Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Zeher-e-Ishq Episode 39 And 40 - Last Double Episode by Munaza Niaz

 


زہرِ عشق

قسط 39

از منزہ نیاز 


2nd Last Episode 


مشال یونی سے باہر نکلی۔ موسم کافی خوشگوار ہو رہا تھا۔ بے اختیار نظر سامنے گئی تھی۔ روڈ کے دوسری طرف کار سے ٹیک لگائے دانش کھڑا تھا۔ مشال کے چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ آئی۔ دانش نے اس کو دیکھا پھر گلاسز ٹھیک کرتا اس کی طرف چلا آیا۔ 


کچھ لمحوں بعد دونوں پارک میں ایک بینچ پر فاصلے پر بیٹھے تھے۔ مشال کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ دونوں ہاتھ گود میں، چہرہ پر سکون تھا۔ دانش سامنے پارک میں ٹہلتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔

" آپ کا شکریہ۔" 


دانش نے گردن موڑ کر اس کو دیکھا۔

" کس لیے؟"


مشال نے چہرہ اس کی طرف موڑا۔

" ہر چیز کے لیے۔" 


دانش نے اس کے خوبصورت چہرے سے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا۔

" میرا فرض تھا۔"  


مشال چونکی۔

" فرض؟" 


دانش مسکرایا۔

" میں نے تمہیں پہلی بار اسی پارک میں، اسی بینچ پر بیٹھے دیکھا تھا۔ اس دن تمہارے آنسوؤں نے مجھے بے چین کر دیا تھا۔ میں سمجھنے سے قاصر تھا کہ ایک اجنبی لڑکی کی میں اتنی فکر کیوں کر رہا ہوں۔"  


مشال اس کو دیکھتی رہ گئی۔ وہ سمجھ گئی کہ سامنے بیٹھا شخص اس کو کیوں بچانے آیا تھا۔ دل میں لگی گرہ کھل گئی تھی جہاں اسے ہر مرد ایک جیسا لگتا تھا۔ 

مگر اب اس کی سوچ بدل رہی تھی۔ ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا لیکن ہر مرد دانش جیسا بھی نہیں ہوتا۔


اس نے نم آنکھوں سے چہرہ جھکایا۔ ٹھنڈی میٹھی ہوا ان دونوں کے چہروں سے ٹکرا رہی تھی۔ دانش دھیرے سے کھڑا ہوا اور اس کو دیکھا۔


" اگر آپ مناسب سمجھیں، تو کیا میں آپ کے گھر والوں سے آپ کا ہاتھ مانگ لوں۔" 


مشال نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا۔ دانش کی آنکھوں میں سوال تھا؟ ہلکی سی بے چینی تھی یا شاید کچھ اور؟ محبت؟ 


وہ نہیں سمجھی۔ بس دھیرے سے اپنا بیگ اٹھایا۔ اس کے آنکھوں میں دیکھا اور مسکرا کر پلٹ گئی۔


دانش نے ٹھنڈی سانس بھری۔ اس کو جاتے دیکھا اور مسکرا دیا۔

☆☆☆


ایشل نے آفس روم میں قدم رکھا تب ہی زاویان کا وہی آدمی عجلت میں باہر نکلا جس نے لایان کو حویلی سے باہر نکلوایا تھا۔ اب وہ اذان کا کتا تھا۔ 


ایشل نے نہ سمجھی سے اس کو جاتے دیکھا پھر اذان کی طرف، جو کھڑکی کے پاس اس کی طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا۔ اس کا عکس کھڑکی کی شیشے میں ایشل کو صاف دکھائی دے رہا تھا۔ 


" آج celebrate کرتے ہیں ایشل۔"  

اذان نے بنا اس کی طرف دیکھے کہا۔  


ایشل چونکی۔

" Celebrate? کس لیے؟"  


اذان مڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

" وہ لڑکی مر گئی۔ لایان ہاشمی۔ زاویان کی کمزوری۔ اب زاویان کی باری ہے۔"  

اذان کی آواز ٹھہری ہوئی اور پرسکون تھی۔ 


ایشل کا دماغ ہلا۔

" لایان؟ مگر تم نے کب؟"  

اگر اسے اذان کے اس پلان کے بارے میں پہلے سے معلوم ہوتا تو وہ زاویان کو بتا دیتی۔


" کبھی کبھی گیم جیتنے کے لیے اپنے ہی پیسز سکریفائی کرنے پڑتے ہیں۔"  


ایشل کا چہرہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ اذان نے گلاس بھر کر اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا جسے ایشل نے مسکراتے ہوئے خاموشی سے اٹھا لیا۔ اذان نے اپنے گلاس کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا بلکہ کرسی پر ٹیک لگائے گہری نظروں سے اس کو دیکھے گیا۔


" ویسے تمہیں پتہ ہے نا کہ مجھے سرپرائز پسند ہیں۔"  


ایشل کے ابرو اٹھے۔ اس نے گلاس واپس رکھ دیا۔

" سرپرائز؟ تم کب سے اتنے mysterious ہو گئے؟"  


اذان ہنسا پھر تالی بجائی۔ ایشل کو کچھ عجیب لگا۔ اچانک ہی اذان نے اپنا گلاس اٹھایا اور فرش پر دے مارا۔ ٹکڑے چاروں طرف بکھر گئے۔


" تمہیں لگا میں بے وقوف ہوں۔ کچھ نہیں جانتا۔"

اذان ایک دم غرایا۔


" کیا مطلب؟" 

ایشل نے معصومیت سے پلکیں جھپکائیں جیسے کچھ نہیں جانتی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔


" تم نے میرا ہر پلان، ہر خبر زاویان کو دی۔ ہر بار میرا پلان فیل ہوتا رہا۔ تم نے مجھے بے وقوف بنایا۔ میرا گیم برباد کیا اور تمہیں لگا میں کبھی جان نہیں پاؤں گا۔"

وہ کھڑا ہوا۔ آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔


" تم نے مجھے زاویان کے سامنے چھوٹا کرنے کی کوشش کی۔"  

اذان اس سے کافی متاثر نظر آ رہا تھا۔ 


ایشل پرسکون سی اس کو دیکھتی رہی۔ اذان نے پاکٹ سے ایک چھوٹی شیشے کی ڈبی نکالی۔ ایشل کی آنکھیں ایک دم پھیل گئیں۔


اذان نے اس کے سامنے وہ زہر اس کے گلاس میں ڈال دیا۔ سرخ مشروب جامنی ہو گیا۔

" تم ہی ہر دفعہ زہر دیتی رہی ہو۔ اب تم خود اس زہر کا مزہ لو نہ۔"  

اذان کی مسکراہٹ زہریلی ہوئی تھی۔ 


" نہیں، تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔"  

وہ فورا کھڑی ہوئی۔ ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ گئے۔

" پیو۔" 

اذان نے حکمیہ لہجے میں کہا۔ 


ایشل نے پہلے گلاس کو دیکھا پھر اذان کو، اگلے سیکنڈ وہ دروازے کی طرف بھاگی لیکن اذان اس سے زیادہ تیز نکلا۔ اس نے ایک ہی جھٹکے میں اس کی کلائی پکڑی۔ دوسرے سے گردن دبوچ لی۔ وہ پھڑپھڑا کر رہ گئی۔


" Leave me Azaan! You are hurting me." 


اذان کی آنکھیں سرخ ہوئیں۔

" تمہیں لگا تھا اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی میں تمہیں چھوڑ دوں گا؟ وہ بھی زندہ؟" 

وہ گرجا۔ 


اس سے پہلے کہ وہ اس کا گلا دباتا اچانک ہی دروازہ دھاڑ سے کھلا۔ اذان کے آٹھ گارڈز دندناتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ اذان نے غصے سے ان کی طرف دیکھا۔ 

" Who the hell give you permission to enter?" 


گارڈز نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اس پر جھپٹ کر اس کو ایشل سے الگ کر دیا۔

" ہاتھ ہٹاو مجھ سے یو bastard۔ تم سب صرف میرے حکم کے غلام ہو۔" 

وہ غصے سے پاگل ہونے لگا تھا۔ 


ایشل دھیرے سے سیدھی ہوئی۔ اس کا سانس پھول گیا تھا۔ لپ اسٹک پھیل گئی تھی۔ مسکارا بکھر گیا تھا۔ آنکھوں میں پانی تھا لیکن وہ آنسو نہیں تھے۔ 

وہ چل کر اس کے سامنے آئی۔ ٹشو نکالا پھر ہونٹ صاف کیے۔


" سرپرائز سویٹ ہارٹ۔" 

وہ ہنسی۔ 


اذان نے بے یقینی سے اس کو دیکھا۔ سارے گارڈز نے اس کو دبوچ رکھا تھا۔ 


" کیا سوچا تھا اذان شاہ ویر کہ صرف تم لوگ خرید سکتے ہو؟ کیا صرف تم ماسٹر مائنڈ ہو؟" 

ایشل نے سرگوشی کی۔ 


اذان نے جھٹکا دیا۔ خود کو چھڑوایا مگر اس کے آدمیوں کی گرفت کسی درندے جیسی تھی۔ 


" چھوڑو مجھے۔ میں نے تم لوگوں کے لیے کیا کیا نہیں کیا۔" 

لیکن کسی نے اس کو نہیں سنا۔ وہ اب صرف ایشل کے تھے۔


اذان کے چہرے پر بے بسی چھا گئی۔ اس کے اپنے آدمی اس کے نہیں رہے تھے۔ ایشل لمبی ہیل پر چلتی ٹیبل پر جھکی پھر اپنا گلاس اٹھایا جس میں تھوڑی دیر پہلے اذان نے زہر ملایا تھا۔ 

گلاس لیے وہ اذان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ 


" مجھے تم سے کبھی نفرت نہیں ہوئی اذان۔ نفرت مجھے تب ہوئی جب تم نے مجھے ایک مہرا، ایک کھلونا، ایک کمزور عورت سمجھنا شروع کیا۔" 

وہ درد بھری ہنسی ہنسی۔


اذان نے دوبارہ جھٹکا دیا۔ ایشل نے ایک آدمی کو آنکھ سے اشارہ کیا۔ آدمی نے زبردستی اذان کا منہ کھولا۔ وہ چیخ پڑا۔ جھٹکا دیا۔ مگر آٹھ آدمیوں میں وہ اکیلا بیچارا لگ رہا تھا۔ 


ایشل تھوڑا پاس آئی۔ گلاس اس کے ہونٹوں کے قریب لے گئی۔

" تم نے مجھے زہر دینا چاہا۔ اب میں وہی زہر اپنے ہاتھوں سے تمہیں پلاؤں گی۔"  

اذان نے پھر سے خود کو چھڑوانا چاہا لیکن گارڈز نے اسے مزید مضبوطی سے جکڑ لیا۔ وہ ہل بھی نہیں پا رہا تھا۔ 


ایشل نے قطرہ قطرہ مشروب اس کے حلق میں انڈیل دیا۔ وہ جھٹپٹایا۔ ایشل نے خالی گلاس زور سے زمین پر پھینکا۔ زہر نے فورا اثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ 


وہ ایشل کا زہر نہیں تھا جو لمحہ بہ لمحہ تڑپا کر مارتا۔ وہ اذان کا زہر تھا۔ جھٹکے میں ساری سانسیں کھینچ کر سب کچھ ختم کر دینے والا۔ 


اذان کی سانس رکنے لگی۔ آنکھوں کے سامنے دھند چھانے لگی۔ چہرہ سرخ اور رگیں ابھر آئیں۔

" ایشل۔۔۔ تت۔۔۔ تم۔۔۔ میرے۔۔۔ سا۔۔۔ تھ ایسا۔۔۔ نہیں۔۔۔ کر۔۔۔۔ سکتی۔۔۔" 


ایشل تھوڑا سا اس کی طرف جھکی۔ 

" میں کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ تمہارا گیم، تمہارے زہر سے، تم ہی پہ ختم ہوتا ہے اذان۔" 

اذان کے آنسو بہہ نکلے۔ وہ دھیرے دھیرے فرش پر گرتا گیا۔ 


ایشل نے اس کو دیکھا بھی نہیں بلکہ ٹک ٹک کرتی گلاس ونڈو کے سامنے جا کر رک گئی۔ 


شہر کی روشنیاں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ اس کا سایہ لمبا اور مضبوط لگ رہا تھا۔

Check Mate

☆☆☆

زہرِ عشق

چالیسویں اور آخری قسط 

از منزہ نیاز 


حویلی میں درد بھری خاموشی چھائی تھی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ زاویان لایان کے کمرے میں کھڑا تھا۔ کل رات سے وہ یہیں تھا۔ شاکڈ اور سن سا۔ آنکھیں سوجی ہوئی اور سرخ تھیں۔


وہ زندہ تھا۔ کیسے؟ اس کے بغیر سانس لے رہا تھا۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ آخر کیسے؟ اسے ہنسی آ رہی تھی یا شاید اس کا دماغ بلینک ہو چکا تھا۔ وہ کچھ سوچ بھی نہیں پا رہا تھا۔ 


وہ دھیرے سے پلٹا۔ وارڈروب سے اپنی سیاہ گن کیس نکالی۔ گن لوڈ کی۔ سیفٹی انلاک ہوئی۔ کار نکالی اور حویلی سے باہر نکل گیا۔


راستہ بار بار دھندلا پڑ رہا تھا۔ رفتار حد سے زیادہ تیز تھی۔ کار کے ٹائر زور سے چرچرائے تھے۔ اس کی کار ایک پینٹ ہاوس کے سامنے رکی۔ وہ باہر نکلا اور اندر کی طرف بڑھا۔ 


پہلا آدمی سامنے آیا۔ زاویان کی گولی اس کے سر میں لگی۔ دوسرا آیا۔ سینے میں لگی۔ پھر تیسرا آیا۔ گولیوں کی آواز چاروں طرف گونجنے لگی۔ ایک ایک کر کے ہر آنے والا گرتا گیا۔  


وہ سیدھا ایلیویٹر سے ٹاپ فلور پر پہنچا تھا۔ دروازہ زور سے کھولا اور سامنے۔۔۔

اذان کی لاش پڑی تھی۔ فرش پر۔ 


زاویان کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر نیچے جا گری۔ وہ جہاں کا تہاں کھڑا رہ گیا۔ سامنے گلاس ونڈو کے پاس ایشل کھڑی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ زاویان آ گیا ہے۔ وہ نہیں پلٹی۔ بس ٹھنڈے چہرے کے ساتھ کھڑی کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔


زاویان تھوڑا سا ہلا۔ ایشل کی طرف دیکھا۔ جھک کر اپنی گن اٹھائی اور باہر نکل گیا۔ شیشے کا دروازہ اتنی زور سے بند ہوا کہ اس میں دراڑ پڑ گئی۔


ایشل تب بھی نہیں ہلی۔ بس فون نکالا اور کال ملا کر کان سے لگایا۔

" نیو میٹنگز شیڈول کرو۔ نیا ایمپائر کریئیٹ کرنا ہے۔ میرا ایمپائر۔" 

اور ٹھک سے فون بند کر دیا۔ شہر کی روشنیاں اس کی آنکھوں میں جھلملا گئیں۔


دوسری طرف زاویان نے گاڑی نکالی اور قبرستان کے سامنے رکا۔ وہ اترا۔ سانس بھاری تھی۔ چہرہ بے حس۔ سیدھا لایان کی قبر کے سامنے آ کر رک گیا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔


اس کی نگاہیں مٹی پر جم گئی تھیں۔ وہ جھکا اور گھٹنوں پر گر گیا۔


میں تمہارے بغیر جینے کی 

پہلی کوشش میں مارا جاؤں گا 


" عشق تھا یا زہر؟ سمجھ نہ سکا۔ بس ایک بات یاد ہے۔ تمہارے بنا زاویان زرقاد زندہ نہیں رہ سکتا۔ تمہارا زاویان ہار گیا لایان۔ عشق جیت گیا۔ زہر جیت گیا۔"  

اس کی سرگوشی رات کے اندھیرے کو چیر گئی تھی۔ 


اس نے گن نکالی اور اپنی کنپٹی پر رکھ دی۔ نہ اس کا ہاتھ کانپا تھا نہ وہ خود۔ اور پھر۔۔۔ ٹریگر دبا دیا۔ 


زمین نے ایک اور جسم نگل لیا۔ ہر طرف خاموشی چھا گئی۔


نہ محبت بچی، نہ نفرت۔ صرف زہرِ عشق رہ گیا۔ اور یہیں زاویان زرقاد کی داستان ختم ہو گئی۔

☆☆☆


گھر کے لان میں خاموشی کا راج تھا۔ روحا اپنی امی کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرہ زرد اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی امی دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھیں۔ اس کی بند آنکھوں کے پیچھے ایک منظر چل رہا تھا۔


وہ غصے سے چیخ رہی تھی۔ یحیی اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

" چھوڑ دو مجھے یحیی۔ میں ان کو جان سے مار دوں گی۔ انہوں نے میری لایان کو مارا ہے۔ چھوڑو مجھے۔" 


" مر گئے ہیں وہ دونوں۔ روحا ریلیکس ہو جاؤ۔"  

یحیی نے اسے مضبوطی سے کندھوں سے تھاما۔ وہ رکی پھر ان دونوں آدمیوں کی طرف دیکھا جو خون میں لت پت ساکت پڑے تھے۔ ایک وہی زاویان کا آدمی تھا اور دوسرا شوٹر۔ جس نے لایان کو گولیاں ماری تھیں۔


یحیی نے دونوں کو ڈھونڈ نکالا تھا۔ زاویان کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہا تھا لیکن یحیی نے کسی کو نہیں چھوڑا تھا۔


" کیوں یحیی؟ کیوں انہوں نے میری لایان کو مار دیا۔ آخر کیا بگاڑا تھا اس نے ان کا۔ وہ تو معصوم تھی، بے قصور تھی۔ اس نے تو کبھی میرا دل بھی نہیں دکھایا پھر کیوں اس کے ساتھ یہ سب ہوا۔ کیوں یحیی؟ وہ کیوں مر گئی؟"  

وہ اس کے سینے سے لگی روتی جا رہی تھی۔ 


یحیی اس کو بتا نہیں سکا کہ جس دنیا میں لایان کو غلطی سے لایا گیا تھا وہ کالی تھی۔ وہاں لوگ ٹریپ کر کے مار دیے جاتے ہیں۔ دشمنی بڑے لوگوں کی ہوتی ہے لیکن نشانہ دوسرے بنتے ہیں۔ ان کے لیے کسی انسان کی جان کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ 


اس نے روحا کو بتا دیا تھا کہ اذان نے ہی یہ سب کیا۔ وہ شروع سے لایان کو ٹریپ کیے ہوئے تھا۔ تب سے، جب سے رایان لایان کے پیچھے تھا۔ اس نے سوچا کیوں نہ ایک تیر سے تین شکار کیے جائیں۔ پہلے اس نے رایان کو مارا پھر ایسے مواقع پیدا کیے جس سے لایان زاویان کی کمزوری بنتی گئی۔ وہ اس کے قریب ہوتا گیا۔ وہ جانتا تھا زاویان کی کمزوری صرف اس کے اپنے ہیں۔ وہ اس کو بری طرح توڑ کر مارنا چاہتا تھا۔ پہلے رایان کو مارا پھر لایان اس کا نشانہ بنی۔


اس دن جب زاویان حویلی سے نکلا تو یحیی نے اس کا پیچھا کیا تھا۔ زاویان سیدھا اذان کے پاس گیا تھا مگر وہاں جا کر زاویان کے ساتھ اسے بھی جھٹکا لگا تھا۔ کیونکہ اذان مر گیا تھا۔


" تم نے یہ کیا کر دیا ایشل؟ تمہیں اذان کو نہیں مارنا چاہیے تھا۔ تم نہیں جانتی کہ زاویان کی کیا حالت ہے۔"  

زاویان کے جانے کے بعد وہ ایشل سے بولا تھا۔


" اس نے مجھے مارنے کی کوشش کی یحیی۔ مجھے۔ تمہیں کیا لگتا ہے میں کوئی معمولی عورت ہوں۔ مجھ پر ہاتھ اٹھانے والا کبھی زندہ نہیں رہے گا۔"  

وہ سرخ آنکھیں لیے بولی تھی۔ یحیی چپ رہ گیا تھا۔ 


" زاویان کے پاس جاو۔ مجھے وہ ٹھیک نہیں لگ رہا۔"  

بولنے کے بعد وہ فورا چہرہ موڑ گئی تھی۔ شاید اس نے آنکھوں کی نمی چھپائی تھی یا شاید وہ جان گئی تھی کہ وہ کبھی زاویان کو حاصل نہیں کر سکتی۔


یحییٰ بھاگ کر باہر نکلا تھا مگر اسے دیر ہو گئی تھی۔ زاویان نے خود کو ختم کر دیا تھا۔ وہ اتنا ٹوٹ کر بکھرا تھا کہ یحیی اگر اس کو سمیٹتا تو خود کو زخمی کر بیٹھتا۔


" یہ کیا کر دیا زاویان تو نے۔"  

وہ اس کے پاس ہی گر گیا تھا۔ 


قبرستان میں موت جیسا سناٹا تھا۔ کیونکہ وہاں زندگی نہیں تھی۔ 


وہ روحا کو اس کے گھر لے آیا تھا۔ اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ اس کو پہلی مرتبہ سنبھال نہیں پایا تھا۔


" روحا بیٹا۔۔۔ میں سوچ رہی ہوں کہ لایا۔۔۔"  

وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ ان کا جملہ ادھورا رہ گیا۔


" امی۔۔۔" 

وہ چیخی۔

" نام بھی مت لیں اس کا۔" 

امی نے نم آنکھوں سے اس کی بکھری صورت دیکھی۔

" نفرت ہے مجھے اس سے سمجھی آپ۔ مجھے چھوڑ کر چلی گئی وہ۔ مجھ سے بات تک نہیں کی۔ ایک لفظ نہیں کہا۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے۔۔۔" 

اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ جملہ ادھورا رہ گیا۔ چہرہ سفید پڑ گیا۔


" میری آنکھوں کے سامنے مر گئی۔"  

اس کا غصہ دگنا ہو گیا۔

" جھوٹی تھی وہ۔ کہتی تھی ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ کہتی تھی کبھی تجھے نہیں چھوڑوں گی۔ ایسی ہوتی ہیں دوستیاں؟" 


امی کچھ کہہ نہیں پائیں۔ بس آنسو صاف کیے۔ اور وہ ابھی بھی بول رہی تھی۔

" نہیں۔۔۔ وہ بالکل بھی میری دوست نہیں تھی۔ اسے دوستی کا حق بھی نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو وہ کبھی مجھے چھوڑ کر نہ جاتی۔ اس نے میرا خیال بھی نہیں کیا امی۔ میرا خیال بھی۔"  


وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں گھس گئی۔ نظر سیدھا ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ایک چھوٹے سے میوزک باکس پر پڑی۔ وہ تحفہ لایان نے اس کو دیا تھا۔ 


شیشے کے باکس میں ایک چھوٹی سی بیلرینا گھومتی تھی اور کھلتے ہی ان کی پسندیدہ دھن بج اٹھتی۔ وہ ہولے ہولے چلتی اس کے پاس آئی۔ کانپتے ہاتھوں سے باکس اٹھایا۔

" تم نے تو کہا تھا کہ یہ دھن ہمیشہ بجتی رہے گی۔ ہم دونوں کی طرح۔"  


اس نے پوری طاقت سے اس کو فرش پر دے مارا۔

" جھوٹ تھا وہ سب۔ جھوٹی تھی تم۔"  


گلاس ٹوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔ بیلرینا کا ایک ہاتھ الگ ہو گیا تھا۔ دھن رک گئی تھی۔


" مجھے تمہاری کوئی یاد نہیں چاہیے۔ تم دوستی کے لائق ہی نہیں تھی۔ تم نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا۔" 

اس کے اندر اتنا غصہ، اتنا زہر، اتنی نفرت تھی کہ وہ لایان کا نام بھی نہیں لے رہی تھی۔ 


وہ بیڈ پر بیٹھی۔ بے اختیار نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی البم پر پڑی۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ البم اٹھائی۔ اوپر روحا ایکس لایان لکھا تھا۔


اس نے پہلا صفحہ پلٹا۔ 

لایان اور اس کی سکول یونیفارم میں ایک تصویر تھی۔ 

اس نے اگلا صفحہ پلٹا۔

جہاں وہ دونوں بارش میں بھیگتی ہنستی جا رہی تھیں۔

اگلی کالج کینٹین کی۔ 

دونوں ایک دوسرے کا لنچ چھین رہی تھیں۔ 

پھر ایک اور چڑیا گھر میں۔ 

دونوں بھاگتے ہوئے پانی ایک دوسرے پر پھینک رہی تھیں۔ 

ایک اور گھر کی چھت کی۔ 

جہاں دونوں بیٹھی آسمان پر تارے دیکھ رہی تھیں۔


ایک کے بعد ایک تصویر، ہر یاد، ہر لمحہ کھلتی گئی۔ اس کے ہاتھ کانپے۔ غصہ آیا۔ اس کا ارادہ تھا البم پھاڑنے کا لیکن لایان کا چہرہ، اس کی مسکراہٹ، اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر وہ کچھ بھی نہیں کر پائی۔ 


اس کا دل بیٹھا۔ گرم گرم آنسو تصویر پر گرتے گئے۔ کمرے میں اس کی سسکیوں کی آواز گونجنے لگی اور پیچھے کہیں لایان کی ہنسی گونج رہی تھی۔


کافی دیر یوں ہی گزر گئی۔ دروازہ ہلکی سی آہٹ کے ساتھ کھلا اور یحیی اندر داخل ہوا۔ اس کو دیکھ کر اس کے قدم وہیں رک گئے۔


وہ اس کے پاس جانا چاہتا تھا مگر تبھی وہ خود اٹھی۔ البم کو سینے سے لگایا اور میوزک باکس کے ٹکڑے اٹھانے لگی۔ آنسو تھم گئے تھے۔ دل بھر گیا تھا۔ اس نے دونوں چیزیں ایک باکس میں ڈال دیں۔

" یحیی پلیز مجھے یہاں سے دور لے جاؤ۔" 


وہ اس کو دیکھ کر رہ گیا۔ وہ دروازے کی طرف بڑھی۔ یحیی نے نرمی سے اس کے گرد بازو پھیلایا اور اسے ساتھ لگائے باہر نکل گیا۔

☆☆☆


تین سال بعد۔

سورج طلوع ہو رہا تھا۔ صبح کی خاموشی میں پرندوں کی بولیاں گونج رہی تھیں۔ آسمان رنگوں سے بھرا تھا۔ خوبصورت، نیلا، خواب جیسا۔ 


اتنے میں سفید اور نیلے سوٹ میں خوبصورت سی وہ لڑکی ایک دو سالہ بچے کا ہاتھ تھامے چلی آ رہی تھی۔ قبرستان میں ہو کا عالم تھا۔ وہ ایک قبر کے سامنے رکی۔ دھیرے سے جھک کر اس کے سامنے بیٹھی۔


" میں آگئی لالی۔ وعدہ کیا تھا میں نے کہ تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گی۔"  

وہ مسکرائی پھر پاس کھڑے بچے کا ہاتھ تھاما۔


" یہ روحان ہے۔ یاد ہے تو نے کہا تھا اگر تیرا بیٹا ہوا تو تو روحان رکھے گی۔ میرا ہوا تو میں بھی یہی رکھوں گی۔ دیکھ لالی میں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔"  

اتنے میں ایک پرانی یاد نے ذہن کے پردے پر دستک دی۔


وہ دونوں ٹیرس پر بیٹھی تھیں۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ شام ہو رہی تھی۔ دونوں چائے پی رہی تھیں اور باتیں بچوں تک آ گئی تھیں۔


" مجھے لگتا ہے تیرے پانچ بچے ہوں گے اور میرا ایک بھی نہیں۔ بیچاری تو۔"  

لایان نے ہنس کر اسے چھیڑا۔


" چپ کر۔ مجھے لگتا ہے تیرے دو ہوں گے اور میرے تین اور پہلے خالہ میں بنوں گی۔ تو مجھ سے بڑی ہے اس لیے تیری شادی بھی پہلے ہوگی۔" 

روحا نے اس کے بال کھینچ کر کہا۔


" ایک سال ہی بڑی ہوں۔ دس سال نہیں اور پہلے خالہ میں ہی بنوں گی تو دیکھ لینا۔" 

لایان نے چلا کر کہا۔ روحا نے گھور کر اس کو دیکھا۔


" اچھا ایک کام کرتے ہیں۔ تیرے نام کے آر او ایچ (Roh) لے لیتے ہیں اور میرے نام کے آخری کے اے این (an)۔ یہ بنا روحان۔ کتنا کیوٹ لگے گا نا۔" 

لایان نے اکسائٹڈ ہو کر کہا۔ روحا کی آنکھیں چمکیں۔

" چل ڈن کرتے ہیں۔ جس کا پہلے ہوا وہ یہی نام رکھے گا۔" 


روحا کی آنکھیں بے اختیار نم ہوئیں۔ ننھا روحان کبھی ماں کو دیکھتا تو کبھی قبر کو۔ 


ہوا کا ایک جھونکا آیا اور روحا کے چہرے سے ٹکرایا۔ بالوں کی لٹ پیچھے ہوئی۔ اس نے دھیرے سے مٹی پر ہاتھ پھیرا پھر اٹھ گئی۔ روحان کا ہاتھ تھاما اور پلٹ گئی۔


مٹی سے ایک آواز اٹھی تھی۔ بالکل ہوا جیسی۔ دھیمی سرگوشی ہو جیسے۔ 


روحان۔


لایان ہاشمی کی قبر کے ساتھ ایک اور قبر بھی تھی۔ زاویان زرقاد کی۔ بے نام سی۔


ختم شد


✦ آخری پیغام ✦


آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے آخر میں یہ کیا کر دیا؟

میں نے لایان کو کیوں مارا؟ پھر زاویان کو بھی کیوں اس انجام تک پہنچایا؟


سچ یہ ہے کہ لایان کی موت ابتدا ہی سے طے تھی۔

میں چاہتی بھی تو اسے نہیں بچا سکتی تھی۔ اس کی داستان اسی اختتام پر مکمل ہوتی تھی۔ وجہ میں نے آخری قسط میں واضح کر دی ہے۔ اذان اس کے پیچھے شروع سے تھا، براہِ راست نہیں بلکہ رایان کی وجہ سے۔ لایان اس کھیل کا حصہ بن چکی تھی اور اس کھیل میں کوئی زندہ نہیں بچتا۔


اور زاویان؟

اسے کیوں مارا گیا؟ اس کے پاس کب سے کیا بچا تھا؟


ایک باپ، جو بچپن میں چھن گیا۔


ایک بھائی، رایان، جو اس کا آخری سہارا تھا۔


پھر لایان، جو اس کی پوری کائنات بن گئی۔



جب رایان کے بعد لایان بھی اسے نہ ملنے کے لیے دنیا سے رخصت ہوگئی، تو زاویان خالی ہو گیا۔ بالکل اندر تک۔

اذان مر چکا تھا، یعنی انتقام کا مقصد بھی ختم۔

اب اس کے پاس نہ کھونے کو کوئی تھا، نہ پانے کو۔

اور جب کسی انسان سے زندہ رہنے کی وجہ چھن جائے، تو اس کے پاس موت ایک فیصلہ نہیں رہتی، ایک سکون بن جاتی ہے۔


آپ میں سے بہت سے لوگ شاید اس انجام پر ناراض بھی ہوں۔

لیکن یقین کریں، یہ کہانی یہاں تک خود آئی ہے۔

میں نے زاویان کو مارنے کا ارادہ شروع میں نہیں رکھا تھا مگر جیسے جیسے میں اس کے سفر کے ساتھ چلی، مجھے محسوس ہوا کہ اس کی کہانی کا آخری صفحہ زندگی نہیں، بلکہ خاموشی ہے۔

اور میں نے وہی لکھا، جو ان کرداروں کے مقدر میں تھا۔


منزہ نیاز

Comments

  1. Outclass hat's off to the writer 🫶🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻 as you said yourself that ending pe sab k apnay apnay opinion ho gy. I wish k layan or zavyan na marty mera ek favorite couple to happy ending ni paa saka but thanks k ek couple ki ending happy hue 🫶🏻 and a love meer and roha more but layan or zavyan b kam ni hain or unka dukh hmsha rhy ga by GOD jab layan ko goliya lagnay wala scene ta ap ne esa likha mje feel hua jse sab mre sath hua ho fantastic ap ki tehreer wqyye hi qabal e Satish h khair mn bayan ki kar pa rahi thek se but kamal novel ta gonna miss it so much and best of luck to you for next novel hope so k next mn happy ending ho ❤️❤️❤️ lots of love from your biggest fan ❤️❤️🫶🏻🫶🏻❤️❤️❤️❤️❤️❤️💕💕💕💝💝💝😭😭😭😭

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts