Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Bloods Ep 12 by Munaza Niaz
Bloods
By Munaza Niaz
Ep - 12
اپنی ماں کے سینے سے لگی وہ سات سالہ بچی ہچکیوں سے رو رہی تھی
"ممی وہ لوگ داؤد کو لے گئے۔۔۔ ممی میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں نے اسے روکا تھا۔۔۔ وہ لوگ اسے لے گئے"
جب سے داؤد اغوا ہوا تھا ہیر کی حالت خراب تھی سب نے اس سے بار بار پوچھا تھا کہ داؤد کہاں ہے؟ وہ دونوں کہاں گئے تھے؟ کون لوگ اسے لے گئے جیسے سوال پوچھ رہے تھے۔ داؤد کی امی نے تو ایک بار پوچھتے ہوئے اسے تھپڑ بھی مار دیا تھا
"تم ہی لے کر گئی ہوگی اسے۔۔۔ تمہاری وجہ سے میرا بیٹا مجھ سے چھن گیا۔۔۔ تمہاری وجہ سے میں نے اپنے بیٹے کو کھو دیا"
وہ روتے ہوئے اس پر چلا رہی تھیں۔ پہلے تو وہ بنا پلک جھپکائے انہیں روتا دیکھتی رہی پھر بے ہوش ہو کر گر پڑی اور پھر ہوش میں آنے کے بعد وہ صرف روتے ہوئے یہی بات دہراتی رہی کہ وہ لوگ اسے لے گئے اسے نہیں پتہ کہ وہ لوگ کون تھے
تین دن ہو گئے تھے مگر داؤد کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا داؤد کی امی بیمار رہنے لگی تھیں داؤد ان کا اکلوتا بیٹا تھا وہ جب جب ہیر کو دیکھتیں انہیں داؤد بری طرح یاد آتا۔
ہیر اپنی ماں کی گود سے نکل کر بیڈ سے اتری
"کہاں جا رہی ہو ہیر؟"
حسنہ (ہیر کی امی) نے پوچھا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ ننگے پیر بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی
حسنہ اور آمنہ (داؤد کی امی) دونوں خالہ زاد بہنیں تھیں دونوں کی شادی ایک ساتھ ایک ہی گھر میں ہوئی تھی مرتضیٰ حسن اور ابتہاج حسن دونوں بھائی تھے ان کے والدین حیات تھے حسن ابراہیم اکلوتے پوتے کے اغوا ہونے کی خبر سن کر ڈھے سے گئے تھے۔ دادی الگ رو رو کر اسے یاد کرتے نہ تھکتی تھیں۔
سب کو لگتا تھا کہ ہیر داؤد کو لے کر گئی تھی کوئی بھی اس کی بات نہیں سن رہا تھا مرتضیٰ اور ابتہاج نے اس سے پوچھا تھا کہ وہ دونوں کہاں گئے تھے مگر وہ کچھ بھی نہیں بتا سکی تھی ڈرائیور کے بتانے پر وہ پولیس کے ساتھ وہاں گئے تھے جہاں فیکٹری تھی مگر وہاں جا کر معلوم ہوا فیکٹری تو سیل ہو چکی ہے اور فیکٹری کا مالک یہ ملک چھوڑ کر جا چکا ہے۔
ہیر بھاگتی ہوئی آمنہ کے کمرے میں گئی تھی وہ ٹیک لگائے ویران چہرہ لیے خلا میں کہیں دیکھ رہی تھیں
"خالہ۔۔۔"
ہیر نے قریب جا کر ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا اس کا چہرہ آنسوؤں میں بھیگا ہوا تھا انہوں نے چونک کر اسے دیکھا ہیر انہیں خالہ بھی بلاتی تھی اور چچی بھی خالہ انہیں تب بلاتی جب اسے ان پر ڈھیر سارا پیار آتا تھا یا داؤد کو چڑوانا ہوتا۔
"آپ مجھ سے ناراض ہیں؟"
اسے ہچکی آئی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا بس یک ٹک اسے دیکھتی گئیں
"خالہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا مجھے نہیں پتہ وہ کون تھے داؤد نے مجھے کہا کہ وہ مجھے کچھ دکھانا چاہتا ہے اور۔۔۔۔"
اپنی اور داؤد کی آخری گفتگو اس نے ہچکیوں کے درمیان انہیں کہہ سنائی
"میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں خالہ مجھ سے ناراض نہ ہوں"
اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
آنسوؤں کا گولا آمنہ کی حلق میں اٹکا ہاتھ بڑھا کر انہوں نے اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا دیا خود میں بھینچے انہیں احساس ہوا ہیر کا جسم بخار میں دہک رہا تھا وہ جو آنسو روکے بیٹھی تھیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں
"ہیر میری بیٹی۔۔ خالہ کی شہزادی۔"
اس کا چہرہ اور سر چومتے ہوئے وہ یہی الفاظ دہراۓ جا رہی تھیں۔
دروازے کی درز سے حسنہ نے سب کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھا تھا پھر وہ پلٹ گئی تھیں۔
☆☆☆
بائیک سے اتر کر وہ اندرونی دروازے کی جانب بڑھی اس کے پیروں میں سفید جوگر تھے چھوٹے بال پونی میں بندھے تھے ہال سے گزرتی وہ لفٹ کے دائیں جانب بنے ایک کمرے کے سامنے رکی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا
لمبی سانس سینے میں بھر کر اس نے ہوا میں چھوڑ دی چہرے پر ہاتھ پھیر کر اس نے خود کو ریلیکس کیا اور ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھول دیا۔
"کہاں تھیں تم روزلی؟ میں کتنے دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا تھا۔ تمہیں میرا ذرا احساس نہیں ہے"
بک ریک کے سامنے کھڑے رابرٹ نے بنا پلٹے کتاب واپس رکھتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
"میں۔۔۔۔۔۔ میں وہ۔۔۔۔۔"
روزلی نے تھوک نگلا پتہ نہیں کیوں مگر اس کی زبان لڑکھڑا گئی تھی۔
"او ہاں تم تو کافی مصروف رہتی ہو میں نے بھی پتہ نہیں تمہیں کن کن کاموں میں الجھا رکھا ہے تم تو آرام بھی نہیں کرتی ہوگی"
وہ قدم قدم چلتا ہوا اس کے سامنے آ کر رکا۔
روزلی نے غور سے اسے دیکھا اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی چہرہ کافی پرسکون تھا کیا اسے نہیں معلوم کہ ارورا مر چکی ہے؟ روزلی نے سوچا۔
رابرٹ نے دونوں ہاتھ اس کی کمر کے گرد ڈال کر اپنے قریب کیا روزلی کا سانس رکا۔
"میں اکیلا ہو گیا ہوں روز۔۔۔۔۔ مجھے یہ تنہائی کاٹنے لگی ہے۔"
ایک ہاتھ اٹھا کر روزلی کے پیچھے دروازہ بند کر دیا اور مزید اس کے قریب ہو گیا۔
"را۔۔۔۔ رابرٹ۔۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟ یہ تم۔۔۔"
کپکپاتے ہاتھ اس نے اس کے کندھوں پر رکھنے چاہے مگر وہ ایسا نہیں کر سکی
رابرٹ نے بنا کچھ کہے اس کے ہاتھ پکڑے اور اسے دروازے کے ساتھ لگا دیا۔ روزلی لب بھینچے سانس روکے اس کی آنکھوں میں دیکھتی گئی اس کی نظریں اس کے پورے چہرے پر بھٹک رہی تھیں
رابرٹ کے سانسوں کی تپش وہ اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی اس نے دیکھا رابرٹ کا چہرہ ایک انچ کے فاصلے پر تھا یہی تو وہ چاہتی تھی کہ سارے فاصلے مٹ جائیں وہ اس کا ہو جائے۔ آنکھوں سے ہوتی اس کی نظر اس کے ہونٹوں اور پھر تل تک چلی گئی اور پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں
وہ جو چہرے پر نرمی پھیلائے اس کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا یکایک اس کی آنکھوں میں لہو چھلکنے لگا ہاتھوں کی نرم گرفت میں سختی سی در آئی روزلی نے آنکھیں نہیں کھولیں اسے پانے کے لیے وہ سب کچھ سہہ جانا چاہتی تھی۔
اس کے ہاتھ چھوڑ کر رابرٹ نے پیچھے ہوتے ہوئے ایک طاقتور تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا وہ جو بے جان سی کھڑی تھی دیوار میں جا لگی۔ چہرے پر ہاتھ رکھے اس نے خوفزدہ نگاہیں رابرٹ پر ڈالیں جو طیش میں دوبارہ اس کی طرف بڑھا اور بالوں سے پکڑ کر کھڑا کرتے اس کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔
"تم نے اسے مار دیا۔۔۔۔۔ تم نے اسے مار دیا۔"
یہی الفاظ دہراتے وہ اسے مارتا گیا
روزلی نے پورا زور لگا کر اسے دھکا دیا اس کی ناک اور منہ سے خون نکل رہا تھا آنکھوں میں پانی جمع ہو چکا تھا۔
"ہاں مار دیا میں نے اسے۔ اچھا ہوا وہ مر گئی۔ اگر اس دن وہ نہ مرتی تو بعد میں مرتی اور میرے ہاتھوں ہی مرتی وہ تمہیں مجھ سے دور کر رہی تھی میں محبت کرتی ہوں تم سے۔ سنا تم نے میں محبت کرتی ہوں تم سے"
کھڑے ہو کر وہ پوری قوت سے چلائی
"مجھے تم چاہیے رابرٹ۔۔۔۔۔ مجھے صرف تم چاہیے"
وہ دوبارہ چلائی
"مجھے حاصل کرنا چاہتی ہو؟۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ مجھے حاصل کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے آ جاؤ یہ کھڑا ہوں میں آ جاؤ ابھی"
دونوں ہاتھ اٹھا کر اس نے کہا اس کی آنکھوں میں غیض و غضب جھلک رہا تھا
وہ ایک قدم بھی نہ اٹھا سکی۔ اس کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا۔ رابرٹ تیزی سے اس کی طرف بڑھا اسے بالوں سے پکڑ کر اس کا سر دیوار میں دے مارا ایک بار۔۔۔۔ پھر دوسری بار۔۔۔۔
تیسری بار اس نے دروازہ کھول کر اسے باہر کی جانب دھکا دے دیا وہ لڑکھڑاتے ہوئے دور جا گری اس کا سر پھٹ گیا تھا خون نکل کر اس کے پورے چہرے پر پھیل گیا تھا۔ اس نے دیکھا وہ پھر سے اس کی جانب بڑھ رہا تھا تیزی سے اٹھ کر وہ باہر کی جانب بھاگی اگر وہ نہ بھاگتی تو رابرٹ اسے جان سے مار دیتا
اسے بھاگتے دیکھ کر رابرٹ یک دم رک گیا
"میں تمہیں اتنی آسان موت نہیں دوں گا"
اس کے جاتے ہی اس نے ہال میں موجود ہر چیز تہس نہس کر دی اس کا غصہ ایسا تھا کہ کم ہونے میں ہی نہیں آرہا تھا بس نہیں چل رہا تھا اس کا کہ کیا کچھ کر ڈالے
جب وہ وہاں پر موجود ہر ایک چیز کو توڑ چکا تو باہر نکل گیا۔ باہر کوئی بھی نہیں تھا روزلی بھاگ گئی تھی اس کے قدم اپنی گاڑی کی جانب تھے پورے دو گھنٹے وہ ریش ڈرائیو کرتا رہا شہر کی خاک چھانتے اس نے ایک جگہ گاڑی روک دی اور باہر نکل گیا چند قدم چل کر جب وہ خود سے لڑ کر تھک گیا تو سڑک کے کنارے بیٹھ گیا اس کا دل غم اور غصے سے پھٹنے کے قریب تھا ایک بھاری بوجھ تھا جو اس کے دل پر تھا وہ رونا چاہتا تھا مگر۔۔۔۔۔۔
اسے کسی کے بھاگنے کی آواز آئی اس نے چہرہ نہیں اٹھایا بس سڑک کے کنارے بیٹھا فرش کو گھورتا رہا اچانک دو سفید ننگے پیر اس کے سامنے آکر رکے۔
"پلیز مجھے بچالو۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ وہ لڑکا۔۔۔۔۔ وہ میرے ساتھ۔۔۔۔۔"
اس کے پیروں سے نظریں اٹھا کر اس نے اس کا چہرہ دیکھا
☆☆☆
اس نے اپنی بائیک ایک فیکٹری کے سامنے روکی جب وہ نیچے اترا تو اس کے ایک ہاتھ میں گن اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ تھا۔
سگریٹ ہونٹوں میں دبا کر لائٹر کے شعلے سے اسے جلایا لائٹر کی روشنی میں اس کا چہرہ نظر آیا جو کچھ دیر قبل رات کی سیاہی میں چھپا ہوا تھا منہ سے سگریٹ نکالے بغیر وہ سیدھ میں چلتا گیا سامنے گیٹ بند تھا سگریٹ پھینک کر وہ دس قدم پیچھے چل کر برق رفتاری سے گیٹ کی جانب بھاگا پھرتی سے چھلانگ لگاتے اس نے مہارت سے گیٹ چڑھنا شروع کر دیا اگلے دس سیکنڈ میں وہ گیٹ کے دوسری جانب کود چکا تھا
اس کے قدم اب تیزی سے اندر کی جانب بڑھ رہے تھے ساتھ ہی اس نے دوسرا سگریٹ سلگا لیا تھا اندر سامنے اور دائیں بائیں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے ٹینک رکھے تھے گن نکال کر اس نے سب سے چھوٹے ٹینک پر گولی چلا دی۔ الکوحل دھار کی صورت سوراخ سے نکلنے لگی دوسرا فائر گھوم کر بڑے ٹینک پر کر دیا آخری فائر اپنے سامنے کھڑے سب سے بڑے ٹینک پر کر دیا
سلگتا ہوا سگریٹ اپنے سامنے پھینکا الکوحل کی دھار پھیلتی ہوئی اس کی جانب آ رہی تھی اس نے سگریٹ اور شراب کا فاصلہ نظروں میں ناپا اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔ دل فریب مسکراہٹ
تیسرا سگریٹ نکال کر اس نے مزے سے سلگایا اور باہر کی جانب بڑھ گیا گیٹ پار کر کے اس نے آخری نظر فیکٹری پر ڈالی اور بائیک پر جا بیٹھا ہیلمٹ پہن کر اس نے بائیک اسٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔
بہت آگے جا کر اس نے اپنے دل میں اتر جانے والا دھماکہ سنا تھا
"کمال کر دیا تم نے جیک۔۔۔۔ گڈ ویری گڈ"
اس نے خود کو شاباشی دی
☆☆☆
رابرٹ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا بکھرے بالوں اور خوفزدہ چہرے والی ایمی اس کے سامنے کھڑی تھی اس کی بات پر رابرٹ نے گردن ترچھی کر کے اس لڑکے کو دیکھا جو تھوڑے فاصلے پر رک گیا تھا
"چلی جاؤ یہاں سے"
سپاٹ لہجے میں کہہ کر اس نے دوبارہ گردن جھکا دی ایمی کے ہاتھ بری طرح کانپے
"پلیز مجھے اس سے بچالو وہ میرے ساتھ۔۔۔"
کپکپاتے ہاتھ چہرے پر رکھے وہ بری طرح رو دی مارک نے جب دیکھا کہ یہاں ایمی کی دال نہیں گلنے والی تو وہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے اس کی طرف بڑھا ایمی خوف سے دو قدم پیچھے ہوئی اس کی نظر نیچے بیٹھے شخص پر گئی جو پتھر بنا بیٹھا بس زمین کو گھورے جا رہا تھا اس نے بے دردی سے آنکھیں رگڑیں پھر مارک کو دیکھا
"اگر آج میرا بھائی زندہ ہوتا تو میں دیکھتی کہ تم کیسے مجھے ہراساں کرتے ہو میں تمہاری دوست ہوں مارک تم کیوں ایسا کر رہے ہو میں سمجھی تھی کہ تم میری مدد کرو گے ہیری اور ممی کے قاتلوں کو ڈھونڈنے میں مگر تم تو۔۔۔۔۔"
ایمی نے دیکھا کہ وہ پتھر بنا بیٹھا شخص ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا تھا
" تمہیں یہ لڑکی چاہیے؟ آ جاؤ لے جاؤ اسے"
رابرٹ نے ایمی کا بازو پکڑ کر اس کی طرف دھکیلا
مارک جو گنگ سا کھڑا تھا اس کی بات پر پہلے تو چونکا پھر ایک قدم آگے بڑھایا قریب پہنچ کر اس نے اسے پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسی لمحے رابرٹ نے اس کا وہی ہاتھ پکڑ لیا سختی سے اس کا ہاتھ مروڑتے اس نے ایمی کی طرف دیکھا
مارک کراہنے لگا جب کہ ایمی دہشت زدہ سی کھڑی ان دونوں کو دیکھنے لگی
"تم اکیلی ہو تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ تم ایک کمزور اور ڈرپوک لڑکی ہو اس جیسے سینکڑوں درندے تمہارے سامنے آئیں گے تو کیا تم سب سے بھاگ کر ایسے ہی ہر کسی کو مدد کے لیے پکارو گی؟ کب تک ایسے ہی بھاگتی رہو گی؟ ایک نہ ایک دن کوئی تو تمہارے ساتھ کھیل ہی جائے گا تب تم کیا کرو گی؟ روؤ گی، ماتم کرو گی اور پھر خودکشی۔"
اچانک رک کر اس نے کراہتے ہوئے مارک کا ہاتھ چھوڑا اور پوری قوت سے گھونسا اس کے جبڑے پر مارا وہ گھومتا ہوا پیچھے جا گرا
ایمی ڈر کر پیچھے ہونے لگی تھی کہ رابرٹ نے سختی سے اس کا بازو پکڑ لیا وہ تڑپ گئی۔
اس نے لہو چھلکاتی نگاہوں سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
"مار دو یا مر جاؤ"
کہہ کر اسے مارک کی طرف دھکیل دیا جو سڑک پر گرا خود کو پیچھے کی طرف گھسیٹنے لگا تھا لڑکھڑاتے ہوئے ایمی فوراً سیدھی ہوئی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے
"میں۔۔۔۔ میں کیسے مار دوں اسے"
وہ دوبارہ رونے لگی۔
رابرٹ نے آنکھیں میچیں۔ مارک جو اٹھ کر بھاگنے لگا تھا کہ تیزی سے آگے بڑھ کر رابرٹ نے اسے کالر سے دبوچا۔ اسی طرح اسے پکڑے اس نے اس کا سر قریب کھڑی اپنی گاڑی کے بونٹ پر دے مارا وہ ڈگمگاتے ہوئے دوبارہ سڑک پر جا گرا آنکھوں کے سامنے دھند چھانے لگی اسے اپنے ماتھے سے گال پر نمی کا احساس ہوا اس نے ہاتھ اٹھا کر اپنا گال چھوا پھر ماتھا۔ جب سامنے کر کے دیکھا تو وہ خون تھا۔
تیزی سے گاڑی کی ڈگی کھول کر رابرٹ نے ایک موٹی زنجیر نکالی واپس آ کر وہ زنجیر ایمی کے سامنے پھینک دی پھر خود گاڑی کے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا ایمی نے پہلے زنجیر پھر رابرٹ کو دیکھا جو سپاٹ چہرہ لیے جیب سے سگریٹ کی ڈبی اور لائٹر نکال رہا تھا
وہ ایمی کو نہیں دیکھ رہا تھا ایمی نے جھک کر وہ زنجیر اٹھائی پھر مارک کے سامنے جا کھڑی ہوئی
"نہیں نہیں ایمی رک جاؤ پلیز نہیں"
وہ خود کو پیچھے دھکیلتے ہوئے گڑگڑایا ایمی کی آنکھوں میں چھانے والی وحشت اب اس کی آنکھوں میں چھانے لگی تھی
زنجیر ہاتھ پر لپیٹ کر اس نے پوری قوت سے اسے مارا وہ چیخ اٹھا اس نے دوبارہ مارا اور پھر مارتی گئی وہ سوچ رہی تھی کہ گاڑی پر بیٹھا شخص اسے روکے گا مگر رابرٹ اطمینان سے سگریٹ پیتے ہوئے اسے دیکھتا رہا
مارک کو مارتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وہ بے ہوش ہو چکا ہے اس کا پورا چہرہ خون میں لت پت ہو چکا تھا اس نے ہاتھ روک لیا چہرہ موڑ کر اس نے رابرٹ کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ چل کر اس کے سامنے آئی اور زنجیر والا ہاتھ اس کے سامنے کیا سگریٹ پھینک کر وہ نیچے اترا اور زنجیر اس کے ہاتھ سے لے لی گھوم کر اسے ڈگی میں واپس رکھا پھر اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
"فکر مت کرو وہ مرا نہیں ہے ابھی"
اس نے مدھم آواز میں کہا البتہ چہرے کا سپاٹ پن ہنوز قائم تھا
"وہ دوبارہ آگیا تو؟"
اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
"نہیں آئے گا اگر آ بھی گیا تو تمہیں دیکھتے ہی واپس بھاگ جائے گا"
"تھینک یو کہ تم نے میری مدد کی اگر آج تم نہ ہوتے تو۔۔۔"
رابرٹ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا وہ یکدم خاموش ہوئی
"کیا کہہ رہی تھی تم اسے کہ تم اپنے بھائی اور ماں کا بدلہ لینا چاہتی ہو"
ایمی نے اثبات میں سر ہلایا پھر تیزی سے نفی میں
"نہیں نہیں بدلا نہیں لینا چاہتی بلکہ انہیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کرنا چاہتی ہوں"
اس نے جلدی سے کہا رابرٹ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر یک دم ہنس پڑا پتہ نہیں کیوں مگر وہ ہنس رہا تھا ایمی نے الجھ کر اسے دیکھا اس نے ایسی تو کوئی بات نہیں کی تھی جس پر ہنسا جاتا
وہ ایک انگلی اور انگوٹھے کو آنکھوں پر رکھے مسلسل ہنس رہا تھا اسی طرح ہنستے اس نے ایمی کو دیکھا اور پھر ایمی نے دیکھا اس کی آنکھوں میں پانی تھا نمکین پانی
"تم رو رہے ہو؟"
اس نے پوچھ ہی لیا
"نہیں میں کیوں روؤں گا یہ تو بس ہنسنے کی وجہ سے"
آہستہ سے وہ دوسری طرف مڑ گیا ایمی کچھ لمحہ اس کی چوڑی پشت کو دیکھتی رہی پھر گھوم کر اس کے سامنے آئی وہ اب ہنس نہیں رہا تھا بلکہ ضبط کیے کھڑا تھا
"تم رونا نہیں چاہتے تم بس کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈ رہے تھے جس کو استعمال کر کے تم اپنے آنسوؤں کو باہر نکال سکو جو اندر ہی اندر تمہیں جلا رہے ہیں میں یہ نہیں پوچھوں گی کہ تمہیں کون سا غم اندر ہی اندر کھا رہا ہے اگر تم رو کر اپنا دل ہلکا نہیں کرو گے تو تم انسان نہیں رہو گے بلکہ پتھر بن جاؤ گے تمہیں پتہ ہے جب میرا دل غم سے پھٹنے لگتا ہے نہ۔۔۔ تو میں روتی ہوں اور چیخ چیخ کر روتی ہوں اگر میں ایسا نہ کروں تو میں خود کو انسان نہیں پتھر سمجھنے لگتی ہوں جس کو اپنے بھائی اور ماں کی موت کا دکھ نہیں ہے مجھے پتہ ہے کہ میں ان کے قاتلوں کو نہیں ڈھونڈ سکوں گی اور نہ ہی ابھی تک پولیس ڈھونڈ پائی ہے ایک یہی غم ہے جو اندر ہی اندر مجھے کھا رہا ہے میں اس ایک شخص کو جس کی وجہ سے یہ سارا کھیل شروع ہوا اپنے ہاتھوں سے مارنا چاہتی ہوں اس کی وجہ سے میرا بھائی مارا گیا میری ماں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔"
وہ بول رہی تھی اور وہ خاموشی سے اسے سن رہا تھا
" رابرٹ۔۔۔۔۔ رابرٹ مِلر نام ہے اس کا ایک گینگسٹر، قاتل، مافیا کا بادشاہ، بے رحم اور سفاک جس دن وہ میرے سامنے آیا میں اسے مار دوں گی اس کی وجہ سے میری فیملی ختم ہو گئی اس کی وجہ سے میں اکیلی رہ گئی اور مارک جیسے کتے میرے پیچھے پڑ گئے وہ لوگوں کو مار کر یہ نہیں سوچتا کہ مرنے والوں کے پیچھے رہنے والے کن حالات میں ہیں وہ انسان نہیں ایک حیوان ہے۔"
اچانک رک کر اس نے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو غور سے اسے سن رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسو اب خشک ہو چکے تھے۔
"وہ ایک بھیڑیا ہے اسے لوگوں پر رحم نہیں آتا اسے کسی پر ترس نہیں آتا وہ لوگوں کو اس طرح مارتا ہے کہ دیکھنے والے موت سے خوف کھائیں اسے موت سے ڈر نہیں لگتا اس کے اس دنیا میں اتنے دشمن ہیں کہ اسے فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا کر لے گا اسے اگر فرق پڑتا ہے تو اپنے کسی عزیز کی تکلیف پر پڑتا ہے۔ اپنے کی کسی موت سے پڑتا ہے اپنے کے کسی پیٹھ پر وار کرنے سے پڑتا ہے۔ اپنے کے کسی بچھڑنے پر پڑتا ہے"
وہ بولتا گیا اور وہ حیرت سے اسے سنتی گئی
"تم۔۔۔۔ تم جانتے ہو اسے؟"
رابرٹ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا پھر چل کر ایک قدم اس کے قریب آیا ہلکا سا جھک کر اپنی آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔
"خود سے بھی زیادہ۔"
ایمی کے جسم میں سنسنی خیز لہر سی دوڑ گئی وہ زیادہ دیر اس کی گہری آنکھوں میں نہ دیکھ سکی جس میں خاموش دہشت سی تھی۔ اس نے فوراً نظریں دائیں طرف پھیر دیں۔
"اگر وہ کبھی تمہارے سامنے آگیا تو کیا تم واقعی اسے مار دو گی؟"
سیدھا ہوتے وہ عجیب طریقے سے مسکرایا ایمی نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
سامنے کھڑا شخص جو عام سا تھا اسے دیکھ کر وہ خوف سے کچھ نہ کر پائے گی کہاں مافیا کا خطرناک گینگسٹر جو غلطی سے اس کے سامنے آ بھی گیا تو اس کو مارنا تو دور وہ خود ہی فوت ہو جائے گی۔
"پتہ نہیں"
اس نے بے بسی سے چہرہ جھکا دیا
"میں اگر تمہارے دشمنوں کو تمہارے سامنے لا کھڑا کروں جن کو تم تلاش کرنے کے بجائے گھر میں چھپ چھپ کر گالیاں دیتی ہو انہیں مر جانے کی بددعائیں دیتی ہو تو کیا تم انہیں مار دو گی؟"
اس کی آنکھوں میں مسکراہٹ تھی وہ پتہ نہیں اس سے کیا سننا چاہتا تھا
"ہاں مار دوں گی۔"
چہرہ اٹھا کر وہ بے خوفی سے بولی اور وہ یکدم ہنس پڑا۔ دل کھول کر۔ ہاں وہ واقعی میں ہنسا تھا۔
"تم مذاق اڑا رہے ہو میرا"
وہ رو دینے کو ہوئی
" میں تمہارے ہر دشمن کو تمہارے سامنے لا کھڑا کروں گا یہاں تک کہ رابرٹ ملر کو بھی۔"
ہنسی روک کر وہ سفاکیت سے بولا وہ گنگ شکل بنائے کھڑی رہ گئی
"آجاؤ"
کہہ کر گاڑی میں جا بیٹھا وہ میکانکی انداز میں چلتی ہوئی اس کی دوسری طرف آ بیٹھی۔
"تمہارا نام کیا ہے؟"
گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے وہ رکا پھر اس کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
"داؤد۔۔۔ داؤد مرتضیٰ نام ہے میرا۔"
اس کا چہرہ سخت ہو گیا بالکل پتھر کی طرح وہ اس سے کچھ اور بھی پوچھنا چاہتی تھی مگر اس کا چہرہ دیکھ کر اپنا ارادہ بدل لیا۔
جاری ہے
Bloods ep 13 link 🖇️ 👇
https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/04/bloods-ep-13-by-munaza-niaz.html
Popular Posts
ZEHER-E-ISHQ BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment