Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Bloods Ep 10 by Munaza Niaz

 


Bloods 

By Munaza Niaz 

Ep - 10



جب وہ اس بلڈنگ سے باہر نکلا تو آدھی رات ہو چکی تھی سامنے سڑک پر اس کی گاڑی کھڑی تھی تیزی سے اندر بیٹھ کر اس نے انجن جگایا گاڑی سٹارٹ کی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اپنی مطلوبہ جگہ پہنچا تھا۔ بنا کسی طرف نظر ڈالے وہ سیدھا لفٹ کی طرف بڑھا


"ارورا کہاں ہے؟"

تیزی سے گھوم کر اس نے اپنے پیچھے آتے شیرف سے پوچھا


"وہ آپ کے کمرے میں ہے"

شیرف نے جلدی سے کہا


"آپ ٹھیک ہیں؟"

وہ تشویش سے بولا جب کہ وہ اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا 


جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا وہ صوفے پر چہرہ پیچھے گرائے آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونکی۔ رابرٹ پر نظر پڑتے ہی وہ تیزی سے کھڑی ہوئی


"رابرٹ تم کہاں تھے کیا تم ٹھیک ہو؟"

وہ ننگے پیر بھاگتی ہوئی ایک دم اس کے سینے سے جا لگی


"میں بالکل ٹھیک ہوں تم بتاؤ تمہیں تو کچھ نہیں ہوا"

اسے اپنے سامنے کرتے چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر وہ بولا۔ 


" میں بالکل ٹھیک ہوں تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کچھ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ تم کہاں تھے؟"

وہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے بولی۔


اپنے لیے اس کی پریشانی بھانپ کر وہ ہلکا سا مسکرایا تھوڑی دیر پہلے والی بے چینی کہیں غائب ہو گئی تھی


"میں جہاں بھی تھا بالکل ٹھیک تھا مجھے کیا ہو سکتا ہے"

"ہاں تمہیں تو کچھ بھی نہیں ہوتا تم انسان تھوڑی ہو"

اس کے ماتھے کی پٹی دیکھ کر وہ گہری سانس بھر کر بولی


"اچھا تو میں ایسا کون سا کام کرو جس کو دیکھ کر تمہیں لگے کہ میں انسان ہوں؟"

اس نے ارورا کو قریب ہوتے ہوئے دھیرے سے پوچھا۔


" صرف میرے پاس رہو، مجھے احساس دلانے کے لیے کہ تم میرے ہو۔" 

" میں نے کب کہا کہ میں تمہارا نہیں ہوں۔"

" کبھی نہیں۔۔۔ خیر تم آرام کرو تمہیں چوٹ لگی ہے۔"

وہ جیسے ہی جانے کے لیے پلٹی رابرٹ نے نرمی سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔


"اور اگر میں کہوں کہ تم آج نہ جاؤ۔۔۔ میرے پاس رہو تو؟"


اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی اس نے چہرہ اٹھا کر اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا

"کیا مطلب کہ میں نہ جاؤں؟"

وہ سمجھتے ہوئے بھی انجان بن رہی تھی۔ رابرٹ نے جھک کر اس کا ماتھا چوما


"نہیں۔۔۔ کچھ نہیں۔ تم جا سکتی ہو۔"

اس نے نرمی سے اس کا بازو چھوڑ دیا۔ مگر وہ نہیں گئی بلکہ وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی


" کیا ہوا رابرٹ کچھ ہوا ہے کیا؟ تم مجھے پریشان لگ رہے ہو"


ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ اسے اپنے پاس روک رہا تھا اور پھر آج ہی تو اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ اس کی بیوی ہے اور پچھلے تین سالوں سے ہے


جبکہ وہ اسے بتا نہیں سکتا تھا کہ تھوڑی دیر پہلے روزلی نے اس سے کیا کہا ہے۔ کیا کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ارورا کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ نہ جانے وہ کیا سوچے گی۔


"کچھ نہیں ہوا۔ تم پریشان مت ہو۔ میں تم پر زبردستی نہیں کروں گا یہ جانتے ہوئے کہ تم میری بیوی ہو جب تک تم نہیں چاہو گی میں ایک قدم بھی تمہاری طرف نہیں بڑھوں گا میں بس چاہتا ہوں کہ تم آج رات یہیں رک جاؤ"

وہ ایک قدم پیچھے ہوا جیسے سب کچھ اس پر چھوڑ دیا ہو۔ وہ ایک قدم اس کی طرف بڑھی تھوڑا سا فاصلہ آیا تھا وہ بھی سمٹ گیا۔


"میں تمہاری ہوں رابرٹ اور تمہاری ہی رہوں گی مجھے کہی نہیں جانا۔ تمہارے پاس رہنا ہے۔"

اس نے اپنا سر اس کے کندھے سے لگا دیا تھا۔


☆☆☆


وہ دو بحری جہاز تھے جو ساحل کے کنارے کھڑے تھے ساحل پر کوئی بھی نہیں تھا اور جو لوگ تھے وہ جہاز کے اوپر موجود تھے


"جلدی کرو جلدی۔۔۔۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے پورے ڈیڑھ گھنٹے میں ہمیں یہاں سے نکلنا ہے چلو جلدی کرو سب۔"


جہاز پر کھڑے کام کرتے لوگوں میں ایک دم سے انرجی بھر گئی اب وہ بھاگ بھاگ کر سامان بحری جہاز میں لوڈ کر رہے تھے صرف آدھا گھنٹہ گزرا تھا کہ کچھ گاڑیاں وہاں آکر رکیں گاڑیوں سے کچھ لوگ نکل کر ان لوگوں کی طرف بڑھے جو سامان لوڈ کر رہے تھے ان کے ہاتھوں میں گنز تھیں تب ہی انہوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی 


کام کرتے لوگ وہیں ان کی گولیوں کی زد میں آتے گرتے گئے۔ وہ لوگ بھاگ کر پہلے جہاز پر چڑھے اندر سب کچھ چیک کرنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرے کو ' سب ٹھیک ہے' کا اشارہ کیا 


ایک اور گاڑی وہاں آکر رکی اندر بیٹھی روزلی نے انہیں دیکھا۔ ایک آدمی نے اس کو دیکھتے انگوٹھا اٹھا کر اسے اوکے کا سائن دیا۔ روزلی نے مسکرا کر اپنا موبائل نکالا


"ہیلو رابرٹ میری بات سنو میں جو لوکیشن تمہیں بھیج رہی ہوں وہاں جوف اپنے آدمیوں سمیت آنے والا ہے وہ یہاں سمگل ہونے والا سامان چوری کرنے والا ہے"

اس نے لحظہ بھر کو رک کر دوسری طرف کی بات سنی


"ٹھیک ہے اگر تم یقین نہیں کرنا چاہتے تو مت کرو کیونکہ جوف آج رات ہمیشہ کے لیے یہ ملک چھوڑ کر جانے والا ہے اور پھر تم مجھ سے یہ نہیں کہہ سکو گے کہ میں نے تمہاری مدد نہیں کی"

مسکرا کر اس نے دوسری طرف کی بات سننی چاہی مگر کال کاٹ دی گئی تھی 


لوکیشن بھیج کر اس نے گاڑی واپس موڑ دی۔


☆☆☆


صبح اس کی آنکھ موبائل کی رنگ ٹون سے کھلی تھی اس نے ایک نظر بائیں طرف سوتی ارورا پر ڈالی پھر موبائل اٹھا کر نمبر دیکھا اس کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں۔ اس نے موبائل کان سے لگایا مگر اس کے بولنے سے پہلے ہی وہ بول پڑی تھی


"ہیلو رابرٹ میری بات سنو میں جو لوکیشن تمہیں بھیج رہی ہوں وہاں جوف اپنے آدمیوں سمیت آنے والا ہے وہ یہاں سمگل ہونے والا سامان چوری کرنے والا ہے"


"جھوٹ مت بولو مجھے تمہاری کسی بات پر یقین نہیں ہے"

وہ سختی سے بولا۔


"ٹھیک ہے اگر تم یقین نہیں کرنا چاہتے تو مت کرو کیونکہ جوف آج رات ہمیشہ کے لیے یہ ملک چھوڑ کر جانے والا ہے اور پھر تم مجھ سے یہ نہیں کہہ سکو گے کہ میں نے تمہاری مدد نہیں کی"


بنا کوئی جواب دیے اس نے کال کاٹ دی تھی، بس ایک لمحہ لگا تھا اسے سوچنے میں۔ جانے سے پہلے اس نے سوئی ہوئی ارورا کا ہاتھ تھاما نرمی سے پہلے اس کا ہاتھ چوما پھر ماتھا۔ اس کے چہرے پر بکھرے بال ہٹا کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔


" گاڑیاں نکالو۔"

بیرونی دروازے کی طرف بڑھتے وہ ان سب سے بولا جو وہاں موجود تھے، اسے لوکیشن مل گئی تھی۔


" تم دونوں یہیں رہو گے۔ ارورا کے پاس۔"

جاتے ہوئے اس نے شیرف اور پال سے کہا تھا۔ 


☆☆☆


" ہیر۔۔۔ میری بات سنو۔"

وہ دونوں اس وقت سکول کے باہر کھڑے اپنی گاڑی کا انتظار کر رہے تھے جب داؤد یکدم اس سے بولا ۔


" کیا ہوا داؤد؟"

وہ اس کی طرف مڑی سکول بیگ دونوں کے کندھوں سے لٹک رہے تھے


" میرے ساتھ آنا چاہو گی میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں "

دھوپ کے باعث وہ آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہا تھا


" سچ؟ کیا؟"

وہ چلائی


" چلاؤ مت بے وقوف لڑکی وہ دیکھو سامنے گارڈ انکل کھڑے ہیں۔ ڈرائیور انکل بھی نہیں آئے۔ ابھی چلو ورنہ پھر موقع نہیں ملے گا۔"

اس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ہیر نے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن داؤد اس کا ہاتھ پکڑے دوڑ لگا چکا تھا۔


" بھاگو۔۔۔" 

اور وہ دونوں تیزی سے وہاں سے بھاگے۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک شاپ کے پیچھے چھپے کھڑے تھے۔ ان کی نظریں دور ایک گیٹ پر ٹکی تھیں جس کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ وہ ایک فیکٹری تھی۔ جس کے باہر بہت سے ٹرک کھڑے تھے 


 " کیا تم میرے ساتھ اندر تک چلو گی؟"


ہیر نے پہلے اسے پھر اس فیکٹری کو دیکھا۔

" لیکن وہاں پر کیا ہے؟ مجھے لگتا ہے داؤد کہ ہمیں واپس چلنا چاہیے ڈرائیور انکل آگئے ہونگیں اور ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے "

ہیر تھوڑی جذبز نظر آئی شاید وہ نہیں جانا چاہتی تھی


" ٹھیک ہے پھر تم یہی رک کر میرا انتظار کرو۔ میں بس ابھی واپس آتا ہوں۔ میرا انتظار کرو گی نہ؟"

داؤد نے اپنا بیگ اتار کر اس کی طرف بڑھاتے پوچھا۔ 

" ہاں میں تمہارا انتظار کروں گی۔"

ہیر نے بولنے کے ساتھ سر کو بھی اثبات میں جنبش دی تھی۔ وہ دو قدم ہی بڑھا تھا کہ وہ پھر سے بول پڑی۔


" مجھے ڈر لگ رہا ہے داؤد۔۔۔ پلیز مت جاؤ ہم واپس چلتے ہیں "

" تم ڈرو مت ہیر میں بس ابھی واپس آجاؤں گا "


" جلدی واپس آنا "

داؤد کی پیٹھ پر اس کی آواز ابھری تھی 


وہ تقریباً بھاگتا ہوا وہاں پہنچا تھا ایک ٹرک کے پیچھے چھپ کر اس نے فیکٹری کے کھلے گیٹ سے اندر کی طرف دیکھا سامنے کوئی نہیں تھا وہ ابھی یہی سوچ ہی رہا تھا کہ اندر جائے یا نہ جائے کہ کچھ لوگ کندھوں پر بوریاں لادے اس کی طرف آتے دکھائی دیے وہ جلدی سے پیچھے ہوا انہوں نے وہ بوریاں اس ٹرک کے پچھلے کھلے دروازے سے اندر ڈالیں جس کے پیچھے وہ چھپا کھڑا تھا 


ان کے جاںے کے بعد اس نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ٹرک میں داخل ہونے کا سوچا آخر وہ بھی تو دیکھے کہ ان بوریوں میں کیا ہے 


اس نے ایک نظر دور کھڑی ہیر کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ہاتھ کے اشارے سے اس نے ہیر کو وہی ٹھہرنے کا کہا پھر تیزی سے بھاگ کر ٹرک میں گھس گیا 


دس سالہ داؤد مرتضیٰ نہیں جانتا تھا کہ اس نے کتنی سنگین غلطی کر ڈالی ہے۔ ایک بوری کے قریب بیٹھ کر اس نے بوری کا منہ کھولا تھا اور پھر جیسے ہی اس کی نظر اندر موجود شے پر پڑی وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا 


اس کا چہرہ لٹھے کے مانند سفید پڑنے لگا تھا پھر اس نے چہرہ موڑ کر دور کھڑی ہیر کو دیکھا۔ اگلے ہی پل تیزی سے چھلانگ لگا کر وہ ٹرک سے باہر نکلا۔ جیسے ہی وہ بھاگنے لگا کسی نے اس کا بازو پکڑ لیا وہ لوگ مزید بوریاں رکھنے واپس آچکے تھے اور انہوں نے داؤد مرتضیٰ کو ٹرک سے نکلتے دیکھ لیا تھا


"اس بچے کو ہوش آگیا ہے۔ ارے اسے واپس بے ہوش کرو۔۔۔۔۔ کیوں بے۔۔۔۔ کہاں بھاگ رہا ہے؟"

اس کا بازو پکڑے وہ آدمی گرجا


"نہیں۔۔۔ نہیں میں وہ نہیں ہوں مجھے چھوڑ دو"

وہ حواس باختہ ہو کر چلایا مگر اس شخص نے تیزی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی گردن کی مخصوص رگ دبائی۔ وہ مچلا، اور پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ وہ بے جان سا ہو کر سڑک پر گر گیا 


اس آدمی نے اسے اٹھا کر باقی بچوں کی طرح اس کو بھی بوری میں بند کر کے اس ٹرک میں ڈال دیا


دور کھڑی ہیر منہ کھولے ساکت پلکوں سے وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔

" داؤد۔۔۔"

وہ پوری قوت سے چلائی مگر وہ لوگ ٹرک میں سوار ہو کر وہاں سے جا چکے تھے اپنا بیگ اتار کر وہ سڑک پر اس ٹرک کی طرف بھاگی جو آنکھوں سے اوجھل ہوتا جا رہا تھا۔


" داؤد۔۔۔"

وہ پھر سے چیخی۔ تیز بھاگنے کی وجہ سے اس کا پاؤں ایک دم مڑا تھا وہ منہ کے بل سڑک پر گری تھی۔


" ہیر۔۔۔۔ ہیر بیٹا۔"

اسے اپنی پیٹھ پر کسی کی آواز سنائی دی۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا بھی نہیں۔ ٹرک غائب ہو چکا تھا۔ پیچھے سے کسی نے اسے اٹھا کر سیدھا کیا۔ وہ ڈرائیور انکل تھے۔ 


" ہیر بچے کیا ہوا؟ کدھر بھاگ رہی تھی آپ؟ اور داؤد کہاں ہے؟ " 

انہوں نے اس کا سرخ اور آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھا۔ مگر وہ کوئی جواب دینے کے بجائے ہچکیوں سے رونے لگی پھر اس نے ہاتھ سے سامنے کی طرف اشارہ کیا


" وہ۔۔۔ وہ لوگ اسے لے گئے۔۔۔ وہ لوگ داؤد کو۔۔۔ داؤد کو لے گئے۔"

" کون لوگ داؤد کو لے گئے؟"

انہوں نے پریشانی سے پوچھا۔


مگر وہ کوئی جواب نہیں دے پا رہی تھی۔ وہ بس روئے جا رہی تھی۔


☆☆☆


" ارورا۔۔۔۔۔۔۔۔ ارورا آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔۔ ارورا۔۔۔۔۔ "

کوئی ایسے جھنجوڑ کر اٹھا رہا تھا وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی سامنے حواس باختہ سی روزلی کھڑی تھی


" کیا ہوا روزلی ایسے کیوں چلا رہی ہو؟ "

اس نے ادھر ادھر دیکھا رابرٹ وہاں نہیں تھا


" وہ۔۔۔۔۔۔ وہ رابرٹ۔۔۔۔ اس کی جان خطرے میں ہے "

وہ ایک دم سے رونے لگی 


" کیا کہا؟"

وہ تیزی سے نیچے اتری۔


" کہاں ہے وہ؟ کیا ہوا ہے اسے؟ "

اس نے روزلی کا بازو جھپٹا تھا۔


" میرے ساتھ آؤ۔"

اپنا بازو چھڑواتی وہ پہچھے ہٹی۔ 


ارورا بنا کوئی لفظ منہ سے نکالے اس کے پیچھے لپکی۔ وہ دونوں باہر کی طرف بھاگیں۔ انہوں نے ہال عبور ہی کیا تھا کہ شیرف اور پال ان کے سامنے آگئے روزلی ٹھٹک کر رک گئی وہ سمجھی تھی کہ ارورا اکیلی ہے مگر۔


" کہاں جا رہی ہو ارورا کو لے کر؟ "

پال نے پوچھا


" پال ہٹو ہمارے سامنے سے۔"

ارورا نے تیز لہجے میں کہا


" ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے باس کا حکم ہے آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے "

شیرف نے کہا


" ٹھیک ہے۔ "

اس سے پہلے کہ وہ کوئی مزید سوال پوچھتا اور ارورا کچھ بتاتی تبھی روزلی بول پڑی 


وہ دونوں الگ گاڑی میں جبکہ پال اور شیرف دوسری گاڑی میں تھے


"تم مجھے بتاؤ گی بھی کہ رابرٹ کہاں ہے کیا ہوا ہے اسے؟"

ارورا نے پھر سے روزلی سے پوچھا۔ رابرٹ کو کچھ ہو گیا ہے یہی چیز اس کی سانسیں روک رہی تھی۔ ورنہ وہ جانے کے بجائے رابرٹ کو کال کر سکتی تھی۔ مگر وہ اتنی پریشان ہو چکی تھی کہ کال کا خیال تک نہیں آیا تھا۔ اس کے چہرے پر غصے کی سرخی بھی چھلک رہی تھی۔


روزلی بس تھوڑی دیر اور برداشت کر لو یہ لہجہ بس تھوڑی دیر اور۔


"ہم بس پہنچنے والے ہیں رابرٹ نے مجھے کال کی تھی کہ تمہیں لے کر اس کی مطلوبہ جگہ آؤں۔ تم نے اس کی کال نہیں اٹھائی تھی۔ شاید وہ تم سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتا ہے۔" 


ارورا کچھ بول نہیں سکی۔ وہ خاموش ہو گئی تھی۔ ایک خالی عمارت کے سامنے اس نے گاڑی روکی تھی۔ ارورا تیزی سے کار سے باہر نکلی۔


" رابرٹ وہاں ہے۔۔۔ اندر۔" 

اس نے اندھیرے میں ڈوبی عمارت کی طرف اشارہ کیا 


وہ اس طرف بھاگی روزلی اس کے پیچھے جبکہ شیرف اور پال روزلی کے پیچھے تھے جب وہ اندر پہنچی تو وہاں کوئی نہیں تھا


" وہ اوپر ہے۔" 

ارورا کچھ کہنے لگی تھی کہ وہ پھر سے بول پڑی۔ 


سیڑھیاں چڑھ کر وہ اوپر کی طرف بھاگی لمحہ بہ لمحہ اس کا دل مزید بے چین ہوتا گیا جیسے ہی وہ اوپر پہنچی اس کے قدم زنجیر ہو گئے 


سامنے کرسی پر ایک شخص ٹیک لگائے بیٹھا کچھ گنگنا رہا تھا اس کے دائیں بائیں، آگے، پیچھے بہت سے آدمی کھڑے تھے وہ کچھ کہنا چاہتی تھی کہ رک گئی کیونکہ پیچھے سے کسی نے تیز دھار چاقو اس کی کمر میں گھونپ دیا تھا 


اسے لگا کسی نے اس کی روح کھینچ لی ہے۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا وہ روزلی تھی اس کے چہرے پر بے رحم سی مسکراہٹ تھی۔ ایک جھٹکے سے وہ چاقو اس کی پیٹھ سے نکال کر اس نے اس کے پیٹ میں مارنا چاہا مگر ارورا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا


" رابرٹ کہاں ہے؟"

اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔ اس نے یہ نہیں پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا اور جو اس نے پوچھا۔۔۔


" وہ جہاں بھی ہے صرف میرا ہے۔۔۔۔۔۔ صرف میرا ہے۔"

وہ پوری قوت سے چلائی جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر اس نے مڑ کر باری باری وہ چاقو شیرف اور پال کے سینے میں اتار دیے جن کو کچھ آدمی جکڑے کھڑے تھے۔


" میں اپنے راستے میں آنے والے ہر اس شخص کو موت کے گھاٹ اتار دوں گی جو مجھے میری منزل تک پہنچنے سے روکے گا "


وہ دونوں بے جان ہوتے فرش پر گر گئے پیٹھ پر ہاتھ رکھے ارورا نے قہر بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ خون بھل بھل بہتا اس کی انگلیوں سے نیچے فرش پر گر رہا تھا۔ وہ اس کی طرف جارحانہ بڑھی کہ تبھی کسی نے اس کے بالوں کو مٹھی میں دبوچ کر ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ جوف تھا


" کتنا وقت لیتی ہو روزلی میں نے کہا بھی تھا کہ گن کا استعمال کرو۔"

اپنی گن نکال کر اس نے روزلی کی طرف اچھال دی


" اپنی زندگی کی بھیک مانگو۔ بولو کہ مجھے چھوڑ دو میں مرنا نہیں چاہتی کیا پتہ مجھے تم پر ترس آ جائے۔" 

جوف نے اس پر جھک کر سرگوشی سی کی۔


" مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا اور نہ ہی میں اپنی زندگی کی بھیک مانگوں گی تم اور میں یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ رابرٹ تمہیں کبھی نہیں ملے گا کیونکہ جو میرا ہے وہ صرف میرا ہی رہے گا۔ مرنے سے پہلے بھی مرنے کے بعد بھی مجھے مار کر تمہیں لگتا ہے کہ تم رابرٹ کو حاصل کر لو گی تو یہ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی بھول ہے"

وہ ہلکا سا لڑکھڑائی تھی۔ اس کے چہرے پر درد کے ساتھ ہنسی بھی تھی۔ غصے سے کھولتے آگے بڑھ کر روزلی نے گن کا دستہ اس کے سر میں مارا۔


وہ گھٹنوں کے بل گری۔ جوف نے اسے چھوڑا اور تھوڑا پیچھے ہوا۔ وہ اس کی باتوں سے متاثر ہوا تھا۔


" یہ میرا مسئلہ ہے تمہارا نہیں۔" 

روزلی غرائی اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔ ارورا ہنس پڑی۔


" گولی چلاؤ روزلی۔۔۔ مار دو مجھے۔۔ تمہارے ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں؟ میں نے تمہیں یہ تو نہیں سکھایا تھا۔" 

اس کی پیٹھ سے بھل بھل خون بہہ رہا تھا مگر وہ مسکرا رہی تھی۔


روزلی نے یکدم ٹریگر دبا دیا۔ اس کے جسم کو جھٹکا لگا۔ پہلی گولی اس کے کندھے میں لگی۔ روزلی نے پھر ٹریگر دبایا۔ دوسری گولی اس کے پیٹ میں لگی۔ اس کی پلکیں ساکت ہوئیں۔ وہ لڑھک کر دائیں طرف جا گری۔


" کیا لڑکی ہے یار کمال۔"

جوف محظوظ مسکراہٹ چہرے پر سجائے دلچسپی سے بولا۔


" ہے نہیں تھی۔ اب چلو یہاں سے۔" 

وہ سب ایک ساتھ وہاں سے نکلے تھے۔ 


روزلی نے آخری نظر اس کے ساکت وجود پر ڈالی پھر اپنا موبائل نکالا مگر کچھ سوچ کر واپس رکھ دیا۔ وہ پلٹ گئی تھی یہ جانے بغیر کہ ارورا ابھی زندہ تھی۔


جاری ہے۔


Bloods ep 11 link 🖇️ 👇

https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/04/bloods-ep-11-by-munaza-niaz.html

Comments

Popular Posts