Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Aks e Maut EP 6 Last Episode by Munaza Niaz

 


عکسِ موت - قسط نمبر چھ

 آخری قسط از منزہ نیاز 


وہ مری کی ایک سرد رات تھی۔ سڑک پر اس کے بھاری قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ اس کے ایک ہاتھ میں موبائل تھا جس کی روشنی میں وہ آگے کا سفر طے کر رہا تھا۔ کندھے پر بیگ بھی لٹک رہا تھا۔ اس کا گھر جنگل کے راستے سے تھا۔ اس کی سنہری آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔ تیز تیز چلتے وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا۔ وہ پانچوں واقعی اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ اس کے قدموں میں تیزی آگئی۔ اس کو بھاگتا دیکھ، وہ پانچوں بھی بھاگنے لگے۔


وہ گھر جانے کے بجائے ان سے بچتا جنگل میں گھس گیا۔ اسے لگا شاید وہ اس طرح اس کا پیچھا چھوڑ دیں مگر یہ اس کی خام خیالی ثابت ہوئی۔ وہ پانچوں وہاں بھی اس کے پیچھے پہنچ چکے تھے۔


" کہاں تک بھاگے گا؟"  

ایک لڑکا چیخا۔

اگلے ہی لمحے اس کو چار لڑکوں نے دبوچ لیا۔ اس کا موبائل چھینا اور پتھر میں مار کر توڑ دیا۔ اس کا بیگ چھین کر دور پھینک دیا۔


" تجھے لگا تھا تو ہم سے بچ کر نکل جائے گا؟"

پانچواں لڑکا سامنے آیا اور پوری قوت سے اس کے منہ پر مکا مارا۔ میرویس کا دماغ گھوم گیا۔ 


اگلے ہی لمحے ان پانچوں نے اسے بری طرح سے پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ خاموشی سے پٹتا، کراہتا رہا۔ اس نے خود کو بچانے کی کوشش کی، واپس مارنے کی کوشش کی لیکن اس کی کوشش بری طرح ناکام بنا دی گئی۔ 


انہوں نے اس کا بازو توڑ دیا تھا۔ اس کی چیخیں اور ان پانچوں کی ہنسی پورے جنگل میں گونج رہی تھی۔ انہوں نے اسے اٹھایا اور ایک گڑھے میں پھینک دیا۔ وہ خون میں لت پت درد میں تڑپ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مٹی لگ چکی تھی۔ سرخ مٹی۔ اس کا خون ٹپ ٹپ بہتا اس مٹی میں جذب ہو رہا تھا۔ وہ پانچوں ہنستے ہوئے واپسی کے لیے پلٹ چکے تھے۔


اس کا پورا جسم زخمی تھا۔ سانس بمشکل آ رہی تھی۔ وہ اتنا بزدل، اتنا ڈرپوک کیوں تھا؟ وہ اتنا کمزور کیوں تھا؟


" میں اگر یہاں سے زندہ نکلا تو انسان نہیں رہوں گا."  

اس نے آنسو بہاتے سامنے دیکھا۔ وہاں کچھ پڑا تھا۔ دھندلا سا۔ اس کے نیچے سرخ مٹی گیلی ہونے لگی۔ اس کا خون اس مٹی میں جذب ہو چکا تھا۔ صرف خون ہی نہیں بلکہ اس کا درد، اس کے زخم، اس کا ڈر سب کچھ اس سوکھی جھیل نے کھینچ لیا۔


سامنے پڑا دھندلا آئینہ اسے کچھ دکھا رہا تھا۔ اس کی کمزوری، اس کا ڈر اور اس کی بزدلی۔

" اگر تم نے خود کو چھوڑ دیا تو میں تمہیں دوسرا دے سکتا ہوں۔ وہ کمزور نہیں ہوگا، وہ ڈرپوک نہیں ہوگا، وہ بزدل نہیں ہوگا لیکن وہ تم ہو گے۔"

آئینے سے آتی وہ آواز۔


میرویس نے کانپتا ہوا ہاتھ اٹھایا اور آئینے پر رکھ دیا۔ اس کا تیزی سے بہتا خون پوری طرح اس سوکھی جھیل نے نچوڑ لیا۔ اس کا ٹوٹا بازو جو ہل نہیں پا رہا تھا ٹھیک ہو گیا۔ درد ختم ہو چکا تھا۔ جسم کا بھی، روح کا بھی۔ 


وہ گڑھے سے اٹھا۔ اس کے زخم بند ہو گئے۔ سنہری آنکھیں رنگ بدلتی سرخ ہو گئیں۔ اسے اب کوئی درد محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ جس سوکھے گڑھے میں وہ کھڑا تھا وہ اب سوکھا نہیں رہا تھا۔ وہ خون کا ایک تالاب بن چکا تھا اور وہ خود انسان نہیں مونسٹر بن چکا تھا۔


اس کے کانوں میں ابھی تک ان پانچوں کی ہنسی گونج رہی تھی۔ وہ چپ کھڑا رہا۔ ان کے پیچھے نہیں بھاگا۔ اس کے ارد گرد سیاہ دھواں پھیل چکا تھا۔ وہ دھواں ان پانچوں کی طرف بڑھ گیا۔ 


" اگر وہ یہیں پڑے پڑے مر گیا تو؟"  

ان پانچوں میں سے ایک لڑکے نے کہا۔ 


" ہاں تو مرنے دے نا۔ ایسے بزدلوں کا مر جانا ہی بہتر ہے۔"  

دوسرے نے قہقہہ لگایا۔ باقیوں نے بھی اس کا ساتھ دیا۔


وہ پانچوں پچھلے دو گھنٹے سے جنگل سے نکلنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کو باہر جانے کا راستہ ہی نہیں مل رہا تھا۔ پہلے پہل تو خاموشی سے راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بعد میں ان کے سہی معنوں میں ہوش اڑے۔ 


" یہ ہم کہاں آگئے؟ باہر جانے کا راستہ کس طرف تھا؟'  

ایک نے ڈرتے ہوئے پوچھا اور پھر وہ پانچوں ہی ٹھٹکے تھے۔ 


سامنے میرویس کھڑا تھا۔ پرسکون سا۔ سہی سلامت۔


" یہ مرا نہیں؟"  

ایک نے غصے سے اس کو دیکھا۔


" آج میں اس کو جان سے مار دوں گا۔"  

وہ اپنا بیگ پھینکتا اس کی طرف بڑھا۔ میرویس سرخ آنکھوں سے اس کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔


جیسے ہی وہ اس کے قریب گئے۔ میرویس کے چاروں طرف سے بکھری روحیں اس سے لپٹ گئیں۔ اس لڑکے کو آواز نکالنے تک کی مہلت نہیں ملی تھی۔ اس کے جسم میں سیاہ دراڑیں پڑ گئیں۔ اس کی گردن ٹوٹی اور وہ اس خون سے بھری جھیل میں جا گرا۔


باقی چاروں آنکھیں پھاڑے ان کو دیکھ رہے تھے۔

" بھاگ۔۔۔ بھاگو۔" 

ایک چیخا۔ 


چاروں نے ایک ساتھ دوڑ لگا دی۔ وہ بد روحیں ان چاروں کو بھی لپیٹ چکی تھیں۔ ایک ایک کر کے وہ پانچوں مر گئے تھے۔ 


میرویس کی سرخ آنکھیں واپس سنہری ہو چکی تھیں اور پہلی مرتبہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔ شیطانی مسکراہٹ۔


•••

نہال نے پیچھے ہٹنا چاہا، اس سے دور ہونا چاہا مگر وہ ایسا نہیں کر پائی۔ میرویس کے جسم سے نکلتی بد روحیں اس کے گرد لپٹتی گئیں۔ اس کی گردن جکڑ لی گئی۔ اس کا جسم آئینے کی طرف کھینچنے لگا۔


" میں نہیں ڈرتی۔ نہ مرنے سے، نہ تم سے۔"  

اس نے دل میں کہا تھا کیونکہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ 


میرویس کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔ اس نے دیکھا دھواں نہال سے پیچھے ہٹ رہا تھا۔ روحیں نہال کو چھوڑ کر دور ہو رہی تھیں۔ وہ محض دیکھتا رہ گیا۔ 


" میں نے کہا مار دو اس کو."  

وہ غرایا۔ اس کا غصہ بڑھنے لگا تھا۔ وہ کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔ 


نہال نے اس کو دیکھا پھر میرال کو اور پھر وہ ہنس پڑی۔ اگلے ہی پل دھماکہ ہوا تھا۔ وہ اڑ کر پیچھے جا گری۔


" نہیں۔" 

میرویس بڑبڑایا۔ روحیں واپس اس کے اندر چلی گئی تھیں۔ دھواں ہر طرف بکھرتا غائب ہو گیا۔


نہال کھانسے ہوئے اٹھی تو دیکھا وہ کہیں نہیں تھا۔ نہ آئینہ، نہ جھیل، نہ خون اور نہ ہی میرویس۔


" میرال!"  

میرال بھاگتی ہوئی اس سے لپٹ گئی۔ نہال اسے سینے سے لگائے ایک دم سے رونے لگی۔ دماغ میں دو سال پہلے کا منظر گھوم گیا۔ جہاں سات سالہ میرال بول سکتی تھی۔ 


اس دن جب وہ گھر پہنچی تو اس کے ہاتھ میں ایک آئینہ تھا۔

" آپی!" 

میرال جو اس کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔ اس کو دیکھتے ہی کھل اٹھی تھی۔ اس نے یونی سے واپسی پر وہ آئینہ ایک قدیم چیزوں والی دکان سے خریدا تھا۔ اس وقت وہ شکاری لوک داستانوں کا بہت شوق رکھتی تھی۔ 


میرال ایک متجسس، تخلیقاتی، ہنس مکھ اور شرارتی بچی تھی۔ اسے ڈرائنگ بنانے اور نقل کرنے کا بے حد شوق تھا۔ وہ زیادہ تر نہال کو ہی کاپی کرتی تھی۔ مزاحیہ چہرے بنانا، آواز بدل کر بات کرنا۔ نہال بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ کھیلتی تو کبھی ٹوک دیتی۔ ایک شام وہ فون اور کتابوں میں غرق تھی۔ یونی کا کوئی سر کھپا دینے والے پروجیکٹ ملا تھا۔ 


میرال صبح سے بور ہوتی پورے گھر میں منڈلا رہی تھی۔ اس نے کئی بار نہال کو کہا کہ وہ اس کے ساتھ کھیلنا چاہتی ہے لیکن نہال نے کوئی توجہ نہیں دی تھی اور اب وہ پھر سے اس کے سر پر کھڑی تھی۔


" آپی! مِرر گیم کھیلیں؟"  

نہال نے ٹھنڈی سانس بھر کر اس کو دیکھا۔


" تم جا کر کھیلو میں آتی ہوں۔"  

اس نے پھر سے اسے ٹالا۔


میرال اسی میں خوش ہوتی چلی گئی۔ دوسرے کمرے میں جا کر اس نے دروازہ بند کر دیا تھا۔ وہ اسی آئینے کے سامنے کھڑی تھی جسے نہال لے کر آئی تھی۔ اس نے گلا کھنکارا۔ 


" ہیلو ہیلو! میں میرال ہوں."  

وہ ہنسی پھر اس نے چہرہ سنجیدہ کر لیا۔


" چپ کر جاؤ میرال۔"  

اس نے پورے چہرے کے تاثرات کے ساتھ نہال کی نقل کی تھی اور تب اس نے اچانک رک کر غور سے آئینہ دیکھا۔ وہ ساکت کھڑی تھی لیکن آئینے میں اس کا عکس عجیب طریقے سے حرکت کر رہا تھا۔ وہ کنفیوژ ہو گئی۔ 


" آپی!" 

اس نے پھر سے پکارا لیکن اس کی آواز نہیں نکلی۔ صرف ہونٹ ہلے تھے۔ آئینہ ابھی بھی عجیب طریقے سے حرکت کر رہا تھا جیسے اس کی آواز نگل گیا ہو۔ 


میرال نے خوف زدہ ہو کر گلا پکڑ لیا۔ ایک اور بار بولنے کی کوشش کی۔ ناکامی۔ اسی وقت اس کا کانپتا جسم نیچے گر گیا۔ 


کافی دیر بعد نہال کو اس کا خیال آیا تھا۔ وہ ابھی تک نہیں آئی تھی۔ اس نے سب کچھ وہیں چھوڑا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

" میرال." 

جیسے ہی اس نے دوسرے کمرے کا دروازہ کھولا سامنے میرال بے سدھ پڑی تھی۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس گئی اور اسے گود میں اٹھایا۔


" میرال کیا ہوا تمہیں؟ آنکھیں کھولو! کیا ہوا ہے تمہیں؟"

وہ بری طرح پریشان ہوتی اسے سیدھا ہاسپٹل لے گئی تھی۔


" مینٹل شاک کی وجہ سے آواز بند ہو گئی ہے۔ 

Trauma induced mutism."


ڈاکٹر کی بات سن کر وہ سکتے میں چلی گئی تھی۔ اس دن سے آج تک وہ خود کو اس چیز کا قصوروار سمجھتی آ رہی تھی۔ وہ آئینہ اس کی وجہ سے گھر میں آیا۔ میرال اس کے کہنے پر وہاں گئی اور اسی کی وجہ سے میرال نے اپنی آواز کھو دی۔ 


یہ گِلٹ اسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔ وہ جب جب میرال کو دیکھتی اس کا دل بھر آتا۔ اسے لگتا تھا اس کے اندر کچھ مر سا گیا ہے۔ 


اس نے وہ آئینہ توڑ کر پھینک دیا تھا اور اب وہ کیسے بچی؟ میرویس اسے کیوں نہیں مار سکا تھا؟ اگر اسے نہال کا ماضی پتا ہوتا تو وہ جان جاتا کہ وہ جھیل اور وہ آئینہ صرف انہی لوگوں کو مارتے تھے جو بالکل ٹھیک ہوتے تھے۔ نہال ٹھیک نہیں تھی۔ میرال کے نہ بولنے کا غم اسے چھوڑ نہیں رہا تھا۔ میرویس خود بھی تو ایسا ہی تھا۔ کمزور، ٹوٹا ہوا۔ جسے آئینے نے مارنے کے بجائے سمیٹ لیا تھا۔ نہال نے اسی طرح میرال کو خود سے لپٹائے چاروں طرف دیکھا۔ سب کچھ ٹھیک ہو چکا تھا۔ وہ میرال کو گود میں اٹھائے اندر چلی گئی۔

•••

کچھ دنوں بعد:


نہال نے میرال کو سکول چھوڑا اور یونی چلی گئی۔ وہ اب بالکل پرسکون ہو چکی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ہو چکا تھا۔ یونی میں اس کا سامنا آج پھر آفان سے ہوا۔ اس نے جب دیکھا تو کنفیوژ ہو گئی۔ وہ اسے مسلسل گھور رہا تھا۔


نہال نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔ وہ باتھ روم گئی۔ آئینے میں خود کو دیکھا۔ 

" ریلیکس نہال! ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو۔"  

اس کے دماغ میں آفان کی سرد نظریں گھوم رہی تھیں۔ اس نے پانی کے چھینٹے چہرے پر مارے۔ مسکرانے کی کوشش کی اور پھر کافی دیر تک مسکراتی ہی رہی۔


اس کی مسکراہٹ سمٹی البتہ آئینے میں وہ ابھی تک مسکرا رہی تھی۔ کچھ لمحوں بعد آئینے میں بھی اس نے مسکرانا بند کر دیا۔ اس نے پھر سے مسکرا کر دیکھا۔ غور کیا اور وہیں۔۔۔ وہیں پر اسے جھٹکا لگا۔ وہ اس کی مسکراہٹ تو نہیں تھی۔ وہ ایسے تو نہیں مسکراتی تھی۔ یہ مسکراہٹ تو۔۔۔ اس کا گلا خشک ہوا۔ 


" یہ۔۔ یہ مسکراہٹ تو۔۔۔"  

اس کے لب ہلے اور وہی دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔ وہ ڈر گئی۔ آفان دندناتا ہوا اس کے سر پر پہنچا اور اس کو گلے سے پکڑ لیا۔


" تم ہی تھی وہ۔۔۔ تم ہی نے انہیں مارا۔"  

وہ چیخا۔ نہال جھٹپٹائی۔ آنکھیں ابل پڑیں۔


" میں تمہیں پولیس کے حوالے کروں گا۔ بتاؤ مجھے کیسے تم نے یہ سب کیا؟ کون ہو تم؟ انسان ہو یا کوئی شیطان؟"  


نہال نے دونوں ہاتھوں سے اس کی کلائیاں پکڑیں اور آرام سے اپنا گلا چھڑوا لیا۔ آفان نے ہاتھ کھینچے لیکن نہال کی گرفت سخت تھی۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ 


آفان نے غصے اور بے بسی سے اس کو دیکھا۔ اگلے ہی پل وہ اس کی گردن پکڑے اس کو زور سے دیوار میں مار گئی۔ پھر وہ اس کے چہرے کے قریب گئی اور۔۔۔

" Booo..."


آفان کے پیر ہوا میں جھولنے لگے۔ نہال نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا۔ دھیرے دھیرے اس کا ہاتھ اس کے سینے کو چیرتا اندر چلا گیا۔ نہال کے جسم سے دھواں نکلا۔ باتھ روم کی لائٹیں جلنے بجھنے لگیں۔ بد روحیں اس کے جسم سے نکل کر آفان کو جکڑ گئیں۔ اس کا دل نکالتے ہوئے وہ پیچھے ہٹی۔ آفان اوپر اٹھتا گیا۔ 


مرنے سے کچھ سیکنڈز پہلے اس نے نہال کے چہرے پر کسی اور کا چہرہ دیکھا تھا۔ وہ کون تھا؟ وہ نہیں جانتا تھا۔ ایک دھماکے کے ساتھ اس کا جسم غائب ہوا تھا۔ نہال پیچھے ہٹی، بال سیدھے کیے اور اسی طرح مسکراتی باتھ روم سے باہر نکل گئی۔


میرویس سیاہ دھوئیں میں لپٹا دوبارہ اس کے اندر چلا گیا۔


اختتام

Comments

Popular Posts