Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Bloods Ep 15 by Munaza Niaz
Bloods
Ep - 15
By Munaza Niaz
وہ خاموش سا ان دو آدمیوں کے ساتھ چلتا ایک ہال میں داخل ہوا۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ پورا ہال چھوٹی بڑی عمر کے لڑکوں سے بھرا ہوا تھا
" آپ کا نیا اسٹوڈنٹ "
اس کے ساتھ چلتے ایک آدمی نے اپنے سامنے کھڑے دوسرے آدمی کو کہا۔
جو اپنے سامنے کھڑے بچوں کو سنجیدگی سے لیکچر دینے میں مصروف تھا اس آدمی نے پہلے اسے پھر داؤد کو دیکھا جو گردن موڑے ان دو لڑکوں کو دیکھ رہا تھا جو فائٹ کر رہے تھے۔ اس آدمی نے لڑکوں کو جانے کا کہا پھر اس کی طرف مڑا۔
" میرا نام جیری ہے تمہارا نام کیا ہے بچے؟ "
وہ مسکرا کر ہلکا سا اس کی طرف جھکا۔
داؤد نے چونک کر اسے دیکھا۔ جیری تو چوہے کا نام ہے نا؟ وہی ٹام اینڈ جیری والا چوہا اس نے دل میں سوچا پھر بولا
" داؤد مرتضیٰ "
جیری بری طرح چونکا پھر اس نے بیرونی دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے جیکسن چلا آ رہا تھا داؤد کو چھوڑ کر وہ اس کی طرف بڑھ گیا داؤد پورا مڑ کر ان کو دیکھنے لگا تھا۔
" یہ لڑکا۔۔۔ داؤد مرتضیٰ۔۔۔ یہ تو ایک مسلمان ہے۔۔۔ مسلمانوں کا بچہ ہے یہ۔ آپ اسے یہاں کیسے لے کر آ سکتے ہیں؟"
جیکسن کے سامنے کھڑا وہ دبی دبی آواز میں بولا۔
" تمہیں اس سے کیا مسئلہ ہے؟"
جیکسن نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں پوچھا۔
" مسئلہ؟ یہ آپ کہہ رہے ہیں؟ یہ پورا لڑکا ہی مسئلہ بن سکتا ہے آپ کے لیے۔۔۔ ہم سب کے لیے۔۔۔ آپ نے یہ سوچا بھی ہے کہ اگر اس نے آگے جا کر ہم سب کو خطرے میں ڈال دیا تب آپ کیا کریں گے؟ آپ جانتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں۔ آپ تو ان کا بچہ ہی اٹھا کر لے آئے ہیں یہ ہمیں دھوکہ دے سکتا ہے ہماری برسوں کی محنت مٹی میں ملا سکتا ہے سب کچھ تباہ کر سکتا ہے یہ میں۔۔۔ میں کیسے آپ کو سمجھاؤں کہ یہ "
جیری تیز ہوتے تنفس کے ساتھ بولتا چلا گیا۔
جیکسن نے تحمل سے اس کی پوری بات سنی پھر دھیما سا مسکرایا۔
" میں اسے یہاں کیوں لایا ہوں جیری۔۔۔ تم تو یہ بات جانتے ہو اگر مجھے ذرا سا بھی شک ہوتا کہ یہ لڑکا ہمیں بربادی کی طرف دھکیل سکتا ہے تو یقین جانو میں اسے وہیں کہیں دفن کر آتا مگر میں نے ایسا نہیں کیا کیوں؟ کیونکہ مجھے شک نہیں پورا یقین ہے کہ یہ بربادی کی طرف دھکیل سکتا ہے "
وہ رکا اور ایک قدم آگے آیا
" ہمیں نہیں ہمارے دشمنوں کو "
پھر نظر اٹھا کر داؤد کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
" اور ہاں ایک بات اور۔۔۔ ہر دہشت گرد مسلمان نہیں ہوتا میری یہ بات یاد رکھنا اب جاؤ وہ تمہارا انتظار کر رہا ہے۔"
مسکرا کر ہاتھ اٹھاتے اس نے داؤد کو اشارہ کیا پھر پلٹ گیا گہری سانس بھر کے جیری واپس اس کے پاس آیا
" آ جاؤ "
کچھ لمحہ اسے گھورنے کے بعد وہ بولا تھا پھر باقی لڑکوں کی طرف بڑھ گیا تھا
☆☆☆
وقت اپنی رفتار سے چل رہا تھا داؤد نے بہت کم وقت میں مارشل آرٹ اور فائٹنگ سیکھ لی تھی پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ لوگ اسے ہر وہ چیز سکھا رہے تھے جن کی اسے آگے ضرورت پڑنے والی تھی
شوٹنگ، فائٹنگ، دماغ کا صحیح استعمال، دشمنوں کو قابو کرنے کا طریقہ، ان کی خامیوں پر نظر رکھنا، کسی پر اعتبار نہ کرنا۔ یہ سب سیکھتے پانچ سال کا وقت گزر گیا اور اسے معلوم بھی نہ ہو سکا۔
اتنے عرصے میں اس کا فی الحال کوئی دوست نہیں بنا تھا یا پھر شاید اس نے خود بننے ہی نہیں دیے تھے اتنے سالوں میں کتنے نئے لوگ آئے کتنے پرانے گئے وہ ہر ایک چیز ذہن میں رکھ رہا تھا
اس نے کبھی جیکسن سے کوئی خاص بات نہیں کی تھی کبھی کبھار ملاقات کے وقت حال احوال اور ' آج تم نے کیا سیکھا؟' پوچھ لیا جاتا۔
جیکسن کی ان بچوں سے مہینے میں ایک دو مرتبہ ہی ملاقات ہوتی تھی اور یہی دن پورے ان بچوں کے ساتھ گزر جاتے تھے باقی دنوں میں وہ کہاں غائب ہوتا تھا کیا کرتا تھا فی الحال داؤد سمیت کوئی نہیں جانتا تھا ایک دن ایسے ہی ملاقات کے وقت جیکسن نے جب داؤد سے پوچھا کہ اس نے آج کیا سیکھا تو داؤد نے کہا
" جب ہمیں لگ رہا ہو کہ ہم یہ بات سامنے والے شخص سے نہیں کہہ سکتے تو ہمیں چاہیے کہ ہم وہ بات اسی وقت اس شخص سے کہہ ڈالیں "
جیکسن نے مسکرا کر اس لڑکے کو دیکھا جس کا قد بڑھ گیا تھا گہری آنکھیں مزید خوبصورت ہو گئی تھیں ہلکی آواز بھاری ہونے لگی تھی
" بہت خوب۔۔۔ تو کیا تمہارے اندر اتنی ہمت پیدا ہو چکی ہے؟ ایسا ہے تو پھر میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے وہ بات کہو جس کو کرنے کی ہمت تم میں آ چکی ہے۔"
داؤد کچھ لمحہ اسے دیکھتا رہا پھر جب وہ بولا تو اس کی آواز بے لچک تھی
" میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں اپنی مذہبی کتاب میں چاہتا ہوں آپ میرے لیے ایک عالم کا بندوبست کر دیں "
ایک ہی سانس میں کہہ کر اس نے جیکسن کے چہرے کو دیکھا جس پر کوئی منفی تاثر نہیں ابھرا تھا
" ٹھیک ہے ہو جائے گا لیکن اس کے بدلے تمہیں بھی میری ایک بات ماننی ہو گی۔"
آگے بڑھ کر ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔ داؤد بنا پلک جھپکائے اس کو دیکھ رہا تھا۔
" بدلے میں تم اپنا اصل نام، اپنی شناخت اور اپنے ملک کا نام بدل لو گے۔"
اس کا کندھا چھوڑ کر دو قدم پیچھے ہوا
داؤد سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھتا رہا پھر بمشکل سانس باہر نکالا
"ٹھیک ہے جیسا آپ چاہتے ہیں میں ویسا ہی کروں گا مگر ایک چیز میں کبھی نہیں بدلوں گا آپ جانتے ہیں کہ میں مر تو سکتا ہوں مگر وہ چیز نہیں بدل سکتا"
کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ چلا گیا
"یہ کس چیز کی بات کر رہا تھا؟"
اس کے ساتھ کھڑے میسن نے کہا جو اس کا خاص آدمی تھا۔
"وہ اپنے مذہب کی بات کر رہا تھا"
ہلکی آواز میں کہہ کر وہ بھی پلٹ گیا تھا
☆☆☆
جب وہ سکول کے لیے تیار ہو کر ڈائننگ ہال میں پہنچی تو سب ناشتہ کرنے میں مصروف تھے کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے اس نے سب کو ایک ساتھ سلام کیا اور جوس کا گلاس اٹھا لیا۔
"مما خالہ کہاں ہے؟ وہ ناشتہ نہیں کریں گی کیا؟"
ہیر نے اپنے سامنے پراٹھا رکھتی حسنہ سے پوچھا
"وہ اپنے کمرے میں ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں "
نرمی سے کہہ کر انہوں نے اپنی کرسی سنبھال لی
" میں انہیں دیکھتی ہوں "
سب نے اسے جاتے دیکھا مگر کوئی کچھ نہ بولا البتہ حسنہ کے چہرے پر سختی در آئی تھی چائے پیتے ابتہاج نے انہیں غور سے دیکھا مگر بولے کچھ نہیں
"خالہ امی!"
دروازہ کھٹکھٹا کر اس نے کمرے میں قدم رکھا
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا آگے بڑھ کر اس نے کھڑکیوں کے پردے ہٹائے پھر بیڈ کے قریب پہنچ کر اس نے ان کا کندھا ہلایا وہ سو رہی تھیں
"خالہ امی آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟"
قریب بیٹھ کر ان کا دوبارہ کندھا ہلایا انہوں نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں پھر کہنیوں کے بل اٹھ بیٹھیں۔
" میں ٹھیک ہوں ہیر بس رات سے سر میں درد تھا طبیعت بھی بھاری ہو رہی تھی تم سکول نہیں گئی؟ "
انہوں نے گھڑی پہ نظر ڈالتے اس سے پوچھا
" میں آپ کو لینے آئی ہوں آپ اٹھیں فریش ہوں پھر مل کر ناشتہ کرتے ہیں اگر طبیعت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔"
ان کا ہاتھ تھامے وہ فکر مندی سے کہہ رہی تھی
گزرے ماہ و سال میں وہ بالکل بدل سی گئی تھی ایک حادثہ سب لوگوں کو ہی بدل گیا تھا
" میں ٹھیک ہوں۔"
وہ اٹھنے لگیں ہیر نے ان کی اٹھنے میں مدد کی تھوڑی دیر بعد وہ آمنہ کے ساتھ دوبارہ ڈائننگ ہال میں موجود تھی
آمنہ کے ساتھ بیٹھتے وہ ان سے باتیں کرتے ہوئے جلدی جلدی ناشتہ کر رہی تھی سب افراد خانہ تقریباً ناشتہ کر چکے تھے البتہ حسنہ ان کے آتے ہی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھیں اور یہ چیز سب نے ہی محسوس کی تھی
☆☆☆
وہ ایک ترکش عالم تھے جو داؤد کو قرآن پاک کی تعلیم دے رہے تھے جہاں بیٹھ کر وہ پڑھتا تھا وہاں کمرے میں کیمرے لگے ہوئے تھے کام کی بات کے علاوہ وہ ان سے کوئی دوسری بات نہیں کر سکتا تھا وہ پڑھ رہا تھا یہ اس کے لیے بہت تھا بات نہ کرنے کی پابندی جیکسن نے لگائی تھی
وجہ نہ اس نے بتائی نہ داؤد نے پوچھی روزانہ رات کو ایک گھنٹے کے لیے وہ ان کے پاس جاتا تھا اسے صرف اتنا وقت ہی ملتا تھا۔
" میں نماز بھی سیکھنا چاہتا ہوں "
ایک رات معمول کے مطابق جب وہ عشاء کی نماز پڑھ کے اسے پڑھانے لگے تو داؤد نے ان سے کہا تھا اس کی بات پر انہوں نے مسکرا کر سر ہلا دیا تھا
☆☆☆
وہ ایک سیکڑوں میل پھیلا کھلا میدان تھا۔ گاڑیوں کی لمبی قطار ایک طرف لگی تھی جیکسن آنکھوں پر گلاسز لگائے ایک کرسی پر بیٹھا تھا اس کے ہاتھ میں چاقو تھا جسے وہ مہارت سے گول گول گھما رہا تھا
سامنے میز پر بہت سے ہتھیار رکھے تھے اس کے دائیں طرف سات لڑکے تھے ان سب کی عمر تقریباً اٹھارہ سے بیس سال تھی وہ سب ایک دوسرے سے تقریباً ایک فٹ کے فاصلے پر قطار میں کھڑے تھے جیکسن کے آدمی چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے
" فائر ہوتے ہی تم سب نے دو کلو میٹر کا فاصلہ بھاگ کر طے کرنا ہے پورے دو کلو میٹر کے فاصلے پر تم لوگوں نے رک کر اپنے ہاتھوں سے زمین کھودنی ہے۔ زمین میں تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر پانچ چاقو دفن ہیں جس کو چاقو ملے گا اس نے آگے بڑھ کر وہ رسی کاٹنی ہے جس میں کیل لگے ہیں وہ سات رسیاں نہیں ہیں جو ترتیب سے لگی ہیں وہ ایک ہی ہے۔ ایک سرا کاٹو گے تو پوری رسی کھل کر گر جائے گی اگر غلط سرا کاٹو گے تو نہیں کھلے گی اسے پار کرنے کے بعد آگے تین باکس ملیں گے جس پر تالا لگا ہوگا اس کی چابی ان میں سے ہوگی جو تم سب کے ہاتھوں میں اس وقت موجود ہے۔ یاد رہے جو ہارتا جائے گا وہ اپنی چابی سمیت واپس آ جائے گا جس کا باکس نہیں کھلے گا اسے واپس آ کر ان سے چابیاں لے گا اور پھر جا کر وہ باکس کھولے گا ان باکس میں جو کچھ نکلے گا اس کو پکڑ کر پانچ سو میٹر تک مزید بھاگنا ہے۔ آگے دو گنز ملیں گی جو ایک شیشے کے ڈبے میں بند ہوں گی اسے نکال کر تم نے اس چیز کو فائر کر دینا ہے اور ہاں یاد رہے گنز میں صرف ایک گولی ہوگی کیا تم سب تیار ہو؟"
ان کے سامنے کھڑا آدمی آخر میں چلا کر بولا تھا
" باکس تین ہیں جبکہ گنز صرف دو۔ تیسرا اپنی چیز کو کیسے فائر کرے گا اگر وہ نہ کر سکا تو وہ چیز ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہے اگر وہ خطرناک ہوئی تو۔"
سیاہ آنکھوں اور گوری رنگت والے لڑکے نے آنکھیں سکیڑ کر کہا تھا
" کیا ہر مرنے والی چیز صرف گولی سے مرتی ہے؟"
اس آدمی نے اسے استہزائیہ انداز میں کہا اور اگلے ہی سیکنڈ اس نے گن آسمان کی طرف کر کے گولی چلا دی
وہ ساتوں لڑکے ایک ساتھ تیزی سے بھاگے جیکسن نے چاقو رکھ کر سگریٹ سلگا لیا تھا۔ دونوں پاؤں میز پر رکھے اب وہ دلچسپی سے انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ رہا تھا
چند سو میٹر بھاگ کر ہی انہیں احساس ہوا کہ آگے زمین ریتلی ہے ان کے قدم مشکل سے ہی اٹھ رہے تھے چند قدموں پر ہی ان کے جوتوں میں ریت گھس گئی پاؤں ٹخنوں تک ریت میں دب گئے
تیزی سے بیٹھ کر اس نے اپنے دونوں جوتے اتار دیے اب وہ تیز تیز قدم اٹھا کر بھاگنے لگا تھا جوتوں کی نسبت ننگے پیر بھاگنا اسے آسان لگ رہا تھا باقی نے بھی اسے دیکھتے اپنے جوتے اتار دیے تھے
جیسے ہی انہوں نے اپنا مطلوبہ فاصلہ طے کیا ان کا سانس پھول چکا تھا سانس لینے کے بجائے، بنا وقت ضائع کیے انہوں نے ہاتھوں سے زمین کھودنی شروع کر دی
" میں ہی جیتوں گا رابرٹ اس بار تم مجھے نہیں ہرا سکتے "
اس سے ذرا فاصلے پر زمین کھودتے کین نے اس سے کہا
اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے گردن موڑ کر دیکھا کین سمیت تین لڑکے چاقو لے کر آگے نکل گئے تھے اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا زمین پر ہاتھ مارتے اسے چھبن کا احساس ہوا اس نے تیزی سے وہ آخری چاقو اٹھا لیا جیسے ہی وہ اٹھا کسی نے اس کے چاقو والے ہاتھ پر زور سے پیر مارا چاقو ہاتھ سے نکل کر زمین پر گر گیا
سامنے کھڑے ایک لڑکے نے فوراً وہ چاقو اٹھانا چاہا مگر رابرٹ نے پھرتی سے گھومتے ہوئے اپنا ایک پیر اس کے سر میں مارا اور بر وقت چاقو اٹھا لیا
" نو چیٹنگ "
اسے وارن کرتا وہ آگے بڑھ گیا۔ قریب پہنچ کر اس نے کین کے چلانے کی آواز سنی تھی
" ابے یار ان رسیوں میں تو کرنٹ ہے "
چاقو والا ہاتھ پکڑے وہ چیخا
" ان کیلوں میں کرنٹ ہے انہیں چھوئے بغیر رسی کاٹنی ہوگی "
قریب پہنچ کر داؤد نے احتیاط سے رسی کاٹنی شروع کر دی تھی اگلے ہی لمحے اسے زور کا جھٹکا لگا تھا دانت پیستے اس نے اپنی چیخ روکی
" تم لوگوں کے قریب ایک سرخ بٹن ہے اسے دباؤ گے تو رسیوں سے کرنٹ ختم ہو جائے گا "
قریب کھڑے لکڑی کے ڈنڈے پر لگے اسپیکر سے آواز گونجی انہوں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا
" کہاں ہے؟ کہاں ہے؟ کہاں ہے؟"
تیز تیز بڑبڑاتے انہوں نے بٹن تلاشنا شروع کر دیا
" کیا بٹن بھی زمین میں دفن کر رکھا ہے؟حد ہے "
ایک لڑکا جھنجھلایا
اتنی تلاش کے باوجود انہیں سرخ بٹن نہیں ملا کچھ سوچ کر داؤد اسپیکر کے قریب گیا ہاتھ بڑھا کر اس نے اسپیکر کا ڈھکن کسی دروازے کی طرح کھول دیا اندر دو سرخ بٹن تھے اس کا گلا خشک ہوا کین اس کے برابر آ کھڑا ہوا
" ضرور یہ والا ہوگا "
ہاتھ بڑھا کر اس نے بنا سوچے سمجھے نیچے والا بٹن دبا دیا
ان کے پیچھے کہیں دور ننھا سا دھماکہ ہوا تھا سب نے بیک وقت چونک کر اس طرف دیکھا
دور بہت دور ایک لکڑی کے باکس کا ڈھکن اڑ گیا تھا اندر دو خونخوار شکاری کتے باہر نکل کر ان کی طرف دوڑ پڑے تھے
" لعنت ہے "
کین نے دانت پیسے جبکہ داؤد نے جلدی سے دوسرا بٹن دبایا اب وہ سب تیزی سے رسی کاٹ رہے تھے ساتھ ساتھ مڑ کر ان کتوں کو بھی دیکھ رہے تھے جو قریب سے قریب تر آتے جا رہے تھے رسی کاٹ کر جیسے ہی وہ آگے بھاگے ان کتوں نے ان پر چھلانگ لگا دی
داؤد اور کین ایک ساتھ پیچھے گرے تھے ایک کتا ان کو دیکھتے غرا رہا تھا جبکہ دوسرا باقی تینوں پر جھپٹ پڑا تھا داؤد اور کین نے ایک دوسرے کو دیکھتے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا جیسے ہی کتے نے چھلانگ لگائی کین نے اچھلتے ہوئے زور سے اسے ٹانگ ماری وہ بیچارہ عجیب سی آواز نکالتا پیچھے جا گرا۔ بھاگ کر داؤد نے اس کے گلے میں لپٹی زنجیر کو لکڑی کے ڈنڈے سے باندھ دی
اب وہ دونوں تیزی سے ان باکس کی طرف بھاگے۔ باقی تینوں لڑکے بھی دوسرے کتوں کو اسی طرح باندھ چکے تھے۔
جینز کی جیب سے چابی نکال کر داؤد نے باکس کا لاک کھول دیا۔ کین اور ایک اور لڑکا بھی باقی کے دو باکس کھول چکے تھے۔ باقی دو کھڑے لڑکے خود کو کوستے پلٹ گئے
ایک لڑکے نے جب باکس کا ڈھکن کھولا تو اندر سے ہاتھ جتنا موٹا چوہا برآمد ہوا
" ادھر آ جا میرے پاس "
اس نے ہاتھ بڑھا کر چوہا پکڑ لیا اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑ کر آگے بڑھتا چوہے نے بہت ہی برے طریقے سے اس کا ہاتھ کاٹ لیا چیختے ہوئے اس نے چوہا پھینک دیا اب چوہا آگے اور وہ اس کے پیچھے
" واپس آؤ "
اس کے پیچھے بھاگتے وہ چلایا
کین نے جیسے ہی باکس کھولا اس کی آنکھیں پھیلی پھر وہ مسکرایا
" یہ تو بچہ ہے "
ہاتھ بڑھا کر اس نے اس چھوٹے سے نیولے کو گردن سے پکڑنا چاہا لیکن وہ منہ کھولے پھنکارا اس نے تیزی سے ہاتھ واپس کھینچا
داؤد نے جب باکس کھولا تو اسے کچھ نظر نہ آیا کیا وہ خالی تھا؟ اس نے آگے ہو کر اندر جھانکنا چاہا تبھی ایک سانپ پھن پھیلائے سیدھا ہوا
داؤد تیزی سے پیچھے ہوا کین اور داؤد نے نظر اٹھا کر ایک دوسرے کو دیکھا جیکسن کرسی سے ٹیک لگائے دلچسپی سے انہیں ٹیب پر لائیو دیکھ رہا تھا۔
اگلے سیکنڈ ان دونوں نے ایک ساتھ تیزی سے ان دونوں کو گردن سے پکڑا اور دوڑ لگا دی۔ داؤد کے ہاتھ میں دبا سانپ پھڑپھڑایا وہ دونوں تقریباً ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے سامنے شیشے کے باکس کے ڈھکن جیسے انہوں نے کھولے اندر ڈھیر سارے کیڑے رینگ رہے تھے۔
کین نے باکس میں ہاتھ ڈال کر گن نکالی اور نیولے کا سر اڑا دیا اس کے ہاتھ پر جلن ہو رہی تھی نیولے نے ناخن مارے تھے خون بھی نکل رہا تھا
داؤد نے جیسے ہی سانپ کو مارنا چاہا کوئی گولی نہ چلی اس نے دوبارہ ٹریگر دبایا مگر سانپ نہیں مرا۔ گن پھینک کر اس نے چاقو نکالا جو اس سارے میں اس نے اپنے پاس ہی رکھا تھا۔ سانپ کا سر کاٹ دیا۔
" ویل ڈن رابرٹ "
کین مسکراتے ہوئے اس کے سامنے کھڑا ہوا جواباً وہ بھی ہلکا سا مسکرایا
" بہت اچھا کھیلا تم دونوں نے مجھے مزہ آیا "
تقریباً پانچ منٹ بعد وہ دونوں جیکسن کے سامنے کھڑے تھے۔
" تم لوگوں کے بچوں والے کھیل اب ختم ہوئے کیا تم آگے موت سے کھیلنے کے لیے تیار ہو؟ "
وہ اٹھ کر ان کے سامنے کھڑا ہوا۔
" میں بوڑھا ہو گیا ہوں میں چاہتا ہوں اپنا سب کچھ تم دونوں میں سے کسی ایک کے حوالے کر دوں کیونکہ تم دونوں وہ ہو جن پر کئی سالوں سے میں محنت کر رہا ہوں۔ میں نے ایک آخری مشن تیار کیا ہے۔ جو بھی جیتا میرا سب کچھ اس کے نام۔ لیکن۔۔۔"
وہ ایک لمحے کو رکا۔ داؤد اور کین ساکت کھڑے اس کو سن رہے تھے۔
" اس کے لیے تمہیں اپنی جان کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔ آگے جس زندگی میں تم قدم رکھو گے وہ اس سے بلکل الگ ہوگی جو اب تک تم گزارتے آ رہے ہو۔ مجھے امید ہے تم لوگ مجھے مایوس نہیں کرو گے۔"
مسکرا کر وہ واپس اپنی جگہ پر جا بیٹھا۔
داؤد اور کین نے پہلے اسے اور پھر ایک دوسرے کو دیکھا۔ آخر کون کامیاب ہو گا ان دونوں میں سے قامیاب؟
•••••
بیسن پر جھکا وہ چہرے پر پانی کے چھینٹے مار رہا تھا ہاتھ بڑھا کر اس نے سٹینڈ پر لگا تولیہ اٹھایا۔ چہرہ تھپتھپا کر اس نے ہاتھ خشک کیے اور باتھ روم سے باہر نکل آیا
کچن میں جا کر اس نے چائے کے لیے پانی چڑھایا پھر فریج کھول کر اندر سے دودھ کی بوتل نکالی۔
تب ہی اسے کچھ گرنے کی آواز آئی اس نے چونک کر بوتل واپس رکھی
کوئی ہوا کی طرح اس کے پیچھے سے نکل کر بھاگا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی چور دروازہ کھول کر بھاگ جاتا اس نے پھرتی سے اسے پکڑ لیا۔ ماسک پہنے شخص نے گھومتے ہوئے دو مکّے اس کے پیٹ میں مارے
لب بھینچے وہ دانت پیستے جھکا پھر سختی سے اس کے دونوں ہاتھ ایک ہاتھ میں پکڑ کر دروازے کے ساتھ لگائے دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے پر لگا ماسک کھینچ کر اتار دیا
بھورے بال کھل کر کندھوں پر بکھر گئے خود کو چھڑوانے کی ناکام سی کوشش میں اس نے اپنی نیلی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
اور وہیں وہ جہاں کی تہاں ساکن رہ گئی۔ بلکل ساکت اور جامد۔ اس کا سانس تک رک گیا۔
"کون ہو تم؟"
اس کے ہاتھوں کو جھٹکا دیا مگر وہ گنگ بنی کھڑی اسے دیکھتی گئی
داؤد مرتضیٰ نے اس کی محویت دیکھی پھر اس کے ہاتھ چھوڑ کر چاقو نکالا اور اس کی گردن پر رکھ دیا۔
"آخری بار پوچھ رہا ہوں کون ہو تم؟"
حیرت انگیز طور پر اس کے لہجے میں کوئی سختی نہیں تھی
اس لڑکی نے اب بھی کوئی جواب نہ دیا بس وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی داؤد نے دوسرے ہاتھ سے موبائل نکالا نمبر ملا کر کان سے لگایا۔
"میرے فلیٹ میں ایک چور گھس آیا ہے پلیز اسے آکر لے جائیں"
چہرے پر سختی لیے اس نے کہا
وہ ایک جھٹکے سے ہوش میں آئی دونوں ہاتھوں سے اسے پرے دھکیلتے وہ سٹپٹائی۔
"میں چور نہیں ہوں"
اس نے دروازہ کھولنا چاہا مگر داؤد نے دروازے پر ہاتھ رکھ دیا۔
"پھر یہاں کیا کرنے آئی ہو؟"
اس کی آنکھوں میں دیکھتے اس نے مشکوک انداز میں پوچھا بلکہ وہ پورا مشکوک انداز اپنا چکا تھا۔ بولنے کے ساتھ وہ ایک قدم آگے ہوا
"وہ۔۔۔ وہ میں اپنی دوست سے ملنے آئی تھی اس نے نیا فلیٹ خریدا ہے مجھے معلوم نہیں ہو سکا اور میں غلطی سے ادھر آگئی"
وہ خشک لبوں پر زبان پھیرتے بولی۔
"اس چوروں جیسے حلیے میں اس سے ملنے آئی ہو؟"
اس کی آنکھوں میں کچھ تو ایسا تھا کہ وہ ڈر گئی
"نہیں نہیں میں بس اسے ڈرانا چاہتی تھی اچھا سوری پلیز مجھے جانے دو"
وہ کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا پھر ہاتھ ہٹا دیا۔ تیزی سے دروازہ کھول کر وہ باہر نکل گئی
"پاگل لڑکی۔"
وہ بڑبڑایا پھر دروازہ بند کر دیا۔
جاری ہے
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment