Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Aks e Maut EP 3 by Munaza Niaz - Horror Novel
نہال جلدی جلدی میرال کو تیار کروا رہی تھی۔ جیکٹ کے بعد اس کے سر پر ٹوپی چڑھائی اور بیگ پہنایا۔
" آج میں لیٹ ہو سکتی ہوں۔ مجھے اپنے گروپ کے ساتھ آج ایک ریسرچ کے لیے جانا ہے۔ تم پریشان نہیں ہونا میں پرنسپل سے بات کر لوں گی۔ میرا انتظار کرنا ٹھیک ہے؟"
اس کے دونوں ہاتھ تھامے آخر میں مسکرا کر پوچھا۔
میرال نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
" ویری گڈ۔"
باری باری اس کے دونوں گال چومے اور بھاگ کر اپنا بیگ اٹھایا۔
میرال کو سکول چھوڑنے کے بعد وہ یونیورسٹی پہنچی۔ اس کا گروپ اسی کے انتظار میں تھا۔
" جلدی آ۔"
اس کی دوست سلینہ نے اس کو آتے دیکھا تو چلائی۔
" آگئی ہوں چلا کیوں رہی ہے۔"
اس نے بیگ سے فائل نکالی اور اس کے ساتھ ہی بس کی طرف بڑھی۔ باقی اسٹوڈنٹس گروپ کی صورت بس میں سوار ہو چکے تھے۔
" یہ پہلی ریسرچ ہے جس کے لیے ہمیں جنگل جانا پڑ رہا ہے۔"
اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتے سلینہ نے کہا۔
" ہاں تو! ہم پہلے بھی کئی جگہوں پر ریسرچ کے لیے جا چکے ہیں۔ پہاڑوں میں، ویران گاؤں اور سمندر۔"
نہال نے مسکرا کر کہا۔
" لیکن یار جنگل کی وائیب اور ہے۔ ایک دم سسپنس اور ہارر۔ ہمیں رات وہیں گزارنی پڑ سکتی ہے۔ شاید کیمپ لگانا پڑے۔"
نہال کا فائل کا صفحہ پلٹتا ہاتھ رکا۔
" کیا کہا؟ رات گزارنی پڑ سکتی ہے؟ تمہیں کس نے کہا؟"
وہ ایک دم پریشان ہوئی تھی۔
" سر نے۔ انہوں نے صبح اناؤنسمنٹ کی ہے اور پھر ہمارے پاس زیادہ وقت بھی نہیں ہے۔ ہمیں بہت جلد ریسرچ مکمل کرنی ہے۔ تم کیوں پریشان ہو رہی ہو؟"
سلینہ نے اس کا چہرہ دیکھا جو سفید ہو چکا تھا۔
" سلینہ۔۔۔ وہ میرال۔۔۔ وہ اکیلی ہے۔۔۔ میں اسے صبح سکول میں ہی چھوڑ آئی ہوں۔ میں نے کہا ہے کہ میں رات کو لوٹ آؤں گی۔ اگر میں واپس نہ آ سکی تو وہ پریشان ہو جائے گی۔"
سلینہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
" ریلیکس! ضروری نہیں کہ ہمیں رات گزارنے ہی پڑے۔"
نہال نے بس میں سوار باقی سبھی اسٹوڈنٹس کو دیکھا جو مسکراتے باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے بہت سا سامان ساتھ لیا ہوا تھا۔ کھانے کا اور شاید رکنے کا بھی۔ ان کو دیکھ کر لگ نہیں رہا تھا کہ وہ واپس آئیں گے۔
یعنی رات جنگل میں ہی گزارنی پڑے گی۔ اس نے ماتھا مسلا اور موبائل نکال کر کچھ دیر اسکرین کو گھورتی رہی پھر غصے سے موبائل واپس بیگ میں ڈال دیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
بس سڑک سے اتر کر کچے رستے پر چلنے لگی۔ ایک لمبے اور تھکا دینے والے سفر کے بعد آخر کار وہ جنگل پہنچ گئے۔ بس سے اترتے ہی نہال نے گہری سانس بھری۔ جنگل اس کی سوچ سے زیادہ گھنا اور بڑا تھا۔ سب لوگ گروپس کی شکل جنگل میں پھیل گئے۔
کسی نے کیمرہ پکڑ رکھا تھا تو کسی کے ہاتھ میں ٹیب تھا، جس سے لوکیشن معلوم ہو رہی تھی۔ ہر گروپ کو ان کا ایریا بتا دیا گیا۔ انہوں نے جانوروں پر ریسرچ کرنی تھی۔ ان کی ویڈیوز ریکارڈ کرنا۔ آواز سے ٹریپ اور ان کی آڈیو ریکارڈنگ۔ جگہ جگہ ان کے لیے خوراک اور کھانا ڈال دیا گیا۔
نہال کے ساتھ مزید چار لوگ تھے۔ سلینہ اور تین لڑکے۔ زین، آرس اور عمر۔ زین اور عمر نے کیمرہ سنبھال رکھا تھا اور ویڈیو ریکارڈ ہو رہی تھی۔ آرس تصویریں لے رہا تھا۔ سلینہ کے پاس نوٹ پیڈ اور ایک عدد سرخ مارکر۔ جس سے وہ نشان لگا رہی تھی۔ نہال کے پاس ٹیب تھا۔ جس میں جانوروں کی تصویریں تھیں۔ سانپ، لومڑی، جنگلی بلی اور اُلّو۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے سب کو گائیڈ بھی کرتی جا رہی تھی۔
کئی گھنٹوں تک خوار ہونے کے بعد بھی انہیں کوئی جانور دکھائی نہ دیا۔ کوئی کیڑا تک نہیں ملا۔
" ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنا بڑا جنگل ہو اور کوئی پرندہ تک نظر نہ آئے۔"
سلینہ کو حیرت ہو رہی تھی۔
حیران تو باقی سب بھی تھے۔
" میرے خیال میں سر نے اسی وجہ سے ہمیں رات ٹھہرنے کا کہا ہے۔ مجھے لگتا ہے سبھی جانور رات کو ہی نکلتے ہوں گے۔"
آرس نے کہا۔ سب نے اس کی تائید کی۔
" ہاں یہی وجہ ہے۔"
ان کے ساتھ ایک عدد گارڈ اور ڈرائیور ہی تھے۔ کوئی ٹیچر نہیں۔
" ہاں تو اچھا ہی ہے۔ اس طرح ہم آزادی سے جنگل میں گھوم پھر سکتے ہیں۔"
سلینہ نے ہنس کر کہا تھا۔
" اوہ! تجھے لگتا ہے جنگل اتنا فرینڈلی ہے جو ہمیں آزادی سے گھومنے دے گا۔"
دونوں باتیں کرتیں اپنے کیمپ کی طرف بڑھ گئیں۔ شام ہو رہی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد انہوں نے دوبارہ تیاری شروع کر دی۔
" کوئی بھی روشنی نہیں جلائے گا۔ صرف روشنی استعمال ہوگی۔"
ان کے سینیئر آفان نے کہا۔ باقی سب اس سے جونیئر تھے۔ شاید اس کی وجہ سے ہی ٹیچرز نے بے فکر ہو کر انہیں بھیجا تھا۔
آفان سینیئر ہونے کے ساتھ ذہین اور ہینڈسم بھی تھا۔ اپنی پرسنالٹی کی وجہ سے لڑکوں میں وہ سب سے نمایاں ہو رہا تھا۔
نہال نے ٹارچ اٹھائی اور سرخ روشنی جلا دی۔ اپنے گروپ کے ساتھ آگے بڑھتے وہ ہر جگہ روشنی مار رہی تھی۔ چلتے چلتے اسے احساس ہوا جنگل صبح کی نسبت رات کو اور زیادہ گہرا اور گھنا ہو گیا تھا۔
اس نے زمین پر روشنی ماری اور وہیں رک گئی۔
" کیا ہوا نہال؟ رک کیوں گئی۔"
سلینہ نے پیڈ سنبھالتے پوچھا۔
باقی تینوں بھی رکے تھے۔ وہ پنجوں کے بل بیٹھی۔ غور سے دیکھا۔ وہ پیر کا نشان تھا لیکن عام انسانی پیر جیسا نہیں بلکہ دو فٹ لمبا اور ٹیڑھا۔
" یہ کس جانور کا ہو سکتا ہے؟"
عمر نے ویڈیو بناتے ہوئے پوچھا۔ آرس نے تصویریں کھینچیں۔
" یہ کسی جانور کے پیر کا نشان نہیں لگ رہا۔"
سب نے چونک کر دیکھا۔ آفان اپنے گروپ کے ساتھ ان کے قریب آیا۔ نہال کی طرح وہ بھی پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا۔
"یہ کسی جانور کا نہیں بلکہ۔۔۔"
تبھی جھاڑیوں میں سرسراہٹ ہوئی۔ نہال تیزی سے اٹھی۔
" کون ہے وہاں؟"
آفان نے آگے بڑھ کر دیکھا۔ روشنی چاروں طرف ڈالی۔ سب سانس روکے اسے دیکھ رہے تھے۔
" آاااا۔۔۔۔"
اچانک ہی سلینہ چیخ مارتے پیچھے کی طرف گری۔
" سلینہ۔"
نہال نے بھاگ کر اس کو سنبھالا۔
" تم ٹھیک ہو؟ کیا ہو گیا تمہیں."
" نن۔۔۔ نہال۔۔۔ وہ دیکھو۔۔۔ وہاں کچھ ہے۔۔۔اسی نے مجھے دھکا دیا"
اس نے ہاتھ سے اندھیرے کی طرف اشارہ کیا۔
سب نے بیک وقت اسی طرف دیکھا۔ لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ آفان اسی طرف بڑھا ہی تھا کہ ایک زوردار جھٹکا لگا اور وہ اڑتا پیچھے ایک درخت میں جا لگا۔ نیچے گرنے کے بجائے وہ ہوا میں ہی ٹھہر گیا تھا۔
" آفان۔"
زین نے کیمرہ چھوڑا اور اس کے پیر پکڑ کر نیچے کی طرف کھینچا لیکن آفان ذرا سا بھی نہیں ہلا۔
" آفان تم ٹھیک ہو؟"
عمر بھی اس کی مدد کو آیا۔ آفان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی آنکھیں بالکل سامنے ایک ہی جگہ پر رکی ہوئی تھیں۔
سلینہ دوبارہ چیخ مارتے اٹھی اور دوڑ لگا دی۔
" سلینہ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ رکو۔"
نہال نے پہلے آفان اور باقی سب کو دیکھا پھر سلینہ کے پیچھے بھاگی۔ آرس بھی آفان اور باقی سب کو چھوڑتا نہال کے پیچھے بھاگا۔
" سلینہ رک جاؤ۔"
نہال چیخی لیکن سلینہ اتنی خوفزدہ ہو چکی تھی کہ بنا مڑے بھاگتی گئی۔ نہال آخر تھک کر رک گئی۔ اور تبھی اس نے دیکھا سلینہ اڑتی ہوئی اتنی زور سے درخت میں لگی تھی کہ وہیں اس کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا۔
" سس۔۔۔ سلینہ۔"
وہ بھاگ کر اس کے قریب گئی۔ سلینہ اوندھے منہ پڑی تھی۔ جیسے ہی اس نے اسے سیدھا کیا اس کی چیخ نکل گئی۔
سلینہ کی آنکھوں اور منہ سے خون نکل رہا تھا۔ وہ مر گئی تھی۔
" نہال بھاگو۔ یہاں کوئی ہے۔۔۔ بھاگو ورنہ ہم بھی۔۔۔۔"
آرس کانپتے ہوئے بولا اور وہیں رک گیا۔ نہال نے روتے ہوئے جب چہرہ موڑ کر آرس کو دیکھا تو وہیں گر گئی۔
آرس کے سینے سے خون نکل رہا تھا۔ اس کے سامنے کوئی کھڑا تھا جو دھیرے دھیرے آرس کا دل باہر نکل رہا تھا۔ وہ کانپتے ہوئے پیچھے کی طرف کھسکنے لگی۔ سامنے جو کھڑا تھا وہ اس کی صرف پیٹھ دیکھ پا رہی تھی۔ آرس کا چہرہ اس کے سامنے تھا۔
وہ اسے آنکھ سے اشارہ دے رہا تھا کہ بھاگو۔ البتہ وہ کوئی آواز نہیں نکال پا رہا تھا۔ نہال کی دونوں ہتھیلیاں زمین سے چپک چکی تھیں۔ اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اور زور سے سانس لی۔ اس کے منہ سے دھواں نکلا تھا۔ آرس سے ہٹ کر اس کا سارا دھیان دھوئیں کی طرف چلا گیا۔ سفید دھواں۔ اس کے لب کانپے۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تبھی پیچھے جا گری۔ ایسے جیسے کسی نے اس کو دھکا دیا ہو۔ اس نے کراہتے ہوئے آرس کو دیکھا جس کو اس نے دور پھینک دیا تھا۔
آرس کے ارد گرد سیاہ سائے اور کالا دھواں تھا۔ جو اس کے مردہ وجود سے لپٹ گیا تھا۔ اس کا جسم ہوا میں جھولا اور وہیں دھماکہ ہوا۔
نہال نے تیز سانس لیتے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ چیخ بھی نہیں سکی۔ اور جب اس نے آنکھیں کھولیں تو وہیں اس کا خون خشک ہو گیا۔
وہ شخص پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ چہرہ محض ایک انچ کے فاصلے پر۔ اس کا چہرہ ہوڈی میں چھپا تھا۔ وہ صرف اس کے ہونٹ دیکھ پا رہی تھی جہاں صرف ہنسی تھی۔ باقی چہرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا۔
نہال نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر اس کا جسم سن ہو چکا تھا۔
" بھاگو۔"
اس شخص نے ٹھنڈی سرگوشی کی۔ لبوں پر استزاہیہ مسکراہٹ تھی۔ نہال بجلی کی سی تیزی سے اٹھی اور دوڑ لگا دی۔
اس کا چہرہ پسینے میں ڈوب چکا تھا۔ دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ اس نے مڑ کر دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا۔
" Boooo....."
وہ چیختی ہوئی پیچھے جا گری۔ وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ تب اس پر یہ انکشاف ہوا کہ سامنے کھڑا شخص کوئی عام انسان نہیں تھا۔
گرنے کی وجہ سے اس کی ہتھیلیوں اور بازؤں پر رگڑ آگئی تھی۔ میرویس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا ہی نہیں ہو رہی تھی۔ نہال اس کا شکار تھی اور پہلی مرتبہ ایسا تھا کہ وہ فوراً اس کو مار نہیں رہا تھا بلکہ اسے ڈرا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیوں لیکن نہال کی حالت اسے مزہ دے رہی تھی۔
" نہال تم ٹھیک ہو؟ اٹھو اور بھاگو۔"
کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس نے جب دیکھا تو سانس لینا بھی بھول گئی۔ سامنے سلینہ کھڑی تھی۔ خون سے بھرے چہرے کے ساتھ۔
اس نے ایک لفظ نے کہا۔ بس زور سے آنکھیں میچ گئی۔ میرویس کی مسکراہٹ سمٹی۔ وہ اس کے سامنے بیٹھا۔ وہ بھاگی نہیں تھی۔ اس نے بغور اس کی لرزتی پلکیں اور کانپتا جسم دیکھا۔
وہ تھوڑا اور قریب ہوا۔ اس کے چہرے پر ٹھنڈی پھونک مار دی۔ نہال نے اسی وقت آنکھیں کھولیں مگر سامنے کوئی نہیں تھا۔
" ہا۔۔۔ ہا۔"
تیز سانس لیتے اس نے چاروں طرف دیکھا۔ کوئی نہیں تھا۔ سلینہ بھی نہیں۔ وہ اٹھی اور بھاگ کر واپس پہنچی۔
آفان ابھی تک درخت سے چپکا تھا۔ اس نے دیکھا آفان کے گروپ کے دو لوگ غائب تھے۔ وہ جیسے ہی آگے بڑھی آفان درخت سے الگ ہوتا نیچے آ گرا۔ عمر اور زین دائیں بائیں جا گرے۔
" آہ۔۔"
عمر کراہتا ہوا سیدھا ہوا۔ نظر سیدھا نہال پر گئی۔
"نہال۔"
سینے پر ہاتھ رکھے وہ اس کے پاس گیا۔
" آرس کہاں ہے اور سلینہ؟"
اس نے سینہ مسلتے پوچھا۔ نہال نے نم آنکھوں سے اس کو دیکھا پھر باری باری زین اور آفان کو اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
" کیا مطلب؟ کہاں ہیں وہ دونوں؟"
آفان لڑکھڑاتے ہوئے ان کے پاس آیا۔
" مجھے نہیں پتہ۔ دونوں ہی مر گئے ہیں۔ نن۔۔۔ نہیں۔۔۔ سس۔۔۔ سلینہ زندہ تھی۔"
نہال نے روتے ہوئے کہا پھر ایک دم چپ ہوئی۔
آفان فوراً اسی طرف گیا جہاں سے وہ آئی تھی۔ باقی سب بھی اس کے پیچھے چل دیے۔
" یہی وہ جگہ ہے؟"
اس نے نہال سے پوچھا جو سست قدموں سے چلتی ان تک آئی۔
" ہاں."
آفان نے ارد گرد دیکھا۔ کہیں بھی لاشیں نہیں تھیں۔
" اگر وہ دونوں مر گئے ہیں تو ان کی باڈیز کہاں ہیں۔ یہ کچھ عجیب نہیں ہے."
وہ بڑبڑاتا ہر طرف دیکھ رہا تھا۔
" تم نے کہا سلینہ زندہ تھی۔ کہاں ہے وہ پھر؟"
اس کے سامنے کھڑا وہ عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ نہال کے ہونٹ خشک ہوئے۔
" شاید۔۔۔ وہ بھی مر گئی ہے۔"
آفان تب بھی اسے کچھ سیکنڈز گھورتا رہا پھر پلٹ گیا۔
" فوراً تیاری کرو۔ ہم نے ابھی نکلنا ہے۔"
آرس اور عمر اسی وقت کیمپ لوٹ گئے۔ آفان نے ایک بار بھی نہال کو نہیں دیکھا تھا۔
نہال نے گیلا چہرہ صاف کیا۔ چاروں طرف پھر سے دیکھا۔ اسے لگ رہا تھا وہ پھر سے اس کے سامنے آئے گا اور اس بار اسے بھی مار دے گا۔
وہ کچھ دیر کھڑی رہی۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی آہٹ اور نہ ہی کسی کی موجودگی محسوس ہوئی۔
" میرال."
اچانک دماغ میں گھنٹی بجی۔
" وہ ٹھیک ہوگی؟ سکول ہوگی یا گھر؟ مجھے فوراً جانا ہوگا۔"
وہ کیمپ کی طرف بڑھ گئی۔
اور اس کے پیچھے، ایک درخت پر میرویس ٹیک لگائے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس کی سرخ آنکھیں واپس سنہری ہو چکی تھیں۔ اس کے جاتے ہی اس نے درخت سے چھلانگ لگا دی۔
جاری ہے
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment