Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 27 - By Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 27
از منزہ نیاز
میز پر دونوں پیر رکھے وہ صوفے پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں مہندی تھی، جس سے وہ اپنی ہتھیلی پر خوبصورتی اور کمال مہارت سے ڈیزائن بنا رہی تھی۔ کیچر میں مقید، اس کے ریشمی خوبصورت بالوں کی چند لٹیں نکل کر اس کے سرخ گالوں کو چھو رہی تھیں۔ مگر اس کا سارا دھیان صرف اپنی مہندی کی طرف تھا۔
اس نے ہاتھ روک کر ہتھیلی چہرے کے سامنے پھیلائی اور مسکرا دی۔ پورا ہاتھ مہندی کے خوبصورت ڈیزائن سے سج چکا تھا۔ کافی دیر تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے کی وجہ سے اس کی کمر اکڑ گئی تھی۔
وہ فٹ سے لیٹ گئی۔ مہندی کی خوشبو اسے بہت پسند تھی۔ اپنی ہتھیلی کو دیکھتے وہ کہیں اور ہی پہنچ چکی تھی۔
" روحا یار تھوڑا نیٹ بناؤ، تمہاری لائنز تو زگ زیگ ہو رہی ہیں۔"
لایان نے ناک چڑھا کر کہا۔
" بی بی مجھے آرٹسٹ سمجھا ہے کیا؟ مہندی لگا رہی ہوں ٹیٹو نہیں بنا رہی۔ چپ بیٹھو ورنہ گول گول گولے بنا دوں گی۔"
روحا نے آنکھیں گھمائیں۔
" میرے نا پورے ہاتھ پر مہندی لگانا۔۔۔ اینڈ تک۔"
لایان نے شرما کر کہتے دوپٹہ منہ میں ٹھونس لیا۔
" ہاں ہاں رانی بیوی، بیٹھ جاؤ آرام سے۔ تمہارے ناخنوں تک مہندی لگانی ہے مجھے۔ اگر تمہارا ہاتھ ہلا تو میری عزت کا جنازہ نکل جائے گا۔"
روحا نے مہارت سے پھول بناتے اسے چھیڑا۔
" اچھا پھر میں تمہاری عزت کا جنازہ نکالنے کی پریکٹس ابھی سے سٹارٹ کرتی ہوں۔ مہندی لگانی تو آتی نہیں، بس آرٹسٹ بنی گھومتی رہتی ہو۔"
روحا نے خونی نظروں سے اس کو دیکھا اور زیادہ زور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
" چپ کر کے بیٹھ، زیادہ حرکت کی تو آر لکھ دوں گی۔ آر فور روحا۔"
" آر فور رائتہ لکھنا بہتر ہوگا۔ تو ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔"
پھر اس نے آنکھیں پھیلا کر روحا کو دیکھا جس کی سپیڈ چیتے کو بھی مات دے رہی تھی۔
" ابے یار آہستہ بنا۔ مرچ مصالحہ ڈال رہے ہے کیا مہندی میں۔"
وہ چیخ پڑی۔
" ہاں ہاں! تمہاری زہر بھری زبان کو بیلنس کرنے کے لیے مرچ مصالہ مہندی میں مکس کر لیا ہے۔ اوپر سے تمہاری بکواس نے میرا دماغ الگ خراب کر دیا۔"
" مہندی سے زیادہ تمہاری آواز نے مجھے چکر دلا دیئے۔"
لایان نے تھک کر کہا۔
" مہندی لگانا میرے نصیب میں تھا۔ تیرے جیسے شوہر وائب والی دوست کے ساتھ سروائیو کرنا میرے صبر کی آزمائش ہے۔"
وہ اٹھی۔
" اب کہاں جا رہی ہے؟"
لایان نے مہندی پر پھونک مارتے مسکرا کر پوچھا۔ جو بھی تھا، اس کی جان مہندی بڑی پیاری لگاتی تھی۔
" کافی دیر ہو گئی کچھ نہیں کھایا۔ اوپر سے تمہاری بک بک۔ جا رہی ہوں کچھ لینے۔ آتی ہوں ابھی۔"
اس نے لایان کا گال کھینچا اور باہر نکل گئی۔
پورے گھر میں چہل پہل تھی۔ روحا کے کسی کزن کی شادی تھی۔ وہ چہرے سے بال پیچھے کرتی کچن میں داخل ہوئی۔ فریج کھولا۔ سامنے آئس کریم تھی۔ اس کی آنکھیں چمکیں۔
اس نے اٹھایا اور پھر ٹھٹک کر رکی۔ حسنین، اس کا کزن دروازے میں کھڑا تھا۔ روحا نے کچن میں نظریں دوڑائیں وہاں ان دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔
روحا نے چہرہ سپاٹ کر لیا اور دروازے کی طرف بڑھی۔
" بہت خوبصورت لگ رہی ہو اور تمہاری یہ مہندی بھی۔"
بے شرمی سے کہتے اس کا راستہ روکے وہ کمینی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
" اپنی حد میں رہو سمجھے۔"
اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا مگر سامنے والا بڑا ہی کوئی بغیرت نکلا تھا۔ اس نے جھٹ سے روحا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ ڈر گئی۔
" یہ کیا کر رہے ہو ہاتھ چھوڑو میرا۔"
اس نے ہاتھ کھینچا۔ چہرہ خوف سے سفید پڑنے لگا۔ حسنین کی گرفت مضبوط ہوئی۔
" پلیز یار سمجھا کرو۔ ایسے موقع بار بار نہیں ملتے۔"
وہ قریب ہوا، تبھی کسی نے پیچھے سے پکارا۔
" روحا۔۔۔"
حسنین نے فورا ہاتھ چھوڑا۔ جب گھوم کر دیکھا تو لایان سخت نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
روحا بھاگ کر اس کے پاس گئی۔ حسنین فورا ہی وہاں سے رفو چکر ہو گیا تھا۔
" روحی تم ٹھیک تو ہو؟ کیا کچھ کہہ رہا تھا وہ۔"
لایان نے پوچھا۔
اس نے روحا کا سفید چہرہ دیکھا وہ سمجھ گئی تھی۔ روحا کچھ نہیں بولی۔ لایان اسے اپنے ساتھ لپٹائے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کچھ دنوں بعد حسنین کے موبائل پر روحا کا میسج آیا۔
" کیا تم مجھ سے ملنا چاہو گے؟"
حسنین کی باچھیں کھل گئیں۔
" ہاں کدھر؟"
" گھر کی پچھلی سائیڈ پر۔"
وہ وہاں پہنچا۔ روحا اکیلی کھڑی تھی۔ وہ کمینگی سے مسکراتا اس کے پاس گیا۔ پیچھے لایان آ کر کھڑی ہو گئی۔
مگر حسنین کو احساس نہیں ہوا۔ روحا نے اپنی بند مٹھی کھولی اور پوری قوت سے اس کے منہ پر زنانٹے دار تھپڑ مارا۔
" تیری اتنی اوقات کہ تو میرا ہاتھ پکڑے۔"
اس نے دوسرا تھپڑ اسی گال پر مارا۔
حسنین پہلے سے نہیں سنبھلا تھا کہ دوسرا پڑ گیا۔ لایان روحا کے پاس گئی اور اسے چاکو پکڑا دیا۔ چھوٹا مگر خطرناک۔
" یہ لے۔"
حسنین کی آنکھیں پھٹ گئیں۔
" یہ۔۔۔ یہ تم دونوں کیا کر رہی ہو۔ رک جاؤ۔"
وہ بھاگنے لگا تب ہی روحا نے چاکو مضبوطی سے پکڑا اور اس کی پنڈلی میں گھسا دیا۔
" میں تیرے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلا دوں گی سمجھا۔"
روحا پھنکاری اور چاکو کھینچ کر باہر نکالا۔
حسنین کی چیخ نکل گئی۔ اگلے سیکنڈ وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور بھاگ نکلا۔ لایان نے روحا کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
" چل جلدی کر۔۔۔ ہم بھی نکلتے ہیں۔"
دونوں ہی غائب ہو گئی تھیں۔ اس دن کے بعد حسنین کبھی اس کو نظر بھی نہیں آیا تھا۔
اس نے چونک مہندی دیکھی جو سوکھ چکی تھی۔ رات کافی ہو گئی تھی۔ اسے نیند آنے لگی۔
" لایان۔۔۔۔ پتہ نہیں اس وقت کہاں ہو گی۔"
اس نے نیم وا آنکھوں سے سوچا۔
" اور یحیی۔۔۔ وہ ابھی تک نہیں آیا۔"
اس نے کروٹ لی اور صوفے پر ہی سو گئی۔
دوبارہ اس کی آنکھیں کسی احساس کے تحت کھلی تھیں۔ آدھی رات گزر چکی تھی۔ اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں۔
"یحیی!"
یحیی اس کا ہاتھ تھامے نرمی سے اس کی سوکھی مہندی کے نیچے سرخ مہندی پر انگوٹھا پھیر رہا تھا۔
" تم کب آئے؟"
وہ دھیرے سے اٹھ بیٹھی۔
آواز بھاری لگ رہی تھی۔ وہ اس کے سامنے نیچے کارپٹ پر بیٹھا تھا۔
" رنگ تو کافی گہرا ہے۔ عشق جیسا اور میں کبھی مٹنے نہیں دوں گا۔"
اس نے اس کی ہتھیلی اپنے لبوں سے لگائی۔
روحا کے چہرے پر مدھم مسکراہٹ بکھر گئی۔ آنکھیں نیند کے بوجھ سے بار بار بند ہو رہی تھیں۔
" میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میری دنیا صرف ایک چہرہ، صرف ایک نام اور ایک تمہارے ہونے میں سمٹ جائے گی۔"
وہ دھیرے سے مسکرایا۔
روحا نے بے اختیار اس کا چہرہ دیکھا۔ نظر سیدھا آنکھوں پر گئی۔
وہ آنکھیں جو صرف قید کرنا جانتی تھیں آزاد کرنا نہیں۔ آنکھوں سے نظر جا لائین تک پھسلی جو چھری کی طرح تیز لگ رہی تھی۔
وہ بے اختیار اس کو دیکھے گی۔ وہاں سے نظر اس کی گردن پر گئی۔ اس کی سانس اٹک گئی۔
یحیی کے گلے کا ابھار اس وقت اور بھی نمایاں ہو گیا جب اس نے گہری سانس لی تھی۔
روحا کی نظر اس کے گلے کے اٹھنے بیٹھنے پر ہی ٹک گئی تھیں۔
اس نے ہلکا سا پلکیں جھپکائیں۔ نظریں سینے تک پھسل گئیں۔ شرٹ کے سارے بٹن ہی کھلے ہوئے تھے۔ اس کی نظریں وہی اٹک گئیں۔
مضبوط سینے اور مکمل کٹ ایبس نمایاں ہو رہے تھے۔ وہاں سے پھسلتی اس کی نظریں اپنے ہاتھ پر رکیں جو یحیی کے ہاتھ میں تھا۔
اس کے ہاتھوں کی موٹی نسیں ہر ایک لائن کو ابھار کر سامنے لا رہی تھیں۔ اس نے اپنا ہاتھ دیکھا جو کہ بہت چھوٹا لگ رہا تھا اس کے ہاتھ میں۔
دماغ میں ایک منظر گھوم گیا۔
" یار مجھے نا کوئی بگ بوائے چاہیے۔ جو بس آنکھوں سے ہی مار دے۔"
لایان کا سر اس کے کندھے پر تھا۔ دونوں نیم دراز انسٹا کی ریلز دیکھ رہی تھی اور اب ایک ریل پر پھنس چکی تھیں۔
" اور مجھے بھی۔۔۔ بس ایک ہی ہو۔۔۔ لیکن ایسا کہ سب کچھ ختم ہو جائے۔"
روحا نے ٹھنڈی سانس بھری تھی۔ اور اس وقت دونوں کو ہی اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ خواہشیں یا چاہ کبھی ادھوری نہیں رہیں گیں۔
اس کی پلکیں بھاری ہوئیں۔ جسم ڈھیلا پڑنے لگا۔ اگلے سیکنڈ وہ صوفے سے لڑھک کر اس کی بانہوں میں جا گری۔
یحیی نے فورا اسے تھام لیا۔
" روحا۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ تم ٹھیک تو ہو۔"
وہ اس کے چہرے پر جھکا۔ روحا کا ہاتھ اٹھا اور اس کا کالر پکڑ لیا۔ نیند اور جذبات، دونوں ہی اس پر حاوی ہوئے تھے۔
اس کے قریب وہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہ سب حقیقت ہے۔ اس نے ہاتھ یحیی کے کھلے سینے پر رکھا۔ اس کے سینے پر ابھرتے ہوئے وہ پتھر جیسے مسلز۔۔۔۔
وہ اس کی ہر دھڑکن ہر سانس محسوس کر رہی تھی۔
یحیی نے بغور اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اچانک اسے کیا ہو گیا ہے۔ اس نے ایک آخری نظر اس کی آنکھوں پر ڈالی اور پھر۔
اسے بانہوں میں اٹھائے کھڑا ہو گیا۔ روحا کا دل تیزی سے دھڑک اٹھا۔ وہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر زبان نے کفل باندھ لیا تھا۔
اس نے کچھ بھی نہیں کہا۔ بس ہلکا سا اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

🫶🫶❤️❤️❤️🫶❤️ brilliant
ReplyDelete