری سانسوں کا نشہ لایان میں الجھا ہوا تھا۔
وہ دھیرے سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Wow 🫶❤️ itna wait na karwaya krain zindagi ka pta ni kab dagha dy jy 🥺
ReplyDelete