Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e ishq - Episode 33 by Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 33
از منزہ نیاز
لایان حویلی کے لان میں بیٹھی تھی۔ ٹھنڈی میٹھی دھوپ اس پر گر رہی تھی۔ ہوا میں گیلی مٹی کی خوشبو گھلی تھی۔
اس کے ہاتھ میں ایک سفید پھول تھا، سامنے لمبے لمبے درختوں پر پرندوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اس کی آنکھیں دور کہیں غیر مرئی نکتے کو گھور رہی تھیں۔ دماغ رات کے منظر میں الجھا ہوا تھا، جہاں سب ٹھیک ہو کر بھی غلط ہو گیا تھا۔
اس نے زاویان کو قریب کیا تھا اور وہیں ٹھہر گئی تھی۔ آنکھوں میں اس کی دی گئی اذیتیں، بیسمنٹ کا اندھیرا، اسے بے دردی سے پکڑ کر ٹارچر روم میں گھسیٹتے ہوئے لے جانا۔ سب ایک ساتھ اس کے دماغ پر حاوی ہوا تھا۔ اس نے فوراً اسے چھوڑ دیا تھا۔
زاویان نے اس کا چہرہ دیکھا جہاں رنگ اڑ چکا تھا۔ آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔ اور پھر۔۔۔ لایان نے جھٹکے سے اس کو دور دھکیلا۔
" دور رہو، میرے پاس مت آنا۔"
وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی تھی۔
زاویان کے چہرے کا رنگ اڑا، وہ پیچھے ہٹا۔ لایان نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے اتنے ظلم، اتنی زیادتی کے بعد بھی اس کا دل اسی کی طرف لپکے گا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اسے خود سے بھی شرم آنے لگی تھی۔
زاویان نے اس کی گھبراہٹ دیکھی، آنکھوں میں ڈر دیکھا۔ اس کا دل بے چین ہو گیا۔
" یہ مجھ سے ڈر رہی ہے۔"
لایان نے سرخ آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
" چھوڑ دو مجھے۔۔۔ اکیلا چھوڑ دو۔"
اس کی آواز گیلی تھی۔ وہ فورا وہاں سے چلی گئی تھی۔
پیچھے زاویان نے کیا سوچا، کیا سمجھا، اسے فرق نہیں پڑا مگر وہ اس کے پیچھے بھی نہیں آیا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی۔ بھیگنے کی وجہ سے اسے سردی لگنے لگی تھی۔ اس نے کپڑے تبدیل کیے اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ اسے نیند نہیں آئی تھی۔ پوری رات وہ جاگتی رہی تھی۔
صبح جب وہ بیڈ سے اتری تو سر بھاری ہو رہا تھا۔ کچن میں جا کر اس نے چائے بنا کر پی، میڈیسن لی اور باہر لان میں چلی آئی۔ زاویان کہاں تھا؟ اس نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔
گھاس پر بہت سے رنگ برنگی چھوٹے چھوٹے پھول کھلے تھے۔ اس نے ایک سفید پھول توڑا اور وہیں بیٹھ گئی۔
زاویان اوپر ٹیرس کے پاس کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ سفید کپڑوں میں سیاہ دوپٹہ گلے میں ڈالے وہ دور کہیں دیکھ رہی تھی۔ رات کو اس کے جانے کے بعد وہ کافی دیر وہی کھڑا رہا تھا۔ دماغ میں وہ سب گھوم گیا جسے وہ بھلا دینا چاہتا تھا۔
لایان کے ساتھ اس نے جو کچھ کیا تھا وہ بھولنے لائق نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ کچھ برا ہے اور جب اس نے اسے دور رہنے کا کہا تو اس کا دل کٹ گیا تھا۔
پاس رکھے پتھر کے بینچ پر وہ گرنے کے انداز میں بیٹھا۔ آنکھوں کے سامنے رایان کا چہرہ آگیا۔ اس کا چھوٹا بھائی، اس کا رایان، اس کے دل کا ٹکڑا۔
ماضی کسی فلم کی طرح آنکھوں کے پردے پر لہرایا۔
اس کا باپ اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گیا تھا۔ وہ تر چہرہ لیے ان کو اٹھا رہا تھا مگر وہ نہیں اٹھ رہے تھے۔ پیچھے چھ سالہ رایان اپنے باپ سے لپٹ گیا تھا۔ وہ زار و قطار روتا چیخنے لگا تھا۔ بارہ سالہ زاویان کو سمجھ نہیں آیا کہ اسے چپ کروائے یا خود بھی اسی کی طرح چیخ چیخ کر روئے۔
اس دن کے بعد وہ اپنے رایان کا بڑا بھائی نہیں، باپ بن گیا تھا۔ اس نے کبھی رایان کو احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ اکیلا ہے مگر وہ خود آہستہ آہستہ اکیلا ہوتا گیا۔ تنہائی اور باپ کی موت نے اسے بے حس بنا دیا تھا۔ ایک رایان تھا جس کو دیکھ کر اس کی ساری سوئی حِسّیں جاگ جاتی تھیں۔
محبت، اپنائیت، کسی اپنے کے پاس ہونے کا احساس اسے رایان دلاتا تھا اور پھر اس کا رایان بھی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ اس دن اسے لگا جیسے وہ ہمیشہ سے ہی تنہا تھا۔ کوئی اپنا نہیں تھا، مگر وہ لڑکی؟
پتہ نہیں کیوں مگر اس کو دیکھ کر اسے عجیب سی بے چینی ہونے لگتی تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے جذبات مر گئے ہیں۔ ایک نفرت ہے جو وہ ہر کسی سے کر سکتا ہے لیکن اس لڑکی کو دیکھ کر وہ نفرت کرنا بھی بھولنے لگا تھا۔
صبح تک وہ اسی بینچ پر بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔ وہ رونا چاہتا تھا مگر آنسو آنکھوں میں ہی ٹھہر گئے تھے۔ دل پھٹنے لگا تھا۔ دھوپ سر پر پڑی تو وہ خاموشی سے اٹھا اور اوپر چلا گیا۔
نہ جانے کتنے سگریٹ تھے جو اس نے تھوڑی دیر میں پھونک ڈالے تھے۔ وہ جب لان میں آ کر بیٹھی تو اس نے سگریٹ پھینک دی تھی۔ اس کا دل پھر سے بے چین ہونے لگا۔
" کیا میں جا کر اس سے معافی مانگوں؟ بس ایک بار۔۔۔ کیا وہ معاف کر دے گی؟ یا شاید وہ چھوڑ کر چلی جائے۔ نہیں! میں اسے کہیں نہیں جانے دوں گا۔"
وہ سیڑھیوں سے اترتا، راہداریوں سے گزرتا لان میں داخل ہوا اور سیدھا اس کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا۔
کسی احساس کے تحت لایان نے چہرہ موڑ کر دیکھا۔ وہ سرخ، خوابیدہ آنکھوں سے اس کو ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ دھیرے سے کھڑی ہوئی۔
زاویان کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔ وہ آگے بڑھا۔ ایک قدم، دو قدم اور پھر بنا کچھ کہے اس کے گرد بانہیں لپیٹ لیں۔ لایان لمحے بھر کو ساکت رہ گئی۔
زاویان کا چہرہ اس کے کندھے پر تھا۔ لایان کو محسوس ہوا زاویان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ آنسو اس کا کندھا بھگو رہے تھے۔ وہ رو رہا تھا۔ اس نے زاویان کی تیز، بھاری، بے چین ہوتی دھڑکنیں محسوس کی تھیں۔
اس کا دل بھر آیا۔ اس نے کچھ بھی نہیں کہا، بس اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس کی پیٹھ پر رکھ دیے۔ زاویان کے آنسو گرتے رہے۔ لب خاموش تھے۔
لان کی خاموشی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ زاویان کے آنسو دھیرے دھیرے تھمنے لگے۔ سانس نارمل ہونے لگی۔ اس نے اپنا چہرہ لایان کے کندھے سے اٹھایا۔ نظر اس کے چہرے پر ٹک گئی۔ اس نے محسوس کیا لایان کا چہرہ ہلکا سا سرخ ہو گیا تھا۔
" لایان تم۔۔۔ تم تو بہت گرم ہو رہی ہو۔"
وہ تھوڑا پیچھے ہوا، اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔اسے جھٹکا لگا۔ لایان کو بہت تیز بخار ہو رہا تھا۔
" تم نے بتایا کیوں نہیں۔"
وہ غصہ کرنا چاہتا تھا لیکن کر نہیں سکا تھا۔
لایان نے خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر دیکھتی رہی۔ کچھ نہیں بولی۔ ایک نظر میں وہ سب کچھ سمجھ گئی۔ وہ معافی مانگ رہا تھا۔ بنا الفاظ کے، اس کی آنکھوں میں ندامت تھی، خود سے نفرت تھی۔
وہ سب محسوس کر رہی تھی۔ وہ جان گئی تھی، زاویان زرقاد کے لیے الفاظ بولنا آسان نہیں تھا۔ شاید ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ زاویان نے نرمی سے اس کا ماتھا چوما۔
" اندر چلو۔ میں دوا لاتا ہوں۔ تم کچھ کھا بھی لو۔"
وہ کچھ نہیں بولی۔ اس کے ساتھ اندر چلی گئی۔
زاویان نے اسے بیڈ پر لٹا کر چادر اوڑھا دی۔ اس کے لیے سوپ بنا کر لایا۔ اپنے ہاتھوں سے پلایا۔ پہلی بار زاویان زرقاد جو صرف کمانڈ دینا جانتا تھا آج کسی کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔
صبح سے شام ہو گئی، لایان کا بخار کم ہونے کے بجائے اور تیز ہو گیا۔ زاویان بے چین ہونے لگا۔ ہر دس منٹ بعد اس کا ٹمپریچر چیک کرتا، پانی بدلتا، دوا دیتا لیکن کچھ اثر نہیں کر رہا تھا۔
لایان نے آنکھیں بند کیں، ایک پرانی یاد پھر سے واپس آگئی۔ زاویان کا اسے صبح اپنے سینے سے لگانا اور اسی لمحے میں ایک اور یاد کا زندہ ہونا۔
اس وقت روحا کا چہرہ اس کے سامنے آیا تھا اور وہ دن بھی جب روحا نے اسے زور سے خود سے لپٹایا تھا۔ روحا کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں اور ماتھا لایان کے کندھے پر رکھا تھا۔
وہ لمحہ اور روحا کی یاد اتنی گہری تھی کہ اس کی طبیعت اور بگڑ گئی۔ زاویان نے اسی وقت ڈاکٹر کو بلانے کا سوچا مگر اس کی حالت کے پیشِ نظر اس نے اسے ہاسپٹل لے جانے کا سوچا۔ اس نے فوراً اسے اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
وہ ڈرائیو کر رہا تھا اور لایان کا سر اس کے بازو پر تھا۔ اس کا دل پہلی بار ڈر رہا تھا۔ ہاسپٹل پہنچتے ہی اس نے لایان کو سہارے سے باہر نکالا اور اندر کی طرف بڑھا۔
لایان کا چہرہ دوپٹے میں آدھا ڈھکا تھا۔ آنکھیں آدھی بند اور قدم ڈگمگا رہے تھے لیکن زاویان نے اسے اس طرح پکڑ رکھا تھا کہ وہ آرام سے چل پا رہی تھی۔
وہ دونوں کوریڈور سے گزرے۔ ایک لڑکی بینچ پر چہرہ جھکائے بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھ آپس میں بند، ہاتھوں کی گہری مہندی۔
لایان نے دھندلی نظر سے اس لڑکی کو دیکھا۔ دل یک دم بھاری ہوا تھا۔ زاویان بنا رکے اسے تیزی سے آگے لے گیا۔ دونوں بینچ سے آگے نکلے۔ لایان کی نظریں پل بھر کے لیے پھر سے اس لڑکی کی طرف پلٹ گئیں۔
اسی وقت لڑکی نے ہلکا سا چہرہ اٹھایا۔ زرد روشنی میں اس کا آدھا چہرہ واضح ہو گیا۔ وہ روحا تھی۔ لایان کی سانس اٹک گئی۔
اس نے بے چینی سے اس کو پکارنا چاہا لیکن زبان چپ رہی۔ وہ زاویان کو روکنا چاہتی تھی۔ اس کو کہنا چاہتی تھی کہ وہ اسے روحا کے پاس لے جائے۔ اس بینچ والی لڑکی کے پاس لے جائے مگر اس کی آواز نہیں نکلی۔ گلا بند ہو چکا تھا۔
زاویان اسے تیزی سے کمرے میں لے گیا اور دروازہ بند ہو گیا۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps


Wow wallah kamal ❤️
ReplyDelete