Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Bloods Ep 11 by Munaza Niaz
Bloods
By Munaza Niaz
Ep - 11
رابرٹ جس جگہ پہنچا وہاں کوئی نہیں تھا بلکہ وہ دو بحری جہاز تھے جو کافی دور جا چکے تھے اس نے دیر کر دی تھی۔ دفعتاً ایک بائیک اس کے سامنے آ کر رکی اس کے آدمی چونکنے ہو گئے۔
"میرے ساتھ چلو وہ لڑکی اس کی جان خطرے میں ہے"
بائیک پر موجود شخص تیزی سے بولا۔ اس کے چہرے پر ہیلمٹ تھا۔
"کون ہو تم؟ کس کی جان خطرے میں ہے؟"
اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا
" ارورا نام ہے نہ اس کا؟ وہ جوف کے پاس گئی ہے وہ اسے مار دے گا۔"
"کون ہو تم؟"
اب کی بار رابرٹ غرایا
"اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
جیک نے کہہ کر اپنی بائیک سٹارٹ کی
"میں اپنی محبت کو نہیں بچا سکا تھا مگر تم بچا لو اسے۔"
رابرٹ تیزی سے گاڑی میں بیٹھا اس کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا صرف دس منٹ میں انہوں نے چالیس منٹ کا راستہ عبور کیا تھا گاڑی سے نکل کر وہ جیک کے پیچھے بھاگا جو ایک عمارت میں داخل ہوتا سیڑھیوں کی طرف بھاگا تھا۔
جیسے ہی رابرٹ اس کے پیچھے آخری زینے پر پہنچا اس کے قدم ڈگمگائے۔ لڑکھراتے قدموں سے وہ بے سدھ پڑی ارورا تک پہنچا تھا اس کے ارد گرد سرخ گاڑھا مائع پھیلا تھا۔ اس کی گردن کے نیچے بازو ڈالے اس نے اسے اپنے قریب کیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس کی نبض ٹٹولی جو کہ بہت ہی مدھم چل رہی تھی
"ارورا آنکھیں کھولو تم ٹھیک ہو جاؤ گی میں تمہیں ہاسپٹل لے کر جا رہا ہوں تم پلیز آنکھیں کھولو۔"
وہ اسے بازوؤں میں اٹھانے لگا تھا کہ رک گیا ارورا نے اپنی آنکھیں کھول لی تھیں
"دیر ہوگئی رابرٹ۔۔۔۔ مت جاؤ میرے پاس رہو۔"
وہ اٹک اٹک کر بولی
"کوئی دیر نہیں ہوئی تم پلیز خاموش رہو۔"
چلاتے ہوئے وہ اسے پھر سے اٹھانے لگا تھا کہ رک گیا
" روزلی نے کیا یہ۔۔۔ "
وہ سکتے میں رہ گیا
" تم پریشان مت ہو۔۔۔۔۔۔ میں ٹھیک۔۔۔۔۔ ہوں اور ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تکلیف بھی نہیں ہو رہی۔"
وہ ہلکا سا ہنسی دو آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر کنپٹی میں گم ہو گئے
" تم اسے مار دیتی ارورا۔۔۔ کیوں تم نے اسے چھوڑ دیا "
ارورا نے خون میں ڈوبے ہاتھ سے اس کا کالر مٹھی میں دبوچ کر نفی میں سر ہلایا
" وہ۔۔۔۔ میری بہن ہے۔۔۔۔۔ چھوٹی "
رابرٹ کا دل بند ہوا
"تم ٹھیک ہو جاؤ گی میں تمہیں۔۔۔۔"
" میں۔۔۔۔۔ تم سے۔۔۔۔۔۔ کچھ کہنا چاہتی۔۔۔۔ ہوں۔ "
اس کی آواز بہت ہی دھیمی تھی۔ سرگوشی سے بھی کم۔ جسے وہ بمشکل سن پایا تھا اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر وہ رو نہیں رہا تھا اس کے پیچھے کھڑا جیک ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہ زیادہ دیر یہ سب نہ دیکھ سکا اس لیے پلٹ گیا
آہستہ سے جھک کر وہ اپنا کان اس کے ہونٹوں کے قریب لے گیا ارورا کے الفاظ رک رک کر اس کے کان میں پہنچ رہے تھے آہستہ آہستہ اس کی آواز کم ہوتے ہوئے بند ہو گئی
رابرٹ نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا ارورا کا چہرہ بے جان ہو چکا تھا بالکل کسی مومی مجسمے کی طرح
"ارورا آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔۔ ارورا۔۔۔۔ "
اس نے بے چینی سے اس کا گال تھپکا مگر اس کی گردن دوسری جانب ڈھلک گئی تھی۔ رابرٹ کو لگا کسی نے اس کی ساری سانسیں کھینچ کر مٹھی میں دبا لی ہوں۔
(میرا نام ارورا ہے تمہارا نام کیا ہے؟)
اس نے بے اختیار سینا مسلا۔
(وہ لڑکا! اس نے مجھے دھوکہ دیا وہ کہتا ہے کہ اس نے میرے ساتھ ٹائم پاس کیا ہے۔ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا۔ اس نے میرا دل توڑ دیا۔ وہ روتے ہوئے اسے بتا رہی تھی۔)
اس نے سانس لینے کی کوشش کی مگر یہ کام اسے ناممکن لگا تھا
(وہ ایک بینچ پر بیٹھی اسے دلچسپی سے دیکھ رہی تھی وہ اس کے نرم مومی پیر پر پٹی باندھ رہا تھا۔
"کیا تم ہمیشہ میرا اس طرح خیال رکھو گے؟ "
وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی رابرٹ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
" ہاں ہمیشہ ")
اسے واپس لٹا کر وہ بے اختیار کھڑا ہوا اس نے اپنے سینے پر مکا مارا اسے حقیقتاً سانس نہیں آرہا تھا۔
( اتنا اداس کیوں ہو رہے ہو بس ذرا سی چوٹ ہی تو لگی ہے۔ وہ اس کے ماتھے پر بینڈیج کر رہا تھا اس نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا
" تمہارے ماتھے سے خون نکل رہا تھا تمہارے چہرے پر خون دیکھ کر مجھے وحشت ہونے لگی تھی اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا دل بند ہو جاتا۔")
لڑکھڑاتے قدموں سے وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھا پہلے زینے پر ہی اس کا پیر ڈگمگایا اور وہ نیچے گرتا چلا گیا۔
( یہ دنیا بہت بری ہے ارورا یہ اچھے لوگوں کو جینے نہیں دیتی اگر تم جینا چاہتی ہو تو بے رحم بن جاؤ ورنہ یہ بے رحم دنیا تمہیں مار ڈالے گی۔
اور وہ بے رحم بن گئی تھی۔)
سیڑھیوں سے گرتا وہ فرش تک پھسلتا گیا۔ آخر میں اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔
( اور پھر یہ بے رحم دنیا اپنے جیسے بے رحم لوگوں کو بھی جینے نہیں دیتی)
جیک جو دوسری طرف چہرہ موڑے خلا میں کہیں دیکھ رہا تھا گرنے کی آواز پر تیزی سے مڑا
( میں سفاک نہیں بننا چاہتا مگر تمہارے لیے میں سفاک بنتا جا رہا ہوں )
وہ اسے گاڑی میں ڈالے ہاسپٹل لے کر جا رہا تھا
( مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے ارورا مجھے تمہارے بغیر زندگی بے کار لگنے لگی ہے)
اسٹریچر پر ڈالے ڈاکٹر اسے آئی سی یو میں لے گئے اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا
( تم سے محبت ہو جانے سے پہلے میں زندگی گزار رہا تھا تم سے محبت ہو جانے کے بعد میں زندگی جینے لگا ہوں اور اب مجھے لگتا ہے کہ مجھے تم سے محبت نہیں رہی)
ڈاکٹرز نے اس کے دل کی رفتار دیکھی جو بند ہو چکا تھا۔
( مجھے تم سے عشق ہو گیا ہے اور یہ عشق مجھے جینے نہیں دے رہا۔۔۔ بالکل تمہاری طرح۔)
اور اب اس کا عشق اسے موت سے ملانے کے درپے تھا بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے شدت سے جینے کی دعا کی تھی ہاں بس ایک بار۔ صرف ایک بار۔
☆☆☆
" میں نے اسے مار دیا جوف آخر کار میں نے اسے مار ہی دیا وہ مر گئی۔۔۔ ہاں وہ واقعی مر گئی۔"
صوفے پر آلتی پالتی مارے وہ بری طرح ہنس رہی تھی
دوسرے صوفے پر بیٹھا جوف دلچسپی سے اسے سن رہا تھا ساتھ ساتھ وہ پی بھی رہا تھا اس نے دوسرا گلاس بھر کر اس کی طرف بڑھایا جسے وہ ایک ہی سانس میں پی گئی اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
" اگر اس کے عاشق کو معلوم ہو گیا کہ تم نے اس کی لڑکی کو مارا ہے تب تم کیا کرو گی؟"
جوف نے گلاس واپس رکھتے ہوئے ایک اہم سوال بھی اس کے سامنے رکھا۔
" مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا کو بھی معلوم ہو جائے کہ میں نے ارورا کو مارا ہے تب بھی رابرٹ کو میرا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا"
گلاس واپس رکھتے ہوئے وہ پھنکاری
" تب بھی وہ تمہیں نہ ملا تو تم کیا کرو گی یا پھر کس کے پاس جاؤ گی؟"
اس نے دوبارہ گلاس بھرا
" اتنے لوگوں کو مارنے کے بعد بھی وہ اگر مجھے نہیں ملتا تو میں اس کو مار کر یہ کہانی ہی ختم کر دوں گی"
اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ سفاکی سے گویا ہوئی
" اس کو یعنی رابرٹ کو۔۔۔ گڈ۔۔۔ تو تم اس کہانی کی ولن ہو اور ولن کو کبھی ہیرو یا ہیروئن نہیں ملتے ولن کو ہمیشہ ولن ہی ملتا ہے۔۔۔ تو پھر ہے تمہاری نظر میں کوئی ہینڈسم ولن؟ "
خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجائے جوف نے دلچسپی سے پوچھا
روزلی اسے دیکھنے لگی جو واقعی میں ہینڈسم تھا اس کا رنگ بے حد گورا تھا چہرے کے نقوش کافی تیکھے تھے پتہ نہیں ایلا نے اسے کیوں ریجیکٹ کیا تھا اس کو مسترد کر کے وہ خود تو مری ہی تھی مگر اپنے پیچھے بہت سی لڑکیوں کی لائن بھی لگوا کر گئی تھی
" میں بس آخری بار رابرٹ سے ملنا چاہتی ہوں وہ اگر اب بھی نہیں مانتا تو میں اسے چھوڑ دوں گی ہاں میں اسے چھوڑ دوں گی اور۔۔۔۔۔۔ "
وہ میکانکی انداز میں بول رہی تھی تب ہی جوف نے اس کی بات کاٹ دی
" اور میرے پاس آجاؤ گی۔۔۔ جاؤ روزلی جاؤ۔۔۔ آخری بار بھی اس شخص کو آزما کر دیکھ لو مگر میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ جو شخص آپ کو دھتکار دے اگر آپ خود کو مار کر بھی اس کو پیش کر دیں تب بھی وہ آپ کا نہیں ہو گا۔ مجھے ایلا نے جب دھتکارا تو میں نے اس کی منتیں نہیں کیں کہ میری ہو جاؤ بلکہ میں نے اس سے اپنی ریجیکشن کا بدلہ اس طرح لیا کہ مجھے ضرورت ہی نہیں پڑی منتیں کرنے کی۔۔۔ ہاں تکلیف ہوتی ہے اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں سے مارو تو تکلیف ہوتی ہے اس کے بعد سب نارمل ہو جاتا ہے۔"
صوفے کے ساتھ ٹیک لگائے سپاٹ چہرہ اس پر جمائے وہ بولتا گیا اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔
" کیا اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں سے مارنا واقعی آسان ہوتا ہے؟ بس ذرا سی تکلیف اور اس کے بعد سب کچھ نارمل "
اس نے دل میں سوچا
" تم مجھے کیوں پانا چاہتے ہو میں تو تمہارے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوں۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔"
اس نے صوفے سے واپس ٹیک لگا لی تھی۔
" اسی لیے تو میں تمہیں اپنانا چاہتا ہوں اگر تم خوبصورت ہوتی تو کب کی مر چکی ہوتی میں تمہیں پہلی فرصت میں ہی اوپر پہنچا دیتا مجھے نفرت خوبصورت لڑکیوں سے ہے تمہاری جیسیوں سے نہیں میری بات مانو تو اس کے پاس مت جاؤ مجھے موت جتنا یقین ہے کہ وہ تمہیں کبھی نہیں ملے گا آگے فیصلہ تمہارا ہے "
کندھے اچکا کر اس نے دوسری بوتل اٹھا کر گلاس میں انڈیلی
" مگر میں چاہتی ہوں کہ وہ آخری بار بھی مجھے دھتکار دے میں آخری بار اس کے چہرے پر وہ تکلیف دیکھنا چاہتی ہوں جو ارورا کے مرنے کے بعد اسے پہنچی ہے میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ جب ہمارا محبوب شخص ہم سے دور ہو جائے تو کیسی حالت ہوتی ہے اگر ارورا کے مرنے پر وہ بالکل نارمل ہوا تو میں سمجھ جاؤں گی کہ اسے چھوڑتے ہوئے مجھے تکلیف نہیں ہوگی اور اگر وہ ابنارمل ہوا تو۔۔۔"
وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی
" اگر وہ ابنارمل ہوا تو سمجھ جانا کہ وہ تمہیں نہیں ملنے والا پھر تم میرے پاس آ جانا "
جوف نے اس کے بات مکمل کی اور وہ اسے دیکھتی رہ گئی
☆☆☆
" تمہیں پتا ہے جب میرا کوئی نہیں تھا تب تم تھے۔۔۔۔۔ تم مجھے اس وقت ملے جب سب نے مجھے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ میں سب کچھ چھوڑ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔ مگر تمہیں نہیں چھوڑ سکتی۔"
اسے اپنے سینے پر دباؤ محسوس ہوا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا اس کا تنفس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا چہرے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے اس نے ارد گرد دیکھا وہاں کوئی بھی نہیں تھا وہ ہاسپٹل کے ایک کمرے میں اکیلا تھا اس کے ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی اس کے کانوں میں ارورا کے آخری الفاظ گونج رہے تھے جو اس نے کہے تھے
اس نے ہاتھ پر لگی پن نوچ کر نکالی دونوں پیر زمین پر رکھے۔ تیزی سے دروازہ کھول کر وہ باہر نکل گیا۔ باہر ہاسپٹل کی راہداری اندھیرے میں ڈوبی تھی۔ وہاں کوئی بھی نہیں تھا وہ تیزی سے آگے بڑھا مگر وہیں اسے رکنا پڑا۔ ایک کمرے کا دروازہ کھول کر نرس باہر نکلی۔ اسے جاتے دیکھ کر وہ اس کی طرف بڑھی کیونکہ وہ پھر سے آگے بڑھ گیا تھا۔
"کہاں جا رہے ہیں آپ؟ آپ اس طرح کہیں نہیں جا سکتے۔"
رابرٹ نے اس کی بات سن کر اسے پرے دھکیل دیا
" میں تمہارے کسی حکم کا پابند نہیں ہوں ہٹو سامنے سے۔"
اسے سائیڈ پر کرتا وہ آگے بڑھ گیا
نرس نے جلدی سے موبائل نکال کر ایک نمبر ملایا
" سر آپ کا دوست جا رہا ہے اس نے میری بات نہیں سنی۔۔۔۔۔ اوکے۔"
دوسری طرف کی بات سن کر اس نے موبائل واپس رکھ دیا
وہ ایک اور راہداری کی طرف مڑا ہی تھا کہ جیک اسے اپنی طرف آتا دکھائی دیا
" کہاں جا رہے ہو؟ "
جیک کو نظر انداز کرتا وہ آگے بڑھ رہا تھا کہ رک گیا
" تم۔۔۔۔"
وہ طیش میں اس کی طرف مڑا
" تم جہاں جانا چاہتے ہو مجھے بتاؤ میں لے کر جاؤں گا تمہیں۔"
اس نے سکون سے کہا
" میں ارورا سے ملنا چاہتا ہوں اس سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔"
جیک نے خاموشی سے اس کی بات سنی پھر سر کو اثبات میں جنبش دی
" کیا پوچھنا چاہتے ہو؟"
اس نے نرمی سے سوال کیا۔
" میں اس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔"
وہ رک گیا
" کہ۔۔۔ "
جیک نے کہا
"کہ؟"
اس کو لگا وہ یکدم گونگا ہو گیا ہے۔
" کہ اس کو کس نے گولیاں ماریں "
پہلے تو رابرٹ نے بے یقینی سے اسے دیکھا پھر یکدم اس کو کالر سے دبوچ کر زوردار جھٹکا دیا۔
" بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ وہ بالکل ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوا اسے۔۔۔ سنا تم نے۔"
وہ چلایا
" اس کو نیم مردہ دیکھتے تمہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا تم مر گئے تھے کچھ سیکنڈز کے لیے تم واقعی مر گئے تھے مگر پھر تمہاری سانسیں واپس آگئیں۔ بے ہوش ہونے سے پہلے تم صرف یہی کہہ رہے تھے کہ تم مرنا نہیں چاہتے۔"
جیک نے خود کو چھڑوانے کی کوشش نہیں کی رابرٹ نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا
" کہاں ہے وہ؟ مجھے ابھی اور اسی وقت اس کو دیکھنا ہے۔"
جیک کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اثبات میں سر ہلایا
" ٹھیک ہے آ جاؤ مگر اس سے پہلے میری ایک بات سن لو۔"
اس کی اگلی بات نے جیسے رابرٹ کی دنیا ہلا کر رکھ دی تھی۔ کیا یہی بات سننے کے لیے اس نے زندگی مانگی تھی؟ اپنی بات مکمل کر کے جیک نے اس کا ردعمل دیکھنا چاہا مگر وہ مجسمہ بنا یک ٹک اسے دیکھے گیا
" میرے ساتھ آؤ "
کہہ کر وہ ایک طرف مڑ گیا۔ نمک کے مجسمہ میں ہلچل سی مچی گہری سانس بھر کے وہ اس کے ہم قدم ہوا اس نے کتنے موڑ کاٹے کتنی راہداریوں سے گزرا اسے نہیں معلوم ہوا جیسے جیسے وہ آگے جا رہا تھا اس کا دل بیٹھتا جا رہا تھا ایک کمرے کے سامنے رک کر جیک نے شیشے کا دروازہ کھولا اور پیچھے ہٹ گیا
رابرٹ کے ہاتھ بے جان ہونے لگے اس کا گلا خشک ہونے لگا تھا اس نے پہلا بے جان قدم اٹھا کر کمرے میں رکھا پھر دوسرا پہلی نظر اس کی ارورا پر پڑی جس کے چہرے پر آکسیجن ماسک لگا تھا قریب جا کر اس نے اس کا چہرہ دیکھا وہ بالکل زرد ہو چکا تھا گویا اس کے جسم سے سارا خون کسی نے نچوڑ لیا ہو۔ گھٹنوں کے بل فرش پر وہ اس کے عین سامنے بیٹھا آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا
" روزلی اسے دھوکے سے وہاں لے گئی تھی یہ اس کا پلان تھا وہ اسے مار کر تمہیں حاصل کرنا چاہتی تھی وہ اکیلے ارورا کو نہیں مار سکتی تھی اس کے لیے اس نے جوف سے مدد مانگی "
وہ لب بھینچے اس کی بات سنتا رہا اس کے چہرے پر سرخی سی تھی ہاتھ کانپ رہے تھے
" تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا۔ جیسا میں کہوں گا تم ویسا کرو گے "
جیک نے نظریں اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ سرد تھا۔ برف جیسا سرد۔
☆☆☆
بیڈ پر لیٹی وہ ایک البم کھولے بیٹھی تھی۔ جیسے جیسے وہ صفحے پلٹ رہی تھی اس کے چہرے پر تکلیف پھیلتی جا رہی تھی۔
کتنا خوش تھی وہ ان تصویروں میں لیکن ایک عرصہ ہوا اس نے مسکرانا چھوڑ دیا تھا۔ اس کے ہاتھ ہیری اور ممی کی تصویروں پر رکے۔ اس کی آنکھیں پانی سے لبالب بھر گئیں۔
البم ایک طرف رکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تبھی اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی اس نے چونک کر موبائل اٹھایا
"میں باہر کھڑا ہوں ایمی دروازہ کھولو"
وہ مارک کا میسج تھا اس نے وقت دیکھا رات کے بارہ بج رہے تھے۔
" تم اس وقت؟"
اس نے جوابی ٹیکسٹ کیا۔ وہ ہچکچائی تھی۔ آنسو صاف کرتے اس نے موبائل زور سے پکڑ لیا۔ وہ تذبذب میں تھی کہ اسے دروازہ کھولنا چاہیے یا نہیں۔
" اگر تم نہیں ملنا چاہتی تو میں چلا جاتا ہوں۔"
وہ بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھی
" ٹھہرو میں آ رہی ہوں "
تھوڑی دیر بعد جب اس نے دروازہ کھولا تو وہ سامنے کھڑا تھا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں
"کیا بات ہے مارک؟ تم اس وقت؟"
مارک نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھا وہ غیر ارادی طور پر پیچھے کی طرف چلتی گئی
" مارک کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟"
اس کی نظروں سے اسے خوف آنے لگا تھا اس نے جب غور سے اسے دیکھا تب اسے محسوس ہوا وہ نشے میں تھا۔ مارک نے ایک جھٹکے سے اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔
" یہ کیا کر رہے ہو؟ چھوڑو مجھے"
وہ چلائی
" نہیں۔۔۔ آج نہیں۔۔۔ "
چہرہ اس کے قریب کیے وہ اٹک اٹک کر بولا۔
ایمی کے جسم میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی چٹاخ کے ساتھ مارک لڑکھڑا کر صوفے پر جا گرا
" دفع ہو جاؤ یہاں سے۔"
انگلی دروازے کی طرف کر کے وہ چلائی۔ مارک ہنسنے لگا
" ہو جاؤں گا دفع بھی۔ اب اتنی بھی کیا جلدی۔۔ "
برق رفتاری سے بڑھ کر اس نے ایمی کو بالوں سے پکڑ لیا۔ اسے گھسیٹتے ہوئے وہ اسے اس کے کمرے کی جانب لے جانے لگا۔
وہ چلائی، جھٹپٹائی۔ وہ خود کو چھڑوانے کی پوری کوشش کر رہی تھی مگر مارک کی گرفت کافی سخت تھی۔ بے اختیار اس کی نظر سیڑھیوں کے قریب میز پر رکھے گلدستے پر پڑی جیسے ہی وہ سیڑھیوں کے قریب سے گزرا ایمی نے تیزی سے ہاتھ بڑھا کر گلدستہ اٹھایا اور گھوم کر اس کے سر میں دے مارا۔
" یوں بچ۔"
سر پر ہاتھ رکھے اس نے ایمی کے بال چھوڑ دیے اور گالی بھی دی
گلدستہ دوبارہ اس کی طرف پھینک کر وہ باہر کی جانب بھاگی اس نے اپنی پیٹھ پر اس کے کراہنے کی آواز آئی تھی باہر دروازے پر پہنچ کر اس نے جب گردن موڑ کر دیکھا وہ اسی کی طرف آ رہا تھا۔
حواس باختہ سی وہ باہر نکل کر سڑک پر بھاگنے لگی۔
" ہیلپ می۔۔۔"
وہ بھاگتے ہوئے چلائی مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو اس کی مدد کرتا بھاگتے ہوئے اس نے دوبارہ گردن موڑی وہ آ رہا تھا اس کے ماتھے سے خون بھی نکل رہا تھا۔
" اوہ گاڈ ہیلپ می۔"
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے دوسری جانب سڑک مڑتے ہی اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو سڑک کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھا زمین کو گھور رہا تھا۔
" پلیز مجھے بچالو۔۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکا۔۔۔۔۔۔ وہ میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔ "
اس کے قریب پہنچ کر وہ تیز ہوتے تنفس کے ساتھ بولی۔
اس شخص نے چہرہ اٹھا کر اس کے خوف میں لپٹے چہرے کو دیکھا۔
جاری ہے
Bloods ep 12 link 🖇️ 👇
https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/04/bloods-ep-12-by-munaza-niaz.html
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment