Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-Ishq - Episode 37 by Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 37
از منزہ نیاز
کار فارم ہاؤس کے پورچ میں رکی۔ پورا راستہ دونوں کے درمیان خاموشی چھائی رہی تھی۔ روحا دو دن لگا کر تیسرے دن یحیی کے ساتھ واپس چلی آئی تھی۔
شام کا وقت تھا۔ سورج کی ٹھنڈی روشنی فارم ہاؤس کی آدھی دیوار تک پہنچی چکی تھی۔ یحیی نے چابی گھما کر انجن بند کیا اور گردن موڑ کر روحا کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
" یحیی شکریہ۔"
" شکریہ؟ کس بات کا؟"
یحیی نے نا سمجھی سے مسکرا کر پوچھا۔
روحا نے سیٹ بیلٹ کھولی۔ دوبارہ اس کی طرف دیکھا۔
" میں نے تمہیں ہمیشہ غلط سمجھا۔ تم شروع میں مجھے صرف ایک ولن لگتے تھے جو صرف اپنی مرضی چلاتا ہے پر میں غلط تھی۔ میں خود تم سے لکھی گئی ایک کہانی تھی۔"
یحیی نے خاموشی سے اس کو سنا پھر باہر نکل کر اس کی طرف آیا۔ دروازہ کھولا اور جھک کر اسے اٹھا لیا۔
" اتنی چھوٹی ہو پر جذبات مجھے نیچا دکھا جاتے ہیں۔"
یحیی نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھتے، مسکرا کر جیسے چھیڑا تھا۔
روحا نے ہنسی دبائی اور اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ دیا۔
" اب اتنے بھی ہلکے نہیں ہم۔"
اس نے ایک ادا سے کہا اور کھلکھلا دی۔
" میں نے تمہارا وزن نہیں، تمہارے جذبات اٹھا رکھے ہیں۔"
یحیی کی سرگوشی پر اس کے گال گلابی ہوئے۔
یحیی نے اسے کار کے بونٹ پر بٹھایا اور دونوں ہاتھ اس کے ارد گرد بونٹ پر رکھتے اس کے پیچھے انگلیاں آپس میں پھنسا دیں۔
دونوں کچھ لمحے گہری نگاہوں سے مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر روحا نے ہلکا سا کھنکارتے گال پر جھولتی لٹ کان کے پیچھے کی۔
یحیی نے اس کے ہاتھ کی حرکت اور اس کے بالوں کا جھولنا پوری جان سے محسوس کیا۔ روحا نے دونوں ہاتھوں سے اس کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو انگلیوں کی مدد سے پیچھے کیا اور اس کا چہرہ تھام کر نرمی سے اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے۔
یحیی کی مسکراہٹ بے اختیار گہری ہوئی۔ اس نے روحا کا ہاتھ پکڑ کر اس کی پشت کو چوما اور اپنے سینے پر رکھ دیا۔
" تم صرف اچھے نہیں ہو یحیی۔ تم صرف میرے ہو۔۔۔ بس میرے۔"
وہ مسکرایا۔ کچھ لمحے ایسے ہی سرک گئے۔
" لایان سے ملنا چاہو گی؟"
روحا کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔
آنکھوں کے سامنے صبح کا منظر گھوم گیا جہاں وہ اپنی امی سے لایان کے بارے میں پوچھ رہی تھی کہ اس کے جانے کے بعد کیا وہ آئی تھی۔
" نہیں بیٹا۔ وہ تو اس دن سے آئی ہی نہیں جب تم یہاں سے گئی تھی۔"
روحا چپ کی چپ رہ گئی۔ اس نے حسن کو دیکھا جو خاموشی سے ان کو دیکھ رہا تھا۔ یحیی پاس ہی بیٹھا بغور سب کا جائزہ لے رہا تھا۔
" کیا مطلب کہ وہ ایک دفعہ بھی نہیں آئی مجھ سے ملنے کے لیے۔"
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ لالی اس کو بھول سکتی ہے۔ کم از کم آ کر نہ سہی مگر کال کر کے امی سے پتہ تو کر سکتی تھی۔ اسے عجیب لگا۔
" روحی ادھر آؤ۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔"
حسن اٹھا اور اسے اشارہ کرتا دوسرے کمرے میں چلا گیا۔
روحا بھی اس کے پیچھے گئی۔ حسن نے پہلے غور سے اس کو دیکھا پھر گہری سانس لے کر خود کو تیار کیا جیسے بولنے کے لیے لفظ ڈھونڈ رہا ہو۔ روحا نے گہری نظروں سے اس کو دیکھا۔
" کیا ہوا بھائی؟ کوئی بات ہے کیا؟"
" لایان!"
وہ رکا۔ روحا نے سانس روک لی۔
" تمہارے نکاح کے کچھ دنوں بعد وہ آئی تھی۔"
روحا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حسن اسے کافی پریشان دکھ رہا تھا۔
" اس دن میں گھر پر تھا جب وہ آئی تھی۔ تمہاری وجہ سے میں اتنا پریشان تھا کہ لایان کی آواز سن کر بھی دروازہ کھولنے نہیں گیا۔ وہ تمہیں بلا رہی تھی۔ امی اس وقت سو رہی تھیں ورنہ میں ان کو بھیج دیتا۔ کافی دیر تک دروازہ بجتا رہا اور میں یہی سوچتا رہا کہ اسے تمہارے بارے میں بتاؤں یا نہیں۔"
وہ رکا۔ روحا نے پلکیں نہیں جھپکائیں۔
" جب دستک بند ہوئی، تب میں نے دروازہ کھولا تھا مگر وہ تب تک جا چکی تھی۔ موسم اس دن بہت خراب تھا۔ میں باہر نکل آیا۔ مجھے اچھا نہیں لگا کہ وہ اس خراب موسم میں اکیلی گھر جائے۔ میں نے اس کا پیچھا کیا۔ وہ کافی دور نکل گئی تھی۔ میری حالت بھی ٹھیک نہیں تھی تم جانتی ہو۔ مجھے چوٹ لگی تھی۔ میں بھاگ نہیں سکتا تھا۔ میں اسے بلا کر روکنا چاہتا تھا مگر پھر اچانک ہی اس کے پاس ایک وین رکی اور کچھ آدمیوں نے اسے پکڑ لیا۔ میں نے بہت کوشش کی اس تک پہنچنے کی لیکن وہ لوگ اسے لے کر جا چکے تھے۔ روحا میرا یقین کرو میں نے پوری کوشش کی تھی۔ اسے پکارا بھی تھا، بھاگا بھی تھا لیکن وہ بہت دور تھی۔ میرے پہنچنے تک وہ لوگ اسے لے کر جا چکے تھے۔"
روحا کے پیروں سے جیسے جان نکل گئی۔ وہ دھیرے سے صوفے پر گر گئی۔ حسن نے مٹھیاں بھینچی۔ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا۔
" تمہیں اپنے بھائی پر یقین ہے نا۔"
" بھائی مجھے آپ پر کوئی غصہ نہیں ہے نہ ہی میں آپ کو غلط سمجھ رہی ہوں۔ مجھے بس اس کی فکر ہو رہی ہے کہ وہ کون لوگ تھے۔ اسے کہاں لے کر گئے۔ وہ کہاں ہوگی اب؟ بھائی کیا وہ واپس نہیں آئی ہوگی؟"
روحا نے روہانسی ہو کر کہا۔ آنکھوں میں خوف اور نمی بیک وقت آئے تھے۔
" دعا کرو بیٹا۔ وہ بس جہاں بھی ہو ٹھیک ہو۔"
حسن نے اس کا ہاتھ تھپکا جب کہ وہ سفید چہرہ لیے اس کو دیکھتی رہ گئی۔
" کیا ہوا؟"
یحیی نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا۔
وہ چونکی۔
" لایان سے؟"
وہ ہولے سے بولی۔
" ہاں! تمہاری لالی۔"
" مگر۔۔۔ وہ۔۔۔ کہاں؟ وہ۔۔۔ تو۔"
اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا کیونکہ اس نے لایان کی امی کو کال کی تھی مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا تھا۔ اور پھر یحیی نے بھی اسے منع کر دیا تھا کہ کسی کو کال مت کرو شاید کوئی بھی نہ اٹھائے۔
" جب تم اس سے ملو گی تب پوچھ لینا۔"
" یحیی مجھے ابھی اس کے پاس لے کر جاؤ۔ تم۔۔۔ تم جانتے ہو نا کہ وہ کہاں پر ہے۔۔۔تم ابھی مجھے اس کے پاس لے کر جاؤ۔"
اس نے بے قراری سے اس کا ہاتھ تھاما۔
" کل لے کر جاؤں گا۔"
" مگر مجھے ابھی۔۔۔"
یحیی نے فورا اس کی بات کاٹی۔
" وعدہ کرتا ہوں۔ کل تم ضرور لایان سے ملو گی۔"
وہ چپ ہو گئی۔
" چلو اندر چلیں۔"
یحیی نے اسے نیچے اتارا۔
" ہم کل کب۔۔۔"
" شام کو چلیں گے۔ تیار رہنا۔"
یحیی نے اس کے گرد بازو پھیلایا۔
دونوں لاؤنج میں داخل ہوئے۔ روحا کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ ابھی اڑ کر لایان تک پہنچ جاتی۔
" تمہارا انتظار ختم ہونے والا ہے۔"
یحیی نے اسے ایموشنل کرنے کی کوشش کی مگر وہ ہنس دی۔
" کچھ انتظار اس لیے بھی خوبصورت ہوتے ہیں کیونکہ ان کے بعد وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہماری زندگی ہوتے ہیں۔"
وہ مسکراتی کچن کی طرف بھاگ گئی۔
یحیی نے اچھنبے سے اس کو دیکھا۔
" تمہیں پھر سے بھوک لگی ہے؟"
اسے شدید حیرانگی کے ساتھ ہنسی بھی آئی۔ کیونکہ ابھی وہ گھر سے
"دعوت" اڑا کر آئی تھی۔ امی اور حسن نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
" کیونکہ تم نے مجھے ہلکے میں لیا ہے۔ اب میں تمہیں دکھاؤں گی کہ آخر روحا کس بلا کا نام ہے۔"
یحیی دھیرے سے ہنس دیا اور اس کے پاس ہی چلا آیا۔
" کیا بناو گی اب؟ مجھے بھی بھوک لگ رہی ہے۔ تمہارے ہاتھ کی میکرونی مل جاتی تو کیا ہی بات ہوتی۔"
یحیی نے اس کے ساتھ ہی فریج میں جھانکا۔
" ہاں ہاں میرے یحیی۔۔۔ ضرور ملے گی۔ چلیں اب ان سبزیوں کو کاٹیں تب تک میں چکن بوئل کر لوں۔"
" اوکے بیگم۔"
یحیی نے آنکھ مارتے ٹوکری پکڑ لی۔
دونوں کی ہنسی، ہلکی پھلکی چھیڑ چھیڑ کچن میں گونج رہی تھی۔ شام آہستہ آہستہ گہری ہوتی گئی۔
سورج چھپ گیا۔ نئے دن کو نکلنے کے لیے جہاں روحا کی دنیا بدلنے والی تھی۔
☆☆☆
اذان دن رات میٹنگز میں لگا ہوا تھا۔ دماغ پر صرف ایک ہی جنون سوار تھا۔
زاویان کو ختم کرنا۔
ایشل ہر قدم پر اس کے ساتھ تھی۔ وہ کبھی نئے شوٹرز ہائر کرتا تو کبھی سیکرٹ الائنسز بن رہے تھے۔ مگر ایک چیز وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے ہر عمل کی خبر سیدھا زاویان کو پہنچ رہی تھی۔
زاویان اس کی ہر چال سے باخبر تھا اور یہی چیز اذان کو مزید پاگل کر رہی تھی۔
" کیسے؟"
وہ پوری قوت سے چلایا۔
ایشل کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی بغور اس کو دیکھ رہی تھی۔ اذان نے میپ اٹھایا اور اس کے ٹکڑے کر دیے۔ ایشل اس کو دیکھے گئی۔ پھر وہ اٹھی اور خاموشی سے باہر نکل گئی۔
اذان نے اسے نہیں روکا۔ کافی دیر بعد اس نے خود کو پرسکون کرتے موبائل نکالا اور " بلیک ہاک" (Black Hawk)
پر پریس کر دیا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو سب کچھ ختم کر دینے والا تھا۔
ایشل لمبی ہیل پر چلتی ہال وے سے گزر کر گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ آنکھوں پر گلاسز لگائے۔ ہونٹوں پر سرخ شیڈ۔ اس نے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔
اس کی کار شہر سے دور ایک پرائیویٹ ہاؤس کے سامنے رکی تھی۔ وہ گھر میں داخل ہوئی۔ ایک نظر چاروں طرف دیکھا اور لاؤنج کی طرف بڑھ گئی۔
زاویان سیاہ سوٹ میں ملبوس، شرٹ کے دو اوپری بٹن کھلے ہوئے۔ ہاتھ میں موبائل تھا۔ ہیل کی ٹک ٹک پر اس نے نظر اٹھا کر ایشل کو دیکھا۔ وہ مسکراتی اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔
زاویان نے موبائل واپس رکھا اور گہری نظروں سے اس کو دیکھا۔ دونوں کے پرفیومز کی خوشبو ہوا کو معطر کرنے لگی۔
" تمہیں پتہ بھی ہے زاویان کہ اذان تمہارے خلاف کیا پلان کرتا پھر رہا ہے۔"
اس کے چہرے پر تیکھی مسکراہٹ تھی۔
زاویان بے اختیار مسکرایا۔ پھر اپنا موبائل آن کر کے سامنے گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔ اس کا نیٹ ورک ایشل کے موبائل سے کنیکٹ تھا جہاں ایشل اسے اذان کی ہر لائیو فوٹیج اور پلینز شیئر کرتی آ رہی تھی۔ ایشل کی مسکراہٹ برقرار رہی۔
" اور تم مجھے یہ سب بتانے کیوں آئی ہو؟ تمہیں میری فکر کب سے ہونے لگی۔"
وہ جانتا تھا۔ ایشل کا ابزیشن (obsession) ابھی بھی اس کے لیے ختم نہیں ہوا۔
ایشل خاموش رہی۔ زاویان ہلکا سا آگے جھکا۔ نظریں اس کے چہرے پر تھیں۔
"تم مجھے بچانے نہیں آئی ہو۔ تم چاہ رہی ہو کہ میں اذان کو ختم کر دوں تاکہ تمہیں جو چاہیے وہ مل سکے۔"
ایشل کے ابرو اٹھے۔
" تو اس کا مطلب تم مجھے جان گئے ہو۔ "
ایشل نے جیسے چھیڑا تھا۔
زاویان نے آنکھیں چھوٹی کیں اور واپس ٹیک لگا لی۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Wow 😲 kia episode h but i wish l roha or meer k bech kuch bura na ho 😭😭🙏😭
ReplyDeleteBe fikar raho kuch bura nhi hogaa in k sath
Delete