Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 28 by Munaza Niaz


 



زہرِ عشق

قسط 28

از منزہ نیاز 


زاویان اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔ سگریٹ کا دھواں کمرے میں بکھرا ہوا تھا۔ آنکھیں باہر نہیں بلکہ کہیں اور کھوئی ہوئی تھیں۔


وہ پل اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔ اس کا وہ ہلکا سا لرزنا، پلکوں کی جنبش، ہونٹوں کا بے اختیار ہلنا۔ 

ایک عجیب سی بے چینی نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ 


دوسری طرف لایان اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھی۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ چاند کی مدھم روشنی لکڑی کے فرش پر گر رہی تھی۔ ایک دم سے وہی تصویر اس کے دماغ میں گھوم گئی۔ 


زاویان کا اتنے قریب ہونا، اس کی شرٹ سے اٹھتی وہ جان لیوا مہک، اس کی گرم سانسوں کا بوجھ اور پھر دھیرے سے الگ ہو جانا۔


اس نے بے چینی سے کروٹ بدل لی۔ وہ دور کیوں ہو گیا؟ کیوں چھوڑ دیا مجھے؟ اس کا دل چلایا مگر وہ ساکت پڑی تھی۔


دونوں ہی اسی لمحے میں قید ہو چکے تھے کیونکہ وہ ان کا پیچھا چھوڑ ہی نہیں رہا تھا۔


زاویان نے سگریٹ کا دھواں فضا میں بکھیر دیا۔

" یہ جو تھا۔۔۔ یہ ٹیم (tame) نہیں ہوگا۔  یہ میرا ہے۔۔ Untamed۔۔۔ Untamed possession۔"  


لایان نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

" مجھے یہ کیا ہو گیا تھا۔ میں کیوں خود کو روک نہیں سکی تھی۔" 


دونوں ہی پوری رات سو نہیں سکے تھے۔ اگلے دن زاویان سے دوبارہ سامنا ہوگا، اس ڈر سے وہ کمرے سے باہر ہی نہیں نکلی تھی۔ ملازمہ اسے کمرے میں ہی ناشتہ دے گئی تھی۔


" زاویان کہاں ہے؟"  

اس نے نارمل لہجے میں ملازمہ سے پوچھا۔


" وہ تو تین دنوں کے لیے دبئی چلے گئے ہیں۔" 

اس کا ہاتھ رکا۔


" کب؟"

" فجر کے وقت۔"  


اس نے خاموشی سے چائے کا کپ اٹھا لیا۔ شام کو وہ کمرے سے باہر نکلی اور پورچ میں چلی آئی۔ زاویان کے آدمی کچھ زخمی آدمیوں کو گھسیٹتے ہوئے حویلی کے پچھلے حصے کی طرف لے جا رہے تھے۔ اس نے دیکھا مگر کوئی ری ایکشن نہیں دیا۔ وہ عادی ہوتی جا رہی تھی۔


" یار تیرا دل نہیں کرتا۔۔۔ کوئی ہینڈسم ولن تجھے اغوا کرے اور فورس میرج کر لے۔۔۔ اف کیا سین ہوگا۔" 

لایان نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔


روحا کی ہنسی چھوٹ گئی۔

" ایسا صرف ناولز میں ہوتا ہے۔ اصل میں صرف کزن کا رشتہ ملتا ہے وہ بھی سرپرائز کے طور پر۔" 

دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی تھیں۔


اب بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔

" روحی۔۔۔ نہ جانے کہاں ہوگی اس وقت۔"  


وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ رات ہوئی، اس نے کھانا کھایا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔ ایک بار پھر وہ منظر سامنے آگیا۔ اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔


اس کا دماغ پھٹنے لگا۔ ملازمہ سے نیند کی گولی منگوا کر وہ پھر سے لیٹ گئی۔ صبح اٹھی تو جسم بخار میں دہک رہا تھا۔ ملازمہ نے دیکھا تو فورا ڈاکٹر کو بلوا بھیجا۔


شام تک اس کا بخار تھوڑا بہت اتر چکا تھا مگر رات کو پھر سے تیز ہو گیا۔ اس کا سر گھومنے لگا۔ میڈیسن کھانے کے لیے اس نے پانی کا گلاس اٹھایا۔ وہ خالی تھا۔ گلا خشک ہوا۔ 


وہ بیڈ سے اتری اور کیسے تیسے کچن میں پہنچی۔ پانی پی کر اس نے گلاس شیلف پر رکھا اور جیسے ہی گھومی کسی نے اس کے دونوں طرف شیلف پر ہاتھ رکھ دیے۔


وہ گھبرا گئی۔ اس نے گردن اٹھا کر دیکھا، اور وہی اس کی سانس اٹک گئی۔ سامنے وہ کھڑا تھا۔ 


اس نے ہاتھ بڑھایا، شیلف پر رکھا گلاس دور کھسکایا اور اسے اٹھا کر شیلف پر بٹھا دیا۔


" اب کیسی ہو؟ بخار کم ہوا؟" 

اس نے بے حد نرمی سے پوچھا۔


وہ کچھ بول نہیں سکی۔ زاویان نے ہلکا سا انگلیوں کی پور سے اس کا ماتھا چھوا پھر گال۔ وہ دہک رہی تھی۔ وہ پریشان ہو گیا۔ 


لایان نے اسے دوبارہ اپنے قریب محسوس کیا۔ اس کا سر چکرانے لگا۔ اس نے زاویان کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے اور جھٹکے سے اسے دور کیا۔ 


" زاویان بس۔۔۔ اب اور نہیں۔۔۔ میں واپس نہیں جا سکتی۔۔۔ میں پھر سے۔۔۔ پھر سے اس زہر میں ڈوبنا نہیں چاہتی۔۔۔ مجھے چھوڑ دو۔"

وہ رکی ہوئی آواز میں بولی۔


زاویان پیچھے نہیں ہٹا تھا۔ بس ہلکی سی گردن جھکا کر اس کو دیکھا اور دھیرے سے ہنسا، آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ 


" میں تو پہلے ہی مر چکا ہوں، تمہارے بنا، تمہاری محبت کے بنا۔ اس زہر کا پہلا قطرہ میں نے پیا تھا اور تب سے زندہ ہوں تو بس اسی زہر کی وجہ سے۔"  

اس نے دھیرے سے لایان کا گرم ہاتھ پکڑا۔ 


" تم چھوڑ کر جاؤ گی بھی تو بھی اس زہر سے بچ نہیں سکتی۔"  

اس نے دوبارہ گردن جھکا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ 


لایان کے آنسو بہنے لگے۔ کیوں؟ وہ خود نہیں جانتی تھی۔ 


" بولو لایان۔۔۔ اس زہر سے بچ پاو گی؟ مجھ سے بچ پاو گی۔"  

زاویان نے اس کے آنسو پونچھنے چاہے مگر رک گیا۔ وہ یہ نہیں کر سکتا تھا۔ 

اس کی بھاری آواز کچن میں گونج رہی تھی۔ 


لایان پھر سے اسی لمحے میں قید ہونے لگی۔ اس کی گرم بھاری سانسیں زاویان کے چہرے کو چھو رہی تھیں۔


اس کا ہاتھ بے اختیار زاویان کے سینے پر رکا پھر ہلکا سا اٹھ کر اس کی گردن تک پھسل گیا۔


زاویان تب بھی نہیں ہلا، بس کھڑا رہا۔ اسے نہیں چھوا۔ دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے شیلف پر ٹکائے اس کو دیکھتا رہا۔ 


لایان کا ہاتھ پھر سے پھسلا اور اس کی گردن کے پیچھے اس کے گھنے بالوں تک جا پہنچا۔ انگلیاں اس کے بالوں میں الجھ گئی تھیں۔ 


وہ صرف اس کی کالی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ بے خیالی میں، بنا پلک جھپکائے۔ وہ بے وجہ بنا سوچے سمجھے یہ سب کر رہی تھی۔ 


زاویان نے بغور اس کا چہرہ دیکھا اور وہیں کانپ سا گیا۔ لایان کی آنکھوں میں وہ بے چینی اور بے خودی کا رنگ، آنکھیں ایک ہی نقطے پر جمی ہوئیں۔ ہونٹ ہلکے سے کھلے ہوئے جیسے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر بھول گئی۔ خود کو بھی۔ 


زاویان نے ایک ایک چیز نوٹ کی تھی۔ دل کیا ساری حدیں توڑ کر اس کو خود میں سمیٹ لے۔ 


لیکن اس نے زور سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ جذبات سے بھرا چہرہ تھوڑا نرم پڑا۔ وہ تھوڑا اور جھکا۔ گہری سانس لے کر خود کو سنبھالا۔ لایان کی بخار کی حدت میں جلتے گال اور دہکے۔


" لایان! میں نہیں چاہتا تم وہ زہر محسوس کرو جو مجھے روز, پل پل مار رہا ہے۔ تم میری عادت، میری چاہت، میری سزا بن چکی ہو اور میں نہیں چاہتا کہ یہ سب میں تمہارے لیے بنوں۔ میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔"  

اس نے ہلکے سے اس کے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کیا اور دور ہٹ گیا۔ 


لایان کچھ لمحے اسے بے ہوشی میں گھورتی رہی جیسے سمجھ رہی ہو کہ کیا ہوا ہے۔ اس کی انگلیاں اب بھی زاویان کے بالوں کا احساس محسوس کر رہی تھیں۔


زاویان کچن سے باہر نکلا اور تب اسے ہوش آیا تھا۔ اس کا ہاتھ کانپتا ہوا پہلو میں آ گرا۔ 


اس نے دونوں ہاتھوں سے زور سے شیلف پکڑا۔ آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے۔


" اب کوئی فائدہ نہیں زاویان! وہ زہر مجھے بھی کھا رہا ہے۔ اب میں بھی پل پل مر رہی ہوں۔" 

اس کی ٹوٹی ہوئی آواز کچن میں گونج گئی۔


جاری ہے


Comments


  1. MaojA hi maoja. This episode give me butterfly 🦋 in my stomach ❤️❤️💔💔❤️😍🥰😍💕💖💕💖💘💖💕🥰💔❤️🥰💞🥰😍💞💖💖💞🎉🎉💕💞🥰🥰😍🤩🥰😍😍🤩😍

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts