Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

zeher e ishq - Episode 35 by Munaza Niaz

 


زہرِ عشق

قسط 35

از منزہ نیاز 


موسم آج بہت خوبصورت تھا۔ حویلی کے درو دیوار گیلے تھے۔ ہاسپٹل سے لوٹنے کے کچھ دنوں بعد کا منظر تھا۔ وقت دوپہر لیکن شام جیسا موسم تھا۔ 


لایان بالکونی میں کھڑی تھی۔ نظریں حویلی کی دیوار کے پار درختوں پر چہچہاتے پرندوں پر تھیں۔ وہ منظر آنکھوں سے جاتا ہی نہیں تھا جب روحا کو اس نے دیکھا تھا۔ کاش وقت پلٹ آئے اور وہ اس کے پاس چلی جائے۔

اس نے بانہیں خود کے گرد لپیٹتے ٹھنڈی سانس بھری۔ 


کچھ دنوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ ہر گھڑی، ہر لمحہ اس کے اور زاویان کے بیچ کچھ بدل رہا تھا۔ عشق زیادہ گہرا، زیادہ خاموش اور زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا تھا۔


زاویان وہ آدمی جو پہلے صرف زخموں کا ڈھیر تھا، اب لایان کے پاس آتا تو سانس لینا بھی بھول جاتا تھا۔ اس کی نظریں جو ہر وقت قہر برساتی تھیں، اب لایان پر رکتے ہی پگھل جاتی تھیں مگر وہ اظہار نہیں کرتا تھا شاید اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ 


زاویان کا عشق لفظوں کا محتاج نہیں تھا۔ 


ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ اس کے کھلے گھنگریالے لمبے بال پیچھے کی طرف اڑے۔ آج اس نے آگے سے بالوں کو گونتھ کر خوبصورت سی باریک چوٹی بنا رکھی تھی۔ تب ہی اسے اپنی پیٹھ پر سکون بھرا احساس محسوس ہوا۔ 


زاویان نے پیچھے سے اپنے بازو اس کی گردن کے آس پاس باندھ دیے۔ لایان نے کچھ بھی نہیں کہا بس دھیرے سے آنکھیں بند کر کے گہری سانس چھوڑ دے۔


زاویان کا چہرہ اس کے بالوں کے بالکل پاس کندھے کے قریب تھا۔ وہ اس کی گرم سانسیں اپنے گال اور کان پر محسوس کر رہی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور زاویان کی کلائی پر رکھ دیا۔ 

کچھ لمحے ایسے ہی خاموشی سے سرک گئے۔ 


" اگر وقت یہی رک جائے تو میں اپنی پوری زندگی یہیں ختم کر دوں۔" 


لایان نے بند آنکھیں کھول دیں۔ زاویان کا ہاتھ اس کے پیٹ کے گرد سلائیڈ ہوا۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے لایان کا چہرہ اپنی طرف موڑ دیا۔ 


دونوں کی نظریں ملیں۔ لایان نے اسی وقت نظر واپس موڑ لی۔ زاویان نے اسے اپنی طرف پورا گھوما دیا۔ 


اب وہ اسے پوری گردن اٹھائے دیکھ رہی تھی۔ زاویان نے بایاں ہاتھ اس کی جالائن پر رکھا۔ انگوٹھے سے دھیرے سے اس کے نچلے ہونٹ کو چھوا۔


لایان کا سانس اٹکا۔ زاویان نے دونوں ہاتھ اس کے دونوں طرف ریلنگ پر رکھ دیے۔


" زاویان۔"  

اس نے دھیرے سے پکارا۔


وہ اس کی بانہوں میں قید کھڑی تھی۔ زاویان نے کچھ کہے بنا اس کے گال کو چوما۔ ہوا کا ایک اور جھونکا آیا۔ لایان کے کھلے بال اس کے چہرے کو چھو گئے۔


زاویان نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا۔ انگلیوں سے اس کی گردن پر بکھرے بال پیچھے کیے۔ لایان نے لمحے بھر کو نظر موڑ کر دوبارہ اس کی طرف دیکھا۔


زاویان کا ہاتھ اس کی کلائی سے ہوتا دوبارہ ریلنگ پر جم گیا۔ اس نے دوبارہ چہرہ جھکا کر اس کے کندھے کو چوما پھر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔


لایان گہری نگاہوں سے اس کو ہی دیکھتی گئی۔


" اتنے سکون، اتنی تسلی سے میری آنکھوں میں دیکھ رہی ہو۔ جانتی بھی ہو کہ اس کا مطلب کیا ہے؟"  

بغور اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ لہجہ اور الفاظ دونوں ہی گہرے تھے۔


لایان اب بھی چپ ہی رہی۔ بس اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔


" اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میری حدوں تک جا چکی ہو اور واپسی کا راستہ اب تمہارے پاس بھی نہیں ہے۔"  

وہ چونکی تھی البتہ چپ ہی رہی تھی۔


" تم جانتی بھی ہو کہ تم کیا کر رہی ہو۔"  

اس کے ٹھنڈے تاثرات نے ایک دم زاویان کی آگ کو بھڑکا دیا تھا۔ 


وہ جھکا اور اس کے کان کے بالکل قریب آیا کچھ اس طرح کہ اس کے ہونٹ لایان کے کان کو چھو رہے تھے۔ 


" تمہارا یہ سکون مجھے اور برباد کر رہا ہے۔"  

لایان اب بھی چپ ہی رہی بس اس بار تھوڑا سا آگے ہو کر اپنا چہرہ اس کی اور قریب کر لیا جیسے چیلنج کر رہی ہو۔


زاویان نے اب کی بار کچھ بھی نہیں کہا بس اپنا ہاتھ اٹھایا، اس کی گردن کے پیچھے رکھا اور فاصلہ سمیٹ دیا۔


☆☆☆


روحا آئینے کے سامنے کھڑی بالوں میں برش پھیر رہی تھی۔ وہ تیار ہو چکی تھی۔ سیدھے لمبے بال، آنکھوں میں گہرا کاجل اور خوبصورت گلابی چہرے پر دھیمی سی مسکان۔


یحیی کف لنکس ٹھیک کرتا اس کے پیچھے آ کر رک گیا۔ نظریں آئینے میں چمکتے اس کے خوبصورت چہرے پر رک گئیں۔ 


روحا نے برش ٹیبل پر رکھا اور مڑ کر خود کو محویت سے تکتے یحیی کو دیکھا۔ وہ دھیما سا مسکراتا اس کے پاس چلا آیا۔ 


نرمی سے اس کے کان میں جھولتے جھمکے کو انگلی کی پور سے چھوا۔ روحا مسکراتی اسے دیکھے گئی۔ 


" پرفیکٹ لگ رہی ہوں اور صرف میری لگ رہی ہو۔"  

اس نے روحا کا ہاتھ لبوں سے لگایا۔


روحا کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔

" آپ کو ہر وقت ایسے ہی باتیں کرنی ہوتی ہیں۔" 

اس نے ہلکا چھیڑا۔ 


یحیی نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی تھام لیا۔ 

" ہر وقت نہیں صرف تب، جب جب تمہیں دیکھتا ہوں۔" 


اس نے روحا کو تھوڑا سا قریب کرتے ہوئے کہا۔ 

" مجھے محبت کرنا نہیں آتا تھا۔ تم سے مل کر سیکھا اور تم سے دور ہو کر ہر دن بھولتا رہا۔" 


روحا نے نظر اٹھا کر اس کو دیکھا۔ 

" ہمیشہ میرے ہی رہنا یحیی، کبھی دور مت جانا۔ میرے لیے یہی کافی ہے۔"  

وہ اپنا سر اس کے سینے سے لگا گئی۔ 


روحا وہ لڑکی تھی جسے کبھی کوئی مائل نہیں کر سکتا تھا لیکن یحیی میر پر وہ دل ہار بیٹھی تھی۔


" آ جاؤ۔" 

یحیی نے اس کا سر چوما۔ دونوں کمرے سے باہر نکلے۔


گاڑی فارم ہاوس سے نکلی اور سڑک پر دوڑنے لگی۔ یحیی ڈرائیو کرتے ہر دوسری نظر اس پر ڈال دیتا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اسے ابھی تک اندازہ نہیں ہوا کہ یحیی اسے کہاں لے کر جا رہا ہے۔


سفر خاموشی سے کٹتا گیا۔ جیسے جیسے گاڑی منزل کے قریب پہنچ رہی تھی روحا کا دل مچلنے لگا۔ اس نے نم آنکھوں سے یحیی کو دیکھا جس نے گاڑی اس کے گھر کے سامنے روکی تھی۔ 


اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ ہولے سے مسکرایا اور باہر نکل کر اس کی طرف کا دروازہ کھولا۔


" آ جاو۔"  

اس نے اپنی مضبوط ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی۔ روحا نے اپنا ٹھنڈا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھا اور باہر نکل آئی۔ 


کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے ڈور بیل بجائی، کچھ لمحوں بعد دروازہ کھلا۔ سامنے حسن کھڑا تھا۔


" روحی۔"

" بھیا۔۔۔"  

وہ روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی۔


" روحی۔۔۔ میرا بیٹا کیسی ہو۔" 

حسن نے اس کا سر چوما۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا بس اس سے لپٹی آنسو بہاتی رہی۔ 


حسن کی نظر پیچھے کھڑے یحیی پر پڑی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔


" حسن بیٹا کون ہے؟"  

امی کی آواز پر وہ اس سے الگ ہوئی اور بھاگ کر ان سے لپٹ گئی۔


" میری گڑیا۔" 

امی نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔ 


" میں نے آپ کو بہت مس کیا امی۔" 

اس نے ان کے دونوں ہاتھ باری باری ہونٹوں سے لگائے اور نم آنکھوں سے مسکرائی۔امی نے اسے دوبارہ اپنے آغوش میں لے لیا۔


" کیسے ہو؟" 

حسن نے یحیی سے پوچھا۔ لہجہ تھوڑا سا اکھڑا ہوا تھا۔


" روحا کی سنگت میں زیادہ ہینڈسم ہو گیا ہوں۔" 

وہ مسکراتے لہجے میں کہتا آگے بڑھ گیا۔


امی پہلی مرتبہ اپنے داماد کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ جھک کر ان سے سلام لے رہا تھا۔ امی نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔


" جیتے رہو۔"  

روحا مسکرا کر ان کو دیکھ رہی تھی۔ 


امی اپنے داماد سے مل کر کافی خوش نظر آرہی تھیں۔ یحیی نے جو کچھ روحا کے ساتھ کیا تھا وہ غلط تھا۔ مگر انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے اس کو معاف کر دیا تھا۔ وہ روحا سے کتنی محبت کرتا تھا اس کا اندازہ روحا کے چہرے کو دیکھ کر ہو رہا تھا۔ 


امی اپنے داماد اور بیٹی کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئیں۔ حسن فورا گھر سے باہر نکل گیا۔ بہن اور بہنوئی پہلی مرتبہ گھر آئے تھے۔ 


اگر یحیی بتا دیتا تو کون سی قیامت آ جاتی۔ بائیک کو زوردار کک لگاتے اس نے سر جھٹکتے سوچا اور باہر نکل گیا۔


جاری ہے


Comments

  1. Just wow i am in love with these two couples 😍😍😍 my favorite.now looking forward ⏩⏩⏩⏩ to read roha and layan's meeting ❤️❤️❤️🥰🥰🥰❤️❤️🥰🥰😘😘 .i know that gonna be emotional 😭🤣❤️ i am getting excited 😭😭😭😭😭😭😭

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts