Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 29 by Munaza Niaz

 


زہرِ عشق

قسط 29

از منزہ نیاز 


" میں صرف ایک سوال پوچھوں گا۔ جواب دینا یا نہ دینا تم پر ہے۔"  

مشال نے گردن موڑ کر اس کو دیکھا۔ دونوں ہاتھ گود میں رکھے تھے۔

دانش اس سے فاصلے پر کھڑا تھا۔


" تم کیا چاہتی ہو؟ تمہاری زندگی کیسی ہونی چاہیے؟ کیا تم واپس جانا چاہتی ہو؟ یہ سب کچھ چھوڑ کر نئی زندگی شروع کرنا چاہتی ہو؟ ایک ایسی جگہ، جہاں پر صرف تم ہو گی اور کوئی تمہیں دیکھنے والا بھی نہیں ہوگا۔" 

مشال کے چہرے پر بے چینی پھیل گئی۔ وہ دونوں ہاتھ آپس میں رگڑنے لگی۔ 


دانش نے اس کے ہاتھوں کو دیکھا۔

" میں تمہیں فورس نہیں کروں گا لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ تم دوبارہ اس اذیت سے گزرو۔" 


" مم۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔" 

اس کی بھرائی ہوئی آواز نکلی۔


دانش نے بغور اس کے تاثرات ملاحظہ کیے اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔


تھوڑی دیر بعد دروازہ دوبارہ کھلا اور ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔ مشال نے دیکھا وہ چلتے ہوئے نقاہت زدہ سی اس کے سامنے آ کر رکی اور پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔


اس کا چہرہ ہلکا سرخ اور آنکھوں میں نمی تھی۔ شاید اسے بخار تھا۔


" مجھے پتہ ہے تمہیں ڈر لگتا ہے پر مشال ڈر کا ہونا برا نہیں ہے! اس کا مطلب ہے تمہیں ابھی بھی اپنی زندگی سے محبت ہے۔" 

لایان نے نرمی سے کہا۔ مشال نے نم آنکھوں سے اس کو دیکھا البتہ چپ رہی۔


" تمہیں پتہ ہے تم بہت اسٹرونگ لڑکی ہو۔ تم نے جتنا سہا ہے اس کے بعد بھی تم یہاں ہو، سانس لے رہی ہو، زندہ ہو۔  یہ بہت بڑی بات ہے مشال۔" 


مشال کا دل بھر آیا۔ ہلکا سا جسم کانپا تھا۔ لایان اٹھی اور نرمی سے اسے سینے سے لگا لیا۔


" مجھے اپنی بہن سمجھ لو۔" 

مشال پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔


پرانی یادیں پھر سے زندہ ہو گئی تھیں۔ امی کا اس کو شادی کے انکار پر مارنا، حارث کا اس پر ہاتھ اٹھانا، اس کا اکیلے راتوں کو سسکنا، تڑپنا۔


اس وقت جب وہ بالکل اکیلی تھی۔ کوئی بھی اس کے پاس نہیں تھا۔ کوئی بھی نہیں۔ جس کے سینے سے لگ کر وہ اپنا بوجھ ہلکا کرتی۔ 


صدیوں بعد جیسے کسی نے اسے سینے سے لگایا تھا۔ اسے زندہ ہونے کا احساس دلایا تھا۔ اسے اپنا کہا تھا۔


وہ زار و قطار روتی گئی۔ لایان نے اسے رونے دیا تھا۔ کافی دیر بعد اس کے آنسو تھمے تھے۔ وہ دھیرے سے الگ ہوئی اور بیڈ سے اتر گئی۔ لایان نے مسکرا کر اس کو دیکھا اور اسے لیے کمرے سے باہر آگئی۔


دانش بے چین سا کوریڈور میں ٹہل رہا تھا۔ ان دونوں کو آتا دیکھ ٹھٹک کر رکا۔ مشال آ رہی تھی اسے یقین نہیں آیا۔ وہ فورا آگے بڑھا۔ لایان نے سر کے اشارے سے اسے 'سب ٹھیک ہے' کا سگنل دیا اور پلٹ گئی۔


دانش نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا نہیں کہا تھا بلکہ وہ خود اس کے ساتھ سر جھکائے دھیمے قدموں سے چلنے لگی تھی۔ کسی احساس کے تحت اس نے ارد گرد دیکھا۔ اس ہسپتال میں زیادہ تر دانش جیسے لوگ تھے اور مردوں کی تعداد عورتوں کی نسبت بہت ہی زیادہ تھی۔ حیرانی اسے اس بات پر تھی کہ کوئی بھی مرد اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا حالانکہ وہ قاتل حسن رکھتی تھی۔


دانش اس سے ایک قدم پیچھے تھا اور اس نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ وہ 'سیف' ہے۔ وہ اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔


دوسری طرف لایان چیک اپ کروانے کے بعد زاویان کے ساتھ آ کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے بغور ہسپتال کا جائزہ لیا۔ وہ کوئی عام سا ہسپتال نہیں تھا۔ وہاں پر ہر طرف سفید روشنی تھی اور پورا ہسپتال سرد تھا۔ 


رش زیادہ نہیں تھا۔ زاویان جیسے مرد تیزی سے آ جا رہے تھے۔ زیادہ تر مریض بھی آدمی ہی تھے۔ کسی کو گولی لگی تھی تو کوئی چاکو کے وار سے زخمی تھا۔ 


زاویان فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔ آواز اتنی ہلکی کہ وہ بمشکل سن پا رہی تھی۔ زاویان نے فون کان سے ہٹایا اور اس کو دیکھا۔


" کیا ہوا؟" 

" کافی ڈارک ماحول ہے۔"  

اس نے بنا نظریں ملائے کہا۔


زاویان ہلکا سا مسکرایا۔

" مافیا ہاسپٹلز ایسے ہی ہوتے ہیں۔" 


لایان کے ابرو بے اختیار اٹھے تھے پھر وہ دونوں آگے بڑھ گئے۔


ان کی کار دانش کی کار کے پیچھے ہی حویلی میں داخل ہوئی۔ دانش نے مشال کی طرف کا دروازہ کھولا۔ مشال باہر نکلی اور پورا سر اٹھا کر حویلی کو دیکھا۔ ہوا کا ٹھنڈا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا۔ 


حویلی کسی پرانی داستان کا حصہ لگ رہی تھی۔ صدیوں پرانی محرابیں، اونچی دیواریں جن پر بیلیں لپٹی ہوئی تھی۔ آسمان کو چھوتے درخت تھے جن کی شاخیں ٹھنڈی ہوا میں سرگوشیاں کرتی محسوس ہو رہی تھیں۔ حویلی کے سامنے لگے لوہے کے دروازے کے اوپر پرندوں کے جھرمٹ بیٹھے تھے جو وقفے وقفے سے چہچہا رہے تھے۔


مشال نے اپنے دل پر عجیب سا دباؤ محسوس کیا۔ ایسا لگتا تھا اس جگہ کی فضا بھی خود سانس لینا بھول گئی ہے۔ ارد گرد کا ہالہ اتنا بھاری تھا کہ وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہٹی۔


لایان کار سے باہر نکلی اور اس کے پاس آئی۔

" آؤ تمہیں تمہارا کمرہ دکھا دوں۔" 


مشال اس کے پیچھے چل پڑی۔ سنگ مرمر کے فرش پر پڑتے قدموں کی چاپ سنسان راہداری میں گونج رہی تھی۔ لمبی راہ داریوں کی دیواروں پر پرانی پینٹنگز اور قدیم فانوس لگے تھے۔ جن سے مدھم سنہری روشنی پھوٹ رہی تھی۔


لایان اس کو سیدھا مہمان خانے والے کمرے میں لے آئی۔ کمرہ بہت وسیع تھا۔ اونچی چھت اور پرانی لکڑی کے فرنیچر۔ لمبے بھاری پردے جو ہوا کے ساتھ آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔


" یہ تمہارا کمرہ ہے! آرام کر لو۔"  

لایان نے مختصر کہا اور باہر نکل گئی۔ 


مشال کے دل میں ہزاروں سوال جاگ اٹھے لیکن زبان جیسے کام کرنا بھول گئی تھی۔ اس نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور اندر آ کر بیٹھ گئی۔


دوسری طرف زاویان اور دانش سیدھا ٹارچر روم کی طرف بڑھے۔ کمرے کا دروازہ کھولا تو خون کی بو کا جھونکا باہر آیا۔ کمرے کے وسط میں ایک کرسی پر حارث بندھا بیٹھا تھا۔


گردن دائیں بائیں جھول رہی تھی، ہونٹ پھٹے ہوئے تھے اور چہرے پر خوف۔ دانش آگے بڑھا لیکن زاویان نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر روکا۔ اس کی آنکھوں میں پر اسرار سی چمک تھی۔


تھوڑی دیر بعد ان کے آدمیوں نے حارث کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بٹھا دیا۔ اس کے ہاتھ لوہے کی زنجیروں میں جکڑ دیے گئے تھے۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے اور آنکھوں میں وہ خوف جو اس نے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کیا تھا۔


گاڑی جنگل کے سنسان راستوں سے گزرتی ایک پراسرار قلعہ نما عمارت کے سامنے رکی۔ یہ کوئی عام جیل نہیں تھی۔ 

'یہ مافیا کی جیل تھی۔' 

اسے گھسیٹ کر اندر لے جایا گیا۔ فضا میں دماغ پر چڑھنے والی بوسیدہ بو رچی تھی۔ دیواروں پر نمی اور خون کے دھبے، زنگ آلود سلاخیں، بجھتے ٹمٹماتے بلب اور ایسا سناٹا کہ حارث کی روح کانپ گئی۔


کوریڈور کے دونوں طرف قیدی اپنے سیل میں دبکے بیٹھے تھے۔ کچھ کے جسم پر زخم اور کچھ کے ہاتھ کٹے ہوئے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جن کی آنکھوں میں نہ کوئی انسانیت تھی نہ ہی زندگی۔ 


یہاں موجود ہر شخص کا خون کسی نہ کسی کے ہاتھ میں تھا۔ اسے جس سیل میں ڈالا گیا وہ باقیوں سے الگ تھلگ تھا۔ ایک بند کمرہ، چھت سے پانی ٹپک رہا تھا اور کونے میں زنجیروں سے لپٹی ہوئی ایک ٹوٹی کرسی رکھی تھی۔ 


سیل کے باہر دو آدمی پہرہ دے رہے تھے جو خود بھی قاتل ہی تھے۔ جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے درجنوں لوگ مارے تھے۔ قیدیوں تک کو مار ڈالا تھا۔


حارث کا سر چکرانے لگا۔ دل بے قابو ہو گیا۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ خود کو مضبوط سمجھ رہا تھا اور اب اسے لگ رہا تھا وہ کسی اور ہی جہان میں قید ہو گیا ہے۔


کمرے کی نیم تاریک فضا، دور کہیں سے آتی کراہوں کی آوازیں اور زنجیروں کی جھنکار سے اسے احساس ہو گیا کہ یہاں کے دن اب مہینوں جیسے اور یہاں کی راتیں موت سے بھی بدتر ہوں گی۔


اس کو اس تنگ و تاریک جیل میں دھکیل کر قفل لگا دیا گیا تھا۔


" میں ڈرتا نہیں ہوں۔ یہ لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔"  

وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔


اگلے لمحے آہٹ ہوئی۔ تین آدمی اندر داخل ہوئے۔ سیاہ دھاریوں والے کپڑوں میں ملبوس۔ آنکھوں میں سفاکی اور درندگی لیے جیسے کوئی انسان نہیں ہوں درندے ہوں۔ 


ان کے بازو پر AS کا نشان کندہ تھا۔ یہ اذان کے خاص آدمی تھے۔


" یہ نیا آیا ہے۔ خود کو بڑا شیر سمجھتا ہے۔"  

ایک نے سرد آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ 


" زاویان کے کہنے پر لایا گیا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہم اس پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے۔"  

دوسرے نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔


( اور وہ نہیں جانتے تھے کہ زاویان نے جان بوجھ کر حارث کو اس سائیڈ میں بند کروایا تھا۔)


" قریب مت آنا، میں کسی سے نہیں ڈرتا۔" 

حارث نے گھور کر کہا۔ 


اذان کے آدمیوں نے شیطانی قہقہہ لگایا۔ ایک نے پلک جھپکتے اس کا گریبان پکڑا اور اسے دیوار میں دے مارا۔ 


" ڈرتا نہیں! ہاں۔" 

اس کی آواز زہر ٹپکاتی تھی۔


" یہاں شیر نہیں بنتے۔ یہاں شیر بھیڑیا بننے والوں کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہیں۔" 


حارث نے خود کو سنبھالا۔ مکا مارنے کی کوشش کی لیکن اس کا ہاتھ ہوا میں ہی پکڑ لیا گیا۔ باقی دونوں نے بھی اس کو دبوچ لیا۔


" یہ اذان بھائی کی جگہ ہے۔ زیادہ شانڑا نہ بن سمجھا۔ تیرے جیسے بدتمیز کی ٹانگیں توڑنے کا بس اشارہ چاہیے ہمیں۔"  


ایک زور کا گھونسا اس کے پیٹ میں پڑا۔ اس کا سانس رک گیا۔ گھٹنا زمین پر ٹک گیا۔


" میں نہیں ڈرتا۔"  

وہ غصے سے غرایا۔


تینوں آدمی ایک ساتھ اس پر پل پڑے۔ گھونسیں، تھپڑ، مکے، کہنیاں۔ اس کو بری طرح پیٹنا شروع کر دیا۔


اس کی پسلیوں پر لاتیں برسائیں گئیں۔ چہرے پر مکوں کی بارش کر دی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ فرش پر خون تھوکتا ایک طرف گرا پڑا تھا۔


ایک آدمی اس کے قریب جھکا۔

" یہ تو ابھی شروع ہوا ہے۔ آگے تیرا وہ حشر کریں گے کہ تو اپنے پیدا ہونے پر پچھتائے گا۔" 


دروازہ دھڑام سے بند ہوا۔ سیل میں خاموشی چھا گئی۔ پیچھے حارث کی کراہیں گونج رہی تھیں۔ 


باہر تینوں کھڑے مسکرا رہے تھے۔

" کل پھر دیکھیں گے جب اسے اپنی اوقات یاد دلانی ہوگی۔" 

☆☆☆


بارود اور دھوئیں کی بو ابھی بھی ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔ لاشوں سے نکلتا خون، زمین پر بکھری گولیوں کے کھوکھلے۔ 


اذان خاموش اپنے ویئرہاؤس کے سامنے کھڑا تھا۔ دونوں ہاتھ جیبوں میں، چہرہ سپاٹ، آنکھیں ایک ہی جگہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔


سامنے اس کے آدمیوں کی لاشیں اٹھائی جا رہی تھیں۔ آس پاس کے لوگ اسے دیکھ رہے تھے کہ شاید وہ چیخے چلائے گا یا غصہ کرے گا۔


جبکہ وہ بالکل ٹھنڈے تاثرات کے ساتھ ساکت کھڑا تھا۔


22 سال پہلے۔

رات کا وقت تھا۔ چاند بادلوں میں چھپا تھا۔ 13 سالہ اذان ایک چھوٹی سی ورک شاپ کے پیچھے چپکا ہوا تھا۔ 


اس کے سامنے دو آدمی کھڑے تھے۔ زاویان کا باپ اور اس کا اپنا باپ۔


" تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں ہمارے ایمپائر کے ساتھ کھیلنے دوں گا۔ میں چپ نہیں رہوں گا۔"  

زاویان کا باپ چلایا تھا۔ 


اس کے ہاتھ میں گن تھی۔ رخ اذان کے باپ کی طرف تھا۔ اذان کے باپ نے تیزی سے گن نکالی اور دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے پر فائر کر دیا۔


اذان کے باپ کو گولی سیدھا گردن پر لگی تھی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔ جبکہ زاویان کے باپ کو سینے پر گولی لگی تھی وہ نیچے گرا اور تبھی دوسری گولی چلی اور اس کے سر میں لگی اور وہ گولی اذان نے چلائی تھی۔ 


اذان کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ وہ بھاگتا ہوا اپنے باپ کی طرف گیا تھا۔ اس کے باپ کا جسم اس کی آنکھوں کے سامنے ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ اس نے سرخ چہرے کے ساتھ گردن موڑ کر دیکھا۔ 12 سالہ زاویان اپنے باپ کی طرف بھاگتا آ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ 


اذان نے نفرت سے اس کو دیکھا۔

" میرے باپ کو قتل کر دیا۔ میں زرقاد کے کسی فرد کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔"  


زاویان کے پیچھے اس کا چھوٹا بھائی چھ سالہ رایان بھاگتا ہوا آیا اور اپنے باپ سے لپٹ گیا۔ پیچھے ان کے آدمی اور گارڈز کے قدموں کی آوازیں ہر طرف گونج رہی تھیں۔


" باس! ہماری آدھی طاقت ختم ہو چکی ہے۔"  

اس کے ساتھ کھڑا آدمی دھیرے سے بولا۔ 


اذان ماضی سے حال میں پلٹا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ محض سگریٹ جلا کر گہری سانس بھری اور دھواں فضا میں چھوڑ دیا۔


زہر بھری مسکان چہرے پر آئی تھی۔

" زاویان، زاویان، زاویان! کیسی موت دوں تجھے۔"  

اس نے موبائل نکالا اور پلٹ گیا۔


جاری ہے


Comments

  1. Wow 😲 out class ❤️🫶🥰😍💖💘💞💕

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts