Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher e ishq - Episode 36 by Munaza Niaz

 


زہرِ عشق

قسط 36

از منزہ نیاز 


کمرے کی کھلی کھڑکی سے سورج کی روشنی فرش کو چمکا رہی تھی۔ مشال کتابوں پر چہرہ جھکائے اسائنمنٹ بنا رہی تھی۔ کمرے میں گہری خاموشی تھی۔ اس نے دوبارہ یونیورسٹی جوائن کر لی تھی۔ کام ختم کرنے کے بعد وہ اٹھی اور کھلے بال کیچر میں قید کرتی کمرے سے باہر چلی آئی۔ 


کچن میں جھانک کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ اس نے پتیلی کا ڈھکن اٹھا کر دیکھا، اندر اس کی پسندیدہ وائٹ کڑاہی تھی۔ کڑاہی کی خوشبو پورے کچن میں پھیلی تھی۔ اس نے ڈھکن واپس رکھا۔ آنکھیں بے اختیار نم ہوئیں۔ 


" مجھے کبھی معاف مت کرنا مشال۔ میں ایک خودغرض اور بے حس ماں ہوں۔ میں نے تو سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک کیا تمہارے ساتھ۔ میں تو اب اس قابل بھی نہیں کہ تم سے معافی مانگ سکوں۔"


گھر لوٹنے کے بعد آمنہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بہت روئی تھیں۔ مشال چپ ان کو دیکھتی رہی تھی۔ وہ بول بھی نہیں پا رہی تھی۔


" میں نے تمہاری خوشی، تمہاری مرضی نہیں دیکھی۔ میں نے صرف اپنی بہن کا چہرہ دیکھا، لوگوں کا چہرہ دیکھا اور اپنی انا کو دیکھا۔ مجھے تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ حارث تمہارے ساتھ۔۔۔" 

وہ روتے ہوئے ایک دم چپ ہوئیں۔


" آپ نے تو کبھی مجھے اپنے سینے سے لگا کر میری بیٹی بھی نہیں کہا۔ کبھی مجھے بلا کر پیار نہیں کیا۔ کبھی مجھے یہ احساس نہیں دلایا کہ میں آپ کی بیٹی ہوں پھر میں کیسے آپ کو اپنے دل کا حال سناتی امی۔ یقین کریں مجھے آپ سے کچھ بھی نہیں چاہیے تھا، صرف آپ کی تھوڑی سی توجہ، تھوڑی سی محبت، تھوڑا سا پیار چاہیے تھا۔"  

مشال نے کسی بچے کی طرح روتی آنکھوں سے شکوہ کیا۔ 


آمنہ نے زور سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔

" ہاں میں مانتی ہوں کہ میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ مگر اب میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گی۔ میں کیوں بھول گئی تھی کہ تم میری پہلی اولاد ہو جس نے میری دنیا رنگوں سے سجا دی تھی۔ جس کو دیکھ کر میں اپنا آپ تک بھول جاتی تھی مگر پھر پتہ نہیں مجھے کیا ہوا۔ جیسے جیسے تم بڑی ہوتی گئی میں تم سے دور ہوتی گئی۔ مجھے لگتا تھا کہ جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو انہیں پیار، محبت اور توجہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ اپنا خیال خود رکھ سکتے ہیں۔ انہیں ہر چیز وقت پر مل رہی ہوتی ہے انہیں بھلا اور کیا چاہیے لیکن میں غلط نکلی۔ میں بھول گئی کہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو اپنوں کی توجہ نہ ملنے پر تنہا ہو جاتے ہیں۔" 


مشال نے خاموشی سے ان کو دیکھا۔ آمنہ نے اس کے بال چہرے سے پیچھے کیے اور ماتھا چوم کر دوبارہ اپنے سینے سے لگا لیا۔ 


اس رات وہ آمنہ کے ساتھ سوئی تھی۔ آمنہ پوری رات اس کو اپنے آغوش میں لیے تکتی رہیں۔ کبھی اس کا سر چومتی، کبھی ماتھا، کبھی ہاتھ تو کبھی بالوں میں انگلیاں پھیرتیں۔ 


اس کے چہرے اور جسم پر حارث کے دیے گئے زخم ہلکے ہلکے واضح تھے۔ وہ بالکل کمزور ہو چکی تھی۔ آمنہ کا بار بار دل بھر آتا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ جیل میں پہنچ کر حارث کا قیمہ بنا دیتیں۔ 


آمنہ اب اسے اپنے پاس بٹھا کر اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا کر اس کے منہ میں ڈالتی تھیں۔ مشال کو کہا اس سب کی عادت تھی۔ کبھی وہ بچوں کی طرح رونے لگتی تو کبھی ان کو خاموشی سے تکتی رہتی۔


" ارے مشال بیٹا تم ادھر کیا کر رہی ہو؟"  

آمنہ نے اسے کچن میں بت بنے کھڑے دیکھا تو پوچھ بیٹھیں۔ 


وہ ان کی طرف پلٹی۔

" کچھ نہیں امی۔"  


آمنہ مسکرائیں۔

" میری بیٹی کام کر کر کے تھک گئی ہوگی نا۔ مجھے پتہ ہے تمہیں بھوک لگی ہے۔ ادھر بیٹھو میں کھانا نکال دیتی ہوں۔" 


مشال نے محبت سے ان کا چہرہ دیکھا اور کرسی کھینچ کر وہیں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئی۔ آمنہ نے اپنا اور اس کا کھانا نکال کر رکھا اور اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئیں۔


اسی وقت ردا کچن میں داخل ہوئی۔ آمنہ نوالہ بنا کر مشال کو کھلا رہی تھیں۔ مشال کی نظر بے اختیار اس پر پڑی۔ وہ رک گئی۔ آمنہ نے بے ساختہ اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔ 


ردا خاموشی سے فریج کھول کر اندر جھانکنے لگی۔


" کھاؤ بیٹا۔" 

آمنہ نے مشال کو کہا۔ اس نے ہلکا سا سر ہلایا۔


" ادھر آؤ ردا۔" 

وہ جو بنا کچھ اٹھائے باہر نکلنے لگی تھی کہ آمنہ کی پکار پر رک کر ان کو دیکھا پھر خاموشی سے ان کے پاس آکر ٹھہر گئی۔


" بیٹھو یہاں، کھانا کھاؤ ہمارے ساتھ۔"  

انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ رکھی کرسی پر بٹھایا۔


" آگیا یاد آپ کو کہ آپ کی ایک اور بیٹی بھی ہے۔"  

اس نے ہلکا سا طنز کیا تھا۔


آمنہ نے مسکرا کر نوالا بنایا اور ردا کو کھلا دیا۔

" ماں اپنی کسی اولاد کو نہیں بھولتی۔ تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہاری تیکھی نظریں سمجھ نہیں پا رہی تھی۔"  


مشال مسکرا دی۔ ردا نے نوالہ حلق سے اتارا۔

" پلیز امی! آپ اب بدل مت جائیے گا۔"  


آمنہ کا ہاتھ ٹھہرا۔ مسکراہٹ پھیکی پڑی۔ مشال نے دونوں ہاتھ دھیرے سے گود میں رکھ دیے۔


آمنہ نے دونوں کو دیکھا۔ مسکرانے کی کوشش کی مگر رو دی۔ مشال پریشانی سے اٹھی۔

" امی پانی پیے۔" 

اس نے فورا گلاس اٹھایا۔


آمنہ نے ایک گھونٹ پیا اور بازو پھیلا کر ردا کو اپنے قریب کر لیا۔ دوسرے ہاتھ سے مشال کو تھاما اور باری باری دونوں کا سر چوما۔


" کبھی نہیں۔" 

دونوں بہنوں نے ان کے گرد بانہیں لپیٹ لیں تھی۔


☆☆☆


حویلی کے بیسمنٹ کے نیچے ایک اور بیسمنٹ تھا جو اوپر والے سے زیادہ گہرا، زیادہ بڑا اور زیادہ پراسرار تھا۔ اس کے اندر صرف ایک ہی چیز سنائی دے رہی تھی۔


چیخیں۔

فضا میں خون کی بو، لوہے کی زنجیروں کی کھنک تھی۔ بیسمنٹ کی دیواریں لوہے کی تھیں۔ زمین پر خون کے دھبے اور سرخ روشنی تھی جو صرف ایک آدمی پر پڑ رہی تھی۔


ایک کونے میں کیمرہ نسب تھا۔ اس آدمی کے سامنے زاویان سیاہ شرٹ کی آستینیں موڑے ایک لوہے کی راڈ پکڑے کھڑا تھا۔ راڈ سے سرخ تازہ خون قطرہ قطرہ زمین پر گر رہا تھا۔


ہاتھوں میں سیاہ دستانے، چہرہ بالکل پرسکون تھا۔ سامنے زخمی حالت میں بیٹھا آدمی کانپ رہا تھا۔ اس کا پورا جسم خون میں لت پت تھا۔ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی شاید چیخ چیخ کر گلا بیٹھ چکا تھا۔


زاویان کے چہرے پر ذرا رحم نہیں تھا۔ اس نے اس آدمی کے بالوں کو پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔


" بول کس نے آرڈر دیا تھا رایان کو کڈنیپ کرنے کا؟" 

وہ پھنکارا۔


آدمی نے ایک دم سے رونا شروع کر دیا۔ زاویان نے راڈ سے کیمرے کی طرف اشارہ کیا۔

" دیکھ اذان! تیرا آدمی کتنا لوئل (Loyel) ہے۔"  


اس نے راڈ گھمائی اور پوری طاقت سے اس کی پسلی پر دے ماری۔ آدمی کی دردناک چیخ نکل گئی لیکن آواز باہر نہیں گئی تھی۔


اوپر لایان کچن میں موجود اس سب سے بے خبر کھانا بنا رہی تھی۔ زاویان نے کیمرہ دوبارہ ایڈجسٹ کیا۔


اذان اپنے آفس میں تھا تبھی اس کے موبائل پر بپ ہوئی۔ اس نے آن کیا۔ اسکرین پر لائیو ویڈیو چل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں لہو رنگ ہوئیں۔


" زاویان۔" 

وہ چیخ اٹھا۔


" تو اگر چیخے گا تب بھی اذان تجھے نہیں بچا پائے گا۔" 

" مجھے کچھ نہیں پتا۔ مجھے چھوڑ دو۔"  

آدمی بری طرح تڑپ رہا تھا۔


زاویان نے کیمرہ پورا زوم کر کے آدمی پر فوکس کیا۔ اس کا لہو سے بھرا چہرہ دیکھ کر اذان کا دماغ سن ہو رہا تھا۔ 


" تیرے لوگ ایک ایک کر کے تیرے سامنے مریں گے اذان۔ تجھے میں ان کی چیخیں سنواؤں گا۔ ان کے خون کی بو تیرے اندر گھلے گی اور جب تیرا ایمپائر گرے گا نا تب تجھے ایک ہی بات یاد آئے گی کہ زاویان زرقاد سے پنگا لیا تھا۔"  


اگلے وار پر آدمی ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کا جسم بے جان ہو چکا تھا۔ اذان کی آنکھیں پھٹ چکی تھیں۔ اس کا غصہ تب تیز ہوا جب ایک اور آدمی زاویان نے کرسی پر بٹھایا۔


وہ اذان کا برین تھا۔ اس کا پارٹنر۔ جس کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔


" جو کچھ میں پوچھوں گا چپ چاپ جواب دیتے جانا ورنہ تیرے ریکارڈ میں تیری کسی فیملی کے فرد کا نام نہیں بچے گا۔"  


آدمی کے پسینے چھوٹ گئے۔ اذان ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا۔ زاویان نے راڈ کرسی پر بجائی۔ آدمی نے پٹر پٹر بولنا شروع کر دیا۔


اذان کا نام، اس کے اللیگل کاموں کی لسٹ، اس کی ڈیلز، ہتھیاروں اور غیر قانونی کاموں کی پوری لسٹ بتا دی۔ 


اذان کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ اس نے پوری طاقت سے فون گلاس ونڈو میں دے مارا۔ اسی وقت ایشل اندر داخل ہو رہی تھی۔ اسے اتنے غصے میں دیکھ کر وہ چونکی تھی۔ اذان پاگل ہونے کے قریب تھا۔ 


وہ اس کے پاس آئی۔ کندھوں سے پکڑ کر اس کو روکا۔ اذان کا ہاتھ اٹھا مگر ایشل کو دیکھ کر ہوا میں ہی رک گیا۔ 


" چلاو مت، زاویان نہیں سن سکتا۔" 

اذان نے غصے سے اس کو پیچھے دھکیل دیا۔ وہ ہلکا سا لڑکھڑائی۔


" تم نہیں سمجھ سکتی۔ وہ مجھے کھا جائے گا۔"  

اس نے زور سے ٹیبل پر مکا مارا۔


سانس پھول چکا تھا۔ ایشل نے نرمی سے اپنا خوبصورت ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔


" وہ تمہیں تب کھائے گا جب تم چپ بیٹھو گے۔ زرقاد کو گرانا ہے تو تمہیں دماغ سے سوچنا ہوگا۔ اس کا ایمپائر، اس کا یقین، اس کے لوگ اور اس کا دماغ۔" 


اذان نے ایک تیکھی نظر اس پر ڈالی اور اس کا ہاتھ جھٹکتا باہر نکل گیا۔ 

دروازہ پوری طاقت سے بند کیا تھا۔ ایشل نے سرخ آنکھوں سے اس کو جاتے دیکھا پھر بالوں میں انگلیاں چلا کر ان کو ٹھیک کیا اور اس کے پیچھے چل دی۔ 


دوسری طرف زاویان خون بھرے ہاتھوں سے کوٹ پہنتے باہر نکلا۔ لاونج میں پہنچا تو نظر سیدھا اوپن کچن میں کھڑی کام کرتی لایان پر پڑی۔


وہ بنا اپنے حلیے کی پرواہ کیے اس کی طرف بڑھا۔ لایان سلیب کے پاس کھڑی تھی۔ سلیب پر سامان بکھرا تھا۔ تب ہی اسے اپنے پیچھے زاویان کی موجودگی کا احساس ہوا۔


زاویان نے دونوں ہاتھ اس کے دائیں بائیں سلیب پر رکھ دیے۔ لایان نے ہاتھ روک کر اس کے خون سے بھرے ہاتھوں کو دیکھا اور پھر دھیرے سے اس کی طرف پلٹی۔ 


" زاویان یہ کیا؟" 

زاویان کی آنکھیں ہلکی سی سرخ اور چہرے پر کچھ دیر پہلے والے غصے کی جھلک ابھی تک برقرار تھی۔ 


زاویان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ خون لایان کی انگلیوں اور ہاتھ کی پشت پر لگ گیا لیکن زاویان کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ 

لایان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ 


" کسی سے حساب چکتا کیا ہے بس۔"  

اس نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔ 


وہ جانتا تھا کہ لایان ڈر نہیں رہی مگر اس کے دماغ میں سو سوال ہوں گے۔ اس نے خون سے بھرا ہاتھ اٹھایا اور اس کا گال نرمی سے چھوا پھر اس کے چہرے پر ہلکی سی پھونک ماری۔


لایان نے سانس روک لی۔ زاویان نے ہاتھ اس کے کمر کے پیچھے ڈالا اور اسے اپنے قریب کر لیا۔


" زاویان تم۔"  

ابھی وہ بولتی کہ زاویان نے اسے چپ کروا دیا۔

" شش۔"  


لایان نے ہاتھ اٹھائے اور اس کے سینے پر رکھ دیے۔ زاویان اسے اپنے ساتھ لیے کچن سے باہر نکلا اور ہولے سے اسے لاؤنج میں لگے ایک پلر سے لگا دیا۔ دونوں ہاتھ اس کی کمر کے پیچھے باندھ دیے۔ 


لایان کے ہاتھ اس کے بازووں سے سرکتے اس کی گردن کے پیچھے چلے گئے۔ 


" ڈر نہیں لگتا مجھ سے؟"  

زاویان نے مسکرا کر پوچھا۔


" ڈر؟ تم سے؟" 

وہ تھوڑا اور پاس ہوئی۔ انگلی زاویان کے گال پر رکھی۔


" میں تمہارے جیسی ہوں زاویان۔ مجھے اب کسی سے ڈر نہیں لگتا۔" 


زاویان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور لبوں سے لگایا۔ وہ اس کی ایک ایک انگلی چوم رہا تھا۔ اس نے اس کا دوسرا ہاتھ پکڑا اور اسے بھی ایسے ہی چوما۔ دھیرے دھیرے، ایک ایک انگلی، ایک ایک انچ۔  


لایان کی انگلیاں بے اختیار بند ہوئیں۔ اس کی دھڑکن مدھم ہونے لگی۔ زاویان نے اس کی بند مٹھی کھولی اور ہتھیلی کو چوما۔ کافی دیر رکا رہا۔ 


دونوں ہی ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔ بنا پلک جھپکائے۔ 


" نہیں ڈرتی کیا؟" 

زاویان نے کچھ سوچتے دوبارہ پوچھا۔ 


لایان نے نفی میں سر ہلایا۔ زاویان نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھی۔ چہرہ اوپر اٹھایا اور پورا جھک گیا۔ لایان نے اس کی سانس اپنے ہونٹوں پر محسوس کی۔ اس کا دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا۔ زاویان تھوڑا اور جھکا اور اس کی ٹھوڑی پر ہونٹ رکھے۔


لایان کے ہاتھ خود بخود اس کے سینے پر جم گئے۔ زاویان نے باری باری اس کے دونوں رخسار چومے پھر اس کے لب اوپر کی طرف گئے۔ 


لایان کی آنکھیں بند ہو گئیں جب زاویان نے اس کی دونوں آنکھوں کو باری باری چوما۔ لایان کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔ وہ اسے دور بھی کرنا چاہتی تھی اور نہیں بھی۔ 


زاویان نے ایک آخری بار اس کو دیکھا جو پرسکون سی کھڑی تھی۔ اس بار کچھ کہے بغیر اس نے اپنا کوٹ اتارا۔ دھیرے سے انگلیاں اس کی گردن کے پیچھے بالوں میں الجھائیں۔ ایک ہی جھٹکے میں اس کو اپنے قریب کرتے کوٹ اپنے اور اس کے سر پر ڈال دیا۔


جاری ہے


Comments

  1. How romantic 🤩🤩🤩🤩 mashal k liye happy hon bhot shkar h us ki life mn b kuch acha hua i guess danish uska end hoga ❤️

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts