Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Bloods Ep 14 by Munaza Niaz
Bloods
By Munaza Niaz
Ep - 14
اس کی جب آنکھ کھلی تو سامنے کھلا آسمان تھا سورج کی تیز روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا اس نے دائیں بائیں دیکھا وہاں کوئی بچہ نہیں تھا بلکہ وہ تو اس گھر میں ہی نہیں تھا۔ پھر وہ کہاں تھا؟
تیزی سے کھڑے ہو کر اس نے چاروں طرف نظر ڈالی وہ ایک تنگ سنسان گلی میں کھڑا تھا گلی کے نکڑ پر اسے بہت سے لوگوں کی چہل پہل نظر آئی اس کا گلا رندھ گیا
"امی"
اس آدمی نے اسے کہاں لا پھینکا تھا؟ کیا سارے بچے اس کی طرح الگ ہو گئے تھے؟ اس میں ہمت نہیں ہوئی کہ آگے جا کر دیکھے کہ وہاں کیا ہو رہا تھا۔ روتے ہوئے وہ واپس دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
وہ کتنی دیر بیٹھا وہاں روتا رہا؟ کون اس کے سامنے سے گزر کر آ جا رہے تھے؟ اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا اسے بس ایک چیز معلوم ہوئی تھی کہ ایک جھکے کندھے اور بوسیدہ کپڑوں والا بوڑھا اس کے سامنے سے کئی بار گزرا تھا وہ بوڑھا آدمی آتے جاتے اس روتے ہوئے خوبصورت بچے کو دیکھ کر چلا جاتا تھا۔
صبح سے دوپہر اور دوپہر سے شام ہو گئی وہ وہی نڈھال سا بیٹھا رہا اس کے پیٹ میں درد ہونے لگا تھا۔ اسے بھوک لگی تھی اس نے دیکھا وہی بوڑھا آدمی اس کی طرف آ رہا تھا اس میں کھڑا ہونے کی بھی ہمت نہ تھی داؤد نے دیکھا وہ آدمی اپنے بوسیدہ پھٹے ہوئے کوٹ کے اندر سے کچھ نکال رہا تھا
"یہ لو"
پانی کی بوتل اور ایک خاکی لفافہ اس کی طرف بڑھایا
"ممی نے کہا تھا کسی اجنبی سے لے کر کچھ نہیں کھاتے"
اس نے خشک ہوتے گلے کے ساتھ کہا
بوڑھا آدمی اس کی بات سن کر اس کی طرف جھکا
" تمہاری ممی نے یہ نہیں سکھایا کہ جب بھوک لگے تو اپنے ہاتھ پیر استعمال کر کے اپنے کھانے کا انتظام کرنا چاہئے نہ کہ کسی کا انتظار۔۔۔ جو آپ کو کھانا لا کر پیش کرے گا۔"
وہ لفافہ اور پانی کی بوتل اس کے سامنے رکھ کر چلا گیا داؤد نے اس آدمی کی آنکھوں میں کوئی عجیب سا تاثر دیکھا تھا۔ وہ کون سا تاثر تھا؟ دس سالہ وہ لڑکا فی الحال سمجھنے سے قاصر تھا
اس نے جلدی سے لفافہ کھول کر دیکھا اندر برگر تھا اس کے بازو جتنا لمبا برگر گلی کے سرے پر مڑتے اس شخص نے گردن پھیر کر اس لڑکے کو دیکھا جو جلدی جلدی برگر کھا رہا تھا پھر سر جھٹک کر وہ چلا گیا
اس نے رات وہیں گلی میں گزاری تھی اسے ہر لمحہ محسوس ہوتا رہا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے جب وہ چونک کر ادھر ادھر دیکھتا تو کوئی نظر نہ آتا اگلے دن صبح ہوتے ہی وہ کھڑا ہوا اس کے قدم سیدھ میں اٹھ رہے تھے گلی کے اختتام پر اس نے اپنے سامنے ہر طرف نظر ڈالی
وہاں لوگ اتنی تیزی سے چل رہے تھے جیسے ان کی ٹرین نکلنے والی ہو اس نے دائیں بائیں دیکھا دکانوں کی لمبی قطار کے آگے بہت سے لوگوں کا رش تھا وہ لوگ جب دکان سے نکلتے تو کسی کے ہاتھ میں کافی کا مگ ہوتا تو کسی کے ہاتھ میں گول بڑا والا ڈونٹ
اس نے دیکھا وہاں لڑکیاں اتنی خوبصورت تھیں کہ گویا پریاں ہوں
"تمہیں پتہ ہے داؤد۔۔۔ دنیا میں پریاں نہیں ہوتیں۔۔۔ وہ دور آسمانوں میں ہوتی ہیں"
ایک مرتبہ ہیر نے اس سے کہا تھا
اگر ہیر وہاں ہوتی تو وہ اسے بتاتا کہ
" دیکھو ہیر پریاں یہاں دنیا میں بھی ہوتی ہیں یا شاید صرف یہاں ہوتی ہیں۔"
وہ سحر زدہ سا ارد گرد دیکھتا چلنے لگا کوئی بھی اسے نہیں دیکھ رہا تھا اور جو دیکھ رہا تھا وہ نظر انداز کر کے آگے بڑھ رہا تھا اگر جو وہ پاکستان میں اس طرح منہ اٹھائے کہیں بھی جا رہا ہوتا تو کوئی چاچا، ماموں اسے خود دو ہتھڑ لگا کر گھر چھوڑ آتا۔
" مجھے اپنے لیے کھانے کا انتظام کرنا ہوگا۔"
یہی سوچتے ہوئے وہ ایک ایک کر کے ہر شاپ کی طرف دیکھنے لگا کہ اسے کون سا کام کرنا چاہیے۔
"مجھے یہاں کام چاہیے۔"
کاؤنٹر کے سامنے کھڑے ہو کر ایک لڑکے کو اس نے مخاطب کیا وہ لڑکا چونکا پھر ادھر ادھر دیکھا۔ کس کی آواز تھی؟
"میں یہاں ہوں۔"
بالآخر داؤد نے ہاتھ اوپر کر کے اسے دکھایا وہ لڑکا کاؤنٹر پر جھک کر اسے دیکھنے لگا
"کیا کام کرنا آتا ہے تمہیں؟"
اس لڑکے نے آنکھیں چھوٹی کیں
"یہ پھول ہی تو بیچنے ہیں وہ میں آسانی سے کر لوں گا"
اس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ لڑکا کچھ لمحے سوچتی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا پھر سیدھا کھڑا ہوا۔
"ٹھیک ہے میں تمہیں یہاں رکھ لیتا ہوں مجھے یونیورسٹی سے لیٹ ہو رہا ہے میں جا رہا ہوں واپس آ کر میں سارا کام دیکھوں گا اگر تم نے چوری کی یا بھاگنے۔۔۔۔۔۔"
داؤد نے یکدم اس کی بات کاٹی
"میں چور نہیں ہوں اور نہ ہی میں بھاگوں گا۔"
وہ لڑکا ایک دم خاموش ہوا۔ داؤد کا انداز ہی ایسا تھا کہ اسے خاموش ہونا پڑا پھر سر ہلا کر اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور دکان سے نکل گیا۔ اسے شاید واقعی جلدی تھی جانے کی۔ یا شاید وہ وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا کہ کوئی آئے اور دکان سنبھالے۔
اس کے جاتے ہی داؤد نے پوری دکان پر نظر ڈالی ہر طرف پھول ہی پھول تھے ہر رنگ اور ہر نسل کے پھول وہ شاپ سے باہر نکل آیا شاپ کے باہر بھی ڈھیر سارے پھول ترتیب سے رکھے تھے وہ ایک اسٹول پر چڑھ کر بیٹھ گیا
جب کافی دیر تک کوئی بھی پھول لینے نہ آیا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اب وہ ہر جگہ چل کر ہر رنگ کا ایک ایک پھول اٹھا کر انہیں گلدستہ کی شکل میں جوڑنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے خوبصورت پھولوں کا گلدستہ اس کے ہاتھوں میں تیار ہو گیا
"مجھے یہ گلدستہ چاہیے۔"
ایک گوری سی آنٹی نے اسے مخاطب کیا وہ چونکا پھر اسے دیکھا
اس عورت کے ساتھ دو بچیاں بھی تھیں ایک عام سی لڑکی تھی جبکہ دوسری انتہائی خوبصورت نیلی آنکھوں والی لڑکی تھی جو اس کے ہاتھوں میں موجود پھولوں کو، تو کبھی اسے دیکھتی پھر اس نے اس آنٹی کو دیکھا۔
اسے کتنے پیسے بتانے چاہیئے؟ اس نے سوچا۔ اسے تذبذب میں دیکھ کر اس عورت نے اپنے پرس سے دو نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائے اس نے خاموشی سے لے لیے اس نے دیکھا وہاں قائد اعظم کا فوٹو نہیں تھا اسے مایوسی ہوئی چلو خیر پیسے تو ہیں
"یہ تمہارے لیے الگ سے۔"
آنٹی نے جاتے ہوئے مسکرا کر ایک اور نوٹ اسے تھمایا تھا یعنی آنٹی نے دو نوٹ اس لڑکے کے لیے دیے ہیں جو شاپ کا مالک ہے اور یہ والا میرے لیے واؤ۔۔۔۔
داؤد نے مسکراتے ہوئے اپنے پیسے پینٹ کی جیب میں ڈال دیے۔
" ارورا۔۔۔ اپنی بہن کے ساتھ رہنا۔"
اس عورت نے نیلی آنکھوں والی بچی کو مخاطب کیا تھا۔ داؤد نے بے ساختہ ان کو دیکھا۔
" ہاتھ مت لگاؤ مجھے۔"
جب ارورا نام کی بچی نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو وہ سختی سے اسے دور کر گئی۔
" یہ کیا بدتمیزی ہے صوفیہ؟"
اس عورت نے اسے ڈانٹا۔ جبکہ صوفیہ نامی بچی نے نفرت سے اپنی ماں کے ساتھ کھڑی ارورا کا دیکھا تھا۔
" اس سے کہیں مجھ سے دور رہا کرے۔"
اس عورت نے اس کا بازو پکڑا اور اسے لیے چلنے لگیں۔ وہ اب اسے ڈانٹ رہی تھیں۔
پھر وہ آنٹی اپنی دونوں بچیوں کو لے کر ایک اور شاپ میں داخل ہو گئی تھیں۔ نیلی آنکھوں والی بچی نے اندر جانے سے پہلے مڑ کر داؤد کو ضرور دیکھا تھا جو دوبارہ سے اپنے کام میں مشغول ہو گیا تھا۔
شام تک یہی چلتا رہا کوئی نہ کوئی پھول خریدتے ہوئے اسے 'ٹپ' ضرور دے رہا تھا اسے بھوک بھی لگ رہی تھی مگر کام کرنے کی اتنی خوشی تھی کہ بھوک کہیں گم ہو گئی تھی۔
وہ لڑکا شام کو ہی آگیا تھا صد شکر رات کو نہیں آیا تھا ورنہ داؤد اس کے پیسے رکھ کر اپنے لیے کچھ کھانے کو لینے جانے والا تھا
"ارے واہ۔۔۔۔ یہ تم نے کیسے کیا؟ مطلب ایک ہی دن میں۔۔۔۔"
وہ لڑکا حیران نہ ہوتا تو اور کیا کرتا
داؤد نے کوئی جواب نہیں دیا اس لڑکے نے ان پیسوں میں سے چند نوٹ نکال کر اسے تھمائے۔ داؤد نے وہ پیسے لیے اور باہر نکل گیا اس کا دل کر رہا تھا کہ کچھ اچھا سا کھائے
"کیا تم کل پھر سے آؤ گے؟"
وہ لڑکا کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا
"پتہ نہیں"
مڑ کر کہا اور آگے بڑھ گیا۔
وہ ہر شاپ پر نام پڑھتا جا رہا تھا اس کی نظر ایک شاپ پر ٹھہر سی گئی وہاں حلال فوڈ لکھا تھا حلال یعنی وہ جو میں کھا سکتا ہوں دادی بھی تو یہی کہتی ہیں کہ ہمیں ہمیشہ حلال کھانا چاہیے اس کی آنکھوں میں چمک سی ابھری
تھوڑی دیر بعد وہ واپس اپنے پرانے ٹھکانے پر بیٹھا تھا اس کے سامنے کھانے کے ڈبے کھلے ہوئے تھے ایک میں چکن اور دوسرے میں چھوٹا سا کیک تھا وہ جلدی جلدی کھانے لگا۔
تب ہی اس نے محسوس کیا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ کہیں وہ بوڑھا آدمی تو نہیں؟ جس جگہ وہ تھا اس گلی سے لوگ کم ہی گزرتے تھے جیسے ہی اس نے کھانا ختم کیا اسے دو آدمی اپنی طرف آتے دکھائی دیے۔
وہ فوراً کھڑا ہوا جیسے ہی وہ دونوں اس کے قریب پہنچے ایک نے تیزی سے اسے دبوچا دوسرے نے اس کے منہ پر فوراً ٹیپ چپکا دی
وہ پورا زور لگا کر خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ اسے پکڑ کر لے جانے لگے تھے تب ہی بلکل اچانک اس نے ٹک کی آواز سنی تھی۔ وہ فوراً ان دونوں کی گرفت سے آزاد ہوا تھا۔
ایک شخص اسے چھوڑتا دونوں ہاتھ سر پر رکھے پیچھے ہوا اس نے دیکھا دوسرا آدمی کمر پر ہاتھ رکھے جھکا ہوا تھا۔ اس نے منہ سے ٹیپ ہٹا کر سامنے دیکھا وہ وہی بوڑھا آدمی تھا
اس کے ایک ہاتھ میں ہاکی تھی دوسرا ہاتھ مٹھی کی صورت بند تھا دیکھتے ہی دیکھتے اس بوڑھے آدمی نے کسی نوجوان کی طرح ان دونوں آدمیوں کو ہاکی سے لہولہان کر ڈالا
"میرے ساتھ آؤ۔"
اس نے داؤد سے کہا جو سہما ہوا سا اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے دونوں آدمیوں کو دیکھا جو بے سدھ پڑے تھے۔ ان کے جسم سے خون نکل رہا تھا
داؤد دہشت زدہ سا اس کے پیچھے بھاگا گلی کے دوسرے سرے پر ایک گاڑی کھڑی تھی وہ بوڑھا آدمی اس میں جا بیٹھا داؤد بھی اس کے ساتھ ہی اندر داخل ہوا تھا ان کے بیٹھتے ہی گاڑی چل پڑی
داؤد اپنے سامنے والی سیٹ پر بیٹھے اس بوڑھے کو دیکھے گیا اس آدمی کے جھکے کندھے بالکل سیدھے ہو گئے تھے بالکل پھٹے کی طرح اس نے اپنا میلا کچیلا لباس بھی اتار دیا تھا داؤد نے دیکھا اس آدمی نے اندر سے ایک اور سوٹ پہن رکھا تھا
اس نے اپنی گن نکال کر سائیڈ پر رکھی داؤد نے تھوک نگلا سیٹ پر بیٹھا وہ مزید خود میں سمٹ گیا اس آدمی نے غور سے اسے دیکھا
"گڈ۔۔۔ ویری گڈ۔ مجھے لگا تھا تم میری بات نہیں سمجھ سکو گے۔۔۔ ویسے نام کیا ہے تمہارا؟"
دونوں ہاتھ باہم پھنسائے وہ اس کی طرف جھکا
"دو۔۔۔۔ داؤد۔۔۔۔ داؤد مرتضیٰ"
اس کی زبان ہکلائی۔ پتہ نہیں کیوں مگر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر اس کی سٹی گم ہو گئی تھی
"تو بتاؤ مجھے کون ہو تم؟ کہاں سے آئے ہو؟ یہاں کیا کر رہے تھے؟ ویسے تم یہاں کے لگتے تو نہیں ہو۔"
سیٹ سے ٹیک لگاتے اس نے داڑھی کھجائی پھر پر سوچ نگاہوں سے اسے دیکھا
پہلے داؤد جھجکا پھر اسے سب کچھ بتاتا گیا اغوا ہونے سے لے کر یہاں تک پہنچنے کا سفر۔
"اس آدمی نے تمہیں اپنا نام نہیں بتایا جس نے تم بچوں کو بچایا تھا؟"
داؤد نے نفی میں سر ہلایا
"ٹھیک ہے میں اسے دیکھ لوں گا تم فکر مت کرو اور ہاں میرا نام جیکسن اٹلاس ہے تم مجھے سر کہہ کر بلا سکتے ہو"
وہ نرمی سے مسکرایا
"ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے تم بالکل سیف ہو اب"
کہہ کر ہاتھ میں بندھی گھڑی پر نظر ڈالی اور باہر دیکھنے لگا
پہلے تو وہ خاموش بیٹھا رہا پھر اس کی خوبصورت کالی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے اس سے پہلے کہ یہ آنسو نکل کر اس شخص کو اپنی طرف متوجہ کرتے اس نے جلدی سے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے۔ روکنے کے باوجود ایک سسکی سی اس کے سینے سے نکلی تھی جیکسن نے چونک کر اسے دیکھا
"رو کیوں رہے ہو؟"
اس نے نفی میں سر ہلاتے آنکھیں صاف کیں
"نہیں تو۔۔۔ میں رو تو نہیں رہا"
وہ فوراً سے پہلے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا
"رونے سے کچھ نہیں ہو گا نہ ہی تم واپس جا سکو گے نہ ہی تم آگے بڑھ سکو گے اگر کبھی تمہارا رونے کا دل کرے تو باتھ روم چلے جانا مگر کسی کے سامنے آنسو بہانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے آنسو تمہیں لوگوں کے سامنے کمزور بنائیں گے اور اگر تم خود کو کمزور نہیں بنانا چاہتے تو اپنے آنسوؤں کو پینا سیکھ جاؤ لوگوں سے ڈرنا چھوڑ دو ان سے بھاگنا چھوڑ دو بلکہ بہادری سے ان کا مقابلہ کرو وہ کوئی دوسری مخلوق نہیں ہیں جن سے ڈرا جائے حالات کو فیس کرنا سیکھو سمجھے؟"
انگلی سے اس کا ماتھا چھوا
وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنے لگا جو بے تاثر لہجے میں کہہ کر دوبارہ باہر دیکھنے لگا تھا اس نے بھی چہرہ دوسری طرف موڑ لیا
اس نے اپنے پہلے محسن سے پہلا سبق سیکھ لیا تھا
☆☆☆
وہ کون تھا جس کے ساتھ وہ جا رہا تھا اسے نہیں معلوم تھا۔ ایک طویل تھکا دینے والے سفر کے بعد ان کی سیاہ گاڑی ایک طویل دیو قامت عمارت کے اندر جا کر رکی تھی۔
" اسے اس کا کمرہ دکھا دو تاکہ یہ آرام کر سکے۔ صبح یہ بالکل فریش اور تیار ہو کر میرے سامنے آئے۔"
گاڑی سے اتر کر جیکسن نے بھاری آواز میں اپنے آدمی کو کہا اور اندر کی طرف بڑھ گیا
داؤد ان کی بات سن کر خاموشی سے اس آدمی کے ساتھ چلنے لگا وہ آدمی طویل راہداریوں سے گزرتا اسے ایک کمرے میں لے گیا
"آج رات تم یہاں رہو گے۔"
کہہ کر پھر واپس مڑ گیا اس نے کمرے کا سرسری جائزہ لیا
ایک سنگل بیڈ، اٹیچ باتھ، اسٹڈی ٹیبل کے ساتھ بک ریک، دیوار پر لگی قیمتی پینٹنگز، دیوار گیر الماری اور ایک عدد بڑا سا ونڈو۔
وہ بھاگ کر کھڑکی کے پاس پہنچا زمین والوں کے برعکس اوپر آسمان بالکل پرسکون اور خاموش تھا تھوڑی دیر بعد وہ الماری سے کپڑے نکال کر (جو اس کے لیے پہلے ہی تیار تھے) نہانے چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ گیلے بالوں کے ساتھ بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔ گھر والوں کو یاد کرتے وہ کب سویا اسے معلوم نہ ہو سکا۔
جاری ہے
Bloods Episode 15 link 🖇️👇
https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/04/bloods-ep-15-by-munaza-niaz.html
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment