Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-ishq - Episode 31 by Munaza Niaz

 


زہرِ عشق

قسط 31

از منزہ نیاز 


لایان مشال کو میڈیسن دے کر کمرے سے باہر نکلی۔ زاویان اوپر سٹڈی روم میں تھا۔ وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی اور تب اسے ایک آدمی اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔


" یہ زاویان سر کو دینی ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو دے آئیں۔"  

لڑکے نے فائل اس کی طرف بڑھائی۔ 


لایان کنفیوز ہو گئی کہ لے یا نہ لے۔

" مگر تم خود۔۔۔۔"  

وہ بولنے لگی کہ وہ پھر بول پڑا۔


" میم! مجھے ارجنٹ نکلنا ہے، ورنہ میں آپ سے کبھی نہ کہتا۔" 

اس نے فورا بات کاٹی۔


لایان نے دھیرے سے فائل لے لی۔ وہ فورا غائب ہو گیا۔ وہ مڑی اور سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ لمحہ بہ لمحہ اس کے قدم بھاری ہوتے گئے۔ دروازے کے سامنے رک کر اس نے گہری سانس لی اور اندر داخل ہو گئی۔ 


زاویان ہلکا سا سر جھکائے فائل پر کچھ لکھ رہا تھا۔ اس نے فائل میز پر رکھی۔ زاویان چونکا، چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔ ہاتھ ایک پل کو رکا پھر واپس چہرہ جھکا دیا۔


" یہ کس نے تمہیں دی؟ تم کیوں لائی ہو؟"  

زاویان نے نارمل لہجے میں پوچھا۔ 


" تمہارا کوئی آدمی تھا۔ اسے جلدی تھی جانے کی تو۔۔۔"  

اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ کرسی دھکیل کر بالکل اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔


" اگلی بار کوئی کچھ بھی دے تو منع کر دینا۔ تم کوئی نوکر نہیں ان کی۔ نام بتایا اس نے جس نے فائل دی تھی۔"  


لایان نے گھبرا کر اس کو دیکھا۔ زاویان کی پیٹھ پر کھڑکی بند تھی۔ باہر جنگل کے لمبے لمبے درخت عجیب سا منظر پیش کر رہے تھے۔


" نہیں۔" 

" ٹھیک ہے۔"  

وہ کچھ سیکنڈز گہری نظروں سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا پھر ہلکا سا گھوم کر میز پر رکھی ایک فائل اٹھانے کو جھکا۔ 


لایان کی نظر بے اختیار دوبارہ کھڑکی کے پار گئی۔ دور ایک درخت پر کوئی سیاہ سایہ انہیں گن سے نشانہ لگائے بیٹھا تھا۔


لایان کی آنکھیں شاکڈ میں پھیل گئیں۔ اس نے تیزی سے زاویان کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ گولی چلی۔

Trrrrraaaaattttttt ۔۔۔۔۔۔

کھڑکی کے شیشے ٹوٹ کر فرش پر بکھر گئے۔ دونوں کا توازن بگڑا اور دونوں ہی فرش پر گرے۔ زاویان کا ہاتھ فورا اپنی گن کی طرف گیا۔ وہ تیزی سے اٹھتا اسے لیے سائیڈ پر گھوم گیا اور بنا وقت ضائع کیے کھڑکی کی طرف شوٹ کر دیا مگر وہ شوٹر ایک شوٹ کے بعد ہی غائب ہو چکا تھا۔


" تم ٹھیک ہو؟" 

زاویان نے پریشانی سے اس کو دیکھا۔ 


" ہاں میں ٹھیک ہوں۔ تم۔۔۔ تم تو ٹھیک ہو نا؟ تمہیں گولی تو نہیں لگی؟" 

لایان نے گھبرا کر کہا۔


زاویان نے کچھ نہیں کہا بس اس کا ہاتھ پکڑا اور فورا باہر نکلا۔ کچھ دیر بعد اس کی پرائیویٹ ٹیم اور گارڈز حویلی کے باہر چاروں طرف بکھر گئے تھے لیکن شوٹر تب تک غائب ہو چکا تھا۔


( اذان کے سامنے وہی شوٹر بیٹھا تھا۔ 

" باس! سب پلان کے مطابق ہوا۔ میں نے زاویان پر گولی چلائی مگر اس کو مارا نہیں۔"  

وہ تھوڑا نروس ہو کر بول رہا تھا۔

اذان کا چہرہ سپاٹ تھا۔ اس نے محض سر ہلا دیا۔)


زاویان دانش سے کچھ کہہ رہا تھا۔ چہرہ کسی بھی تاثر سے خالی تھا۔ اس کے آدمی ارد گرد گھوم رہے تھے۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ 


" یہ حملہ کس نے کروایا؟"  

شک اذان پر تھا لیکن اس سے پہلے وہ کنفرم کرنا چاہتا تھا۔ اس دفعہ بنا  پروف کے وہ کسی کو نہیں چھوڑنے والا تھا۔


لایان پلر سے ٹیک لگائے اس کو دیکھ رہی تھی۔ وہ مصروف تھا۔ وہ دھیرے سے پلٹ گئی۔ بارش تھوڑا تیز ہوئی تو کافی دیر بعد زاویان کو اس کا خیال آیا۔ دل بے چین سا ہو گیا۔


دانش پلٹ چکا تھا۔ وہ بنا کسی کی طرف دیکھے سیدھا لایان کے کمرے میں گیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا پھر کھول دیا۔ کمرہ خالی تھا۔ وہ گھوما اور بھاگ کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ چھت پر پہنچ کر اس نے فون نکالا۔ وہ دانش کو کال کرنے ہی والا تھا کہ وہیں رک گیا۔


بارش کے ساتھ ہوا بھی تیز ہو گئی تھی۔ اس نے موبائل واپس رکھا اور بھاگ کر اس کے پاس گیا۔ جیسے ہی وہ قریب گیا لایان نے ہاتھ اٹھا کر اس کو روک دیا۔


" قریب مت آنا۔۔۔ ورنہ۔"  

زاویان کے قدم رکے۔ دونوں کے درمیان پل بھر کو خاموشی چھا گئی۔


بجلی دوبارہ چمکی۔ سب کچھ روشن ہوا۔ دونوں کی نظریں ملیں اور دنیا وہیں رک گئی۔ وہ دھیرے سے ایک قدم پاس آیا۔


" کیا ہوا لایان؟ کیوں بھاگ رہی ہو؟ کس چیز سے ڈر رہی ہو؟ مجھ سے یا اپنے دل سے۔" 


لایان نے لب بھینچ لیے۔

" تم بس میرے پاس مت آیا کرو۔۔۔ تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔"  


اس نے فورا رخ بدل لیا۔ زاویان کی کالی آنکھیں مزید گہری ہوئیں۔ وہ اور پاس آیا اور نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔


" زاویان یہ تم مجھے کہا لے کر جا رہے ہو؟"  

اس کا دل اچھلا۔ وہ ہچکچا گئی۔


" حق نہیں ہے نا۔۔۔ تو بس وہی حق بنانے جا رہا ہوں۔"  

لایان نے کنفیوز اور بے چین ہو کر اس کو دیکھا۔ وہ کیا بول رہا تھا؟


دونوں لاونج میں پہنچے۔ تھوڑی دیر بعد سب کچھ بدل گیا۔ وہ صوفے پر شاکڈ سی بیٹھی تھی۔ سامنے قاضی اور گواہ موجود تھے۔ زاویان اس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھا تھا۔


" زاویان یہ۔۔۔ یہ کیا؟"  

اس کی پھنسی پھنسی آواز نکلی۔


" اگر مسئلہ ہے تو ابھی انکار کر دینا۔"  

زاویان نے ایسے کہا جیسے کوئی عام بات ہو۔ 


اس نے کچھ نہیں کہا۔ بس کہا تو قاضی کے پوچھنے پر کہا۔

" قبول ہے۔"  


زاویان نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی اور پھر۔

" قبول ہے۔" 


☆☆☆


زاویان نے پوری حویلی خالی کروا دی تھی۔ دانش مشال کو کار میں لیے بیٹھا کھڑکی کے پاس جھکے زاویان سے کچھ کہہ رہا تھا۔ مشال کا کیس شروع ہونے والا تھا۔ دانش اسے اب حویلی میں نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ مشال بھی یہاں رکنا نہیں چاہتی تھی۔ ایک عجیب سی وحشت ہونے لگی تھی اسے اس پر اسرار حویلی سے۔ 


لایان پورچ میں کھڑی ان کو دیکھ رہی تھی۔ ابھی دانش اور مشال بھی چلے جائیں گے اور پھر زاویان اور وہ اکیلے رہ جائیں گے۔ 


اسے گھبراہٹ ہونے لگی۔ بنا بارش کی پرواہ کیے وہ کمرے میں جانے کے بجائے حویلی کی پچھلی سائڈ پر چلی گئی۔ وہاں سے جنگل زیادہ خطرناک دکھتا تھا۔ لمبے لمبے درخت ڈراونے لگ رہے تھے۔ 


وہ ایک کونے میں آ کر رک گئی۔ گیلے بال چہرے اور گردن سے چپک چکے تھے۔ تبھی پیچھے بھاری قدموں کی آہٹ ہوئی۔ 


وہ چونک کر پلٹی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ زاویان اس کے پیچھے آ جائے گا۔ ٹھنڈی ہوا اور بارش کی پھوار دونوں کے چہروں سے ٹکرا رہی تھی۔ 


وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس آ کر رکا۔ دونوں کی نگاہیں ملیں۔ اس کا سایہ لایان کے اوپر گرا۔ اس نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کیا۔ وہ گھبرائی۔ زاویان نے انگلیوں کی مدد سے اس کے گیلے بال چہرے سے ہٹائے اور جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے۔ 


وہ لمحہ اتنا بھاری تھا کہ لایان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ زاویان نے اس کا ہاتھ اٹھایا اور ہتھیلی کھول کر لبوں سے چھوا۔ لایان نے اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹائیں۔ دل خود بخود اس کی طرف کھینچنے لگا تھا۔


زاویان نے اس کے گیلے بال گردن سے بھی ہٹا دیے۔ بجلی پھر سے چمکی۔ 


" لوگ عشق میں گرتے ہیں اور میں۔۔۔"  

وہ اور پاس آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دیوار کی طرف موڑ دیا۔


لایان کا چہرہ دیوار کی سمت ہو گیا۔ دونوں ہاتھ بھی دیوار پر اور زاویان کے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھوں کے اوپر آ کر رکے۔ 


" اور میں؟ میں تم میں ڈوب چکا ہوں۔ واپس اٹھنے کا راستہ بھی بھول بیٹھا ہوں۔"  

اس نے چہرہ جھکا کر اس کے کندھے کو چھوا۔


لایان دھیرے سے اس کی طرف پلٹی۔ وہ اس کے بالکل پاس تھا اور چہرا جھکائے دونوں ہاتھ اس کے اطراف میں رکھے کھڑا تھا۔ 


اس کے بالوں سے ٹپکتا پانی لایان کے چہرے پر گر رہا تھا۔ اس نے گیلی پلکیں جھپکائیں۔ دونوں ہاتھ ہلکے سے لرزتے اس کے سینے پر گئے اور سینے سے پھسلتے گردن کے پیچھے۔


زاویان چپ اس کو دیکھتا رہا۔ دونوں اس کچن کے لمحے میں پہنچ گئے تھے جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں تھا مگر یہاں؟ سب ان کا تھا۔ 


زاویان نے ہلکا سا فاصلہ بھی سمیٹ لیا۔ لایان کی انگلیاں اس کی گردن سے اٹھ کر گیلے بالوں میں الجھ گئیں۔ سانس بھاری اور چہرہ کہیں اور پہنچ چکا تھا۔ کہاں؟ وہ نہیں جانتی تھی۔ 


اس نے زاویان کو کالر سے پکڑا اور اپنے قریب کر لیا۔


جاری ہے


Comments

  1. Hye ALLAH 🙈🙈🙈🙈🙈🙈🙈🙈🙈🙈🙈🙈🙈🙈 I AM BLUSHING JESI MERI SHADI HUE H 🙈🙈😍🥰🥰😭😭😭🤣🤣🤣

    ReplyDelete
  2. Out class episode 🫶🫶🫶🫶🫶🫶🫶🫶🫶🫶🫶💔🫶🫶🫶🫶💔💔🫶🫶🫶🫶🫶🫶❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️💘💘💞💞🥳💖💖💖💖💖🫁😭🫁😭🫁🫁🫁🫁😭🫁😭🫁😭

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts