Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher-e-Ishq - Episode 38 by Munaza Niaz
زہرِ عشق
قسط 38
از منزہ نیاز
آج حویلی کے اندر صبح سے عجیب سی خاموشی اور پر اسراریت چھائی تھی۔ زاویان صبح سے غائب تھا۔ لایان اپنے کمرے میں موجود کھڑکی کے سامنے کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔
نیچے گیٹ پر دو گارڈز پہرہ دے رہے تھے۔ اس نے کھڑکی سے نیچے جھانکنا چاہا تبھی کمرے کا دروازہ بج اٹھا۔ وہ گھبرا کر پلٹی۔
" کون ہے؟"
اس نے دھیرے سے پوچھا۔
" وہ۔۔۔ زاویان۔۔۔ باس۔۔۔"
لایان نے فورا دروازہ کھولا۔ سامنے زاویان کا آدمی زخمی حالت میں کھڑا تھا۔ کپڑوں اور چہرے پر خون۔ وہ وہی آدمی تھا جس نے اس رات اسے فائل دے کر زاویان کے پاس بھیجا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر وہ ڈر گئی۔
" کیا ہوا؟ زاویان کہاں پر ہے؟"
" زاویان سر۔۔۔ باہر زخمی ہیں۔۔۔ ان کو گولی لگی ہے۔"
آدمی کے چہرے پر درد رکم تھا۔ وہ اٹک اٹک کر بمشکل بول پا رہا تھا۔
لایان کی آنکھیں پھیل گئیں۔
" کیا؟"
وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی۔
وہ آدمی ہلکا سا لنگڑاتا اس کے پیچھے چل پڑا۔ لایان بنا پیچھے مڑے گیٹ پار کر گئی۔ تھوڑی دیر پہلے اس نے کمرے کی کھڑکی سے گیٹ پر پہرہ دیتے ان دو گارڈز کو دیکھا تھا اور باہر نکلتے وقت وہ غور نہیں کر سکی تھی کہ دونوں گارڈز ہی غائب ہو چکے ہیں۔
" کہاں ہے زاویان؟"
اس نے بھاگتے ہوئے پلٹ کر پوچھا۔
آدمی نے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔
" وہ۔۔۔ وہاں۔"
لایان کی آنکھوں میں پریشانی کے سائے دوڑ گئے۔ وہ پھر سے بھاگنے لگی۔ سڑک بالکل سنسان اور جنگل بے حد گہرا تھا۔ مگر وہ بنا خوفزدہ ہوئے بھاگتی گئی۔ کافی دور جا کر وہ تھک کر رک گئی۔ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے پھر چہرہ اٹھا کر دیکھا۔
وہاں ارد گرد اور دور دور تک کوئی نہیں تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا وہ آدمی غائب ہو چکا تھا۔
" یہ کہا گیا؟"
اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
اس کی چھٹی حس نے فورا سگنل دیا کہ کچھ غلط ہے۔ کچھ زیادہ۔ اور تب ہی اس کے دماغ میں جھماکا ہوا۔ وہ سمجھ گئی کہ زاویان کا ایکسیڈنٹ نہیں ہوا بلکہ اسے دھوکے سے باہر نکلوایا گیا ہے۔
موسم آج پھر سے خراب تھا۔ بارش کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ آسمان پر ہمیشہ کی طرح سیاہ بادلوں کا ڈیرہ تھا۔ اس کے جسم میں گھبراہٹ دوڑ گئی۔ اس نے فورا واپسی کی طرف دوڑ لگا دی۔ اس کے ہاتھ سرد پڑنے لگے تھے۔ شام گہری ہوتی جا رہی تھی۔ وہ حویلی سے کافی دور آگئی تھی۔ بھاگتے ہوئے وہ دونوں طرف دیکھتی جا رہی تھی۔ کہیں کوئی بھی نہیں تھا اور تبھی بلکل اچانک، بھاگتے ہوئے اسے جھٹکا لگا تھا۔
اس گہری خاموشی میں ایک آواز گونجی تھی۔
پاااکھ۔۔۔
ایک گولی اس کے پیٹ میں لگی۔ وہ رک گئی۔ وقت ٹھہر گیا۔ اس کو لگا اس کے پیٹ کے اندر آگ دوڑ گئی ہے۔ جیسے کسی نے جلتی ہوئی چھری اندر گھسا دی ہو۔
" یہاں پر گولی لگے، تو وہ تمہارے اندر کا سب کچھ چیر کے نکال دیتی ہے۔ تم سمجھ بھی نہیں پاتی کہ درد زیادہ ہیں یا جلن۔"
اسی وقت زاویان کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
اس کا سارا دھیان پیٹ پر چلا گیا۔ ہاتھ خود بخود پیٹ پر آیا۔ سانس رک گئی۔ قدموں میں ایک دم سے لرزش ہونے لگی تھی۔ دل کی دھڑکن اسے اپنے کانوں میں صاف سنائی دے رہی تھی۔
دھک۔۔۔ دھک۔۔۔ دھک۔۔۔
اس نے بے جان قدموں سے چلنے کی کوشش کی کہ ایک اور جھٹکا لگا۔ دوسری گولی چلی اور پسلیوں میں جا لگی۔ اس کے قدم ڈگمگا گئے۔ سانس پھٹنے لگی۔ اس کو لگا اس کے پھیپھڑے کٹ رہے ہیں۔ ہر سانس جیسے چھری بن گئی تھی۔ اس نے بولنا چاہا مگر آواز بند ہو گئی۔ بس ایک مدھم سی سسکاری نکلی۔
اس نے روڈ کو دیکھا جس پر پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ بارش شروع ہو گئی تھی۔ اس نے دھندلی نظروں سے دیکھا ایک کا رکی تھی۔ دروازہ جھٹکے سے کھلا اور ایک لڑکی چیخی تھی۔
" لالی۔"
لایان کی آنکھوں میں درد، دکھ اور حیرت بیک وقت چمکے تھے۔ پورے 11 ماہ بعد وہ اس کو دیکھ رہی تھی۔ اور تبھی تیسری گولی چلی اور سیدھا سینے میں۔
" سینے میں لگے، تو پہلے ہوا کا ایک زوردار جھٹکا لگتا ہے۔ اندر سے درد کی ایک ایسی لہر اٹھتی ہے کہ تم بس ہوا کو پکڑنے کی کوشش کرتی ہو۔ اصل میں ہوا ہوتی ہی نہیں ہے۔"
زاویان کی سرگوشی پھر سنائی دی۔
لایان کو لگا اس کا دل رک گیا ہے۔ ہر دھڑکن پر درد اتنا گہرا ہوا کہ اسے لگا دل اپنا ہی خون خود باہر پھینک دے گا۔
اس کی آنکھیں پوری طرح دھندلی ہو گئیں۔ دوسری طرف کوئی اور پوری طاقت سے دوڑتا آرہا تھا۔ چہرہ سرخ، آنکھوں میں نمی۔ مگر فاصلہ بہت زیادہ تھا۔
بارش ایک دم سے تیز ہو گئی تھی۔ وہ پہنچنے والا تھا کہ ایک اور گولی چلی۔ سیدھا گردن کے بائیں حصے پر۔ اس کا جسم پل بھر کو سن ہو گیا۔
گولی گردن کو چیرتی آر پار ہو گئی تھی۔ ہوا کا راستہ بند ہو گیا تھا۔ اس نے سانس لینے کی کوشش کی۔ گرم خون ہونٹوں سے بہہ نکلا۔
" گردن پر لگے تو پہلے تمہاری آواز چلی جاتی ہے پھر سانس اور پھر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔"
اس کے قدم بے جان ہو گئے۔ وہ گھٹنوں پر گری۔ آنکھیں شاکڈ سے کھلی رہ گئیں۔
" لایان۔"
زاویان دوڑتا پوری طاقت سے چیخا تھا۔
روحا کانپتے قدموں سے جیسے ہی اس کے قریب پہنچی ایک آخری گولی چلی اور سر کے پچھلی طرف۔
" اور اگر دماغ پر لگے۔۔۔ تو تم بس ایک پل میں بند ہو جاتی ہو۔ جیسے کسی نے تمہارا سوئچ آف کر دیا ہو۔"
اس کی آنکھیں جو کچھ لمحہ پہلے کھلی ہوئی تھیں۔ ایک دم زندگی ہار گئیں۔ سر کے پیچھے سے خون کا فوارہ پھوٹا تھا۔ دل جو ابھی ہولے ہولے دھڑک رہا تھا بند ہو گیا اور وہ ایک طرف ڈھے گئی۔
سب کچھ ختم ہونے سے پہلے جو ایک چہرہ اس نے اپنی آنکھوں میں قید کیا تھا وہ روحا کا تھا۔
روحا زاویان سے پہلے لایان تک پہنچی تھی۔ اس کے پیچھے یحیی بھی تھا۔
" نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ لایان اٹھو۔۔۔ پلیز اٹھو۔"
وہ زمین پر گری۔ گھٹنوں پر۔
اس نے لایان کو گود میں اٹھا لیا۔ بارش پوری شدت سے برس رہی تھی جیسے سب کچھ بہا لے جائے گی۔ زاویان پورا بھیگا ہوا ان سے ذرا فاصلے پر رکا تھا۔
روحا نے نم آنکھوں سے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا۔ خون روکنے کی کوشش کی مگر خون اس کے ہاتھوں سے نکل کر زمین پر گرتا گیا۔
اس نے دوسرا ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھا، پھر سینے پر، پھر سر کے پاس۔ وہ کہاں کہاں سے خون روکتی۔
" مم۔۔۔ میری طرف دیکھو۔۔۔میں آگئی ہوں۔ میں۔۔۔ میں روحا۔۔۔ میں اب تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔"
روحا نے لڑکھڑاتے لہجے میں کہا۔ اس کے بے جان چہرے پر ہاتھ رکھا۔
آنسو اس کے گرم خون پر گر رہے تھے جو بارش کے پانی کے ساتھ بہتا جا رہا تھا۔ لایان کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ روحا کا دل بیٹھا۔
" یحیی پلیز جلدی کرو۔۔۔ ہاسپٹل چلتے ہیں۔۔۔ پلیز کچھ کرو۔۔۔ میری لایان کو بچا لو۔"
یحیی رکے دل کے ساتھ اس کے پاس بیٹھا اور دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر لایان کی نبض چیک کی۔
پتہ نہیں کس احساس کے تحت۔
روحا نے یحیی کو دیکھا جس نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا۔ اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔ اس نے غور سے یحیی کو دیکھا۔ اس کے آنسو رک گئے۔ دل دہل گیا۔ وہ جان گئی۔ جو سچ وہ سننا نہیں چاہتی تھی وہ سچ یحیی نے آنکھوں سے کہہ دیا تھا۔
" نہیں نہیں ایسا مت کہو پلیز۔۔۔ یہ جھوٹ ہے۔۔۔ یہ اٹھ جائے گی ابھی۔۔۔ لالی اٹھ جا نہ۔"
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
وہ لایان کو بلا رہی تھی۔ اس کا چہرہ بار بار چوم رہی تھی۔ اس کے آنسو لایان کے چہرے پر گرتے جا رہے تھے۔
اور دوسری طرف زاویان کھڑا رہ گیا تھا۔ اس نے نہ قدم آگے بڑھائے تھے نہ ہی پیچھے۔ یوں جیسے زمین نے اس کو جکڑ لیا ہو۔ اس کے ہونٹ پھڑپھڑائے مگر کوئی آواز نہیں نکلی۔
وہ اسے بلانا چاہتا تھا۔ اسے پکارنا چاہتا تھا۔ اسے اٹھانا چاہتا تھا مگر اس کا جسم ہل نہیں پا رہا تھا۔ زبان چپ ہو گئی تھی۔
" لایان۔"
روحا نے ایک اور بار اس کو پکارا۔ اس کا گلا بیٹھ چکا تھا۔
" ٹینشن نہ لے۔ اتنی آسانی سے تیرا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔"
لایان کی سرگوشی اس کے کان میں پڑی۔
" وعدہ کر۔"
" وعدہ۔"
روحا کے آنسو اس کے گلے تک پہنچ گئے۔
" وہ تیرا وعدہ۔۔۔ اس کا کیا ہوا؟ تو نے وعدہ کیا تھا نا۔ تو نے کہا تھا کہ تو کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔"
اس نے امید سے اس کا چہرہ دیکھا جیسے ابھی یقین ہو کہ وہ اٹھ جائے گی اور ہنس کر کہے گی۔
" میں مذاق کر رہی تھی یار۔"
اس کا ضبط ایک دم ٹوٹ گیا تھا۔ اس نے لایان کو زور سے سینے میں بھینچ لیا۔
زاویان نے اس لڑکی کو بلکتے دیکھا۔ اس کا دل کیا وہ بھی اس کی طرح آنسو آنکھوں سے بہہ جانے دے مگر وہ بے جان، سن سا کھڑا رہ گیا۔
اس کا عشق۔ جو ختم ہو کر اس کو زہر میں ڈال گیا تھا۔
" زخم کا درد کم ہو سکتا ہے لیکن کس نے دیا یہ ہمیشہ یاد رہتا ہے۔"
لایان نے زخمی نظروں سے اس کو دیکھا جو اس کے ہاتھ کا زخم صاف کر رہا تھا۔
" تم ہی نے مجھے یہ درد دیا اور اب تم ہی ٹھیک کر رہے ہو؟"
وہ روتے ہوئے ہنسی تھی یا ہنستے ہوئے روئی تھی۔
زاویان کا چہرہ تاریک ہوا۔
" ہاں۔۔۔ کیونکہ اب مجھے درد دینا پسند نہیں رہا۔ تم رو دو تو میری جان نکل جائے۔"
زاویان نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔ لایان چپ رہ گئی تھی۔
روحا کی سسکیاں زاویان کا دل چیرنے لگیں۔ وہ غائب دماغی سے روحا کو روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ یا شاید سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کے سامنے یہ کیا ہو رہا ہے۔
اس نے روڈ کو دیکھا جس پر لایان کا خون بارش کے پانی کے ساتھ ملتا اس کے قدموں سے بہتا جا رہا تھا۔
" نہیں نہیں پلیز ایسا مت کرو۔ دروازہ کھولو مجھے جانے دو۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ "
اسے بیسمنٹ میں بند کرنے کے بعد وہ بے حس بنا جا رہا تھا اور پیچھے لایان کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ وہ بری طرح رو رہی تھی۔
" اگر رایان کو کچھ ہوا تو میں تمہیں زندہ جلا دوں گا اور مرنے بھی نہیں دوں گا۔ سمجھی تم۔"
" مار دو۔"
اور زاویان وہی ہل گیا تھا۔ اس نے اس لڑکی کی آنکھوں میں امید ٹوٹتی ہوئی دیکھی تھی۔ اس کا غصہ ختم ہوا تھا یا شاید اسے تکلیف ہوئی تھی یا پھر کچھ اور تھا جو اس نے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کیا تھا۔
" جب تک تم سچ نہیں بولتی تم جیو گی بھی میری مرضی سے اور مرو گی بھی۔ لیکن تب تک تمہیں جینا ہوگا جب تک رایان نہیں مل جاتا اور جب وہ ملے گا تب میں خود تمہاری سانسیں گن گن کر بند کروں گا۔"
لایان نم آنکھوں سے اس کو دیکھتی رہ گئی تھی۔
" درد دینا تو آتا ہی ہے مجھے لیکن تمہارے چہرے پر یہ بے بسی دیکھ کر مجھے الگ ہی مزہ آتا ہے۔"
وہ مسکرایا تھا اور دوبارہ اسے بیسمنٹ میں بند کر کے چلا گیا تھا۔ پیچھے اس کی کیا حالت ہوئی؟ اس نے جاننے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔
" جھوٹ بول رہی ہو تم۔ سب جھوٹ ہے۔ میرے بھائی کا قتل تم نے نہیں تو پھر کس نے کیا ہے؟"
" میں نہیں ہوں۔ میں نہیں تھی زاویان۔ میں بھی انسان ہوں۔ اگر تم چاہو تو مجھے مار دو لیکن مجھ پر یہ الزام مت لگاؤ۔"
وہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔ بری طرح کانپ رہی تھی۔ وہ اس سے بہت زیادہ خوف زدہ تھی اس دن۔ وہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا سکا تھا۔
" تمہیں کیا فرق پڑتا ہے چاہے مجھے جتنی بھی تکلیف ہو۔"
" فرق پڑتا ہے پر تم نہیں سمجھو گی۔"
زاویان نے بمشکل سانس سینے سے باہر نکالی۔ نظریں لایان کے بے جان چہرے پر ٹھہر گئی تھیں۔
روحا لایان کو خود میں بھینچے پھوٹ پھوٹ کر روتی جا رہی تھی۔ یحیی نے پہلے زاویان کو دیکھا پھر روحا کو۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔
اور اس وقت۔۔۔
ان تین لوگوں کی زندگیاں۔۔۔
کچھ لمحوں کے لیے رک گئی تھیں۔۔۔
یا شاید۔۔۔
بدل گئی تھیں۔۔۔
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Yh kia hua 😲 i am speechless 😶 no no no yh ni hona chye ta 😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭 plz writer g bacha layan ko plz plz 🙏🏻 please 🙏🏻 please 🙏🏻 please 🙏🏻 please 🙏🏻
ReplyDelete