Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Aks e Maut EP 5 by Munaza Niaz
از منزہ نیاز
میرال اپنی کتاب پر چہرہ جھکائے پینسل سے ڈرائنگ بنا رہی تھی۔ نہال کبھی اس کو دیکھتی تو کبھی موبائل کو۔ موبائل پر ان کی جنگل میں ریکارڈ کی گئی ویڈیوز تھیں۔ جنہیں وہ ایک ایک کر کے دیکھ رہی تھی۔ اس نے پہلی ویڈیو پلے کی۔
جنگل، جھاڑیاں، دھواں۔ لیکن نہ کوئی جانور تھا نہ ہی کچھ اور۔
" کیا فائدہ ہوا ایسی ریسرچ کا جہاں ملا کچھ نہیں۔ اوپر سے اس کے ساتھی جانیں گنوا بیٹھے۔"
وہ اداس ہوئی پھر دوسری ویڈیو چلائی۔ کیمرہ سیدھ میں چل رہا تھا۔ جہاں وہ ایک جگہ زمین پر جھکی تھی۔ وہاں ننگے پیروں کے نشان تھے۔ اس نے دیکھا انگلیاں الٹی طرف تھیں۔ اس نے ویڈیو روک کر زوم کیا۔ پاس بیٹھی میرال نے ہاتھ روک کر اس کو دیکھا۔ نہال نے اگلی ویڈیو چلائی۔ ٹارچ کی سرخ روشنی ہر طرف گھوم رہی تھی۔ سب کچھ ٹھیک تھا اور پھر۔۔۔ وہیں وہ ٹھٹکی۔
ایک درخت کے پیچھے کچھ تھا۔ اس نے pause کیا پھر زوم۔ وہاں شاید کسی کا کندھا تھا یا شاید بال تھے۔ اس نے دوبارہ پلے کیا تو وہ غائب ہو گیا۔
پاس بیٹھی میرال اپنی ڈرائنگ بھول کر اس کے ساتھ ویڈیوز دیکھنے لگی جس پر نہال نے غور ہی نہیں کیا۔ اس نے کانپتی انگلی سے اگلی ویڈیو چلائی۔ وہاں کچھ نہیں تھا۔ پوری اسکرین سیاہ تھی لیکن آڈیو چل رہا تھا۔ اس نے والیوم اونچا کیا۔ وہ دھیمی سرگوشی تھی جیسے کوئی مائک کے قریب ہولے ہولے سانس لے رہا ہو۔ اس نے ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ جیسے ہی اس نے نظریں اٹھا کر میرال کو دیکھا لائٹ چلی گئی۔ پورے گھر میں اندھیرا پھیل گیا۔ اس نے فوراً موبائل کی ٹارچ روشن کی۔ روشنی سیدھا سامنے بیٹھی میرال پر پڑی۔ اچانک لاؤنچ میں کچھ گرنے کی آواز آئی۔ وہ چونکی۔
" میرال تم یہی رکو میں آتی ہوں۔"
اسے وہیں چھوڑے وہ باہر نکلی تبھی پورا گھر روشن ہو گیا۔ اس نے ہر جگہ دیکھا کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ ہی کچھ گرا ہوا ملا تھا۔
واپس کمرے میں آتے ہوئے نظر بے اختیار اسٹڈی روم کی طرف گئی۔ دروازہ کھلا تھا۔ شیشہ زرد روشنی میں چمک رہا تھا۔ اسے دیکھ کر اسے عجیب سی گھبراہٹ ہوئی۔ اس نے فوراً دروازہ بند کر دیا۔ بیڈ پر بیٹھتے اس نے میرال کو دیکھا جو ڈرائنگ بُک کھولے کچھ بنا رہی تھی۔ نہال کا چہرہ سفید پڑنے لگا۔ میرال نے نہال کا ہاتھ زور سے پکڑا اور نوٹ بُک اس کو تھما دی۔ نہال نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ بُک آنکھوں کے سامنے کی۔
وہ ایک جھیل کا منظر تھا اور سامنے آئینہ تھا۔ نہال کا دل بیٹھ گیا۔ اس نے نم آنکھوں سے میرال کو دیکھا۔ وہ بول نہیں سکتی تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔ اس نے فون اور نوٹ بُک سائیڈ میں رکھ دی۔ کمرہ ایک دم ٹھنڈا ہو گیا تھا۔
" سو جاؤ میرال۔"
وہ اٹھی اور چیزیں سمیٹنے لگی۔ میرال چپ چاپ لیٹ گئی۔ اگلا دن گھر معمول سے زیادہ خاموش تھا۔ نہال جب اٹھی تو سر میں درد تھا۔ پہلا خیال ہی ویڈیوز کا آیا تھا۔ اس نے موبائل اٹھایا تو دیکھا چارج ختم۔ چارج پر لگانے کے بعد اس نے میرال کو ناشتہ کروایا۔ سکول چھوڑنے کے بعد وہ یونی جانے کے بجائے واپس لوٹ آئی۔
موبائل اٹھایا، ویڈیو ڈیلیٹ کرنے لگی تو فون آف ہو گیا۔ اس نے آن کیا۔ دوبارہ ڈیلیٹ کی، فون ہینگ ہو گیا۔ اس کا دماغ ماؤف ہو گیا۔ موبائل ری سٹارٹ کرنے کے بعد اس نے ایک اور کوشش کی۔ موبائل ہی پاور آف ہو گیا۔ اس کے پسینے چھوٹ گئے۔ موبائل بیڈ پر پھینک کر اس نے اسٹڈی روم کے دروازے کو دیکھا جو کھلا ہوا تھا۔
اسے اچھی طرح یاد تھا۔ جب وہ گھر سے نکلی تھی تو گھر کے سارے دروازے ہی بند تھے۔ اس نے الماری کھولی۔ چادر اٹھائی اور اسے شیشے پر پھینک دی۔ دروازہ اس نے لاک کر دیا تھا۔ اس نے وقت دیکھا میرال کو لینے جانا تھا۔
سب کچھ عجیب تھا۔ بہت عجیب اور یہ کب سے شروع ہوا تھا؟ جنگل جانے کے بعد؟ نہیں۔ اسے وہ خواب یاد آیا۔ وہ آئینہ، وہ جھیل، وہ جنگل۔ اسے گھبراہٹ ہونے لگے۔ یہ سب اس سے بھی پہلے شروع ہوا تھا۔ رات ہوئی وہ سونے کے لیے لیٹی تو کافی دیر تک کروٹیں بدلتی رہی لیکن نیند نہیں آئی۔ جب سے اس نے آئینہ اسٹڈی روم میں رکھا تھا تب سے میرال نے ایک قدم بھی وہاں نہیں رکھا تھا۔
اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں وہی کتاب پھر سے کھولے بیٹھی تھی۔ اب وہ ڈر نہیں رہی تھی۔ اس نے وہ کتاب اور اپنی ڈرائنگ بُک اٹھائی اور نہال کے پاس چلی گئی۔ اس کے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر اس نے اسٹڈی روم کی طرف دیکھا۔ دروازہ لاکڈ تھا۔ اس نے چہرہ واپس موڑا اور اندر چلی گئی۔ نہال نے اس کو آتے دیکھا تو اٹھ بیٹھی۔
" میرال تم سوئی نہیں ابھی تک؟"
میرال بھاگ کر اس کے سینے سے لگی۔ نہال نے اس کے بال پیچھے کیے۔ نظر اس کتاب پر گئی۔ وہ بری طرح چونکی۔ اس نے کتاب لے کر جیسے ہی کھولی اسے لاک اور پھر دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
دونوں نے بیک وقت اس طرف دیکھا۔ شیشے پر پڑا کپڑا پھسل کر گر چکا تھا۔ تبھی سائیڈ ٹیبل پر رکھا اس کا بند فون آن ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک ویڈیوز چلتی گئیں۔ اس نے فون اٹھایا، تیزی سے بند کیا لیکن ٹچ کام ہی نہیں کر رہا تھا۔ میرال نے اپنی نوٹ بُک کھول کر اس کو دکھائی۔ وہاں آئینہ تھا۔ وہی جو اس وقت اس کے گھر میں موجود تھا۔ اس کے سامنے سرخ جھیل تھی۔ خون کی۔ ارد گرد سوکھے درخت۔ آئینے کے سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی۔ سفید چہرہ، سیاہ آنکھیں اور آئینے میں اس کا نہیں بلکہ کسی اور کا عکس تھا۔ نیچے لکھا تھا۔
" He is right here."
" کک۔۔۔ کون؟"
نہال نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔
میرال نے اگلا صفحہ پلٹا۔ وہ پورا سیاہ تھا۔ اوپر دو سرخ نشان۔ جیسے کسی کی آنکھیں ہوں۔ اسے وحشت ہونے لگی۔ وہ بیڈ سے اتری اور اسٹڈی روم کی طرف بڑھی۔ میرال نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا اور زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔
وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل گری۔
" یہ۔۔۔ یہ سب اس کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ میں اسے توڑ دوں گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میں پاگل ہو جاؤں گی۔"
وہ اٹھی۔ میز پر رکھا گلدان اٹھایا اور اسٹڈی روم میں چلی گئی۔ کمرہ روشن تھا لیکن اس کو محسوس ہوا جیسے ہر طرف اندھیرا ہے۔ وہ اس کے سامنے ایک پل کو رکی۔ اس کا عکس کچھ سیکنڈز بعد آئینے میں ابھرا تھا۔ اس کا ہاتھ بری طرح کانپا۔ اگلے ہی پل اس نے پوری طاقت سے گلدان شیشے میں دے مارا۔ چھناکے کے ساتھ ٹکڑے چاروں طرف بکھر گئے۔ شیشے پر ہلکی سی دراڑ تک نہیں پڑی تھی۔ گلدان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہو چکے تھے۔ وہ چار قدم پیچھے ہٹی۔ آئینے میں دھواں بھرنے لگا۔ اندر کسی کا عکس ظاہر ہو رہا تھا۔ اس کا سانس رکنے لگا۔
وہ وہی تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ اس کا عکس مکمل دھندلا تھا لیکن وہ پہچان گئی تھی۔ اس کی مسکراہٹ سے۔ اسے اپنے جسم پر چونٹیاں رینگتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ اس نے گیلے چہرے کے ساتھ میرال کی طرف دیکھا جو ساکت کھڑی اس کو دیکھ رہی تھی۔ اگلے سیکنڈ دروازہ پوری طاقت سے بند ہوا۔
" میرال۔"
وہ چیخی۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ہل بھی نہیں سکی۔ اسے لگا اس کے پیر زمین سے چپک گئے ہیں۔
" میرال۔۔۔!"
اسے پکارتے ہوئے وہ رو دی۔ اس نے پھولی سانسوں کے ساتھ پھر سے آئینے میں دیکھا۔
وہ کہیں نہیں تھا۔ صرف دھواں تھا جو اس کے ارد گرد پھیل چکا تھا۔ اس نے دھیرے سے سانس اندر کھینچی۔ دماغ بھاری ہوا، دل رک سا گیا۔ اگلے ہی پل وہ ایک طرف گر گئی۔
••••
اس کی آنکھیں کھل رہی تھیں۔ دماغ میں کوئی تصویر نہیں تھی۔ نظر سیدھا چھت پر گئی تھی۔ وہ بھاری دل کے ساتھ اٹھی۔ ارد گرد دیکھا۔ وہ آئینہ کہیں نہیں تھا۔
" میرال."
اس کے لب ہلے۔ پہلا خیال ہی اسی کا آیا تھا۔ اس نے محسوس کیا گھر حد سے زیادہ خاموش تھا۔ وہ تیزی سے اٹھی اور دروازے کی طرف بھاگی۔
اپنے کمرے میں جا کر دیکھا تو وہاں بھی میرال نہیں تھی۔ جب وہ ہال میں پہنچی تو ٹھٹک گئی۔ میرال ہال کے بیچ و بیچ فرش پر بیٹھی تھی۔ بالکل مجسمے کی طرح۔ اس کے سامنے وہی آئینہ کھڑا تھا۔ جیسے ہی وہ میرال کی طرف بڑھی، پورے گھر کی لائٹس جلنے بجھنے لگیں۔ وہ رکی۔ چہرہ جھکا کر فرش کو دیکھا۔ اس کے پیر گیلے ہو چکے تھے۔ اس نے ایک قدم پیچھے لیا پھر دوسرا۔ سفید فرش پر اس کے پیروں کے سرخ نشان لگ گئے۔ اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔ جہاں سے وہ آئی تھی وہاں سے یہاں تک خون کے دھبوں کی قطار لگ چکی تھی۔ وہ مضبوط قدم اٹھاتے آئینے اور میرال کے بیچ آ کر کھڑی ہو گئی۔ آئینے کے کناروں سے سنہری روشنی پھوٹ رہی تھی۔ وہ ساکت کھڑی خود کو دیکھے گئی۔ آئینے میں سے سیاہ دھواں نکلتا ہر طرف بکھرنے لگا۔ اس نے اپنے کندھے پر کسی کی انگلیوں کا لمس محسوس کیا۔ اس کا گلا خشک ہوا۔ ایک سایہ اس کے پیچھے کھڑا تھا۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا وہاں کچھ نہیں تھا پھر واپس آئینے میں دیکھا تو وہ وہیں تھا۔ بالکل اس کے پیچھے، چہرے کی قریب۔ اس کا جسم کانپا۔ فرش پر دراڑ پڑی اور وہیں ایک جھیل بن گئی۔ وہ اس میں گھٹنوں تک ڈوب چکی تھی۔ سامنے اس کے عکس میں کسی اور کا عکس ظاہر ہو رہا تھا۔ پہلے پورا دھندلا پھر چہرہ تھوڑا سا واضح ہوا۔
" تم؟"
نہال نے بے یقینی سے اس کو دیکھا۔ وہ مسکرایا۔ اس کے بجائے میرال کو دیکھا۔ وہ بھی اسی کو دیکھ رہی تھی جیسے جانتی تھی کہ وہ ضرور سامنے آئے گا۔
" تم۔۔۔ تم کون ہو؟ اور یہ سب کیوں کر رہے ہو؟"
نہال نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے سرخ آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ میرویس ہنوز اسی طرح مسکراتا اس کو دیکھتا رہا۔
نہال نے دیکھا وہ آئینے سے باہر نکل رہا تھا۔ وہ چلتا ہوا اس کے عین سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ نہال پیچھے ہٹنے کے بجائے مضبوطی سے وہیں کھڑی رہی۔ وہ تھوڑا سا جھکا۔ سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی سنہری آنکھوں نے فوراً رنگ بدلا تھا۔ نہال نے اس کی سرخ آنکھوں میں دیکھا۔ اس کے جسم میں کپکپی سی دوڑ گئی۔
" میں وہ ہوں جو مرنے کے بعد بھی زندہ رہ گیا۔ جسے اس جھیل نے نگل لیا اور اس آئینے نے قید کر لیا۔ پہلے میں لوگوں کو نہیں مارتا تھا۔ انہیں صرف خالی کرتا تھا۔ ان کی روحیں اس آئینے میں قید کرتا اور انہیں چھوڑ دیتا۔"
وہ ہنسا پھر سیدھا ہوا۔
" اور اب میں ان کا خون اس جھیل کو دے دیتا ہوں تاکہ میری روح بھرتی رہے۔ اب مجھے تم چاہیے۔ تمہارا خون، تمہاری روح۔"
نہال کی آنکھیں پھیل گئیں۔ میرویس کے اندر سے سیاہ دھواں نکلا اور نہال کو چاروں طرف سے لپیٹ گیا۔
جاری ہے۔
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment