Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Aks e Maut EP 2 by Munaza Niaz - Horror Novel
نہال اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہی تھی۔ کمرے میں گہری خاموشی تھی۔ اس کی دھیمی سانسیں اس خاموشی میں گونج رہی تھیں۔ اس کے لمبے سیاہ بال بیڈ پر سے لٹک رہے تھے۔ کھلی کھڑکی کے سامنے پڑا سفید پردہ ہوا کی وجہ سے حرکت کر رہا تھا۔ ہلکی سی آہٹ ہوئی، اس نے کروٹ بدلی۔ اب اس کا چہرہ چھت کی طرف تھا۔ چاند کی روشنی جو فرش پر گر رہی تھی کہ ایک دم سے روشنی کا رخ بدل گیا۔ روشنی گھومتی ہوئی آئینے پر پڑی اور وہاں سے سیدھا نہال کے چہرے پر۔
نہال کی پلکیں ہلکی سی لرزیں۔ بند آنکھوں کے پیچھے ایک منظر چل رہا تھا۔ وہ اپنے گھر کے لان میں کھڑی تھی۔ آسمان کروڑوں رنگ برنگی ستاروں سے جگمگا رہا تھا۔ چاند نہیں تھا۔ ستاروں کی روشنی ہی اتنی تھی کہ اسے ہر چیز صاف دکھائی دے رہی تھی۔ لان کی گھاس سنہری تھی جو سونے کی مانند چمک رہی تھی۔ اس نے مڑ کر دیکھا اس کا گھر موتیوں سے بنے گھر میں بدل چکا تھا۔ سفید موتی۔ اس نے گردن اٹھائی اور گھر کے پاس کھڑے لمبے درختوں کو دیکھا۔ ان کا رنگ سبز نہیں تھا بلکہ چاندی جیسا تھا۔
وہ واپس پلٹی اور وہیں ٹھٹکی۔ سامنے ایک آئینہ تھا۔ اس کے قد سے بھی بڑا۔ اس کے چاروں طرف سنہری روشنی تھی۔ وہ بے اختیار اس کی طرف بڑھنے لگی۔ جیسے ہی اس نے قدم اٹھایا زمین میں دراڑ پڑ گئی۔ لمحے میں آئینے کے سامنے چشمہ پھوٹ پڑا۔ صاف، نیلا، ٹھنڈا پانی دھار کی صورت نکلتا ایک تالاب بن گیا۔ نہال نے پانی دیکھتے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ گلا ایک دم سوکھ گیا تھا۔ اس نے دوسرا قدم اٹھایا کہ کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اس نے چونک کر دیکھا وہ میرال تھی۔ وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی۔ اس نے دوبارہ آئینے اور پھر پانی کو دیکھا۔ اسے لگا آئینہ اسے اپنی طرف بلا رہا ہے۔ اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ میرال کے ہاتھ سے چھڑوا لیا۔ وہ دو قدم ہی چلی تھی کہ اس کے آس پاس کا منظر بدلنے لگا۔ پلک جھپکتے وہ ایک جنگل میں پہنچ گئی۔ ارد گرد دھواں تھا۔ جنگل بالکل سوکھا۔ درختوں پر ایک بھی پتہ نہیں تھا۔ وہ چاروں طرف دیکھتی آگے بڑھنے لگی۔ سامنے ایک کھنڈر نما عمارت تھی۔ ٹوٹی دیواریں اور چھت بھی آدھی۔ اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں بھی تھیں۔ اس نے لکڑی کا بھاری دروازہ دھکیلا اور اندر داخل ہو گئی۔ سامنے ایک لمبی راہداری تھی۔ دونوں طرف بوسیدہ دیواریں اور راہداری کے آخری سرے پر ایک ٹوٹی کھڑکی تھی۔
کھڑکی کی اوپری دیوار غائب تھی۔ جس سے باہر کا منظر صاف دِکھ رہا تھا۔ جنگل اور دھواں۔ وہ آگے بڑھی تھی کہ پھر سے رک گئی۔ اس نے چہرہ جھکایا۔ نظر پیروں پر گئی۔ ایک سیاہ، پتلا، لمبی انگلیوں والا بھدا ہاتھ اس کے پیر کو پکڑے ہوئے تھا۔ اس کی چیخ نکل گئی۔ اس نے زور سے پیر کھینچا۔ مڑ کر دیکھا لیکن پیچھے کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک دم سے اس نے پوری طاقت لگائی اور زور سے پیر کھینچا اور وہیں وہ لڑکھڑا کر آگے جھکی تھی۔ اس نے مڑ کر دیکھا وہ ہاتھ زمین کے اندر دبا تھا۔ جو دھیرے سے اوپر کی طرف سُرک رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دوسرا ہاتھ بھی نکل آیا۔ وہ کانپتی ہوئی ایک قدم پیچھے ہوئی۔ سامنے ایک لمبا سیاہ خوفناک ٹیڑھا میڑھا سایہ زمین سے نکلا اور چھت تک جا پہنچا۔ اس کی آنکھیں ایک دم پھیل گئی تھیں۔ وہ مڑی اور کھڑکی کی طرف بھاگی مگر وہاں پھر سے رک گئی۔ اس بار اس کے قدم زمین نے جکڑ لیے تھے۔ سامنے ٹوٹی کھڑکی سے کوئی سر اوپر اٹھ رہا تھا۔ اس کا نچلا حصہ غائب تھا۔ بس بال اور سر تھے۔ اس نے مڑ کر دیکھا وہاں پہلے سے ایک سایہ تھا۔ وہ بار بار دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی جو نزدیک سے نزدیک تر آتے جا رہے تھے۔ جیسے ہی وہ قریب ہوئے اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
اسے اپنے چہرے اور گردن پر کچھ کھردرا پن محسوس ہوا۔ جیسے کسی کی انگلیاں ہوں۔ اس نے چیخ مار کر گردن پر ہاتھ رکھا لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔
وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی۔ پورا جسم پسینے میں نہا چکا تھا۔ اس نے ارد گرد دیکھا کمرہ خالی تھا۔ اس نے اٹھ کر آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ چاند کی روشنی وہیں سے اس پر پڑ رہی تھی۔ اس کا چہرہ برف کی مانند سفید پڑ چکا تھا۔ اس نے چہرہ چھوا، گال تھپتھپایا۔ خواب کی خوفناکی کو جھٹکنے کی کوشش کی لیکن وہ تو اس کے ذہن پر سوار ہو چکا تھا۔ وہ باتھ روم گئی۔ چہرہ دھویا اور واپس آ کر بیڈ پر لیٹ گئی۔
" یہ کیسا خواب تھا۔"
وہ ہولے سے بڑبڑائی۔ کافی دیر تک سوچنے کے بعد اس کا ذہن الجھ کر تھکتا گیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ پھر سے سو گئی تھی۔
اسی کمرے کے ساتھ بنے ایک اور کمرے میں میرال وہی کتاب کھولے بیٹھی تھی۔
" دی سیکنڈ ورلڈ."
وہ بنا پلکیں جھپکائے صفحے پلٹتی جا رہی تھی۔ ہر صفحہ اسے مزید خوفزدہ کرتا جا رہا تھا۔ ایک صفحے پر اس کی نگاہیں ٹھہر گئیں۔ وہی صفحہ جو نہال نے شاپ میں کھول کر اس کو دکھایا تھا۔
حور جیسی دکھنے والی وہ لڑکیاں جو صرف نہال کو ہی خوبصورت لگی تھیں۔ لیکن میرال کو وہ خوفناک، الجھے بالوں اور آدھے چہروں والی بھدی لڑکیاں دِکھ رہی تھیں۔ اس قدر خوفناک کہ روح کانپ جائے۔
اس نے تیزی سے صفحہ پلٹ دیا۔ وہاں ایک جھیل تھی۔ خون کی جھیل۔ جس میں مردہ مچھلیاں تھیں۔ اس نے اگلا صفحہ دیکھا۔ وہاں جلے ہوئے پھولوں کی وادی تھی۔ جہاں سے عجیب، گندی بو آ رہی تھی۔ اس نے فوراً کتاب بند کر دی۔ اس کی خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں میں خوف و ہراس پھیلا تھا۔ اس نے کتاب اٹھائی اور بیڈ کے نیچے پھینک دی۔ پھر بے اختیار ہی نظر بند کھڑکی کے شیشے پر گئی تھی۔
وہاں ایک لمبا ہاتھ تھا۔ جو کھڑکی کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کی سانسیں ایک دم تیز ہوئیں۔ اگلے سیکنڈ وہ بیڈ س اتری اور دروازے کی جانب بھاگی۔ تیزی سے دروازہ کھولا اور نہال کے کمرے میں گھس گئی۔ اس نے جھنجھوڑ کر نہال کو اٹھایا تھا۔ نہال ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
" کک۔۔۔ کیا ہوا میرال؟"
اس نے خوفزدہ ہو کر میرال کو دیکھا۔
میرال نے جب نہال کا چہرہ دیکھا تو دو قدم پیچھے ہٹی۔ نہال کی آنکھیں پوری سیاہ ہو چکی تھیں۔ آنکھوں کے ارد گرد سیاہ دراڑیں پڑ چکی تھیں۔
میرال کا جسم کانپنے لگا۔ وہ بولنا چاہتی تھی مگر بول نہیں سکتی تھی۔ وہ گونگی تھی۔
" میرال کیا ہوا؟ تم ڈر کیوں رہی ہو؟ مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟"
نہال نے اسے کانپتا دیکھا تو فوراً اسے سینے سے لگا لیا۔
میرال کچھ نہیں کر سکی۔ نہ اسے دھکیل سکی نہ خود بھاگ سکی۔ نہال نے جب دوبارہ چہرہ اس کے سامنے کیا تو وہ بالکل نارمل تھا۔ نہال نے اس کے دونوں چھوٹے چھوٹے ہاتھ مضبوطی سے تھامے۔
" ریلیکس میرو۔۔۔ ادھر بیٹھو اور بتاؤ کیا ہوا ہے؟"
میرال نے دروازے کی جانب اشارہ کیا۔ نہال کھڑی ہوئی اور اس کا ہاتھ پکڑے کمرے سے باہر نکلی۔ اس نے سانس روک کر میرال کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔ میرال کھڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ نہال نے اس کی نظروں کی تعاقب میں دیکھا پھر کھڑکی کی طرف بڑھی۔
کھڑکی کھول کر جب باہر دیکھا تو وہاں کچھ نہیں تھا۔ اس نے باتھ روم چیک کیا۔ بستر ٹھیک کیا۔ سب نارمل تھا۔
" سو جاؤ میرال۔ کچھ نہیں ہے۔"
اس نے ہلکا سا اس کا گال تھپکا اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹائے کمبل اوڑھا دیا۔
جیسے ہی وہ جانے کے لیے پلٹی اس کے پیر سے کچھ ٹکرایا۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ اس نے جب دیکھا تو وہ کتاب تھی۔ اس نے گہری سانس لی۔ کتاب اٹھا کر شیلف میں رکھ دی۔
ایک نظر میرال کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے سو چکی تھی۔ وہ فوراً کمرے سے باہر نکل گئی۔
••••
شاپ کا دروازہ بنا آواز کے کھلا۔ میرویس نے ماسک اور کیپ اتار کر کاؤنٹر پر رکھے۔ جیب میں ہاتھ ڈال کر سرخ رومال باہر نکالا اور ایک ریک سے خون سے بھرا جار باہر نکالا۔
سرخ رومال میں لپٹا دل نکال کر جار میں ڈال دیا۔ جیسے جیسے دل جار میں ڈوب رہا تھا شاپ کی لائٹس جلنے بجھنے لگی تھیں۔ سرخ کپڑے کے نیچے ڈھکا آئینہ ہلکا سا چمکا۔ اگلے لمحے کپڑا پھسل کر نیچے گر گیا۔
میرویس نے جار واپس رکھا اور چل کر آئینے کے سامنے آ کر رکا۔ دھیرے سے ہاتھ اٹھایا اور آئینے پر رکھ دیا۔ ہاتھ رکھتے ہی اس کی سنہری آنکھیں رنگ بدل کر سرخ ہو گئیں۔
آئینے میں اس کا عکس نہیں تھا بلکہ وہاں بہت سے سائے تھے۔ چھوٹے، بڑے اور لمبے۔ وہ سر جھکائے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ جیسے ہی اس نے ہاتھ پیچھے ہٹایا اس کی آنکھیں واپس نارمل ہو گئیں۔ سائے اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئے۔
" میرا اگلا شکار کون ہوگا؟"
اس نے سرگوشی کرتے آئینے پر انگلی پھیری۔ اگلے لمحے آئینے کے اندر دھواں بھرنے لگا۔ اس دھوئیں میں ایک چہرہ ظاہر ہو رہا تھا۔ اس نے گردن بائیں جانب جھکائی۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔
سامنے ایک چہرہ تھا۔ مسکراتا ہوا خوبصورت سا۔ نہال غازیان کا۔ اس نے سیٹی بجائی اور جھک کر قریب ہوا۔ بالکل اس کے چہرے کی روبرو۔ ہنستے ہوئے اس نے چہرے پر پھونک ماری۔
" میری بھیانک دنیا میں جانے والی خوبصورت روح۔ آ رہا ہوں ملنے۔"
اس نے کپڑا اٹھا کر واپس ڈال دیا۔ جار میں ڈالا گیا دل گھل کر غائب ہو چکا تھا اور اس کی طاقتیں دگنی ہو گئی تھیں۔
جاری ہے
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment