Bloods
By Munaza Niaz
Ep - 8
اس کا نشانہ کافی اچھا تھا توقع کے عین مطابق وہ ان تینوں کو مارنے میں کامیاب ہو گئی تھی شوٹ کرنے کے بعد وہ بائیک پر بیٹھی اور ان لوگوں کے آنے سے پہلے ہی وہاں سے غائب ہو گئی۔
رابرٹ اس پر شک کرنے لگا تھا اسے جلد از جلد سب ختم کرنا تھا اگر رابرٹ کو معلوم ہو جاتا کہ وہ ارورا کو مارنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے تو وہ کھڑے کھڑے اسے شوٹ کر دیتا اس نے ایک فلیٹ لے رکھا تھا جس کو وہ ضرورت کے تحت ہی استعمال کرتی تھی فلیٹ میں پہنچ کر اس نے اپنی گن ٹھکانے لگائی فریش ہو کر وہ واپس جانے کے لیے تیار ہو گئی زیادہ دیر غائب رہ کر وہ رابرٹ کی نظروں میں مزید آ سکتی تھی لفٹ میں داخل ہوتے اس نے موبائل نکال کر ایک نمبر ملایا دوسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا
"اگلے مہینے کی چھ تاریخ کو صبح چھ بجے تیار رہنا۔"
رک کر دوسری طرف کی بات سنی پھر ٹھیک ہے کہتے فون بند کر دیا
جب وہ واپس پہنچی تو وہاں رابرٹ نہیں تھا آدھے گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد رابرٹ آیا تھا اس کے ساتھ ارورا کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا وہ تیزی سے ان کے پاس پہنچی
"ارورا۔۔۔۔ کیا ہوا؟ کیا تم ٹھیک ہو ارے تمہیں تو چوٹ لگی ہے"
رابرٹ اسے نظر انداز کرتا ارورا کو لیے لفٹ میں داخل ہو گیا اسے کمرے میں پہنچانے کے بعد وہ کھولتا ہوا روزلی کے سر پر پہنچا تھا
ایک زوردار تھپڑ اس نے روزلی کے گال پر دے مارا وہ عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا مگر جو سامنے کھڑی تھی اسے وہ جان سے مار دینا چاہتا تھا
"کیوں اسے مارنا چاہتی ہوں آخر کیوں؟"
گلے سے پکڑ کر اسے پیچھے کی طرف لے جانے لگا
"یہ۔۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ تم کیا کہہ رہے ہو میں بھلا کس کو مارنا چاہوں گی؟"
دونوں ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھے وہ گھٹی ہوئی آواز میں بولی
"جھوٹ مت بولو۔۔۔ تم ارورا کو مارنا چاہتی ہو میں پوچھ رہا ہوں کہ کیوں؟"
وہ غرایا پھر جھٹکے سے اس کی گردن چھوڑ دی۔
دیوار کے ساتھ لگی وہ سفید چہرہ اس پر ٹکائے کھڑی تھی
" میں...... میں بھلا...... کیوں مارنا چاہوں گی اسے؟ تمہیں کسی نے جھوٹ بولا ہے میں سچ کہہ رہی ہوں رابرٹ میں نے کچھ نہیں کیا تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے"
اس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا
رابرٹ ایک دم نرم پڑا تھا۔ اسے صرف شک تھا کہ روزلی ایسا کر رہی ہے مگر اسے دیکھ کر لگ نہیں رہا تھا کہ وہ ایسا کر سکتی ہے اور پھر وہ ارورا کو کیوں مارنا چاہے گی؟ نہ وہ ایک دوسرے کی دشمن ہیں نہ ہی کوئی اور وجہ تھی جو اس وقت اس کے ذہن میں آتی۔
"تو پھر کون اسے مارنا چاہتا ہے؟ میں نے تمہیں کہا تھا کہ اسے ڈھونڈو مگر تم ابھی تک اسے نہیں ڈھونڈ پائی"
وہ اس کے کافی نزدیک کھڑا تھا۔
سر اٹھائے وہ کھوئے ہوئے حواسوں سے اسے دیکھنے لگی اس کی بات پر اس نے کوٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکال کر اس کے سامنے کیا
"یہ ہیں وہ لوگ جو اسے مارنا چاہتے ہیں"
رابرٹ نے اسے دیکھتے خاکی لفافہ اس کے ہاتھ سے لے لیا تیزی سے لفافہ چاک کر کے اندر موجود تصویریں باہر نکالیں
"یہ جوف ہے اور یہی اسے مارنا چاہتا ہے یہ ایک سائیکو ہے اور یہ لڑکیوں کا شکاری ہے خوبصورت لڑکیوں کا شکاری۔۔۔۔ ارورا کتنی خوبصورت ہے رابرٹ۔۔۔۔ تم اور میں۔۔۔ بلکہ ہم سب ہی بہت اچھی طرح جانتے ہیں"
اس کی بات سنتے وہ اس تصویر کو دیکھنے لگا۔ باقی تصویریں اس کے خاص آدمیوں کی تھیں
"کہاں ملے گا یہ؟"
اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا
"یہ ملک سے باہر چلا گیا ہے یہ نہیں معلوم کہ کب واپس آئے گا تم فکر مت کرو اس کے آنے کی خبر سب سے پہلے تمہیں ملے گی"
وہ جھوٹ بول رہی تھی۔
سر ہلا کر وہ پیچھے ہوا
"اگر یہ جھوٹ ہوا تو یاد رکھنا میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا"
کہہ کر تیزی سے مڑ گیا
"میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ تم کبھی نہ چھوڑو مجھے"
اس نے اپنا پورا پلان ترتیب دے لیا تھا مسکرا کر اس نے اپنا ہاتھ گال پر رکھا جہاں رابرٹ کی انگلیوں کے نشان تھے وہ پاگل ہو جانے کے قریب تھی
•••••
ترتیب سے لگے بیسنوں میں ایک پر جھکے وہ چہرے پر پانی کے چھینٹے مار رہا تھا منہ دھونے کے بعد آئینے میں خود کو دیکھتے اس نے جیب سے رومال نکال کر گیلا چہرہ صاف کیا وہ جانے کے لیے مڑا ہی تھا کہ اس کی نظر دوسرے آئینے پر پڑی جہاں now or never لکھا تھا۔
سرخ رنگ سے۔ قریب جا کر بھنویں سکیڑے ان الفاظ کو دیکھا۔ ہاتھ بڑھا کر انگلی سے ان لفظوں کو چھوا پھر ناک کے قریب لے جا کر سونگھا
وہ لپسٹک کی خوشبو تھی وہ حیران ہوا خطرے کی گھنٹی دماغ میں بجنے لگی تب ہی اسے ہیل کی ٹک ٹک سنائی دی اس نے چونک کر دائیں طرف بیرونی دروازے کی جانب دیکھا وہ ایک لڑکی تھی سیاہ جینز پر سفید شرٹ اور اوپر لمبا سرخ کوٹ۔ پیروں میں سیاہ لمبی ہیل تھی اس کے بال بھورے تھے اس کے سرخ ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ تھی
اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی دروازہ بند ہوا۔ تیزی سے دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے دروازہ کھولا اور باہر نیم روشن راہداری میں نکل آیا مگر وہاں کوئی نہیں تھا
اسے دوبارہ ہیل کی ٹک ٹک سنائی دی اس نے گردن موڑ کر بائیں طرف دیکھا وہ لڑکی راہداری کے آخری سرے پر کھڑی تھی اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر اس لڑکی نے افسوس سے اسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ کتنے ڈرپوک ہو تم
وہ تیزی سے اس کی طرف بھاگا مگر وہ لڑکی اس سے پہلے ہی وہاں سے جا چکی تھی جس طرف وہ مڑی تھی وہاں دونوں طرف کمرے تھے وہ کس کمرے میں گئی ہوگی؟ وہ سوچنے لگا آخر وہ کون تھی؟ یہی سوچ کر وہ آگے کی طرف بڑھنے لگا اس نے دس قدموں کا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ اچانک ایک کمرے کا دروازہ کھلا اور دو لوگوں نے جھپٹ کر اسے کمرے میں گھسیٹ لیا
سامنے وہ لڑکی ایک صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی تھی اس کے ہاتھ میں ایک سگریٹ سلگ رہا تھا ایک گہرا کش لے کر دھواں فضا میں چھوڑتے اس نے بچا ہوا سگریٹ ایش ٹرے میں مسل دیا اس کے دونوں آدمی ابھی تک اس شخص کو پکڑے کھڑے تھے
"کون ہو تم اور مجھے کیوں پکڑا ہے؟"
وہ آدمی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
تھوڑی دیر پہلے والی گھبراہٹ غائب ہو گئی تھی البتہ ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے
اس لڑکی نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ مسکرا کر ایک کارڈ اور کچھ پیپرز اپنے سامنے میز پر رکھے۔ اس شخص نے چہرہ آگے کر کے ان صفحوں پر نظر ڈالی کارڈ پر اس کی تصویر تھی اور پیپرز۔۔۔؟
"یہ سب کیا بکواس ہے چھوڑو مجھے"
یکدم ہی وہ تیش میں آیا تھا۔ چہرے پر چار سو والٹ کے جھٹکا لگنے کے بعد کا منظر تھا
"ریئلی؟ کیا یہ واقعی میں بکواس ہے"
وہ ہنسی۔ کمرے میں جلترنگ سی بجی تھی
اس شخص نے جھٹکے سے اپنے دونوں بازو چھڑوائے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے دونوں طرف کھڑے لڑکوں پر ایک ساتھ حملہ کر دیا۔ وہ دونوں اچھلتے ہوئے پیچھے ہوئے اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ حملہ کرتا وہ دونوں کسی چیتے کی طرح اس پر جھپٹے اور لاتوں گھونسوں کی بارش شروع کر دی
کم تو وہ بھی نہیں تھا وہ بھی ان پر جوابی وار کر رہا تھا۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ کن لوگوں سے اس کا واسطہ پڑ چکا ہے کچھ ہی دیر میں ان دونوں نے اسے بری طرح زخمی کر دیا تھا گھٹنوں کے بل بیٹھے وہ بمشکل سانس لے رہا تھا
صوفے سے اٹھ کر وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ بلکل اچانک اس شخص نے اسے پیٹ میں گھونسا مارنا چاہا تھا مگر وہ پھرتی سے دائیں طرف گھومی۔ گھومتے ہی اس نے ہیل والا پیر اس کے سر میں مارا دونوں لڑکے جو اس کی طرف بڑھنے ہی لگے تھے کہ رک گئے
اس شخص کے سر سے خون نکل رہا تھا لمبی باریک ہیل اس کی کنپٹی میں کسی گولی کی طرح گھسی تھی فرق صرف یہ تھا کہ گولی آر پار ہو جاتی ہے جبکہ اس کی ہیل اندر گھسی ہوئی تھی ایک جھٹکے سے اس نے اپنا ہیل والا پیر واپس کھینچا اس شخص کی ساکت پتیلوں سے خون نکلنے لگا تھا اگلے ہی لمحے وہ منہ کے بل اس کے سامنے گرا
دھیرے سے اس کے سامنے جھک کر اس نے اس شخص کے بالوں کو مٹھی میں دبوچ کر اس کا بے جان چہرہ اوپر اٹھایا۔
"روسی حکومت کو کتنا نقصان ہو گیا انہوں نے اپنا قیمتی جاسوس کھو دیا"
اس کے بالوں کو چھوڑ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی
اس کی نیلی آنکھوں میں ہلکا سا افسوس ابھرا شیرف اور پال نے ایک دوسرے کو دیکھتے اس کی بات سن کر مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا
"تم دونوں کے دانت کیوں نکل رہے ہیں اسے ٹھکانے لگاؤ اور جگہ صاف کرو اتنی آسانی سے یہ مرے گا مجھے نہیں معلوم تھا"
انہیں لتاڑتے ارورا کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی
اس کا رخ اب لفٹ کی جانب تھا مطلوبہ فلور پر پہنچ کر اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا سامنے کا منظر دیکھ کر وہ حیران ہوئی اور جس بات نے اسے مزید حیران کیا وہ یہ تھی
"چلے جاؤ ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ"
رابرٹ اپنے سامنے کھڑے شخص کو کہہ رہا تھا اس کی بات پر وہ شخص تیزی سے گھوما ایک نظر سامنے کھڑی حیران نظر آتی لڑکی پر ڈالی پھر تیزی سے سائیڈ سے ہو کر باہر نکل گیا
"اسے کیوں جانے دیا؟"
"وہ جاسوس نہیں تھا"
کہتے ہوئے صوفے پر جا بیٹھا
"مجھے بے وقوف سمجھتے ہو؟"
اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے وہ بولی
وہ کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا پھر ہاتھ اٹھا کر کمرے میں موجود باقی لوگوں کو باہر جانے کا اشارہ کیا ان کے باہر نکلتے ہی وہ اٹھا اور اس کے سامنے آ کھڑا ہوا وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
ہیل پہننے کے باوجود وہ اس سے چند انچ نیچے کھڑی تھی اور سر اٹھا کر اسے دیکھ رہی تھی۔
"بے وقوف نہیں بیوی سمجھتا ہوں تمہیں یاد ہے تقریباً تین سال پہلے میں نے ایک پیپر پر تم سے سائن کروائے تھے"
اس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ پھیلی جسے ارورا ناسمجھی سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے اس کی بات پر سر ہلایا۔
"ہاں کروائے تو تھے۔۔۔ تو؟"
"وہ میرج پیپر تھے"
اس کی آنکھوں میں ابھرتی حیرانی دیکھتا وہ کافی محظوظ ہو رہا تھا۔
"کیا کہا؟"
اسے اپنے کانوں پر جیسے یقین نہیں آیا
"تم میری بیوی ہو"
اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھے۔
" تم مذاق کر رہے ہو۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ پچھلے تین سالوں سے میں تمہاری بیوی ہوں اور مجھے معلوم تک نہیں ہے واو۔۔۔ دیٹس کول"
وہ ایک دم ہنس پڑی پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا
"تم کون ہو رابرٹ؟"
کیا وہ واقعی میں اسے نہیں جانتی تھی؟ رابرٹ نے اس کا ایک ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا دیا وہی ہاتھ اونچا کر کے اس کے گلابی ہتھیلی پر اپنے لب رکھے
"جو تم سمجھو۔"
وہ عجیب سی کیفیت میں گھری کھڑی تھی اسے شک تو تھا کہ وہ میرج پیپر تھے مگر اس نے اس سے کبھی پوچھا نہیں تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی کسی نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا۔ دونوں نے بیک وقت دروازے کی سمت دیکھا
"رابرٹ۔۔۔۔ نیچے وہ۔۔۔۔۔"
روزلی کی پوری بات سنتے ہی وہ دونوں تیزی سے اس کے سامنے سے کمرے سے باہر نکل گئے وہ تینوں ایک ساتھ لفٹ میں سوار ہوئے تھے۔
روزلی کا بس نہیں چل رہا تھا ارورا کو کہیں غائب کر دے لفٹ پہلے فلور پر رکی تھی روزلی کے باہر نکلتے ہی رابرٹ نے ارورا کو روک کر اسے لفٹ کی دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ دونوں ہاتھ اس کے بائیں دائیں دیوار پر رکھے اس کے قریب ہوا۔
"یہاں کسی کا اعتبار مت کرنا یہ سب جھوٹے ہیں"
دور جاتی روزلی نے مڑ کر اس منظر کو چبھتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا تھا اطراف کی چیخ و پکار بند ہو گئی تھی یا پھر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا اس نے چاروں طرف نظر ڈالی سامنے جوف چہرے پر جوکر کا ماسک چڑھائے اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا
گولیاں کسے لگ رہی تھیں وہ نہیں دیکھ رہا تھا اس کے آدمی ہر طرف بکھرے تباہی پھیلا رہے تھے
چہرہ دوبارہ موڑ کر رابرٹ کو دیکھتے اس نے اپنی گن نکالی وہ دونوں لفٹ سے باہر نکل آئے تھے
"کسی کو مت چھوڑنا۔"
آنکھوں میں سفاکیت لیے اس نے ایئر پیس پر انگلی رکھتے کہا جسے اس کے سارے آدمیوں نے بیک وقت سنا تھا
"تم میرے ساتھ رہو گی"
اس نے تیزی سے ارورا کا ہاتھ پکڑ لیا
"کم آن رابرٹ کچھ نہیں ہو گا"
ہاتھ چھڑوا کر اس نے اپنی گن نکالی۔
اس کے ہاتھ میں رجل ایس ار 22 تھا۔ پھر وہ دائیں طرف بھاگی رابرٹ نے اسے جاتے دیکھا اور پھر اسی راستے پر اسے جوف نظر آیا رابرٹ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے۔ وہ بس اس کو دیکھ رہا تھا اپنی طرف بڑھتے آدمیوں کو وہ بنا دیکھے فائر کر رہا تھا اس کے قدم خود بخود جوکر کی طرف اٹھ رہے تھے
جوف نے بھی اسے دیکھ لیا تھا اس نے فائرنگ بند کر دی تھی اس نے بے اختیار اپنے سامنے سے گزرتی لڑکی کو دیکھا
ایک منٹ؟ کیا وہ واقعی میں ایک لڑکی تھی؟ یا پھر کوئی اپسرا؟ یا کوئی پری۔ اگر تھی تو پھر انسانوں کی اس دنیا میں کیا کر رہی تھی؟ اسے تو دوسری دنیا میں ہونا چاہیے تھا۔
اس کا گن والا ہاتھ خود بخود ارورا کی طرف اٹھا۔ وہ اسے دوسری دنیا میں بھیجنا چاہتا تھا۔
رابرٹ نے اس کے اٹھتے ہاتھ کو دیکھا اور پھر ارورا کو۔ تیزی سے بھاگتے اس نے جوف کی گن پر فائر کر دیا۔ گن چھوٹ کر دور جا گری۔ جوف اپنا ہاتھ پکڑے ایک قدم پیچھے ہٹا
"ارورا۔۔۔"
وہ رکی۔۔۔۔ پلٹی۔۔۔۔ رابرٹ تیزی سے اس کے قریب آیا۔ تبھی ایک اور گولی چلی۔ وہ رک گیا۔ وہ گولی روزلی نے ارورا پر چلائی تھی جسے ارورا نہیں دیکھ سکی تھی لیکن وہ گولی ارورا کو نہیں رابرٹ کو لگی تھی۔
وہ اسے بچانے کے لیے سامنے آگیا تھا۔ ارورا نے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا وہ اس کے سامنے ہلکا سا جھکا۔ گولی بازو کو چیرتی نکل گئی تھی۔ وہ تینوں اپنے چاروں طرف اور باہر کی طرف بھاگتے بہت سے قدموں کی آوازیں سن سکتے تھے۔
روزلی نے دیکھا جوف اپنے آدمیوں کو یہاں سے نکلنے کا کہہ رہا تھا اس کے بہت سے آدمی مارے جا چکے تھے
" رابرٹ۔۔۔۔ کیا تم ٹھیک ہو؟"
ارورا نے اسے کندھوں سے پکڑ کر سہارا دیا
"جاؤ یہاں سے"
رابرٹ نے اس کی کلائی پکڑی اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھا
"شیرف۔۔۔ پال۔۔۔ ارورا کو کور کر کے یہاں سے نکلو"
اس نے ارورا کو ان کی طرف دھکیلا جو اسی کی طرف آ رہے تھے۔
"رابرٹ تم بھی ساتھ چلو"
"میں آ جاؤں گا میری فکر مت کرو۔۔۔ لے کر جاؤ اسے۔۔۔ گو گو گو"
اسے کہتا ہے وہ ساتھ کھڑے شیرف اور پال پر چلایا
وہ دونوں ارورا کو کہنی سے پکڑے باہر کی طرف بھاگے اس کے اوجھل ہونے کے بعد اس نے گردن موڑ کر دائیں طرف کھڑے جوف کو دیکھا جو ماسک والے چہرہ ایک طرف جھکائے اسے ہی دیکھ رہا تھا
وہ اس کی طرف بڑھا ہی تھا کہ رک گیا کیونکہ جوف کے پیچھے سے دو لڑکے نکل کر اس کے سامنے آئے تھے دونوں لڑکوں نے باری باری اپنی جیکٹ کی زپ کھول دی پھر اسے دیکھ کر مسکرائے اس کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔
اسے گولی چلنے کی آواز آئی اس نے گردن موڑ کر دیکھا روزلی اپنی کلائی دوسرے ہاتھ سے پکڑے ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس نے اپنے ہاتھ پر گولی چلائی تھی۔ اس کے ہاتھ سے بھل بھل نکلتا خون فرش کو سرخ کرتا جا رہا تھا۔
وہ اس کی طرف بھاگا۔ تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ باہر کی جانب لپکا۔ جوف نے انہیں جاتے دیکھا تو ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ اگلے لمحے وہ بھی وہاں سے غائب ہو گیا۔
روزلی کو لے کر وہ گاڑی تک پہنچا ہی تھا کہ اسے پولیس کی بھاری نفری بلڈنگ کی طرف جاتی دکھائی دی۔ اس کی سانسیں رکی تھیں۔ وہ ان کو اندر جانے سے روکنا چاہتا تھا روزلی کو وہیں رکنے کا کہہ کر وہ ان کی طرف بڑھا
اور پھر اچانک ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ وہ اڑتا ہوا پیچھے کی طرف جا گرا اس کا سر کسی چیز سے ٹکرایا تھا اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا ذہن تاریکی میں ڈوب گیا۔
جاری ہے
Bloods ep 9 link🖇️👇
Comments
Post a Comment