Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher e ishq - Episode 34 by Munaza Niaz


 

زہرِ عشق

قسط 34

از منزہ نیاز 


آج عدالت میں غیر معمولی سنجیدگی تھی۔ مشال خاموش بیٹھی تھی۔ آج وہ اکیلی نہیں تھی، آمنہ بھی اس کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ 


" جناب والا! پچھلی پیشی پر میرے موکل کے خلاف لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد تھے۔ مشال فاروقی کا نکاح قانونی ہے اور اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا کوئی جرم نہیں۔" 

حارث کے وکیل نے کیس شروع کیا۔

آمنہ نے نرمی سے مشال کا ہاتھ دبایا۔ 


" جج صاحب! ہم نے پہلی پیشی میں ثابت کیا تھا کہ یہ نکاح زبردستی ہوا۔ آج ہم ایک اہم گواہ کو بلائیں گے۔ مشال فاروقی کی والدہ آمنہ۔" 

آمنہ خاموشی سے اٹھیں اور کٹہرے میں آکر کھڑی ہوگئیں۔


" کیا آپ نے اپنی بیٹی مشال فاروقی کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر کیا؟" 

" جی ہاں اور اس کا مجھے مرتے دم تک افسوس رہے گا۔ میں نے اپنی بچی اپنی بہن اور بھانجے کو اس لیے نہیں دی تھی کہ وہ جو مرضی اس کے ساتھ سلوک رکھیں۔ مشال نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن میں نے اس کی نہیں سنی۔" 


حارث چپ کھڑا رہ گیا۔ رانیہ خالہ پہلو بدل رہی تھیں۔ آمنہ بیان دینے کے بعد واپس مشال کے پاس آ بیٹھیں۔ مشال کے وکیل نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔


" آج ہم عدالت کے سامنے مزید ثبوت بھی پیش کریں گے۔ حارث وقار مشال پر صرف جسمانی تشدد اور ذہنی ٹارچر نہیں کرتا رہا بلکہ وہ دیگر جرائم میں بھی ملوث رہا۔" 


حارث کو دیکھتے دانش نے پرسکون انداز میں ٹیک لگا لی۔ وکیل نے ایک فائل کھولی اور کچھ دستاویزات جج کے سامنے رکھ دیے۔ 


" یہ پولیس ریکارڈ ہے۔ حارث وقار پر پہلے بھی دو مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ پہلا غیر قانونی جوا کھیلنے اور لوگوں سے پیسے ہتھیانے کا اور دوسرا ہتھیار رکھنے کا کیس۔ اثر و رسوخ نہ ہونے کے باوجود اس نے رشوت دے کر خود کو بچایا۔" 

حارث کا جسم پسینے میں نہا گیا۔ وکیل الگ بوکھلایا۔ 


" حارث وقار کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے زبردستی نکاح کیا تھا۔" 

جج نے ڈائریکٹ حارث کو مخاطب کیا۔ 


" وہ۔۔۔ میری ماں نے سب طے کیا تھا۔"  

دور بیٹھی رانیہ خالہ نے دل ہی دل میں اسے لعنت بھیجی۔


" حارث وقار! کیا آپ نے شادی کی رات مشال فاروقی کو اغوا کیا تھا؟"  

وکیل نے تیزی سے اس کی بات کاٹی۔ 


" میں نے مشال کو اغوا نہیں کیا۔ وہ میری بیوی تھی، میں اسے جہاں مرضی چاہے لے جاوں۔ اس میں برا کیا ہے۔ میں محبت کرتا تھا مشال سے۔۔۔"  


" بکواس بند کرو اپنی۔ جھوٹ بول رہے ہو تم۔" 

مشال کا صبر جواب دے گیا تھا۔ وہ چیخ اٹھی۔ آمنہ نے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ مشال اٹھی اور کٹہرے میں آکر کھڑی ہوگئی۔


" یہ نکاح میری مرضی کے خلاف ہوا۔ میں حارث کو پسند نہیں کرتی تھی۔ حارث جھوٹ بول رہا ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، اگر ایسا ہوتا تو وہ مجھے کبھی اغوا نہ کرتا، کبھی ہاتھ نہ اٹھاتا، کبھی اذیت نہ دیتا کبھی بھی ذہنی ٹارچر نہ کرتا۔ اس نے صرف اپنی مرضی چلائی، مجھے مارا بھی۔ مجھے اس کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھنا۔ مجھے طلاق چاہیے۔" 

وہ رندھی آواز میں بول رہی تھی۔ 


جج نے اس کو سنا پھر حارث کو دیکھا اور پھر اس کے وکیل کو۔ 

" جج صاحب! یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔" 

حارث کے وکیل نے ایک آخری کوشش کی۔


" جرم جرم ہوتا ہے، چاہے ذاتی ہو یا اجتماعی۔ ایک شخص جو نکاح کے نام پر عورت کی رضامندی چھینتا ہے، جو تشدد کرتا ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا ہے وہ عدالت کے نزدیک ایک مجرم ہے۔" 

وکیل نے فائل بند کی اور اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گیا۔


" عدالت کے سامنے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مشال فاروقی کی شادی زبردستی ہوئی۔ حارث نے اس رشتے کا ناجائز استعمال کیا۔ اپنی بیوی پر جسمانی اور ذہنی تشدد بھی کیا، مزید براں، ملزم کے دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے شواہد ناقابل تردید ہیں۔ لہذا عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ مشال فاروقی کو فوری طور پر خلع دی جاتی ہے۔ دوم

حارث وقار کو جوا کھیلنے، پیسے ہتھیانے، منشیات رکھنے کے جرم میں بھاری جرمانے کی سزا عائد کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ 376 کے تحت سات سال کی قید بامشقت کی سزا بھی دی جاتی ہے۔" 


مشال کے آنسو بہنے لگے۔ حارث کٹہرے میں ہی گر گیا۔ آمنہ نے زور سے مشال کو خود سے لپٹا لیا۔ رانیہ خالہ صدمے سے منہ کھولے بیٹھی رہ گئیں۔ ان کا شوہر سر پکڑے بیٹھا تھا۔


دانش کی نگاہیں حارث پر جمی تھیں۔ پولیس حارث کو ہتھکڑی لگا کر لے گئی۔ وہ چیخ رہا تھا، خود کو چھڑوا رہا تھا۔ 

" میں نے کہا مجھے چھوڑو۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ سب جھوٹ ہے۔ چھوڑو مجھے۔" 


وہ مشال کے قریب سے گزرا۔ مشال نفرت سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ 

" مشال میری جان پلیز مت کرو ایسا۔ میں قسم کھاتا ہوں میں بدل جاؤں گا۔ میں کبھی تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں۔۔۔"  


ابھی وہ مزید کچھ بولتا کہ مشال کا زوردار چانٹا اس کے منہ پر پڑا۔ وہ سن سا ہو گیا۔ مشال نے ایک لفظ نہیں کہا بس نفرت سے چہرہ واپس موڑ لیا۔ 


پولیس حارث کو گھسیٹ کر لے گئی۔ مشال نے چہرہ موڑ کر دیکھا سامنے دانش کھڑا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ دانش کا شکریہ ادا کیسے کرے۔


" اب تم آزاد ہو۔"  

دانش نے نرمی سے کہا۔ مشال نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

☆☆☆


" تم سچ کہہ رہے ہو؟"  

یحیی کی آواز میں بے یقینی تھی۔ 

زاویان نے پیچھے ٹیک لگائی۔ موبائل دوسرے کان پر منتقل کیا۔


" تمہیں لگتا ہے میں مذاق کر رہا ہوں۔"  

زاویان نے سر جھٹکا۔ 


یحیی نے ماتھا مسلا۔

" تو نے لایان سے نکاح کر لیا اور مجھے بتایا ہی نہیں۔" 


"جیسے تو نے کیا تھا۔" 

زاویان نے دو بدو کہا۔


یحیی کا ماتھا سکڑا۔

" میرا سین دوسرا تھا۔" 


" تجھے کوئی مسئلہ ہو رہا ہے؟"  

زاویان نے بےزار ہو کر کہا۔


" مسئلہ؟ ارے جس سے تو نے نکاح کیا ہے وہ روحا کی دوست ہے۔ اگر اس کو پتہ چل گیا کہ تو نے لایان کو اغوا کیا تھا اور بعد میں اس سے نکاح بھی کر لیا تو وہ مجھے چھوڑے گی نہیں کہ میں نے کیوں نہیں بتایا۔" 

یحیی کو بے چینی ہوئی۔ 

زاویان مسکرایا۔

" اتنا ڈر کیوں رہا ہے۔ کھا تھوڑی جائے گی تجھے۔" 


یحیی نے گہری سانس بھری اور ہولے سے مسکرایا۔

" اس کی مار سے نہیں ناراضگی سے ڈر لگتا ہے۔"  


دروازہ دھیرے سے کھلا۔ روحا ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوئی۔ 


" چل رکھتا ہوں بعد میں بات کرتے ہیں۔" 

فون بند کر کے اس نے سائیڈ پر رکھا۔ روحا نے ٹرے اس کے سامنے رکھی۔ خود بھی بیٹھ گئی۔


یحیی کا زخم بھرنے لگا تھا۔ وہ پہلے سے بہتر تھا۔ روحا نے اس کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ یحیی خوش نہیں تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ روحا اس کی روایتی بیویوں کی طرح خدمت کرے۔ وہ اس کی 'خدمت گار' نہیں صرف روحا بن کر رہے۔


" ارے میں تو کیچپ لانا بھول ہی گئی۔"  

اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ ابھی وہ اٹھ کر جاتی کہ یحیی نے نرمی سے اس کی کلائی پکڑ لی۔

" بیٹھو آرام سے۔ اب میری نظروں کے سامنے سے دور مت ہونا۔" 

" یحیی میں بس ابھی۔۔۔"  


یحیی نے فورا اس کی بات کاٹی۔ 

" میں نے تم سے نکاح اس لیے نہیں کیا تھا کہ تم میری بیوی بن کر رہو۔ تم میری روح ہو، میرا عشق۔ تم صرف میری روحا بن کر رہو اور میں تمہارا یحیی۔"  

روحا نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھا۔


" آج تیار رہنا تمہیں کسی سے ملوانا ہے۔"  

یحیی نے چمچ اٹھایا لیکن روحا نے نرمی سے لے لیا۔

" کس سے؟" 

وہ میکرونی بھر کر اس کے ہونٹوں کے قریب لے گئی۔ 

" سرپرائز ہے۔" 

یحیی نے مسکرا کر میکرونی منہ میں لے لی۔

" ٹھیک ہے۔" 


" کیا تم رایان کو جانتی ہو؟" 

یحیی نے اچانک پوچھا۔ 


روحا کا ہاتھ رکا۔

" کون؟ رایان زرقاد؟" 

یحیی نے اثبات میں سر ہلایا۔

" ہمم۔۔۔ تمہارے کالج میں پڑھتا تھا۔"  


" ہاں یاد آگیا مگر وہ تو۔۔۔"  

اسے یاد آیا کہ وہ کالج سے غائب ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں جانتی تھی۔ 


" وہ مر چکا ہے۔" 

یحیی کے لفظوں نے اسے ساکت کر دیا۔ 

" کیا کہا؟" 

اس نے بے یقینی سے پوچھا۔


" زاویان زرقاد میرے بچپن کا دوست ہے۔ رایان اس کا چھوٹا بھائی تھا۔ اذان شاہ ویر جس نے میرے بارے میں جھوٹی خبر نیوز اور سوشل میڈیا پر پھیلائی۔ اسی نے رایان کو اغوا کیا پھر قتل کر دیا۔" 


" یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟" 

" میں سچ کہہ رہا ہوں۔ اذان شاہ ویر ایک شاطر اور گیم چینجر ہے۔ اسی نے تمہاری دوست۔۔۔"  

وہ رکا۔ روحا سانس روکے اس کو سن رہی تھی۔ 


" اسی نے تمہاری دوست کو ٹریپ کیا تھا تاکہ وہ زاویان کی نظروں میں نہ آ سکے اور رایان آسانی سے اس کے جال میں پھنس جائے۔ زاویان کو اس نے کبھی شک بھی نہیں ہونے دیا کہ اس سب کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔ اذان اور زاویان۔۔۔ دونوں کے باپ آپس میں بہت گہرے دوست تھے مگر کسی وجہ سے دونوں کے درمیان دشمنی پیدا ہو گئی اور دونوں نے ہی ایک دوسرے کو ختم کر دیا۔ زاویان نے کبھی اذان کو دوسرا نہیں سمجھا تھا نہ ہی وہ یہ جانتا تھا کہ اذان اچانک سے اس سے اتنی نفرت کیوں کرنے لگا ہے۔ باپ دونوں کے مرے تھے۔ اذان نے یہ سب اس لیے کیا کیونکہ وہ سمجھتا تھا قصور صرف زرقاد کا ہے۔ اسی نے اس کے بے گناہ باپ کو مارا ہے اور اب وہ زرقاد کے کسی وارث کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ اس لیے اس نے رایان کو مار دیا اور اب وہ زاویان کے پیچھے ہے۔" 


یحیی نے لایان کی بات گول کر دی کہ اس کو زاویان نے اٹھوا لیا تھا۔ فی الحال وہ روحا سے پٹنا نہیں چاہتا تھا۔


" یا اللہ تیرا شکر ہے کہ لایان اس سب سے بچ گئی۔ مجھے تو بہت فکر رہتی تھی اس کی مگر اب مجھے تسلی ہو گئی کہ وہ گھر ہو گی، خیریت سے ہوگی۔" 

روحا نے کہا بھی تو کیا۔ یحیی اسے دیکھ کر رہ گیا۔ 


" تمہاری عمر کیا ہے یحیی؟" 

اس نے سر جھٹکتے دوبارہ چمچ اس کی طرف بڑھایا۔


" تم کیوں پوچھ رہی ہو۔" 

یحیی نے منہ کھولا۔


" بتاؤ نا۔۔۔"  

" اکتیس۔" 

اس نے پانی کا گلاس اٹھایا۔ روحا کی آنکھیں پھیل گئیں۔


اس نے انگلی پر اپنا اور اس کی عمر کا فرق ناپا۔

" واؤ۔" 

اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ یحیی نے مسکراہٹ دبا کر اس کو دیکھا۔

" کتنا ہوا؟" 

" پورے گیارہ۔" 


یحیی کو اچھو لگا۔ روحا ہنس دی۔ 

" میری خواہش تھی کہ میرا شوہر ایک دم ہیرو ٹائپ ہو، بگ بوائے جیسا ہو اور۔۔۔ اور پورے 11 سال بڑا۔"  

اس نے خوشی سے چیخ ماری۔


" تو میں تمہاری خواہش پر پورا اترا۔"  

اس نے دھیرے سے اسے اپنے قریب کر لیا۔ وہ پہلے بوکھلائی پھر ایک ادا سے اپنے بال پیچھے کیے۔

" ظاہر ہے۔" 

یحیی نے مسکراتے نرمی سے اسے اپنے آغوش میں لے لیا۔


جاری ہے


Comments

  1. Wow wallah kamal novel likhti hain yr ap 😭😭😭😭😭😭 danish ka injam dekh k bhot khushi hue he deserves more than that 👌👌🤕👌👌👌👌

    ReplyDelete
    Replies
    1. Sorry Danish ni haris mind mn danish a gya 😭😭😭😭😭😭😭😭😭 itna gentleman h ho jerk yad ni rehty 😡

      Delete

Post a Comment

Popular Posts