Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Bloods Ep 13 by Munaza Niaz

 


Bloods 

By Munaza Niaz 

Ep - 13


وہ صوفے پر بیٹھی ٹانگیں لمبی کیے سامنے دیوار پر لگی جوف کی فریم شدہ تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے دائیں طرف بیڈ پر جوف بیٹھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ روزلی کے ساتھ ہوئے واقعے کو آج چوتھا روز تھا، وہ تقریباً مرتے مرتے بچی تھی۔ دو دن تک تو وہ ہوش و خرد سے بیگانہ رہی تھی۔


تیسرے دن ہوش میں آتے ہی اس نے گونگوں کا جھوٹا کھا لیا تھا اور آج چوتھا روز تھا اور جوف سوچ رہا تھا کہ آگے کیا ہوگا؟ وہ آگے کیا کرے گی؟ کیا سوچا ہوگا اس نے؟


"تو پھر کیا سوچا ہے تم نے؟"

بالآخر جوف نے منہ کھول ہی لیا۔

"رابرٹ کی موت۔"

اس نے جوف کی تصویر سے نظر نہیں ہٹائی۔


" ایسا ممکن ہے تمہارے لیے؟"

جوف نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا پھر معنی خیزی سے مسکرایا۔


"تم ہو نا! تم میری ہر ناممکن چیز کو ممکن بناؤ گے، تم اور میں ہم دونوں مل کر اسے ماریں گے۔ اس نے جو کچھ میرے ساتھ کیا وہ میں مرتے دم تک نہیں بھولوں گی۔"

اسے دیکھ کر وہ سختی سے بولی۔


"ادھر آؤ"

بیڈ سے ٹیک لگاتے اس نے روزلی کو کہا وہ سپاٹ چہرہ لیے اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ جوف نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے قریب بٹھایا وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔


"مجھ پر یقین ہے؟"

اس کی گردن کے پیچھے ہاتھ رکھا۔ روزلی نے اثبات میں سر ہلایا۔

"ہاں تو پھر ہم اسے ختم کر دیں گے"

مسکرا کر کہتے دوسرا ہاتھ اس کے کمر میں ڈالا اور اسے اپنے برابر دوسری طرف لٹا دیا۔


لیمپ آف کرنے کے ساتھ اس نے موبائل بھی آف کر دیا تھا۔


☆☆☆


"کیا بکواس کر رہے ہو؟"

جیک کے بات سن کر جوف چلا ہی تو اٹھا۔

"میں سچ کہہ رہا ہوں۔ کل رات ہی کسی نے فیکٹری میں گھس کر آگ لگائی تھی۔ پوری فیکٹری جل گئی ہے۔ کچھ بھی نہیں بچا میں نے آپ کو بہت دفعہ کال کی تھی مگر آپ کا فون بند تھا اور اتنی جلدی میں یہاں بھی نہیں آسکتا تھا پوری رات میں وہاں مصروف رہا تھا۔" 

لہجہ کافی حد تک پریشان کن تھا لیکن وہ دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا۔


وہ بل کھا کر اٹھا اس کے برابر بیٹھی روزلی نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا اس کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا ان دونوں کو دیکھتے ہوئے وہ وقفے وقفے سے گھونٹ بھر رہی تھی آنکھوں میں کوئی تاثر نہیں تھا


"رابرٹ۔۔۔۔۔۔ اسی نے کیا ہے یہ سب"

اس نے سکون سے کہا


"میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا"

روزلی کی طرف مڑ کر وہ چلایا


"تم نہیں جانتے کہ وہ کیا کر سکتا ہے۔ اسے ہلکے میں مت لینا"

صوفے سے ٹیک لگاتے اس نے ایک اور گھونٹ بھرا۔


جوف پاگل ہونے کے قریب تھا اس کی فیکٹری کروڑوں مالیت کی تھی وہ شراب کی سپلائی کرتا تھا اس کی فیکٹری راکھ ہوگئی تھی 


(مجھے ان چاروں کی تصویریں دو جنہوں نے روزلی کے ساتھ مل کر ہیری اور اس کی ماں کو قتل کیا تھا اور یہ بھی کہ وہ اب کہاں ہوتے ہیں۔ جیک کے سامنے کھڑے رابرٹ یعنی داؤد نے اس سے کہا )


"وہ ایک ایک کر کے ہمیں مارنا شروع ہوگا جب تک ہم سب مر نہیں جاتے وہ چین سے نہیں بیٹھے گا"

آنکھوں میں کرب لیے روزلی نے ایک اور گھونٹ بھرا


( وہ اس وقت جم میں کھڑا تھا۔ اپنے ذاتی جم میں۔ اس کے سامنے پنچنگ بیگ لٹک رہا تھا جس پر وہ اپنی پوری قوت سے مکے برسا رہا تھا اس کے دائیں طرف سنوکر میز پر ایمی بیٹھی تھی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے کیونکہ اس نے آج پہلی دفعہ کسی کو مارا تھا وہ بھی جان سے۔)


"میں نے ارورا کو مارا ہے۔ یہ بات رابرٹ کے دل میں تیر کی طرح کھب گئی ہے۔ وہ بے رحم ہو چکا ہے۔ رحم دل تو وہ پہلے بھی نہیں تھا"

جوف اس کے برابر میں آ بیٹھا اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا جیک مسکراہٹ دبائے وہاں سے ہٹ گیا 


( آخری گھونسا مار کے وہ رکا۔ مڑ کر روتی ہوئی ایمی کو دیکھا پھر چلتا ہوا اس کے سامنے آیا ایمی نے چونک کر اسے دیکھا۔ اس کے وجیہہ چہرے پر پسینے کے قطرے تھے اس کی سیاہ شرٹ بھی پسینے میں بھیگی ہوئی تھی


"میرے سامنے رونے دھونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر اتنا ہی رونا آرہا ہے تو چلی جاؤ یہاں سے مجھے بزدل اور ہر وقت رونے والی لڑکیوں سے شدید نفرت ہے"


قہر بھری نظر ڈال کر اسے کہا اور پلٹ گیا ایمی نے سختی سے آنکھیں رگڑ ڈالیں)


"یہ اس کا پہلا شکار تھا"

اپنے سامنے پڑے مرے ہوئے اپنے آدمی کو وہ ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا


( "اپنا سارا فوکس نشانے پر لگاؤ تمہارا دماغ بھٹکا تو تمہارا نشانہ خطا ہو جائے گا اور تم اپنے دشمن کو کھو دو گی"

شوٹنگ کلب میں کھڑا وہ اسے سکھا رہا تھا آج انہوں نے دوسرا شکار بھی کر ڈالا تھا)


"وہ چھپ کر شکار کر رہا ہے ہم اسے نہیں ڈھونڈ پا رہے اگر ایسا چلتا رہا تو ہم بھی اس کا شکار ہو جائیں گے"

دوسری لاش کو دیکھتے روزلی نے جوف سے کہا 


( "جب دشمن وار کرے تو خود کو اس وار سے بچاؤ۔ اس پر وار اس وقت کرو جب دشمن اپنے وار سے تھک جائے"

وہ اسے فائٹنگ سکھا رہا تھا)


جوف اپنے سامنے اس تین منزلہ جدید عمارت کو دیکھ رہا تھا جو حال ہی میں اس نے بنوائی تھی اس میں سے سیاہ گاڑھا دھواں اٹھ کر اوپر آسمان کی طرف اڑ رہا تھا ہر کوئی آگ بجھانے میں مصروف تھا وہاں اتنا شور تھا کہ اس کے کان بند ہو چکے تھے اس نے خود سے بڑا دشمن بنا لیا تھا


(تمہارا دماغ ہی تمہارا ہتھیار ہے اس کا صحیح استعمال تمہیں بچا سکتا ہے اور اس کا غلط استعمال تمہیں موت کے منہ میں ڈال سکتا ہے)


روزلی اپنے فلیٹ کے سامنے کھڑی چابی سے دروازے کا لاک کھول رہی تھی اندر قدم رکھتے اس نے جیسے ہی دروازہ بند کرنا چاہا تبھی چار پولیس آفیسرز تیزی سے اسے پیچھے کرتے اندر داخل ہوئے ایک نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر پیٹھ پر کیے دو نے جلدی سے پورے کمرے کی تلاشی لینی شروع کر دی روزلی کا چہرہ مارے غصے کے سرخ پڑنے لگا


اس سے پہلے کہ وہ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگاتا اس نے پوری قوت سے خود کو چھڑا کر اسے پرے دھکا دیا وہ لڑکھڑا کر میز میں جا لگا باقی تینوں اس کی طرف بڑھے ان تینوں نے ایک ساتھ اس پر حملہ کیا مگر وہ خود کو ہر وار سے بچاتی دائیں بائیں ہوتی گئی ان کے رکتے ہی اس نے ان پر لاتوں گھونسوں کی بارش کر دی ایک آفیسر نے خود کو سنبھالتے کال ملا کر مزید آفیسرز کو بلا ڈالا 


جب اس نے ان کی بات سنی تو تیزی سے باہر کی جانب بھاگ گئی جب وہ جا چکی تو وہ چاروں ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔


"ڈر گئی ہے۔" 

ایک نے موبائل نکال کر کسی سے کہا 

"گڈ۔" 

داؤد مرتضیٰ کی آواز موبائل سے نکلی وہ کوئی دھن سیٹی میں بجاتا موبائل آف کر گیا


( اس کے کنٹرول روم میں سرخ اور سبز روشنی سی پھیلی تھی جیک کی انگلیاں کھٹاکھٹ کی بورڈ پر ٹائپ کر رہی تھیں اس کے ارد گرد ایمی اور داؤد کھڑے تھے داؤد تیز تیز کچھ بول رہا تھا جبکہ ایمی بالکل خاموش، سحر زدہ سی سب کچھ دیکھ رہی تھی


"ہو گیا۔"

آخری بٹن دباتے جیک نے جوش سے کہا داؤد نے اس کا کندھا تھپکایا اور کنٹرول روم سے باہر نکل گیا ایمی اور جیک اس کے دائیں بائیں تھے) 


سویمنگ پول میں اس وقت روشنی سی چمک رہی تھی جوف پانی میں لیٹا اوپر کھلے خوبصورت آسمان کو دیکھ رہا تھا اس کے آدمی اطراف میں کھڑے اس کے دماغ میں بہت سے دھماکے کر کے اب خاموش ہو چکے تھے روزلی فرش پر بیٹھی دونوں پیر پول میں لٹکائے ہوئے تھی اس نے اشارہ کر کے سب کو وہاں سے جانے کا کہا


"ریلیکس جوف بس کچھ دن صبر کرو وہ سامنے آئے گا وہ چھپ کر وار کرنے والوں میں سے نہیں ہے وہ ہمیں بس ڈرا رہا ہے اگر ہم اس سے ڈر گئے تو وہ ہمیں آسانی سے ختم کر دے گا تم سمجھ رہے ہو نا"

اس نے جوف کو مخاطب کیا


"ہاں"

آنکھیں بند کیے جوف نے ہنکارا بھرا وہ پانی میں اتر کر اس کے پاس آئی جوف نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا


"تم پیچھے تو نہیں ہٹ جاؤ گے؟" 

اس کی بات پر سیدھا ہوتے جوف نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔


"جو خود اپنے پیروں پر چل کر میرے پاس آئے میں اسے چھوڑتا نہیں ہوں"

اسے پکڑے وہ پانی کے اندر چلا گیا 


جب اس نے دیکھا روزلی مرنے والی ہو گئی ہے تو اسے لیے وہ پانی سے باہر نکل آیا وہ بری طرح کانپنے لگی تھی


"میں اسے نہیں چھوڑوں گا"

اسے کندھوں سے پکڑے وہ غرایا


"اس نے میرا سب کچھ تباہ کر دیا اس کی وجہ سے میں کنگال ہو گیا میں اسے ختم کر دوں گا"

پھر جھٹکے سے اسے چھوڑا


"خود کو پُرسکون رکھو جوف ورنہ تمہارا غصہ تمہیں کھا جائے گا اور تم کچھ نہیں کر پاؤ گے"

اس نے نرمی سے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے گہری سانس بھر کے اس نے روزلی کو بازوؤں میں اٹھا لیا


"آجاؤ پھر ریلیکس کرتے ہیں۔ ورنہ ایسے تو مجھے سکون نہیں ملنے والا"

کہہ کر اسے اٹھائے اندر کی طرف بڑھ گیا روزلی نے آنکھیں میچ لی تھیں۔


"اف۔۔۔۔۔"

☆☆☆


"یہ۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکی تو!"

ایمی نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری پھر مڑ کر داؤد مرتضیٰ کو دیکھا جو ٹکٹکی باندھے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا


"ارورا نام ہے اس کا"

وہ اس تصویر پر نظریں جمائے میکانکی انداز میں بولا


"تو کیا تم؟"

پھٹی پھٹی آنکھوں سے داؤد کو دیکھا۔ داؤد نے بمشکل اس تصویر سے نظریں ہٹائیں پھر اس کی طرف بڑھا اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ دو قدم پیچھے ہٹی


"تم نے کہا تھا کہ جس دن رابرٹ ملر تمہارے سامنے آیا تو تم اسے ختم کر دو گی"

اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے دونوں بازو ہوا میں اٹھا دیے


"میرا نام ہے رابرٹ ملر یا پھر داؤد مرتضیٰ؟ ایک سیکنڈ۔۔۔ میرا اصلی نام داؤد مرتضیٰ ہے اور رابرٹ ملر تو میرا جعلی نام ہے۔ یہ میں تمہارے سامنے کھڑا ہوں مجھے ختم کرنا چاہتی ہو تو کر دو"

اس نے دونوں ہاتھ پیٹھ پر باندھے


"نہیں۔۔۔ نہیں تم"

لڑکھڑاتے لہجے میں کہتی وہ تیزی سے باہر کی جانب بھاگ گئی اس کا دل اس بری طرح دھڑک رہا تھا کہ اس نے مڑ کر دیکھا بھی نہیں 


یہ سب کیا ہو رہا تھا؟ کون تھا وہ آدمی؟ کیا وہ واقعی میں رابرٹ ملر کے ساتھ کام کر رہی تھی؟ اپنے دشمن کے ساتھ؟ کمرے کا دروازہ کھول کر جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوئی کہ یکدم رک گئی۔ سامنے دو بھیڑیے کھڑے تھے ایک سیاہ، دوسرا سفید اس کا سانس تک رک گیا


"اگر تم نے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو یہ دونوں تمہیں چیر پھاڑ دیں گے"

وہ کرنٹ کھا کے مڑی


"کیوں کر رہے ہو تم ایسا"

وہ روتے ہوئے چلائی داؤد نے کوئی جواب نہیں دیا ایمی نے چاروں طرف نظر ڈالی آہستہ آہستہ بہت سے آدمی وہاں جمع ہونے لگے تھے


جیک بھی ان میں شامل تھا کوئی کمروں سے نکل رہے تھے تو کوئی سیڑھیوں سے اتر رہے تھے کوئی لفٹ سے اتر رہا تھا تو کوئی باہر سے آ رہے تھے


"اگر تم نے مجھے مارا تو یہ سب تمہیں ذرا سا بھی نہیں رہنے دیں گے"

وہ چلتا ہوا صوفے پر جا بیٹھا


"تم نے کیوں کیا ایسا؟ آخر کیوں؟"

اس کے سامنے آکر وہ بے بسی سے بولی 


"میں نے تمہارے بھائی کو نہیں مروایا"

صوفے کی سیٹ سے ٹیک لگاتے دونوں بازو صوفے کی پشت پر پھیلا دیے


" جھوٹ مت بولو۔ تم ہی نے اس لڑکی کو کہا تھا کہ وہ میرے بھائی کو مار دیں کیونکہ ہیری نے تم لوگوں کا ڈیٹا ہیک کر کے پولیس کے حوالے کر دیا تھا کہاں چھپایا ہے تم نے اس لڑکی کو؟" 

وہ پھر سے چلائی


"میں اسے مار دوں۔۔۔۔۔ "

"بکواس بند کرو "

وہ اتنی زور سے چلایا تھا کہ ایمی گنگ ہو گئی


" ایک لفظ اور نہیں سمجھی۔ اس نے تمہارے بھائی اور ماں کو نہیں مارا وہ جانتی تھی کہ تمہارے بھائی کی وجہ سے مجھے جیل ہوئی ہے اسے اگر تمہارے بھائی کو مارنا ہوتا تو مجھے نکلوانے سے پہلے ہی مار دیتی مگر اس نے ایسا نہیں کیا وہ تمہاری فیملی کو جانتی تھی اس نے کہا تھا کہ ہیری ایک غریب لڑکا ہے اگر چھوٹی موٹی ہیکنگ سے اسے کچھ مل رہا ہے تو وہ اسے کچھ نہیں کرے گی وہ اپنی ماں اور ایک بہن کا سب کچھ ہے وہ ایک فیملی کو توڑنا نہیں چاہتی تھی" 

وہ رکا


" روزلی نام میں اس لڑکی کا جس نے پہلے تمہاری فیملی کو مروایا اور پھر۔۔۔۔" 

دونوں ہاتھ باہم پھنسائے اس نے ضبط سے لب بھینچے درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا ایمی اسے دیکھتی سکتے میں کھڑی رہ گئی 


جیک نے آگے بڑھ کر ایک تصویر نکال کر اسے دکھائی ایمی نے تصویر پر ایک نظر ڈالی اور ایک جھماکے سے اسے سب کچھ یاد آگیا اس لڑکی کو اس نے میوزک ہال کے باہر دیکھا تھا جب وہ واپس جا رہی تھی 


جیک آہستہ آہستہ اسے سب کچھ بتانے لگا وہ خاموش کھڑی داؤد کو دیکھتے ہوئے اسے سنتی گئی جب وہ بتا چکا تو وہ آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے سامنے آ بیٹھی داؤد نے سر نہیں اٹھایا


"کیا تم آج بھی میرے کہنے پر اپنی کہانی نہیں سناؤ گے؟ "

اس نے ڈرتے ہوئے اس سے کہا تھا


"کیا سننا چاہتی ہو تم؟"

داؤد نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا


"سب کچھ " 

اس نے آہستہ آواز میں کہا 


داؤد نے اسے دیکھتے دوبارہ چہرہ جھکا لیا تھوڑی دیر بعد اس کے بولنے کی مدھم آواز اس کے ارد گرد گونجنے لگی


☆☆☆


اکیس سال پہلے۔


داؤد کی جب آنکھ کھلی تو وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا اس کا چہرہ پسینے میں ڈوبا ہوا تھا اس نے ارد گرد نظر ڈالی وہاں اس کی طرح اور بھی بہت سے بچے تھے جو آڑے ترچھے ایک دوسرے کے ساتھ بے سدھ پڑے تھے وہ اب بوریوں میں بند نہیں تھے اس نے اپنے ساتھ لیٹے ایک بچے کو دیکھا جو اس سے چھوٹا تھا اس نے غور سے اسے دیکھا وہ سہمی ہوئی نگاہوں سے چھت کو دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے 


داؤد نے آستین سے پہلے اپنا چہرہ صاف کیا پھر کپکپاتا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اس کے ہونٹ لرز رہے تھے بچے نے گردن موڑ کر اسے دیکھا


" کیا تم ٹھیک ہو؟"

اس کی آواز میں نمی تھی بچے نے کوئی جواب نہیں دیا


" کیا تم ٹھیک ہو؟"

اس نے دوبارہ پوچھا وہ بچہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اٹھ بیٹھا

" مجھے مم۔۔۔۔۔ ممی کے پاس جانا ہے "

اس کے سسکی بندھ گئی


"مجھے بھی اپنی ممی کے پاس جانا ہے "

داؤد نے اپنی نم آنکھوں کو مسلا 


چلتا ٹرک ایک جھٹکے سے رک گیا وہ دونوں بالکل چپ ہو گئے انہیں باہر بہت سے لوگوں کے قدموں کی آوازیں آنے لگیں 


"جلدی کرو جلدی۔۔۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے "

باہر کوئی چلایا


"آنکھیں بند کر کے لیٹ جاؤ "

داؤد نے ڈرتے ہوئے اس بچے کو کہا وہ جلدی سے لیٹ گیا اور آنکھیں زور سے میچ لیں داؤد بھی فوراً سے واپس لمبا ہو گیا 


ٹرک کا دروازہ کھول دیا گیا باہر گھپ اندھیرا تھا داؤد نے آنکھیں کھول کر باہر کی طرف دیکھا اسے چند ہیولوں کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا


"اے اٹھو سارے جلدی اٹھو "

ایک آدمی منہ پر کپڑا لپیٹے ٹرک میں گھس آیا پیر مارتے اس نے سب بچوں کو اٹھانا شروع کر دیا آہستہ آہستہ سارے بچے اٹھ بیٹھے داؤد غور سے انہیں دیکھنے لگا 


"اترو سارے نیچے جلدی کرو "

باہر کھڑا دوسرا آدمی بولا ایک ایک کر کے سارے بچے ٹرک سے اتر گئے داؤد سب سے آخر میں اترا تھا باہر نکل کر اس نے ارد گرد نظر ڈالی وہاں سڑک کے دونوں طرف گھنے درخت تھے وہاں ایک اور ٹرک بھی کھڑا تھا جس کا دروازہ کھلا تھا اور وہ اندر سے خالی تھا


"چلو اس طرف چلو۔۔۔۔ چلو چلو جلدی کرو "

ایک آدمی نے انہیں اس خالی ٹرک کی طرف جانے کا کہا وہ ڈرے سہمے بچے اس طرف چلنے لگے چند ایک نے رونا شروع کر دیا


" مجھے کہیں نہیں جانا مجھے واپس جانا ہے مجھے اپنے گھر جانا ہے "

وہ بچے ایک ساتھ روتے ہوئے بول اٹھے


"چپ کرو سارے "

ایک آدمی گن نکال کر دھاڑا

" اب کسی کی آواز آئی تو اسے گولی مار دوں گا "

گن بچوں کی طرف کیے چلایا۔ بچے رونا بھول گئے۔ ان کے معصوم چہروں پر دہشت تھی۔


ایک گولی چلنے کی آواز آئی وہ سب آدمی یک دم چونکے۔ دوبارہ گولی چلنے کی آواز آئی داؤد نے ایک آدمی کو سڑک پر گرتے دیکھا۔


بچے روتے چلاتے ادھر ادھر بھاگے کوئی ٹرک کے نیچے چھپ گیا تو کوئی اندر جا بیٹھا جبکہ داؤد وہیں کھڑا پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا جو ایک ایک کر کے گرتے جا رہے تھے 


تھوڑی دیر بعد ہر طرف سناٹا چھا گیا داؤد نے درختوں کی اوٹ سے ایک شخص کو اپنی طرف آتے دیکھا


" ہیے بےبی! ہاؤ آر یو؟"

وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا داؤد نے کوئی جواب نہیں دیا 


وہ شخص اسے خاموش دیکھ کر دوسری جانب مڑ گیا داؤد نے دیکھا وہ سارے بچوں کو اکٹھا کر رہا تھا تھوڑی دیر بعد سارے بچے اس کے آس پاس کھڑے ہو گئے وہ شخص ان بچوں کو اپنے ساتھ آنے کا کہہ رہا تھا 


داؤد کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ شخص اچھا انسان ہے یا برا؟ وہ انہیں کہاں لے کر جا رہا تھا؟ وہ اسے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے؟ اور یہ کون سی جگہ ہے؟ وہ سب اس وقت کہاں ہیں؟ مگر اس کی زبان تالوں سے چپک گئی تھی 


سارے بچے اس شخص کے گھیرے میں اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگے داؤد سب سے آخر میں تھا۔ نہ جنگل ختم ہونے میں آ رہا تھا نہ سڑک


" تم کون ہو اور ہمیں کہاں لے کر جا رہے ہو؟"

اچانک رک کر داؤد نے انگریزی میں اس شخص کو کہا وہ شخص رکا پھر مڑ کر اپنے پیچھے دیکھا


"کون پوچھ رہا ہے؟"

اس نے سارے بچوں کو مخاطب کیا کسی نے کوئی جواب نہ دیا داؤد تیزی سے بچوں کو ہٹاتا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا


"میں نے پوچھا ہے کون ہو تم؟"

وہ اب ڈرا ہوا نہیں لگ رہا تھا بلکہ کوفت زدہ لگ رہا تھا 


وہ شخص سامنے کھڑے چھوٹے سے لڑکے کو کچھ لمحہ دیکھتا رہا پھر پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا


"میں کون ہوں یہ تو میں کبھی نہیں بتاؤں گا۔ کہاں لے کر جا رہا ہوں؟ یہ تمہیں تھوڑی دیر تک پتہ چل جائے گا"

وہ بھی انگریزی میں بات کر رہا تھا شکل سے وہ پاکستانی نہیں لگ رہا تھا


"اوکے یہ کون سی جگہ ہے؟ کیا تم ہمیں ہمارے گھر چھوڑنے جا رہے ہو؟"

اس نے دوسرا سوال کیا


"یہ میکسیکو ہے تم جانتے ہو میکسیکو کیا ہے؟ یہ تمہارے لیے غیر ملک ہے۔ تم سب پاکستان سے آئے ہو۔ بحری جہاز پر۔۔۔۔۔ جانتے ہو بحری جہاز کیا ہوتا ہے؟ وہ جو پانی میں چلتا ہے اب میں تمہیں واپس پاکستان لے جانے سے تو رہا۔ اگر میں یہاں آکر تم سب کو نہ بچاتا تو وہ لوگ تم سب کو مار کر تمہارے ٹکڑے کر کے بیچ دیتے "

وہ اتنی سفاکی سے بولا کہ داؤد کے رونگٹے کھڑے ہو گئے


"کیا اب ہم واپس پاکستان کبھی نہیں جا سکتے ؟ "

داؤد کی آواز میں آس تھی یا نمی؟ وہ شخص فیصلہ نہ کر سکا۔ گہری سانس بھرتے وہ اٹھ کھڑا ہوا


" جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو چلے جانا اس صورت میں جب تمہارے پاس بہت سا پیسہ ہوگا "

وہ دوبارہ چلنا شروع ہو چکا تھا 


تھوڑا دور جا کر وہ ایک وین کے سامنے رکے اس آدمی نے بچوں کو وین میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھوڑی دیر بعد وین چل پڑی۔ نامعلوم منزل کی طرف۔ 


کھڑکی سے سر ٹکائے داؤد باہر کی جانب دیکھ رہا تھا سارے بچے تقریباً سو چکے تھے ایک وہی تھا جسے نیند نہیں آ رہی تھی آہستہ آہستہ وہ خوفناک جنگل ختم ہونے لگا ان کی وین ایک بھری پری سڑک پر دوڑنے لگی تھی ہر طرف روشنی سی بکھرنے لگی تھی البتہ رات ختم نہیں ہوئی تھی 


" ممی۔۔۔ بابا۔۔۔ ہیر۔۔۔ "

وہ بنا آواز کیے انہیں پکارنے لگا


"میں آپ سب کو بہت مس کر رہا ہوں۔ پلیز اللہ مجھے واپس اپنے گھر بھیج دیں "

خاموش آنسو اس کے رخساروں پر پھسلنے لگے 


کافی دیر بعد ان کی وین ایک گھر کے سامنے رکی داؤد نے باہر نظر ڈالی وہاں تھوڑی دیر پہلے والی روشنی نہیں تھی نہ ہی کوئی لوگ چلتے پھرتے نظر آ رہے تھے


"آ جاؤ بچوں آ جاؤ سب باہر "

وہ آدمی تیزی سے اتر کر ان سوتے ہوئے بچوں کو باہر نکال رہا تھا سارے بچے آنکھیں ملتے ہوئے نیچے اترنے لگے 


وہ آدمی ان سب کو لیے ایک گھر کے سامنے رکا چابی سے دروازہ کھول کر وہ ان کو اندر لے گیا


"کچھ کھاؤ گے بچوں؟" 

اس نے انگریزی میں کہا کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا 


" تم ان سب سے کہو یہاں بیٹھیں میں تم لوگوں کے لیے کچھ لے کر آتا ہوں "

اس نے داؤد سے کہا 


داؤد نے ان سب کو وہیں نیچے بیٹھنے کا کہا تقریباً دو منٹ بعد وہ آدمی نوڈلز کے ڈبے اوپر نیچے رکھے آتا دکھائی دیا


"میں آپ کی مدد کرتا ہوں۔"

اس نے جلدی سے کہا اور وہ ڈبے اس سے لے لیے۔ پھر انہیں سب بچوں میں تقسیم کرنے لگا آدھے گھنٹے بعد وہ سارے بچے وہیں نیند میں ڈوب گئے


"تم بھی سو جاؤ تھک گئے ہو گے۔"

اس آدمی نے داؤد کو مخاطب کیا جو دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا


"کیا ہم اب یہی رہیں گے؟"

اس نے پوچھا

"تم سب کل ہی یہاں سے چلے جاؤ گے۔"

" کہاں؟" 


داؤد تیزی سے سیدھا ہو بیٹھا اس شخص نے کچھ نہیں کہا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد داؤد بھی نیند کی شدت سے سو گیا تھا۔


جاری ہے

Bloods ep 14 link 🖇️ 👇

https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/04/bloods-ep-14-by-munaza-niaz.html

Comments

Popular Posts