Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-ishq - Episode 30 by Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 30
از منزہ نیاز
روحا کچن میں کھڑی ناشتہ بنا رہی تھی۔ ہوا میں کافی اور ٹوسٹڈ بریڈ کی خوشبو گھلی تھی۔ اس کے بال ڈھیلے سے جوڑے میں بندھے تھے۔ گال ہلکے سے گلابی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔
وہ فرائنگ پین میں انڈہ پلٹ رہی تھی۔ ہر دو سیکنڈ بعد اس کی نظر ساتھ کھڑے یحیی پر پڑتی جو فروٹس کاٹ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر نرم اور بھرپور مسکراہٹ تھی۔ روحا نے نظریں پھیری۔ کچن میں وقفے وقفے سے چمچ، چھری اور کٹنگ بورڈ کی ٹک ٹک کی آواز گونجتی رہی۔
یحیی نے اس کے لیے کرسی کھینچی۔ وہ دھیما سا مسکراتی بیٹھ گئی۔ انہوں نے ایک ساتھ ناشتہ شروع کیا۔
روحا نے آملیٹ اپنی طرف کھسکایا۔ یحیی نے پھل کا ٹکڑا اٹھایا۔ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا اور دونوں کا ہی دل دھڑک اٹھا۔
یحیی نے بریڈ اٹھا کر اس کی پلیٹ میں رکھا۔ روحا کی نظر پھر سے اس کے بازو پر اٹک گئی۔
" کھاو۔"
یحیی نے نرمی سے کہا۔
آواز اتنی گہری کہ روحا کا پھر سے دھیان بھٹکنے لگا۔ یحیی نے کافی کا مگ اٹھایا۔
" اس رات تم بہت زیادہ سوچ رہی تھی نا۔"
اس نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔
آملیٹ روحا کے گلے میں پھنس گیا۔ بمشکل نگل کر اس نے پانی پیا۔ کوئی جواب نہیں دیا۔ یحیی نے مسکراہٹ دبا لی۔ دونوں نے ناشتہ ایک ساتھ ختم کیا۔
وہ اٹھی اور برتن سمیٹنے لگی۔ یحیی نے بھی اس کی مدد کی۔ وہ باہر جانے لگی کہ یحیی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کر لیا۔ روحا نے نظر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
ہر بار دیکھنے پر وہ پہلے سے زیادہ اچھا لگنے لگتا تھا۔
یحیی نے اس کے دونوں ہاتھ تھامے اور جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ روحا کی آنکھیں دھیرے سے بند ہو گئی۔ چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
یحیی نے اس کا ہاتھ اٹھایا اور اپنے ہونٹوں سے لگایا۔
" اپنا خیال رکھنا۔ میں جلدی آ جاؤ گا۔"
وہ جانے کے لیے مڑا پھر رک گیا۔
اس کے دونوں ہاتھ چھوڑ کر اس کو خود سے لگایا اور دوبارہ اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے۔
روحا نے اس کا بازو تھاما اور مسکراتے اسے کار تک چھوڑنے آئی۔ یحیی نے دروازہ کھولا۔ اندر بیٹھنے سے پہلے ایک نظر اس کو دیکھا۔
وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔
" جلدی آنا۔"
یحیی نے کار گیٹ سے نکالتے اس کی آواز سنی اور بیک مرر میں دنیا کا خوبصورت ترین چہرہ دیکھا۔
ایک خوبصورت مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔
اس کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر وہی کھڑی رہی پھر گہری سانس بھرتی اندر بڑھ گئی۔ کمرے میں جا کر اس نے پہلے صفائی کی پھر کچن کا رخ کیا۔
کچن کا کام نمٹا کر وہ دوپہر کے کھانے کا انتظام کرنے لگی۔ یحیی اکثر صبح کا گیا رات کو ہی لوٹتا تھا۔ اس نے بریانی بنانے کا سوچا۔ یحیی کو کہہ دیتی ہوں آج لنچ ساتھ کریں گے۔
اسے میسج بھیج کر وہ لاونج میں چلی گئی۔ ٹی وی آن کر کے اس نے صوفے سے ٹیک لگا لی۔ نگاہوں کے سامنے بار بار یحیی کا سراپا گھوم رہا تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ بے دھیانی میں چینل بدلتی گئی۔
ایک چینل پر خود ہی اس کی نظریں ٹھہر گئیں۔ وہ ایک نیوز چینل تھا۔ بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔ اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
مافیا کا بندہ یحیی میر نے معصوم شہریوں کو بے رحمی سے قتل کیا۔ پولیس اسے ڈھونڈ رہی ہے۔ اس نے غیر قانونی طریقے سے منشیات کی اسمگلنگ کی۔ ہتھیاروں کا کاروبار۔ اس کی تصویریں ٹی وی پر دکھائی جا رہی تھیں۔
روحا کے ہاتھ سے ریموٹ چھوٹ کر کارپٹ پر پھسل گیا۔
مافیا؟ اسمگلر؟ قاتل؟ اس کی پسینے چھوٹ گئے۔ ٹی وی پر ایک کلپ بار بار چل رہی تھی۔ عورتیں دھاڑے مار مار کر رو رہی تھیں۔ یحیی کو برا بھلا کہہ رہی تھیں کیونکہ اس نے ان عورتوں کے بیٹوں کو ذبح کر دیا تھا۔
روحا کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ اس نے دوسرا نیوز چینل لگایا۔ وہاں بھی وہی خبر تھی۔
" یہ۔۔۔ یہ سب۔۔۔ یحیی نے۔"
اس نے جھٹلانے کی کوشش کی مگر آنکھوں دیکھا کون جھٹلا سکتا ہے۔
ایک دم سے وہ رونے لگی۔ تھوڑی دیر پہلے یحیی کے لیے اپنے دل میں محبت کا احساس کہیں غائب ہو گیا تھا۔ وہ اسے جھوٹا، دھوکے باز اور قاتل دکھ رہا تھا۔ اس نے ریموٹ اٹھایا اور زور سے ٹی وی میں دے مارا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
( "زاویان زرقاد۔۔۔ یحیی میر۔۔۔ ان دونوں نے اپنی حد پار کر دی۔"
اذان نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔ اس کا خون ابل رہا تھا۔ ایشل دھیرے سے کھڑی ہوئی۔ سیاہ سلک کا سوٹ۔ ہونٹوں پر گہری سرخ لپسٹک۔
" غصہ سے فیصلے نہیں ہوتے اذان۔"
اس نے اذان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ کان میں سرگوشی کی۔)
روحا وہی صوفے پر بیٹھی نہ جانے کتنی دیر روتی رہی وہ نہیں جانتی تھی۔ جب آنسو تھمے تو وہ کمرے میں چلی آئی۔
( "یحیی نے میرا ویئر ہاوس لے لیا۔ دونوں نے مل کر میرے آدمی مار دیے۔ میں دونوں کا نام زمین سے مٹا دوں گا۔"
اذان سفاکی سے بولا۔ ایشل نے مسکرا کر ایک فائل کھولی۔ اندر تصویریں تھیں۔ یحیی اور روحا کی۔ دونوں مسکرا رہے تھے۔
" جائیداد، بزنس، پیسہ۔۔۔ یہ سب ٹیمپرری (temporary) چیزیں ہیں اذان۔ اگر اصل درد دینا ہے تو جینے کی وجہ چھین لو۔"
اذان نے چونک کر اس کو دیکھا۔)
روحا نے تیزی سے بیگ کھولا اور سامان ڈالنے لگی۔
("کیا مطلب؟"
اذان نے گہری نظروں سے دیکھا۔
" یحیی میر کی سب سے بڑی کمزوری اس کا پیار ہے۔"
تصویر اس کے سامنے رکھی۔
روحا۔)
روحا نے بیگ بند کیا اور کال ملائی۔ بیل جاتی رہی مگر کسی نے نہیں اٹھائی۔
" پلیز بھائی اٹھا لیں۔"
وہ پریشان سی بیڈ پر گر گئی۔
( " روحا۔"
اذان نے تصویر اٹھا کر سنجیدگی سے دیکھا۔
" ایگزیکٹلی۔۔۔ یحیی کو جینے دو لیکن جینے کی وجہ چھین لو۔"
ایشل نے کندھے اچکائے۔ اذان کی نظریں گہری ہوئیں۔)
کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ بے چین سا اندر داخل ہوا۔ روحا نے سرخ آنکھیں اٹھا کر اس کو دیکھا۔ یحیی تیزی سے اس کے قریب آیا۔
" روحا۔۔ کیا ہوا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟"
جیسے ہی وہ قریب آیا وہ تیزی سے پیچھے ہوئی۔
" میرے پاس بھی مت آنا یحیی۔"
وہ پھنکاری۔
یحیی نے حیرت سے اس کو دیکھا۔
" مگر ہوا کیا ہے؟ کچھ بتاؤ گی بھی۔"
وہ دوبارہ اس کے قریب نہیں گیا تھا۔
" تم ایک مافیا ہو۔۔۔ ایک قاتل۔"
وہ دکھ بھرے صدمے سے بولی۔
یحیی نے گہری سانس لی۔
" میں تمہیں سب بتانے والا تھا۔ میں بس صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا۔"
" جھوٹ مت بولو۔ تم کبھی بھی مجھے نہیں بتاتے۔ میں نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ پولیس تمہیں ڈھونڈ رہی ہے۔ تم نے معصوم لوگوں کا قتل کیا ہے۔"
وہ چلائی۔
یحیی کا چہرہ تاریک ہوا۔
" کوئی میرے خلاف سازش کر رہا ہے روحا۔ وہ سب جھوٹ ہے جو تم نے دیکھا ہے۔ میں تمہیں سچ بتاتا ہوں۔ میری بات۔۔۔"
وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ روحا نے ہاتھ اٹھا لیا۔
" میرے پاس بھی مت آنا۔ مجھے کچھ نہیں سننا۔ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ تم ایک جھوٹے انسان ہو۔ جا رہی ہوں میں یہاں سے۔ میں نے بھائی کو کال کر دی ہے۔ وہ آ جائیں گے مجھے لینے۔ اگر تم نے زبردستی کی تو پولیس کو بھی ساتھ لے آئیں گے۔"
روحا نے دھڑلے سے اس کے منہ پر جھوٹ بولا۔
یحیی نے خود کو پرسکون کیا اور اس کی نم نگاہوں کو دیکھا۔
" روحا میری جان۔۔۔ بس ایک بار اپنے یحیی کو سن لو۔۔۔ بس ایک بار۔۔۔ اس کے بعد جو کہو گی وہی کروں گا۔۔۔ تم اگر واپس جانا چاہو گی تو میں منع نہیں کروں گا۔ بس ایک بار اپنے یحیی کو سن لو۔ میں جھوٹا نہیں ہوں۔"
وہ دھیمے قدموں سے اس کے پاس آیا۔
روحا کا دماغ گھوم گیا۔ اس نے پھرتی سے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی اور گن نکال لی۔ یحیی کا چہرہ تاریک ہوا۔ اس نے چھپا کر کیوں نہیں رکھی تھی۔
" میرے پاس آئے تو میں خود کو گولی مار دوں گی۔"
اس نے کنپٹی پر گن رکھ دی۔ یحیی کانپ گیا کیونکہ گن لوڈڈ تھی۔
" ٹھیک ہے! تم اگر جانا چاہتی ہو تو جاؤ۔ میں کچھ نہیں کہتا۔"
اس نے فورا راستہ چھوڑ دیا۔
روحا نے دھندلی آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ اس کا اعتبار ٹوٹا تھا، دل ٹوٹا تھا۔ وہ تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی۔ جیسے ہی وہ یحیی کے سامنے سے گزری۔ یحیی نے ایک ہاتھ سے اس کی کلائی پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے گن چھینی اور وہی گولی چل گئی۔
یحیی جھٹکے سے پیچھے گرا۔ روحا کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر فرش پر گر گئی۔ یحیی نے درد سے آنکھیں میچیں۔ زور سے کندھا دبایا۔ خون بھل بھل بہنے لگا تھا۔
روحا کے ہاتھ پیر کانپ گئے۔ چہرہ سفید پڑ گیا۔ سب کچھ بھلائے وہ اس کی طرف لپکی۔
" یح۔۔۔ یحیی۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ میں نے۔۔۔ جان کر۔۔۔ نہیں کیا۔"
یحیی کا چہرہ درد سے پیلا پڑنے لگا۔
( اذان اور ایشل نے مسکرا کر اسکرین دیکھی جہاں روحا نے یحیی پر گولی چلائی تھی۔)
" ہاسپٹل چلتے ہیں یحیی! دیکھو بہت خون بہہ رہا ہے۔"
یحیی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
" ریلیکس ہو جاؤ کچھ نہیں ہوا ہے۔ میں ہاسپٹل نہیں جا سکتا۔"
اس نے بمشکل مسکرانے کی کوشش کی۔
" پاگل ہو گئے ہو تم۔ گولی لگی ہے۔ انفیکشن ہو گیا تو؟ یحیی پلیز سمجھنے کی کوشش کرو۔"
" روحا میری بات سنو۔ ہاسپٹل جائیں گے تو پولیس انوالو ہو جائے گی اور مجھے وہاں سے نکلنے نہیں دے گی۔ میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ تم میری مدد کرو گی نا؟"
وہ اور تیزی سے رونے لگی۔ اس نے یہ سب کچھ کبھی نہیں چاہا تھا۔
" کروں گی۔۔۔ میں سب کچھ کرو گی۔"
اس نے آنسو صاف کرتے اثبات میں سر ہلایا۔
" سنو۔۔۔ پہلے میری مدد کرو۔ مجھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگنے دو۔ جلدی کرو۔"
روحا نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی مدد کی۔
" اب میری سائیڈ کی دراز کھولو۔ فرسٹ ایڈ باکس رکھا ہے۔ ساتھ میں ایک بلیک پاوچ ملے گا۔ اس میں tweezer اور scissors ہیں اور کچن سے ایک باؤل میں صاف پانی لے آؤ۔۔۔ بہت صاف پانی۔۔۔ کاٹن رولز، liquid، antiseptic اور gauze بھی لے آنا۔۔۔ کچن میں ہی رکھے ہیں۔"
روحا جلدی سے اٹھی۔
" اوکے اوکے یحیی۔۔۔ میں لاتی ہوں۔"
وہ بھاگ کر کمرے سے نکلی۔ یحیی نے بمشکل سانس لیتے سر پیچھے دیوار سے لگایا۔ بے اختیار نظر سیدھا کمرے کے کونے پر گئی۔ وہاں کچھ چمکا تھا۔
کیمرہ۔
یحیی کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس نے دانت پیسے۔
" اذان۔"
وہ اٹھا اور اپنے خون سے بھرے ہاتھ سے کیمرہ نکالا اور زمین پر گرا کر بوٹ تلے کچل دیا۔
( "ویل۔۔۔ یہ تو بہت تیز ہے۔"
ایشل نے بال جھٹکے۔ اذان نے سر جھٹکا اور کھڑا ہو گیا۔ اس کا کام پورا ہو چکا تھا۔)
" دیکھو میں سب لے آئی۔"
وہ یحیی کے سامنے بیٹھی۔
" گڈ! اب تم نے ڈرنا نہیں ہے۔ surface wound نہیں ہے۔ اسے نکالنا پڑے گا ورنہ خون رکے گا نہیں۔"
" کک۔۔۔ کیا۔۔۔میں۔"
روحا کے ہاتھ کانپے۔ یحیی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
" ادھر۔۔۔ میری آنکھوں میں دیکھو۔۔ تم یہ کر سکتی ہو۔۔۔ میں تمہیں گائیڈ کروں گا۔ پہلے گہری سانس لو پھر چھوڑو۔ ہاں۔۔۔ بالکل ایسے۔۔"
روحا نے ایسا ہی کیا۔
پھر یحیی کے کہنے پر اس نے کپاس کو antiseptic liquid میں بھگویا اور زخم کے آس پاس دھیرے دھیرے صاف کرنے لگی۔ یحیی درد سے کراہا مگر چلایا نہیں۔
" روحا۔۔۔ زرا پریشر کے ساتھ کرو۔۔۔ ٹائٹ کر کے۔"
روحا کے پھر سے ہاتھ کانپے۔ اس نے فورا خود کو سنبھالا۔
" اب tweezer کو الکوحل سے وائپ کرو اور دھیرے سے اندر لے جاؤ۔ تمہیں میٹل ٹچ فیل ہوگا۔ جب لگے بلٹ مل گئی ہے تو دھیرے سے کھینچنا۔۔۔ زور نہیں لگانا ورنہ ٹشو پھٹ جائے گا۔"
روحا نے کپکپاتے ہاتھوں سے ٹویزر ڈالا۔ یحیی آنکھیں بند کر گیا۔
" یحیی مجھے ڈر لگ رہا ہے۔"
وہ رو دی۔
" ڈر کو سائیڈ پر رکھو۔ تم میری روحا ہو۔ تم یہ کر سکتی ہو۔"
روحا نے دھیرے سے بلٹ کھینچ لیا۔
گولی ساتھ پڑی ٹرے میں گر گئی۔
" اب gauze رول ٹائٹلی لپیٹنا۔ antiseptic لگا کے کپاس پریس کرنا۔ بینڈیج کو کندھے کے اطراف ٹائٹ باندھنا۔ زیادہ لوز ہوا تو خون نہیں رکے گا۔"
جیسے جیسے وہ بتاتا گیا ویسا ویسا وہ کرتی گئی۔ کمرے میں اس کی تیز ہوتی سانسیں گونج رہی تھیں۔ وہ دھیرے سے پیچھے ہٹی۔ یحیی کا چہرہ درد سے پیلا پڑ چکا تھا۔
" روحا۔"
اس نے دھیرے سے اس کو پکارا۔
" ہا۔۔۔ہاں۔ اب کیا کرنا ہے؟"
آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
" کچھ نہیں۔ میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔ تم میرے پاس رہو گی نا؟"
روحا نے اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
" میں کہیں نہیں جاؤں گی۔ یہیں رہو گی۔ تمہارے پاس۔"
یحیی نے آنکھیں بند کر لیں۔ جبکہ وہ اس کے ساتھ ہی دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Awww 😭 kse explain kron sad b hon or happy b ❤️ azan k nam ki waja se kuch bura bol b ni skati 🤦
ReplyDelete