Skip to main content

Featured

Ruthless killer by Munaza Niaz complete Novel

  Ruthless killer By Munaza Niaz complete novel  All episodes links 👇🖇️🌸 Episode 1  Episode 2  Episode 3  Episode 4 Episode 5 Episode 6 Episode 7 Episode 8 Episode 9 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 & Last Episode 

Bloods EP 9 by Munaza Niaz

 


Bloods 

By Munaza Niaz 

Ep - 9



" یہ دیکھو ہیر میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔"

دس سالہ داؤد نے اپنے پیچھے چھپے دونوں ہاتھ آگے کیے۔ اس کے ہاتھ میں ڈھیر سارے رنگ برنگی پھولوں کو دیکھ کر ہیر منہ پر ہاتھ رکھے ایک دم سے ہنسنے لگی۔


"ارے تم ہنس کیوں رہی ہو؟ یہ پھول لو نا یہ میں تمہارے لیے توڑ کر لایا ہوں"

اس کو ہنستے دیکھ کر وہ تھوڑا خفا ہوا تھا۔


ایک تو وہ اتنی دور باغ میں اکیلے اس تیز دھوپ میں گیا اور اتنی ساری محنت کے بعد اس کے لیے پھول توڑ کر گلدستہ بنایا پھر واپس بھی پیدل آیا کیونکہ اس کی سائیکل اسے دغا دے کر پنکچر ہوگئی تھی وہ خفا نہ ہوتا تو اور کیا ہوتا۔


"میری چاکلیٹ کہاں ہے؟"

ہنسی روک کر اس نے پھول لے لیے جواباً داؤد نے مسکرا کر شرٹ کی جیب سے چاکلیٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائی۔


"یہ سب سے بڑی والی چاکلیٹ ہے جو میں اپنے فریج سے نکال کر لایا ہوں صرف تمہارے لیے میں نے اتنی محنت کی ہے"

دونوں بازو سینے پر باندھے اس نے ایسے کہا جیسے جنگ جیت کر آیا ہو اس کی بات سنتے ہوئے ہیر نے جلدی سے چاکلیٹ کھولی اور منہ میں ڈال دی۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ خاموشی سے اس کو دیکھے گیا۔


"کھاؤ گے؟"

اچانک ہیر کو یاد آیا کہ وہ بھی کھڑا ہے اور اسے ہی دیکھ رہا ہے (ارے بھئی چاکلیٹ کھاتے ہوئے) داؤد نے نفی میں سر ہلایا۔


"اوکے ایز یو وش۔"

اگلے منٹ میں پوری چاکلیٹ ختم ہو گئی تھی۔


"داؤد۔۔۔ ہیر۔۔۔ تم دونوں اتنی گرمی میں یہاں کیا کر رہے ہو؟ چلو اندر چلو شاباش۔"

ان دونوں نے بیک وقت گردن موڑی داؤد کی امی لاؤنج کا دروازہ کھول کر ان کی طرف آ رہی تھیں۔ وہ دونوں لان میں کھڑے تھے 


"چچی یہ دیکھیں داؤد نے مجھے پھول دیے ہیں آج میری برتھ ڈے ہے نا"

وہ جوش سے خوش ہوتے ان سے بولی۔


"ارے واہ یہ تو بہت پیارے ہیں"

انہوں نے مسکرا کر اس کا گال تھپکا وہ کھلکھلا کر اندر بھاگ گئی۔


"کیا ہوا داؤد ایسے کیوں کھڑے ہو اندر چلو باہر بہت گرمی ہے" 

وہ جو سنجیدہ صورت بنائے کھڑا تھا ان کی بات پر مسکرایا


"نتھنگ مام چلیں اندر چلتے ہیں"

مگر وہ اندر نہیں گئیں بلکہ پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھیں


"پھر میرا بیٹا اتنا سنجیدہ کیوں ہے؟ اگر کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤ بیٹے۔"

اس کے دونوں ہاتھ تھام کر انہوں نے استفسار کیا


"کل میرا ٹیسٹ ہے امی اور مجھے کچھ بھی نہیں آتا"

اس نے معصومیت سے کہا وہ ہنس پڑیں۔


"اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے میرا بیٹا تو بہت ذہین ہے، بہت ٹیلنٹڈ ہے۔ اپنا راستہ بنانا اور ہر مشکل کو پچھاڑنا اسے آتا ہے۔ یہ ٹیسٹ تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے"

انہوں نے اس کا گال تھپک کر اسے یاد دلایا کہ وہ کون ہے۔


ان کی بات پر داؤد کے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی 

"جی امی" 

اس نے تابعداری سے سر ہلایا وہ اٹھ کھڑی ہوئیں پھر اس کا ہاتھ تھام کر اندر کی طرف بڑھیں۔


جب کہ داؤد پھر سے کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔

" کیا میں امی کو بتا دوں ان لوگوں کے بارے میں؟"

اس نے چلتے چلتے ماں کو دیکھا۔


" نہیں ۔۔۔۔ ابھی نہیں ۔۔۔۔ بعد میں بتاؤں گا۔ پہلے میں خود پتہ کروں گا کہ وہ کون لوگ ہیں۔" 


اس کے ذہن میں اپنی ماں کے الفاظ گونجے۔ 

" ہاں وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔" 

اس کا ذہن تیزی سے چلنے لگا تھا۔


☆☆☆


کچن میں کھڑی وہ کافی بنا رہی تھی کہ اسے کچھ آواز سنائی دی۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے بیرونی دروازے کی طرف دیکھا۔ یہ اوپن کچن تھا بیرونی دروازہ دائیں طرف تھا جو کچن سے صاف نظر آ رہا تھا۔ مگ شیلف پر رکھ کر وہ محتاط قدم اٹھاتی کچن سے باہر نکلی۔ اس نے محسوس کیا کہ کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دروازہ لاکڈ تھا پچھلے کچھ دنوں سے وہ گھر کے تمام دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے لگی تھی۔ گھر سے نکلنا بھی اس نے ترک کر دیا تھا 


دروازے کو دیکھتے اس کے جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔ کہیں وہ لڑکی دوبارہ تو نہیں آگئی؟ اس نے تھوک نگل کر سوچا اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ پولیس کو کال کر کے ساری صورت حال سے آگاہ کرتی جس میں وہ پھنسی ہوئی تھی۔ مگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی کچھ بعید نہیں کہ پولیس میں رپورٹ لکھوانے کے بعد پولیس انہیں کیا ڈھونڈتی الٹا وہ لوگ اسی کو ڈھونڈ نکالتے 


وہ اتنی ڈرپوک تھی یہ بات وہ اب جان پائی تھی اچانک دروازے کے ساتھ ہوتی چھیڑ چھاڑ بند ہو گئی اس کا سانس بھی بند ہوا کیا وہ لوگ دروازہ توڑنے والے ہیں؟ 


وہ دو قدم پیچھے ہوئی اسے قدموں کی آواز آرہی تھی وہ جو کوئی بھی تھا اب واپس جا رہا تھا تیزی سے آگے بڑھ کر اس نے کی ہول سے جھانکا وہاں کوئی نہیں تھا اور جو تھا وہ دیوار پھلانگ کر واپس جا چکا تھا 


وہ وہیں دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ کیا اس کی پوری زندگی ایسے ہی ڈرتے ڈرتے، لوگوں سے چھپتے چھپاتے گزرے گی؟ اس نے تکلیف سے آنکھیں میچ لیں۔


☆☆☆


"پال گاڑی روکو"

ارورا نے تیز لہجے میں کہا گاڑی ایک جھٹکے سے رکی


"واپس چلو ہمیں رابرٹ کو اکیلے چھوڑ کر نہیں آنا چاہیے تھا"

وہ بار بار اس کا نمبر ملا رہی تھی مگر اس کا فون بند جا رہا تھا


" باس کا حکم ہے کہ آپ کو واپس لے جائیں۔ ڈونٹ وری ان کو کچھ نہیں ہو گا آپ جانتی ہیں۔"

پال نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا 


شیرف اس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا اس کے ہاتھ میں ٹیب تھا ٹیب میں کچھ دیکھتے اس نے

سفید پڑتے چہرے کے ساتھ پال کا کندھا ہلایا۔ 


ارورا پال کی بات سننے کے بعد گاڑی سے باہر نکل آئی تھی اس کے چہرے پر پہلی بار پریشانی جھلکی تھی۔ ٹیب میں نیوز چل رہی تھی۔ اس بلڈنگ میں دہشت گردوں نے خودکش دھماکہ کیا تھا ہر طرف آگ لگی تھی لوگوں کی چیخ و پکار پولیس کی افراتفری ایک کہرام سا مچا تھا دونوں نے بیک وقت باہر کھڑی ارورا کو دیکھا جو گاڑی سے ٹیک لگائے کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی اچانک ایک تیز رفتار بائیک اس کے سامنے رکی وہ فوراً سیدھی ہوئی بائیک پر موجود شخص نے ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا


"کون ہو تم؟"

اس نے کاغذ کی طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھایا تھا۔


اس نا معلوم شخص نے بنا کوئی لفظ بولے تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ کاغذ اس کو تھمایا اور بائیک اڑا کر لے گیا 


اس کے چہرے پر ہیلمیٹ تھا ارورا اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکی تھی اس نے تیزی سے وہ مڑا تڑا کاغذ کھولا


"آپ کی جان خطرے میں ہے جو آپ کو مارنا چاہتا ہے وہ آپ کے اپنوں میں سے ہے اپنی آنکھیں اور ذہن کھلی رکھیں"


اس نے چہرہ موڑ کر اس طرف دیکھا جس طرف وہ گیا تھا پھر اس نے فرنٹ سیٹ پر بت بنے بیٹھے شیرف اور پال کی طرف دیکھا۔ 


تیزی سے دروازہ کھول کر اس نے شیرف کے ہاتھ سے ٹیب لے لیا کیونکہ وہ اسی پر نظریں جمائے بیٹھے تھے ٹیب میں موجود خبر سنتے ہی اس کے پیر بے جان ہونے لگے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں 


تیش میں آتے اس نے پال کو گریبان سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے باہر نکالا اور ٹیب اس کے سینے پر دے مارا جسے پال نے بروقت پکڑ لیا تھا فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے پال کے آدھے بیٹھتے ہی گاڑی ریورس کی تھی گاڑی ہوا سے باتیں کرتی واپس اسی جگہ پہنچی تھی


"رابرٹ کو ڈھونڈو"

گاڑی سے باہر نکل کر وہ ان دونوں پر چلائی تیزی سے بھاگتے ہر ایک کا چہرہ دیکھتے وہ ایک جگہ رک گئی کیونکہ آگے کرائم سین کی پٹی لگی تھی اس کا جانا ممنوع تھا بلڈنگ میں لگی آگ پر قابو پایا جا چکا تھا ریسکیو ٹیم بہت سے لوگوں کو سٹریچر پر ڈالے ایمبولینس میں ڈال رہی تھی۔


" رابرٹ کو کچھ نہیں ہوگا اسے کچھ نہیں ہو سکتا وہ بالکل ٹھیک ہوگا وہ باہر نکل آیا ہوگا وہ نہیں مرا ہوگا میں جانتی ہوں وہ واپس آئے گا"


منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے، جلے ہوئے مر چکے لوگوں کو دیکھتے وہ بولتی گئی


"ہمیں ان کو وہاں بھی دیکھنا چاہیے"

پال اور شیرف ہر طرف دیکھ چکے تھے بس نہیں دیکھا تھا تو ان مر چکے لوگوں میں نہیں دیکھا تھا 


پال کی بولتی اس وقت بند ہوئی جب ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر پڑا تھا کچھ بھی کہے بغیر ان دونوں پر قہر بھری نظر ڈال کر وہ گاڑی میں جا بیٹھی اس یقین کے ساتھ کہ رابرٹ یہاں نہیں تھا تو پھر وہ کہاں تھا؟


☆☆☆


ان کی گاڑی ایک بلڈنگ کے سامنے رکی تھی گاڑی سے باہر نکل کر داؤد نے اسے اپنے پیچھے آنے کا کہا وہ پوری بلڈنگ خالی تھی بیرونی دروازہ کھول کر جب وہ اس کے پیچھے اندر داخل ہوئی تو چاروں طرف اندھیرا تھا داؤد نے ایک دیوار کی طرف ہاتھ بڑھا کر سوئچ بورڈ پر انگلی رکھی ہر طرف روشنی سی بکھر گئی 


اس نے دیکھا سامنے کی پوری دیوار شیشے کی تھی وہ سحر زدہ سی اس دیوار کے پاس آئی سامنے پورا شہر روشنی میں جگمگا رہا تھا اس نے چہرہ موڑ کر داؤد کو دیکھا جو ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد ایک کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا 


گہری سانس بھر کے وہ بھی اس کے پیچھے ہو لی۔ کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کی نظر داؤد پر پڑی وہ ایک دیوار کے پاس کھڑا تھا۔ دیوار پر ایک بورڈ نسب تھا وہ اس پر کوئی نمبر ملا رہا تھا 


دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سامنے زمین پر لکڑی کا فرش سلائیڈ کی طرح کھل گیا وہ اسے دیکھے بنا نیچے اترنے لگا وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے قدم بڑھانے لگی جیسے ہی اس نے پہلا قدم سیڑھی پر رکھا وہ جل اٹھی۔ جیسے جیسے وہ قدم رکھتی گئی ہر زینہ روشن ہوتا گیا وہ آٹومیٹک لائٹس تھیں آخری زینے سے اتر کر اس نے چہرہ موڑ کر پیچھے دیکھا زینے کی ساری لائٹس آف ہو گئی تھیں۔


اس نے دوبارہ چہرہ موڑ کر سامنے دیکھا وہ ایک اور اوپر کی طرح کا وسیع و عریض ہال تھا جو فی الحال خالی تھا جیسے وہاں پر موجود سامان ہٹا دیا گیا ہو 


ہال کے ایک طرف چار کمرے تھے وہ ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا وہ بھی اس کے ساتھ داخل ہوئی تھی اندر موجود جدید اسلحہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں 


اپنی جیب سے گن نکال کر وہ واپس اس کی جگہ پر رکھ رہا تھا وہ میکانکی انداز میں چلتی اس کے برابر آ کھڑی ہوئی


"یہ۔۔۔۔۔ یہ سب تمہارا ہے؟"

وہ یقین کرنا چاہتی تھی

"ہاں"

یک لفظی جواب۔ اس نے چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا


" تم۔۔۔۔۔ تم کون ہو؟"

وہ اس کی بے تاثر آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھا مگر پھر بھی ایک سنسناہٹ سی اس کے جسم میں دوڑ گئی 


داؤد نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا اب وہ ایک دوسرے کمرے میں داخل ہو چکا تھا وہ اس کے ہم قدم تھی جیسے ہی اس نے کمرے میں قدم رکھا اس کا صحیح معنوں میں سانس بند ہوا وہ کمرہ بہت بڑا تھا اتنا کہ دور تک وہ دیکھ سکتی تھی جس چیز کو دیکھ کر اسے جھٹکا لگا تھا وہ سامنے دیوار پر لگی ایک تصویر تھی وہ فریم شدہ تصویر اتنی بڑی تھی کہ پیچھے کی پوری دیوار کو ڈھک چکی تھی وہ ایک لڑکی کی تصویر تھی 


دائیں اور بائیں دیواروں پر بھی اسی لڑکی کی تصویریں تھیں بہت سو میں داؤد بھی اس لڑکی کے ساتھ تھا مگر جو سامنے والی تھی اس میں وہ لڑکی اکیلی تھی۔۔۔ اور وہ لڑکی! 


☆☆☆


اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اسے کچھ بھی دکھائی نہ دیا ہر طرف اندھیرا تھا اس نے پلکیں جھپکائیں ایک بار دو بار اور پھر بار بار 


آہستہ آہستہ اندھیرا چھٹنے لگا اس کی جگہ ہلکی سی روشنی نے لے لی اس کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا تھا لب بھینچے وہ اٹھ بیٹھا اس نے اطراف میں نظر ڈالی وہ ایک کمرے میں تھا اس نے چہرہ جھکا کر دیکھا اس کی شرٹ غائب تھی اسے جھٹکا سا لگا پھر اسے آہستہ آہستہ سب کچھ یاد آنے لگا 


وہ تیزی سے اٹھا ہی تھا کہ درد کی ایک شدید لہر اس کے بازو میں دوڑ گئی وہ ایک جھٹکے سے واپس بیٹھا لب بھینچے وہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا 


دفعتاً دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی اس نے چہرہ اٹھا کر اپنی طرف آتی روزلی کو دیکھا


" تم ٹھیک ہو رابرٹ؟ کہیں تمہیں درد تو نہیں ہو رہا؟' 

بے قراری سے کہتی وہ اس کے پاس بیڈ پر ٹک گئی ایک ہاتھ اس کے برہنہ کندھے پر رکھ دیا


"ہاں میں ٹھیک ہوں"

اس نے ماتھا چھوا تب اسے احساس ہوا اس کے ماتھے پر بھی پٹی بندھی ہوئی ہے۔


"نہیں۔۔۔ تم ٹھیک نہیں ہو"

دوسرا ہاتھ اس کے دوسرے کندھے پر رکھا۔


رابرٹ نے ایک قہر آلود نظر اس پر ڈالی روزلی کا گلا خشک ہوا۔


نہیں روزلی نہیں آج رات تو مت ڈرو اس نے دل میں خود سے کہا


"ہاتھ ہٹاؤ"

اس نے غصے سے کہا روزلی نے کوئی کان نہیں دھرے بلکہ مزید قریب ہوئی


"لیکن کیوں؟"

اس نے بے بسی سے کہا رابرٹ نے ایک جھٹکے سے اس کی دونوں کلائیوں کو دبوچ کر جھٹکا دیا


"کیوں لے کر آئی ہو مجھے یہاں اور میرا موبائل کہاں ہے؟"

غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے اس نے اطراف میں نظر ڈالی وہاں کچھ بھی نہیں تھا


"تمہارا موبائل یہ رہا اس کی بیٹری ڈیڈ ہوگئی تھی اب اس میں بیٹری ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم زخمی تھے اور پھر مجھے سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔۔ کہ میں کیا کروں بس میں تمہیں اپنے فلیٹ لے آئی ہوں۔" 

اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری چہرہ قدرے پرسکون رکھا البتہ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا 


پھر اس نے اپنی کلائیوں کو دیکھا جو رابرٹ کی گرفت میں تھی اس کی حالت عجیب ہونے لگی اسے چھوڑ کر وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ رک گیا روزلی نے اس کا بازو پکڑ لیا تھا 


رابرٹ نے ناسمجھی سے دیکھا اتنی دیر سے روزلی جو حرکتیں کر رہی تھی وہ سمجھ تو رہا تھا لیکن جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا تھا اپنا بازو ایک جھٹکے سے چھڑوا کر وہ کھڑا ہوا اسی وقت روزلی تیزی سے اٹھ کر اس کے راستے میں حائل ہو گئی۔


"رابرٹ میری بات سنو میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں"


"مگر میں کچھ سننا نہیں چاہتا"

اس کی سائیڈ سے وہ آگے بڑھا مگر پھر رک گیا کیونکہ وہ دوبارہ اس کے سامنے آگئی تھی 


طیش میں اس نے روزلی کو بازو سے پکڑ کر بیڈ کی طرف دھکیل دیا پھر اس نے دائیں بائیں نظر دوڑائی اس کی شرٹ کہاں تھی؟ نظر بیڈ پر تکیے کے پاس گئی


اس نے جھک کر اسے اٹھانا چاہا مگر جو حرکت روزلی نے کی وہ ناقابلِ یقین تھی تیزی سے اٹھ کر روزلی نے اسے بیڈ پر گرایا اور خود اس پر جھک گئی


"میں تم سے محبت کرتی ہوں اور تم ایسے نہیں جا سکتے مجھے چھوڑ کر"

اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھے وہ غرائی 


پہلے تو وہ بے یقینی سے اسے دیکھتے رہا مگر جب سمجھ آیا تو۔۔۔ کھولتے ہوئے اس نے روزلی کی گردن دبوچی اور اسے سائیڈ پہ گرا دیا


"اگر دوبارہ تم نے کوئی ایسی بکواس اور حرکت کی تو ایک منٹ بھی نہیں لگاؤں گا تمہیں زندہ گاڑنے میں"

اس پر جھکا وہ غرایا 


جب کہ روزلی اسے سن کہاں رہی تھی وہ تو بس اسے دیکھے جارہی تھی اپنے بے حد قریب۔ سانس روکے۔


تیزی سے ہاتھ بڑھا کر اس نے اپنی شرٹ اٹھا کر پہنی اور دروازے کی طرف بڑھ گیا وہ اسے جاتا دیکھتی رہی اس کے جانے کے بعد بھی وہ اس کو خود پر جھکا ہوا محسوس کرتی رہی۔ کیا وہ اسے حاصل کرلے گی؟ یقیناً نہیں۔


جاری ہے


Bloods ep 10 link 🖇️ 👇

https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/04/bloods-ep-10-by-munaza-niaz.html

Comments

Popular Posts