Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Ruthless killer Ep 1 by Munaza Niaz

 


⚠️تنبیہ 

(Disclaimer)


اس کہانی میں سنگین نوعیت کے موضوعات شامل ہیں، جن میں تشدد، جبر، قتل، استحصال اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کی عکاسی کی گئی ہے۔

اس میں موجود بعض مناظر قارئین کے لیے ذہنی اور جذباتی طور پر پریشان کن ہو سکتے ہیں، لہٰذا یہ مواد ہر عمر کے لیے موزوں نہیں ہے۔

یہ کہانی محض ایک تخلیقی کام ہے، اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کے غیر قانونی، غیر اخلاقی یا انسانیت سوز عمل کی تائید یا ترغیب دینا ہرگز نہیں۔

تمام کردار، واقعات اور مقامات فرضی ہیں یا انہیں افسانوی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

یہ کہانی انسانی نفسیات، درد، ٹوٹ پھوٹ اور اندھیرے پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد صرف حقیقت کے ایک رخ کو بیان کرنا ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ اسے اپنی صوابدید کے مطابق پڑھیں۔

یہ ایک ایسی دنیا کی کہانی ہے جہاں قانون کمزور اور جرم طاقتور ہے۔


Ruthless killer 

By Munaza Niaz 

Episode. 1 


رات کے سناٹے میں کسی کے بھاگتے قدموں کی آواز گونج رہی تھی۔ سڑک اور گلیاں سنسان، جن میں بھاگتی ہوئی وہ ننگے پیروں والی لڑکی۔ اس کی سانسیں بری طرح پھولی ہوئی تھیں۔ ہر قدم کے ساتھ زمین پر خون کے دھبے پڑتے جا رہے تھے۔ اس کے ہاتھوں اور چہرے پر بھی خون لگا تھا مگر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اسے یہاں سے بھاگنا تھا۔ دور، بہت دور۔ 


وہ یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔ اس کے چہرے پر وحشت تھی۔ دل ڈر سے بری طرح کانپ رہا تھا۔ وہ بار بار مڑ کر پیچھے دیکھ رہی تھی۔ جیسے ڈر ہو کوئی آ تو نہیں رہا۔ موت اس کی تعاقب میں تھی۔


" بھائی۔"  

وہ رندھی ہوئی آواز میں پکار بیٹھی۔ 


" آپ کہاں ہیں۔۔۔ پلیز آجائیں۔۔۔ مجھے بچا لیں۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔"  

وہ بچوں کی طرح رونے لگی۔ مگر وہاں کوئی سننے والا نہیں تھا۔


اس نے ہاتھوں سے گالوں کو بھگوتے ہوئے آنسو صاف کیے۔ ہاتھوں پر لگے خون نے اس کا چہرہ مزید بھیانک بنا دیا۔ اس نے دوبارہ مڑ کر پیچھے دیکھا اور تب اس کو ٹھوکر لگی۔ وہ منہ کے بل گری۔


"امی۔" 

اس کی دبی دبی چیخ نکلی۔ 


وہ سنبھلتے ہوئے پھر سے کھڑی ہوئی۔ ہتھیلی اور گھٹنوں میں درد کی لہریں دوڑنے لگیں۔ اب بھی وہ نہیں رکی۔ سڑک پر بھاگنے کے بجائے وہ ڈھلوانی راستے کی طرف مڑ گئی۔ 


سامنے چند مٹی سے بنے چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔ خاموشی ایسی جو کان پھاڑ دے۔ وہ ایک دروازے کے سامنے رکی۔ کانپتے ہاتھوں سے دروازہ بجانا چاہا۔ معاً پیچھے سے کسی نے اس کی کلائی پکڑ لی۔ ابھی وہ چلاتی، دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ دبوچے وہ سائیڈ پر ہو گیا۔ 


اس کی مردہ آواز اندر ہی دم توڑ گئی۔ جیسے ہی اس نے اس کو گھمایا اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ سامنے نقاب میں لپٹا ایک سایہ تھا۔ اس نے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کی مگر سامنے والے کی گرفت کسی آہنی شکنجے جیسی تھی۔ وہ پھڑپھڑا بھی نہیں سکی۔ 


اسے گھسیٹتے گھروں سے دور ایک درخت کی اوٹ میں لے آیا۔

" چھوڑو مجھے۔"  

جیسے ہی وہ درخت سے لگی اس نے اپنے ناخن اس کے فولادی ہاتھ میں چبھو دیے۔ اس شخص نے اس کے دونوں ہاتھ ایک ہاتھ میں پکڑ کر پیٹھ بھر باندھ دیے۔ دوسرا ہاتھ اس کے لبوں پر جما دیا۔


" چپ۔"  

اس نے بھاری سرگوشی کی۔ وہ کانپ گئی۔


" سالی یہی کہی ہوگی۔۔۔ پھیل جاؤ سارے۔۔۔ اسے چھوڑیں گے نہیں۔"  


دونوں نے بے اختیار آواز کی سمت دیکھا۔ آٹھ دس مشٹنڈے ڈاکوں ہر طرف پھیل چکے تھے۔


" اے باہر نکلو۔"  

انہوں نے ہر گھر کا دروازہ بجانا شروع کر دیا۔


وہ دونوں ان سے دور اندھیرے میں ڈوبے تھے۔ وہ لوگ ان دونوں کو اتنی آسانی سے دیکھ نہیں سکتے تھے۔ 


" چھوڑو مجھے۔۔۔ جانے دو۔ وہ لوگ مجھے مار دے گیں۔"  

جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹایا وہ چیخ پڑی۔


اس شخص نے دوبارہ اس کے خون سے بھرے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ لڑکی سن ہو گئی۔


" خود پر قابو رکھو ورنہ وہ لوگ ہمیں دیکھ لیں گے۔"  

وہ اس کے کان میں سرگوشی میں بولا۔ لڑکی نے زور سے آنکھیں میچ لیں۔ 


اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا وہ لوگ واپس جا رہے تھے۔ جیسے ہی اس نے اس لڑکی کو چھوڑا وہ نیم جان سی اس کے سینے سے لگ گئی۔ 


اس نے بروقت اس کو تھام لیا۔ وہ خوف سے بے ہوش ہو چکی تھی۔ وقت ضائع کیے بغیر اس نے اس لڑکی کے ہلکے بدن کو بڑی آسانی سے بانہوں میں اٹھا لیا۔ لڑکی کا سر اس کے سینے سے جا لگا۔ 

" میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ کچھ نہیں۔" 

اس کی آواز اندھیرے میں گونج گئی۔


☆☆☆


آج سورج کچھ زیادہ ہی تپا ہوا تھا۔ سال کی سخت گرمی زوروں پر تھی۔ بس اسٹوڈنٹس سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ سیٹیں فل تھیں اس وجہ سے آدھے اسٹوڈنٹس کھڑے تھے۔ 


اس نے ہاتھ میں پکڑے رومال سے چہرے اور گردن کا پسینہ صاف کیا۔ اس کی دودھ جیسی سفید رنگت گرمی کی شدت سے سرخی مائل گلابی ہو چکی تھی۔ بس کا ڈنڈا پکڑے وہ تنے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی۔ 


ایک لڑکا تقریباً اس کے بالکل قریب پیچھے کھڑا تھا۔ وہ تھوڑا آگے کھسک آئی۔ بس نے ایک زوردار بریک لگائی۔ لڑکا پورے وزن سے اس سے ٹکرا گیا۔ اس نے خونی نگاہوں سے اس کو دیکھا۔ 


" سوری۔"  

وہ شیطانیت سے مسکرایا۔


" حرام زادہ."

روشنی نے زیرِ لب اس کو گالی دی اور چہرہ واپس موڑ لیا۔ 


اللہ اللہ کر کے بس مطلوبہ ٹھکانے پر رکی۔ وہ تیزی سے باہر نکلی اور سکھ کا سانس لیا۔ رکشہ کروانے کے بجائے وہ پیدل سڑک کے کنارے چلنے لگی۔ اس کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ بس پانچ منٹ کی واک پر تھا۔ محلے کے اوباش لڑکے اس وقت جان بوجھ کر آن دھمکتے تھے۔ وہ بنا کسی کو دیکھے آگے بڑھ گئی۔ جھٹ گھر کا دروازہ کھولا اور چین بھری سانس خارج کی۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے کپڑے تبدیل کیے، چہرہ دھویا اور کچن کا رخ کیا۔ 


عباد صاحب آنے والے تھے۔ ان کے آنے سے پہلے اس نے روٹیاں پکانی ہوتی تھیں۔ پانی پی کر اس نے فریج سے آٹا نکالا۔ توا چڑھا کر پیڑے بنانے لگی تب ہی باہر کا دروازہ کھٹکا۔ کوئی اندر داخل ہوا۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا۔ رافیل کچن کے دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کے ہاتھ سست پڑ گئے۔ 


روشنی کو دیکھتے اس کی آنکھیں چمکیں۔ خباثت سے مسکراتا وہ اس کے پاس آیا۔


" تم آگئی۔۔۔ چلو اچھا ہے۔ میں کافی دیر سے تمہارا انتظار کر رہا تھا۔"  


" بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فوراً کچن سے باہر نکلو۔"  

روشنی نے ناگواری سے کہا۔


وہ جب جب اس کی منحوس شکل دیکھتی اس کا جی متلانے لگتا۔ دل کرتا اس خبیث کا کچومر نکال دے۔ پتہ نہیں کیا سوچ کر عباد صاحب نے اس کو اپنے پاس رکھ لیا تھا۔


رافیل عباد صاحب کا بھتیجا تھا۔ بھائی اور بھابھی کی حادثاتی موت کے بعد وہ اس کو اپنے پاس لے آئے تھے۔ بھائی کے علاوہ ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا جبکہ رافیل کو اس کے ننھیالوں نے پاس رکھنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ رافیل پچھلے گیارہ سال سے ان کے پاس تھا۔ نکما، نکھٹو اور ایک نمبر کا کام چور۔ عباد صاحب نے اس کو سدھارنے کی بہت کوشش کی مگر وہ کتے کی دم نکلا تھا۔ سیدھا کیا ہونا تھا مزید ٹیڑھا ہو گیا۔ وہ روشنی سے پانچ سال بڑا تھا۔


" ارے میری جانِ من۔ میں تو تمہاری مدد کرنے آیا ہوں۔ اتنی گرمی میں باہر سے دھکے کھا کر آئی ہو اور آتے ہی کچن میں گھس گئی۔ اندر چلو کمرے میں۔ تھوڑا آرام کر لو۔ کام تو ہوتا رہے گا۔"

وہ اس کے قریب آیا۔ ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا اور تب ہی روشنی کا ہاتھ اتنی تیزی سے گھوما کہ رافیل کی بولتی بند ہو گئی۔ 


گال پر روشنی کا ہاتھ کسی مہر کی طرح ٹھپ گیا تھا۔ رافیل نے صدمے سے سرخ پڑتی آنکھوں سے روشنی کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھا۔


" میں تمہارا منہ نوچ لوں گی اگر دوبارہ کوئی بکواس کی یا مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی۔ اب نکل جاؤ یہاں سے۔" 

وہ غرائی۔ 


" دیکھ لوں گا روشنی۔۔۔ دیکھ لوں گا تجھے۔۔۔ بہت جلد۔"

وہ دھمکی دے رہا تھا۔ باہر دروازے پر موٹر سائیکل کی آواز آئی رافیل عجیب نظروں سے روشنی کو دیکھتا کچن سے نکل گیا۔ 


روشنی نے روٹی پلٹی جو جل چکی تھی۔ اس کا دل بھاری ہو گیا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ عباد صاحب اس سے کچھ کہہ رہے تھے۔ جسے وہ سر جھکائے تابعداری سے سن رہا تھا۔ جیسے کوئی معصوم فرشتہ ہو، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جیسے کچھ دیر پہلے وہ اسے گندی نظروں سے دیکھ نہیں رہا تھا، جیسے دھمکی نہیں دے رہا تھا۔


اس نے اپنے کانپتے ہاتھ کو دیکھا۔ یہ۔۔۔ یہ کیا کر دیا اس نے؟ بچپن سے وہ آج تک رافیل کی باتیں سن کر چپ رہتی آئی تھی۔ خوف سے، ڈر سے۔ مگر آج اس کا ہاتھ خود بخود اٹھ گیا تھا۔ اس نے دوبارہ کھڑکی کی طرف دیکھا۔


عباد صاحب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اس کو کچھ بتا رہے تھے۔ رافیل نے نظریں اٹھا کر کھڑکی سے اس کی طرف دیکھا۔ روشنی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔ روشنی نے نظر ہٹا کر اپنی توجہ واپس کام کی طرف موڑ دی۔

•••••


سیاہ بی ایم ڈبلیو 3 اس وقت لاہور کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں داخل ہوئی۔ عجلت میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھتے اسٹوڈنٹس نے بھی ایک لمحہ رک کر اس کو دیکھا تھا۔ جس نے سیاہ سینڈل میں مقید سرخ و سفید پیر پتھریلی روش پر رکھے تھے۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ آنکھوں پر گلاسز لگائے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف قدم بڑھا چکی تھی۔ اس کے خوبصورت چہرے پر اس وقت مسکراہٹ آئی جب اس نے بے قراری میں اپنی طرف آتی شیزل کو دیکھا تھا۔


"ہائے۔"  

ردا نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا۔ جبکہ شیزل ماتھے پر بل لیے اس کے قریب آئی، ہاتھ پکڑا اور تیزی سے کلاس روم میں داخل ہوئی۔


" ارے لڑکی آرام سے، کیا ہو گیا ہے۔"

ردا بوکھلائی۔ دونوں ایک ساتھ بیٹھی تھیں۔


"میرے پاس تمہارے لیے دو نیوز ہیں۔ ایک بیڈ اور دوسری بھی بیڈ۔"

شیزل نے چہرہ سنجیدہ کر لیا۔ البتہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی جسے ردا دیکھ نہ پائی تھی۔


" واٹ؟ رکو۔۔۔ پلیز مجھے مت بتانا۔ صبح صبح موڈ خراب کرنے کا میرا بالکل ارادہ نہیں ہے۔"

ردا نے گلاسز اتار دیے۔


"تمہیں لگتا ہے میں چپ رہوں گی؟" 

شیزل کی سنجیدگی برقرار رہی۔


" نہیں۔" 

ردا نے غور سے اس کو دیکھا۔


" پہلی! تمہاری فیورٹ کافی شاپ نے اس ویک اینڈ ڈسکاؤنٹ اناؤنس کیا ہے۔" 

ردا نے گھور کر اس کو دیکھا۔


" تو اس میں بیڈ کیا تھا؟"

"بیڈ یہ ہے کہ وہ کافی شاپ نیلام ہونے والی ہے۔ سنا ہے اس شاپ کا مالک اس سے پہلے ہی شاپ بیچنا چاہ رہا ہے۔ تم یوں کرو وہ شاپ خرید لو اور۔۔۔"  


" بھاڑ میں گئی وہ کافی اور دوسری بیڈ نیوز؟"  

ردا نے جھنجھلا کر بک کھولی۔ شیزل نے بھی بک اٹھا لی۔


" اسائنمنٹ کل ہی جمع کروانی ہے۔"  

شیزل نے دوسرا بم پھوڑا۔


ردا کا مارے صدمے سے آنکھیں اور منہ دونوں کھل گئے۔

" یہ تو ان فیئر ہے۔ میں اتنی جلدی کیسے کمپلیٹ کروں گی۔"  

وہ حقیقتاً پریشان ہوئی تھی.


شیزل نے ہنسی دبا کر اس کو دیکھا۔ 

"مذاق کر رہی تھی۔"  

ردا نے افسوس سے اس کو دیکھا پھر دروازے کی جانب جہاں سے سر احمد اندر داخل ہو رہے تھے۔ 


انہوں نے اپنا لیکچر شروع کر دیا تھا۔ پوری کلاس توجہ سے سن رہی تھی۔ بیٹھے بیٹھے اچانک ہی ردا نے کسی احساس کے تحت ہلکی سی گردن موڑ کر دیکھا۔ سب ہی لیکچر پر توجہ دیے بیٹھے تھے۔ اسے کسی کی نظروں کا احساس محسوس ہوا تھا۔ اس نے سر جھٹکا اور پھر سے دیکھا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ 


لیکچر ختم ہوتے ہی شیزل اسے اپنے ساتھ گھسیٹ کر کینٹین کی طرف لے گئی۔


" آج تو میری بھوک کے مارے جان نکل جائے گی۔"

شیزل نے کرسی پر گرتے ہوئے کہا۔


"کیا یار یاد رکھے گی۔ آج کا لنچ میری طرف سے۔"  

ردا نے مسکرا کر کہتے ہاتھ سے لڑکے کو اشارہ کیا۔


" خیریت ہے اتنا پیار کیوں آ رہا ہے مجھ پر؟"

شیزل نے شوخی سے کہا۔


" بس دل کر رہا ہے۔ کبھی کبھی بلا وجہ اپنوں کا خیال رکھنا اچھا لگتا ہے۔"  

لڑکا ان کے سامنے کھانا رکھ گیا۔ ردا نے مسکرا کر پلیٹ اس کی طرف کھسکائی۔ 


شیزل نے حیرت سے اس کو دیکھا۔ وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی۔ 

"کچھ بھی بلا وجہ نہیں ہوتا۔ بتاؤ مجھے کیا بات ہے۔ تم یا تو آج خوش ہو یا پھر پریشان۔ چہرے سے تو پریشان ہی لگ رہی ہو۔"  

پاستہ کھاتے شیزل نے بغور اس کو دیکھا۔


" تم ہر بات کو اتنا گہرا کیوں بنا دیتی ہو۔"

ردا نے سوال کیا تھا۔


" کیونکہ دوستی سے زیادہ خاموشی کو سمجھا جاتا ہے اور میں تمہاری خاموشی سمجھ رہی ہوں۔"

اس نے سنجیدگی سے کہا۔ 


ردا کی ہنسی چھوٹ گئی۔

" بس بس اتنا گہرا مت ڈوبو۔ کھانا کھاؤ فلسفے مت جھاڑو۔"


" آج تمہارا ہیرو نظر نہیں آ رہا۔ کہیں یہی وجہ تو نہیں۔"  

مسکراہٹ دباتے بظاہر کندھے اچکا کر کہا۔ ردا کا پلیٹ میں چمچ ہلاتا ہاتھ رکا۔


" ہاں تو اچھا ہی ہے۔ سکون سے بیٹھے ہیں ہم اور ہاں وہ کوئی میرا ہیرو ویرو نہیں ہے۔" 

ردا نے آخر میں گھور کر اس کو دیکھا تھا۔


" اتنی بے حس مت بنو۔ وہ واقعی تم سے محبت کرتا ہے۔ ایسے ہی تو نہیں مارا مارا پھر رہا تمہارے پیچھے۔"  


ردا نے گہری سانس لے کر اس کو دیکھا جو نظر گھما کر ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جیسے کسی کو تلاش کر رہی ہو۔ 


" پھر مجھے یقین کیوں نہیں آتا اس پر، اس کی محبت پر، میں چاہ کر بھی اس کی محبت پر یقین نہیں کر پاتی۔ ایسا لگتا ہے وہ ڈرامہ کرتا ہے۔ دکھاوا کرتا ہے۔ جب جب میرے پاس آتا ہے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے مجھے وہ کیوں سب فریب لگتا ہے۔"  

وہ جیسے تھک کر بولی تھی۔


" اگر ہم مر جائیں تب یقین کر لیں گی آپ۔"

مانوس آواز پر دونوں ہی اچھلی تھیں۔ وہ سکون سے تیسری کرسی کھینچ کر ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔


" تم کب آئے؟"

ردا گڑبڑائی تھی۔ شیزل نے مسکراہٹ دبائی۔


" ہم تو ہمیشہ ہی آپ کے آس پاس موجود ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی نگران فرشتہ۔ بس آپ کے نظر اٹھا کر دیکھنے کی تمنا رہ جاتی ہے۔" 

ہارون نے دھیما سا مسکرا کر کہا۔


" تو تم ہماری باتیں سن رہے تھے؟"

ردا کو غصہ آیا تھا۔


" ماشاءاللہ آپ کی آواز ہی ایسی ہے کہ بہرے بھی سن لیں۔"  

اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ 


" بدتمیز۔"  

وہ غصے سے کھڑی ہوئی۔


" چلو شیزل ان صاحب کو آج پھر کوئی دورا پڑا ہے۔"

" کیا ہو گیا ردا۔ وہ مذاق کر رہا ہے۔ اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو۔"  

ردا نے گھور کر اس کو دیکھا اور فوراً وہاں سے چلی گئی۔ ہارون بھی سنجیدہ ہو چکا تھا۔


"آئی ایم سوری۔۔۔ دراصل وہ تھوڑی پاگل ہے۔ پتہ نہیں کیوں مگر وہ یقین نہیں کر پا رہی تم پر۔" 

" کوئی بات نہیں۔ جلد یقین آ جائے گا۔"


شیزل کے ابرو اٹھے پھر اس نے کہا۔ 

" ویسے تم اسے ڈائریکٹ شادی کے لیے پروپوز کیوں نہیں کرتے۔ کیا معلوم اس طرح اسے یقین آئے کہ تم واقعی سنجیدہ ہو۔"  

ہارون سیدھا ہو بیٹھا۔ غور سے اس کو دیکھا۔


"اچھا مشورہ ہے میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔"

ہارون مسکرایا۔

"کیا سچ میں؟"  

شیزل چہکی اٹھی۔ 


" کچھ پل رک جاؤ پھر دیکھنا کیسے وہ خود ہی میری طرف کھینچی چلی آئے گی۔ میری محبت اتنی کمزور تو نہیں کہ اسے احساس نہ دلا سکے۔"  


" بیسٹ آف لک۔"

شیزل مسکرائی تھی۔ دونوں ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے اور دور جاتی ردا نے ایک مرتبہ بھی پلٹ کر ان کی طرف نہیں دیکھا تھا۔

••••••


" ابے او کلّو! چائے لا، کب سے بیٹھا ہوں ادھر۔ نظر نہیں آ رہا کیا؟" 

رافیل نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے آواز لگائی پھر خود کے جیسے موالی دوستوں کو باری باری دیکھتے پتّا پھینکا۔


" اس بار میں جیتوں گا سمجھے۔"  

" دیکھتے ہیں رافی۔"

ایک بولا۔ اتنے میں لڑکا چائے کے تین کپ ان کے سامنے رکھ کر پلٹ گیا۔ اس نے کپ اٹھایا ہی تھا کہ فون بج اٹھا۔ 


" کس کو موت پڑ گئی اس وقت۔"  

اس نے جھنجھلا کر کپ واپس رکھا اور فون اٹھایا۔


" اوہ عباد چچا۔۔ بڈھا جان ہی نہیں چھوڑتا۔"

ہاتھ اٹھا کر اس نے دوستوں کو چپ رہنے کا اشارہ کیا پھر فون کان سے لگایا۔


" جی چچا جان! خیریت۔"  

اس نے پوچھا۔

' روشنی کو؟ ہاں کیوں نہیں میں ابھی جاتا ہوں لینے۔ آپ بے فکر رہیں۔"

فون بند کرتے وہ جھٹ سے کھڑا ہوا تھا۔ موبائل جیب میں ڈالا، موٹر سائیکل کی چابی عجلت میں اٹھائی۔ 


" کدھر؟"

اس کے دوست نے پوچھا۔

" کام ہے رات میں آتا ہوں۔"  

چائے چھوڑتا وہ تیزی سے نکل گیا۔


•••••


فیکٹری کے کارخانے میں ہر طرف نیم اندھیرا تھا۔ ایک پرانی زنگ آلود مشین کی آواز اس کارخانے میں سنائی دے رہی تھی۔ دور کہیں پانی کے ٹپکنے کی آواز تھی تو کہیں چوہوں کی سرسراہٹ۔ ان آوازوں کے درمیان ایک شخص کسی کو کندھے پر اٹھائے چل رہا تھا۔ اس کے بھاری قدموں کی آواز اس ویران کارخانے میں ایک بازگشت پیدا کر رہی تھی۔ وہ اتنے سکون سے چل رہا تھا جیسے روز یہاں آتا ہو، یہی اس کا معمول ہو۔ 


اس کے کندھے پر جھولتا ایک زخمی آدمی جس کے ہاتھوں سے خون قطرہ قطرہ گر رہا تھا۔ چہرہ لہولہان اور آنکھیں بند تھیں۔ اس نے اس زخمی شخص کو ہال کے بیچ و بیچ لا کر پھینک دیا۔ وہ بری طرح کراہ اٹھا۔ 


اس نے دھندلی آنکھوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جس کے چہرے پر ہیلمٹ تھا۔

" تم کون؟"  


ہیلمٹ والا شخص بنا کوئی لفظ منہ سے نکالے ایک بڑی مشین کی طرف گیا اور اسے آن کر دیا۔ زخمی آدمی خون میں لت پت بمشکل سانس لے رہا تھا۔ 


اس کی آنکھیں خوف سے پھٹ چکی تھیں۔ مشین کی کان پھاڑ دینے والی آواز سنتے ہی اس کی روح کانپ اٹھی تھی۔ 


وہ جب واپس اس کے سامنے آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک ڈرل مشین تھی۔ 


" نہیں نہیں خدا کے لیے رک جاؤ۔"

وہ تڑپتا ہوا پیچھے کھسکا۔ مگر سامنے والا تو جیسے بہرا تھا۔ نہ اس نے دیکھا، نہ کچھ سنا۔


اگلے ہی لمحے اس نے وہ مشین چلا کر اس کے کندھے پر رکھ دی۔ ہڈیوں کے چٹخنے کی آواز آئی۔ خون فوارے کی طرح پھوٹا۔ آدمی کی چیخیں نکل گئیں۔


" رک جاؤ مت کرو ایسا۔۔"

اگلے ہی پل اس کے دوسرے کندھے کا بھی یہی حشر ہوا۔ زخمی آدمی درد کی شدت سے بے سدھ ہو گیا۔ وہ پہلے سے ہی شدید زخمی تھا۔ 


اس نے اس کے نیم مردہ وجود کو اٹھایا اور مشین کی طرف بڑھا۔ زخمی آدمی اب بے ہوش ہو چکا تھا یا شاید موت کو سامنے دیکھ کر ہار مان چکا تھا۔ وہ اب کوئی مزاحمت نہیں کر رہا تھا شاید جان چکا تھا کہ وہ اب نہیں بچے گا۔ 


ہیلمٹ والے شخص نے اسے مشین پر پھینک دیا۔ آہستہ آہستہ مشین نے اس وجود کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ 


ہیلمٹ والا شخص بنا پلک جھپکائے اس کو دیکھتا رہا۔ جیسے یہ کوئی خاص چیز ہی نہ ہو، جیسے وہ ہر روز یہی تو کرتا اور یہی دیکھتا آیا ہو۔ اس نے مشین سے نظریں ہٹا کر فرش کو دیکھا جہاں پر اس آدمی کا خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ اس نے چہرے سے ہیلمٹ ہٹایا۔ خون آلود انگلیوں سے سر کے بال پیچھے کیے۔ چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ اور آنکھوں میں اندھیرا تھا۔ 


" ایک تو گیا اب دوسرے کی باری۔"

.وہ پلٹا، ہیلمٹ واپس پہنا اور خاموشی سے نکل گیا


جاری ہے

Comments

  1. Wonderful start let see what happens next 🫰🏻👉🏻👈🏻🫶🏻♥️

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts