Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Aks e Maut - EP 1 by Munaza Niaz - Horror Novel
مری کے گھنے جنگل میں بھاری بوٹوں کی دھمک گونج رہی تھی۔ رات کا وقت تھا۔ جنگل سنسان اور ڈراؤنا دکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی ہاتھ میں ٹارچ پکڑے چل رہا تھا۔ پیٹھ پر بیگ لٹک رہا تھا۔ سر پر کیپ، جسم پر جیکٹ، جس پر نمی تھی۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ آسمان سیاہ تھا۔ روشنی ناپید۔
اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک اسٹک تھی۔ جس کی مدد سے وہ راستے میں آنے والی جھاڑیاں ہٹا رہا تھا۔ وہ ایک ہائیکر تھا۔ ایک جگہ رک کر اس نے جینز کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کمپاس نکالا۔ مگر کمپاس کی سوئی رک چکی تھی۔ اس نے بھنویں سکیڑ کر کمپاس ہلایا مگر وہ جامد رہا۔ اس نے اسے واپس رکھا اور دوبارہ چلنے لگا۔
اچانک چلتے چلتے وہ ایک جگہ رکا۔ جنگل کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت روشنیوں میں گھرا گھر تھا۔ سنہری اور سفید روشنی دروازے اور کھڑکیوں سے نکل رہی تھی۔ گھر کی دیواریں برف جیسی سفید اور چمکتی ہوئی تھیں۔ جیسے کوئی سپنوں کا گھر ہو۔
اجنبی ٹھٹکا مگر بے اختیار ہی اس کے قدم گھر کی طرف اٹھنے لگے تھے۔ اس کے پیچھے کھڑا سنسان جنگل دھوئیں میں تحلیل ہو کر غائب ہو گیا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا اور اندر قدم رکھے۔
سامنے ایک بڑا سا ہال تھا۔ فرش پر سرخ مخملی قالین بچھی تھی۔ دیواروں پر خوبصورت چہروں والی پینٹنگز اور مصوری۔ چھت پر سے بہت بڑا کرسٹل کا فانوس لٹک رہا تھا اور نظروں کے بالکل سامنے ایک شیشہ کھڑا تھا۔
شیشے کی چاروں سائیڈز سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ وہ بے اختیار اس کی طرف بڑھا۔ سرخ نرم قالین اس کے بھاری بوٹوں کے نیچے دبتا گیا۔ ٹارچ کی روشنی اس گھر کی روشنی میں دب گئی تھی۔ اس کے چلتے قدم اس وقت رکے جب زمین میں ایک دم سے دراڑ پڑی تھی۔ شیشے کے سامنے زمین سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ نیلا، شفاف، چمکتا ہوا پانی۔ اجنبی کا گلا خشک ہوا۔ ایک دم سے پیاس جاگ اٹھی تھی۔ وہ چشمے کے قریب پہنچا جہاں چھوٹی سی خوبصورت جھیل بن چکی تھی۔
جھیل میں ستاروں جیسی چمک تھی۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا اور دونوں ہاتھ پانی میں ڈال دیے۔ ہاتھوں میں پانی بھر کر وہ لبوں کے قریب لے گیا۔
سامنے کھڑے آئینے میں اس کا عکس اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ اس نے ایک گھونٹ لیا۔ میٹھا، ٹھنڈا پانی۔ اور جب اس نے نگلا تو ذائقہ بدل گیا۔ نظریں ہاتھوں پر گئیں۔ پانی سرخ ہو چکا تھا، جیسے خون ہو۔ اس کے ہونٹ اور ٹھوڑی سرخ ہو چکے تھے۔ اور تب اسے احساس ہوا وہ پانی نہیں خون تھا۔
اس نے سر اٹھا کر آئینہ دیکھا جس میں وہ خود کہیں نہیں تھا۔ جھیل کا پانی خون میں بدل چکا تھا۔ وہ تیزی سے اٹھا اور چاروں طرف دیکھا۔ برف جیسی سفید دیواریں سیاہ اور جلی ہوئی تھیں۔ سرخ قالین خون کی ندی میں ڈھل گیا۔ دیواروں پر لگی خوبصورت چہروں والی پینٹنگز بھیانک اور ڈراونے چہروں میں بدل چکی تھیں۔ گھر کی خوبصورت کھڑکیاں اس وقت ٹوٹی ہوئی اور خستہ حال تھیں۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔
اس نے خوفزدہ ہو کر ٹارچ روشن کی مگر وہ جلتے بجھتے بند ہو گئی۔ ٹوٹی کھڑکی سے چاند کی روشنی آئینے پر گر رہی تھی۔ اجنبی کا جسم پسینے میں نہا گیا۔ آئینہ اب بھی ویسا کا ویسا ہی تھا۔ خوبصورت۔ مگر اس کی سنہری روشنی سیاہی میں بدل گئی تھی۔ چھت پر لٹکتا فانوس لہو رنگ ہو چکا تھا۔ اس نے آئینے میں دیکھا۔ اس کے پیچھے سیاہ دھند میں لپٹے ہیولے ظاہر ہونے لگے۔ اس کا سانس رکا۔ ٹارچ زمین پر گر گئی۔
وہ ہیولے، لمبے اور ٹیڑھے میڑھے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں ٹہنیوں جیسی پتلی اور لمبی۔ کچھ کے چہرے آدھے گلے ہوئے اور کچھ کی آنکھیں خالی اور سفید بالز جیسی۔ وہ جھٹکے سے پلٹا مگر اس کے پیچھے کوئی نہیں تھا۔ اس نے دوبارہ پھٹی آنکھوں سے آئینے میں دیکھا۔ وہ بدروحیں ویسی کی ویسی اس کے پیچھے کھڑی تھیں۔
اس نے گھبرا کر ایک قدم پیچھے لیا۔ روحیں حرکت میں آئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ آئینے سے باہر نکلنے لگیں۔ ان کے کالے لمبے بال سانپوں کی طرح بل کھا رہے تھے۔ اجنبی نے بھاگنا چاہا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ جامد رہا۔ اور تبھی اس نے اپنے سر پر بوجھ سا محسوس ہوا۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا۔ ایک بدروح اس کے سر پر کھڑی تھی۔ اس کی چیخ نکلی اور جب وہ پلٹا سینکڑوں کی تعداد میں روحیں اس کے بالکل قریب پہنچ چکی تھیں۔
" نہیں نہیں میرے پاس مت آؤ۔"
وہ زور سے چیخا۔
ان کے لمبے پتلے دھندلے ہاتھ اس کا چہرہ پکڑ چکے تھے۔ دھیرے دھیرے وہ ان کی لپیٹ میں آتا گیا۔
اس نے ہاتھ مارے مگر ان کو چھو نہ سکا۔ اجنبی کی پتلیاں سرخ ہو گئیں۔ ہونٹ سیاہ اور چہرے پر دراڑیں پڑ گئیں۔ جسم اکڑ کر جم گیا تھا۔
اور تب ہی دھماکہ ہوا۔ گھر کی دیواریں ٹوٹ کر ہوا میں بکھرتی غائب ہو گئیں۔ پورا گھر اندھیرے اور دھول میں لپٹ گیا۔ دھول میں صرف ایک چیز زمین پر پڑی چمک رہی تھی۔
وہی خوبصورت آئینہ۔ وہاں نہ گھر بچا، نہ روحیں اور نہ ہی آدمی۔ جنگل میں محض خاموشی رہ گئی اور وہ ٹھنڈا آئینہ۔ جس پر چند قطرے خون کے رہ گئے تھے۔
اجنبی کا خون۔
••••
مری کی سڑکیں لوگوں کی بھیڑ بھاڑ سے بھری تھیں۔ موسم ٹھنڈا اور خوشگوار تھا۔ وہ کھلے بالوں میں سر پر اونی ٹوپی پہنے جیکٹ کی جیب میں ایک ہاتھ ڈالے چل رہی تھی۔ اس کی سرخ و سفید رنگت کسی پھول کی مانند کھل رہی تھی۔ وہ تقریباً تئیس، چوبیس سالہ خوبصورت لڑکی تھی۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک بچی کا ہاتھ تھا۔ نو سالہ بچی۔ جس کی پیٹھ پر بیگ لٹک رہا تھا۔ وہ یونیفارم میں ملبوس تھی۔ موٹی جیکٹ اور آدھا چہرہ ٹوپی میں چھپا ہوا۔
بچی کے دوسرے ہاتھ میں سنیک تھا جسے وہ دانتوں سے کتر رہی تھی۔ دونوں تیز تیز چلتیں بھیڑ میں راستہ بناتیں آگے بڑھ رہی تھیں۔ چلتے چلتے اچانک ہی لڑکی کے قدم بھاری ہوئے۔ وہ رک گئی۔ بچی نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا۔ لڑکی نے گردن دائیں طرف موڑ کر ایک شاپ پر نظر ڈالی۔ اوپر نام لکھا تھا۔
" اشیاتِ قدیمہ۔"
لڑکی کو تجسس جاگا۔ اندر سے ایک آواز آئی جیسے۔
" اندر جاؤ۔"
اس کے قدم خود بخود شاپ کی طرف بڑھے۔ دروازے کے سامنے رک کر اس نے دوبارہ سر اٹھا کر نام پڑھا۔
" اشیاتِ قدیمہ۔"
جو جلی ہوئی لکڑی پر سنہری لفظوں میں لکھا تھا۔ اس نے قدم اٹھایا۔ بچی کی گرفت اس کے ہاتھ پر سخت ہوئی۔ اس نے چونک کر دیکھا۔ بچی سنیک کھانا بھول کر اس کو دیکھتے نفی میں سر ہلانے لگی۔ لڑکی مسکرا کر ہلکا سا جھکی۔
" ہم بس دیکھ کر آجائیں گے میرال۔"
نہال نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور اندر داخل ہو گئی۔ میرال نے کچھ نہیں کہا۔ وہ دوبارہ سنیک کھانا شروع کر چکی تھی۔
اس نے جیسے ہی اندر قدم رکھا فضا میں بوجھل پن محسوس ہوا۔ دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ اندر کا ماحول بے حد عجیب تھا یا شاید عجیب لفظ بھی اس جگہ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھ رہا تھا۔ شاپ کافی کشادہ تھی۔ شیشے کے کاؤنٹر کے دوسری طرف ایک لکڑی کی کرسی رکھی تھی۔ کرسی کے سیدھا اوپر ایک بلب لٹکا ہوا تھا۔ جو پنڈولم کی طرح آگے پیچھے جھول رہا تھا مگر جل نہیں رہا تھا۔
نہال نے آنکھیں سکیڑ کر ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کر دیا۔ کاؤنٹر کی اختتامی دیوار پر ایک ٹیوب لائٹ جل بجھ رہی تھی۔ بالکل ہلکی سی جیسے کوئی خرابی ہو۔ دیوار پر پرانی لکڑی کے شیلز تھے جن میں بے حد موٹی سیاہ اور سرخ جلد والی کتابیں ترتیب سے رکھی تھیں۔
اس نے سانس لی۔ فضا میں پرانے کاغذات اور لوہے کی بو تھی۔ اس نے چہرہ جھکا کر گلاس کاؤنٹر پر ہاتھ رکھا۔ وہاں سامنے porcelain کی گڑیا رکھی تھیں۔ چھوٹی چھوٹی البتہ ترتیب سے۔
نہال نے غور سے دیکھتے مزید چہرہ جھکایا۔ اسے لگا وہ گڑیا اسے ہی گھور رہی ہیں۔ اس نے فوراً نظروں کا زاویہ ساتھ رکھی چیزوں پر موڑ لیا۔ وہاں پرانے تعویز تھے۔ جن پر مٹا مٹا سا کچھ لکھا تھا۔ وہ کوئی عجیب سی زبان تھی۔ وہ سمجھ نہیں سکی۔
وہ آگے بڑھی۔ وہاں ہاتھ سے بنائے گئے انسانی چہرے تھے۔ جیسے ماسک ہوتے ہیں۔ آنکھیں بڑی بڑی اور منہ بند تھے۔ نہال نے سانس روک لی۔ وہ دوبارہ آگے بڑھی۔ گلاس کی بوتلیں۔ جن میں سوکھے مرے ہوئے چھوٹے چھوٹے کچھوے اور سانپ تھے مگر وہ ویسے نہیں تھے جو ایکسپیریمنٹ کے لیے ایک سائنس لیب میں ہوتے ہیں۔
وہ مڑی اور ایک الماری کی طرف بڑھی۔ شیشے کے ڈھیر سارے باؤل ایک لائن میں ترتیب سے رکھے تھے۔ اندر سرخ مایا تھا۔ بے حد سرخ۔
ٹک ٹک ٹک۔۔۔
نہال کا دل تیزی سے دھڑکا۔ اس نے گھبرا کر چاروں سمت دیکھا۔ آواز کہاں سے آ رہی تھی۔ وہ سمجھ نہیں سکی۔ آواز کسی گھڑی کی تھی یا شاید کسی اور چیز کی؟
ہلکی سی روشنی اس کے چہرے پر پڑی۔ اس نے پلکیں جھکا لیں۔ پھر نظریں اٹھا کر دیکھا۔ بند کھڑکی کے سامنے ایک سرخ کپڑے کے نیچے کچھ رکھا تھا۔ ابھی وہ آگے بڑھتی کہ کچھ کھٹکا۔ اس نے تیزی سے گردن موڑی۔ بک شیلز کے ساتھ ایک چھوٹا دروازہ تھا۔
وہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔ نہال فوراً سیدھی ہوئی۔ کندھے ڈھیلے پڑے۔ اس نے میرال کو دیکھا جو گلاس کاؤنٹر پر ہاتھ رکھے ان ماسکس کو دیکھ رہی تھی جو اصلی لگتے تھے۔ وہ مسکرائی۔
میرال کو ہر چیز گہرائی سے دیکھنے کی عادت تھی۔ چاہے وہ انسان ہوں یا کچھ اور۔
" کیا تمہیں وہ اچھے لگے؟"
نہال نے جھک کر پوچھا۔ میرال نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔
وہ شخص چلتا ہوا ان کے سامنے آیا اور دونوں ہاتھ کاؤنٹر پر رکھ دیے۔
" میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟"
نہال نے گلا کھنکارا۔ رسٹ واچ پر ٹائم دیکھا لیکن یہ کیا؟ گھڑی رک چکی تھی۔
" اسے کیا ہوا؟"
اس نے کلائی پر ہاتھ مارا مگر وہ نہیں چلی۔
" میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں میم؟"
لڑکے نے زور دے کر سوال دہرایا۔
" ہاں مجھے ایک میوزیکل باکس چاہیے۔"
وہ مسکرائی۔
" شیور۔"
لڑکے نے کاؤنٹر کھولا اور ایک میوزیکل باکس نکال کر اس کے سامنے رکھا۔
نہال کی آنکھیں پھیل گئیں۔ باکس شیشے کا تھا۔ اندر ایک ڈانسنگ کپل تھا۔ ساکت کھڑا مگر بے حد خوبصورت۔ نہال نے اٹھایا۔ غور سے دیکھا۔
" میرال یہ چاہیے؟"
میرال نے چونک کر اس کو دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔
اس نے باکس واپس رکھ دیا۔ لڑکے نے ایک کتاب نکالی اور اس کے سامنے رکھ دی۔
" یہ ضرور پسند آئے گی."
" دی سیکنڈ ورلڈ۔"
اس نے ٹائٹل پڑھا اور اوراق پلٹے۔
اندر تصویریں تھیں۔ جیسے جیسے وہ صفحے پلٹ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔ ہر تصویر ایک نئی دنیا تھی۔
صاف نیلی جھیلیں جن کی تہہ گلابی پتھروں سے سجی تھیں۔ اوپر چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ دوسری تصویر میں سفید بادلوں کا فرش تھا۔ سفید کپڑوں میں ملبوس انسان نورانی چہرے کے ساتھ مسکرا رہے تھے۔ اتنے خوبصورت چہرے اس نے کبھی سوچے بھی نہیں تھے۔
اس نے اگلا صفحہ پلٹا۔ پھولوں کی وادی۔ سرخ نارنجی بڑے بڑے گلاب۔ بہار سے بھی زیادہ کھلے ہوئے۔ اس نے سانس بھری۔ خوشبو اس کے اندر اتر گئی۔ اسے حیرت ہوئی کہ وہ حقیقت میں یہ سب محسوس کر پا رہی تھی۔
" میرال یہ دیکھو۔"
اس نے اگلے صفحے پر حور جیسی دکھنے والی لڑکیاں اس کے سامنے کیں۔ میرال نے ہولے سے گردن اٹھا کر ان لڑکیوں پر نظر ڈالی۔
" دیکھو کتنی خوبصورت ہیں۔ بالکل تمہاری طرح۔"
نہال نے اس کی طرف قدم بڑھائے۔
میرال کی آنکھیں ایک ہی نقطے پر جم گئیں۔ ان لڑکیوں کے چہروں پر۔ اس کی خوبصورت لب کھلے۔ آنکھیں پلکیں جھپکنا بھول گئیں۔ اس کے قدم بے اختیار پیچھے ہوئے۔ لڑکا غور سے میرال کو دیکھنے لگا۔
اگلے ہی سیکنڈ پلک جھپکتے اس نے نہال کے ہاتھ سے کتاب چھین کر بند کر دی۔وہ ہڑبڑا گئی۔
" پیک کر دوں."
وہ بولا۔
نہال نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ پھر دوبارہ میرال کو دیکھا جو دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جیسے یہاں سے بھاگنا چاہتی ہو۔ اس نے کتاب پکڑی۔ پیسے ادا کیے۔ میرال کا ہاتھ تھاما اور باہر چلی گئی۔
لڑکے نے ان کے جاتے ہی ایک دراز کھولی۔ کیپ نکال کر سر پر چڑھائی۔ کاؤنٹر کھول کر ایک ماسک اٹھایا اور ان کے پیچھے ہی باہر چلا آیا۔
جس سمت وہ دونوں گئی تھیں۔ وہ لڑکا ان کی مخالف سمت مڑ گیا۔ شاپ کا دروازہ خود ہی بند ہو کر لاک ہو چکا تھا۔
•••••
پتھریلی روش پر اس کے بھاری قدموں کی آواز گونج رہی تھی۔ گلی تھوڑی سی کشادہ اور صاف ستھری تھی۔ کافی فاصلے پر سرخ لیمپ جل رہا تھا۔ اندھیرا گہرا تھا۔ ایک آوارہ بلی کچرے کے ڈبے میں منہ دیے اپنی بھوک مٹا رہی تھی۔ وہ ہلکا سا چہرہ جھکائے جیکٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ ڈالے چل رہا تھا۔ سر پر کیپ اور چہرے پر ماسک تھا۔ وہی عجیب، ڈراؤنا۔
اس نے چہرہ ہوڈی اور کیپ سے کافی حد تک چھپا رکھا تھا۔ گلی بالکل سنسان تھی۔ وہ رکا۔ نظر سیدھا سامنے گئی۔ ایک لڑکا موبائل اسکرول کرتا اسے اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ اس کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ رینگ گئی۔
وہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ چہرہ مزید جھکا لیا۔ جیسے ہی وہ لڑکا اس کے سامنے سے گزرا۔ لیمپ پوسٹ بلنک کرنے لگا۔ پلک جھپکتے ایک ہی سیکنڈ میں اس لڑکے کی گردن اس کے ہاتھ میں آئی تھی۔ دوسرے ہی سیکنڈ پوری قوت سے لڑکے کا وجود دیوار میں جا لگا۔
لڑکے کی آنکھیں پھٹ گئی۔ سانس پھنس گیا۔ اس کے پیر ہوا میں جھول رہے تھے۔ اس نے بند ہوتی سانسوں کے ساتھ ہاتھ مار کر اس کی کیپ اتارنا چاہی۔ مگر وہ اس کی پہنچ سے دور تھا۔
لمحہ بہ لمحہ وہ اوپر ہوتا جا رہا تھا۔ کھردری دیوار اس کی پیٹھ کو زخمی کر رہی تھی۔
" چھ۔۔۔چھو۔۔۔ڑ۔"
اس نے ہوڈی اتاری۔ دوسرا ہاتھ لڑکے کے سینے پر گیا۔ اس کی سنہری آنکھیں رنگ بدل کر سرخ ہو گئیں۔ اور اب وہ سرخ آنکھیں اس لڑکے کی بے بس آنکھوں میں گھسی ہوئی تھیں۔
اس کے ہونٹوں کے کونے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ ایک ہی پل میں اس کا ہاتھ پورا اس لڑکے کے سینے کو کاٹتا اندر گھس گیا۔ لڑکے کے ہوا میں لہراتے پیر ڈھیلے پڑ گئے۔ آنکھیں ایک ہی نقطے پر جم گئیں۔
سامنے، لمبے سیاہ دھوئیں میں لپٹے ہیولے اس شخص کے جسم سے نکل کر اس لڑکے کی طرف بڑھے۔ اس نے اس لڑکے کا دل باہر نکال لیا۔ سیاہ بدہیولے اسے پوری طرح لپیٹ چکے تھے۔ اس نے دل ہاتھ میں تھاما اور اس کی گردن چھوڑ دی۔
لڑکا ہوا میں ہی معلق رہا۔ اس کی گردن ایک طرف ڈھلک چکی تھی۔ ہولے ہولے اس کا مردہ وجود سیاہ ہوتا گیا۔ جب کہ وہ اسی طرح کھڑا مسکراتا اس کو دیکھتا رہا۔ ہاتھ میں دھڑکتا دل، جس میں سے خون قطرہ قطرہ نیچے گر رہا تھا۔
وہ بدروحیں اس لڑکے کے جسم سے لپٹتی غائب کرتی ایک ہی جھٹکے میں بکھر گئیں۔ اس نے وہ دل کسی قیمتی شے کی طرح ایک رومال میں لپیٹا اور جیکٹ کی جیب میں ڈال دیا۔
" جو دوسری دنیا کا حصہ بنتا ہے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔"
اس کی سرخ آنکھیں واپس سنہری ہو چکی تھیں۔ اور وہ پلٹ چکا تھا۔ جبکہ کچرے کے ڈبے کے پاس وہ آوارہ بلی مردہ پڑی تھی۔
جاری ہے
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment