Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Ruthless killer Ep 2 by Munaza Niaz

 


Ruthless killer episode 2 

By Munaza Niaz 


اس وقت لائبریری تقریباً خالی تھی۔ اکاً دکاً اسٹوڈنٹس ہی موجود تھے۔ ایک ٹیبل پر وہ چہرہ جھکائے کتاب پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ اس کا سارا دھیان کتاب پر تھا۔ کھلے بال کیچر میں مقید تھے۔ چند آوارہ لٹیں چہرے کے اطراف میں جھول رہی تھیں۔ 


اس نے پین اٹھایا اور نوٹ بک کھولی۔ ابھی وہ لکھتی کہ کوئی دھیرے سے بنا آہٹ پیدا کیے اس کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھا۔ اس نے دھیان نہیں دیا۔ کچھ پل بعد اسے نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا، شہریار میز پر کہنی ٹکائے، ہتھیلی پر گال رکھے یک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 


روشنی نے فوراً نظریں موڑ کر کتاب پر ٹکا دیں۔ اب وہ تیز تیز لکھ رہی تھی۔ شہریار نے اس کے چہرے سے نظر ہٹا کر اس کے ہاتھ کو دیکھا جو نوٹ بک پر تیز تیز حرکت کر رہا تھا۔ اس نے گہری نگاہوں سے اس کے ہاتھوں کا لرزنا صاف دیکھا تھا۔ وہ اس کے قریب بیٹھنے سے تھوڑی کنفیوژ ہو گئی تھی۔ مگر ظاہر نہیں کر رہی تھی لیکن شہریار سب محسوس کر رہا تھا۔


اس نے دوبارہ اس کا چہرہ دیکھا۔ روشنی نے ایک ہاتھ سے لکھتے دوسرے ہاتھ سے چہرے پر گرے بال پیچھے کیے۔ شہریار کی نظروں نے اس کے ہاتھ کے ساتھ سفر کیا۔ روشنی نے بنا دیکھے اپنی پانی کی بوتل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اسی وقت شہریار نے اپنی بوتل اس کی طرف کھسکا دی۔ 


روشنی نے ایک نظر بوتل کو دیکھا پھر شہریار کو۔ وہ گہری مسکراتی نگاہوں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔


" اتنی سیریس کیوں بیٹھی ہو روشنی۔ تھوڑا سا مسکرا دو تاکہ لائبریری بور نہ ہو۔"

شہریار نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ 


روشنی تب بھی چپ رہی۔ اس نے گھڑی ڈیکھی، ٹائم ختم ہو چکا تھا۔ اس نے جلدی جلدی چیزیں سمیٹنا شروع کر دیں۔ وہ شہریار کی نظروں سے الجھ رہی تھی۔ اس کا ہاتھ لگا، پین نیچے گر گیا۔ شہریار نے فوراً اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔ روشنی نے تیزی سے جھپٹ لیا۔ اسی میں اس کی انگلیاں بالکل ہلکی سی شہریار کی انگلیوں سے مس ہوئی تھیں جسے روشنی نے نوٹ تو نہیں کیا لیکن شہریار اندر سے پورا ہل گیا تھا۔ 


وہ اپنا بیگ سنبھالتی فوراً باہر نکل گئی تھی۔ گیٹ تک پہنچتے ہی اس کی ہتھیلیاں پسینے میں بھیگ چکی تھیں۔ چہرہ ہلکا سا سرخ، سانس پھولی ہوئی تھی۔ اس کی نظر بے اختیار بائیک کے ساتھ کھڑے رافیل پر پڑی وہ رک گئی۔ 


رافیل نے جب اس کو دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔ وہ چل کر اس کے پاس گیا۔


" تم۔۔۔ تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟"

روشنی نے خشک لہجے میں کہا۔ رافیل ہنوز مسکراتا رہا۔


" ظاہر ہے تمہیں لینے آیا ہوں، لڑکیاں تاڑنے تو نہیں آیا۔"

" میں خود چلی جاؤں گی۔"

" چچا نے بھیجا ہے مجھے، اگر کچھ زیادہ ہی مسئلہ ہو رہا ہے تو ان کو کال کر کے خود منع کر دو۔"

وہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔

"بابا نے؟"

وہ تھوڑی حیران ہوئی پھر جذبز۔

" آجاؤ روشنی! اب اتنا بھی برا نہیں ہوں میں۔ مجھے تمہاری فکر ہے اس لیے لینے چلا آیا۔"


روشنی نے اس کا چہرہ دیکھا جہاں نہ غصہ تھا نہ کل والے تھپڑ کی پرچھائی۔ کیا واقعی اسے فکر ہو رہی تھی؟ وہ اسی سوچ میں تھی کہ کیا کرے رافیل ہیلمٹ پہنتا بائیک پر جا بیٹھا۔ اس نے ارد گرد دیکھا لوگ انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔


گھبراہٹ پر قابو پاتے وہ چپ چاپ اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ رافیل نے بائیک اسٹارٹ کی۔ وہ مزید پیچھے کھسک گئی۔ 


" ڈرو مت، سکون سے بیٹھو۔ چاہو تو پکڑ لو۔"

روشنی نے ان سنی کرتے بائیک پکڑ لی۔ اس کا دل تیز دھڑکنے لگا تھا۔ بائیک کی رفتار تھوڑی تیز ہوئی۔ 


کیا ضرورت تھی بیٹھنے کی اب بھگتو۔ 

روشنی نے خود کو کوسا۔ اسے شدید غصہ آ رہا تھا مگر اب وہ بے بس تھی۔ ہر بریک اور ہر موڑ پر اس کا دل اچھل پڑتا۔ اچانک ہی رافیل نے تیز موڑ کاٹا تھا۔ روشنی تقریباً گرتے گرتے بچی تھی۔ رافیل نے فوراً بائیک سائیڈ پر روک دی۔ وہ تیزی سے نیچے اتری۔


" کیا ہوا روشنی تم ٹھیک ہو؟ لگی تو نہیں؟"  

وہ پریشان ہوتا اس کے بالکل قریب چلا آیا۔


وہ گھبرا گئی۔

" ہاں میں ٹھیک ہوں۔"

اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔ نیلی آنکھوں میں خوف پھیل گیا۔ رافیل نے تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔


" کہا بھی تھا میں نے کہ دھیان سے بیٹھو، پکڑ لو لیکن نہیں! تمہیں تو مجھ پر ذرا اعتبار نہیں ہے۔" 

وہ خفا ہوتا بولا۔


روشنی نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ اسے سخت گھبراہٹ ہو رہی تھی۔ رافیل نے پھر سے بائیک اسٹارٹ کی۔ روشنی نے اس بار مضبوطی سے بائیک پکڑ لی تھی۔


" تمہیں پتہ ہے نا کہ شہر کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ اکیلی مت جایا کرو۔ میں ہوں، میں تمہیں چھوڑ آؤں گا اور لے بھی جاؤں گا۔ پکڑ لو ورنہ گر جاؤ گی۔"  

روشنی نے زور سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس کا دل بے حد بھاری ہو چکا تھا۔ گھر تک کا سفر اس نے کیسے کاٹا یہ صرف وہی جانتی تھی۔ 


جیسے ہی بائیک دروازے پر رکی وہ تیزی سے اتری اور بھاگ کر اندر چلی گئی۔ رافیل بھی اس کے پیچھے بائیک لیے اندر داخل ہوا۔


اس نے دیکھا وہ اپنے کمرے میں گھس کر دروازہ لاک کر چکی تھی۔ وہ دانت پیس کر رہ گیا۔

•••••

رات کا وقت تھا۔ کیفے میں ہاٹ کیک اور کافی کی ملی جلی مہک تھی۔ ایک ٹیبل پر کافی خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا جا رہا تھا۔ ان کی گفتگو گھر، پڑھائی اور یونیورسٹی کے گرد گھوم رہی تھی۔


" یار شہریار تو اتنا سیریس کیوں ہے۔ یہ اچھا سائن نہیں ہے۔"

آہان نے پاستہ کھاتے غور سے اس کو دیکھا۔ اس کی بات سن کر باقی دونوں نے بھی اس کو دیکھا تھا۔


" تو پہلے تو ایسا نہیں تھا۔ اب کیا ہو گیا؟ کہیں کسی کو پسند وسند تو نہیں کرنے لگا؟"

صائم کی بات پر وہ دھیما سا مسکرایا تھا لیکن جواب نہیں دیا تھا۔ 

" اگر ایسا ہے تو ذرا خیال رکھنا۔ مجھے پتہ ہے تو جلدی اٹیچڈ ہو جاتا ہے۔ بس اسی لیے کہہ رہا ہوں۔"  


شہریار نے سانس لیتے کافی کا مگ اٹھایا۔

" یہ صرف پسند والی چیز نہیں ہے۔ وہ اس سے الگ ہے۔ میں اسے صرف دیکھ سکتا ہوں شاید حاصل نہیں کر سکتا۔"  

ایک گھونٹ لے کر اس نے مگ واپس رکھا۔ 


تینوں کھانا کھانا بھول کر اسے دیکھنے لگے۔

" شہریار تو کیا واقعی سیریس ہے؟"

آہان نے بے یقینی سے اس کو دیکھا۔ 


شہریار سامنے کہیں دیکھ رہا تھا گویا اس کو سنا ہی نہ ہو۔ وہ چپ ہو گیا تھا۔ ذہن میں روشنی کا سراپا گھوم رہا تھا۔


جس طرح وہ بیٹھی کتاب پر جھکی لکھ رہی تھی۔ اس کے بالوں کا لہرانا، اس کے ہاتھوں کی حرکت اور جب اس نے چہرہ اٹھا کر شہریار کو دیکھا تھا۔ اس کی وہ نیلی سمندر جیسی آنکھیں، اس کی پلکوں کا ہلنا، اس کو لگا وہ کوئی فلم دیکھ رہا ہے۔ اور پھر جب اس نے پین اس کی طرف بڑھایا تھا۔ اس کی انگلیاں بالکل ہلکی سی اس کو چھو گئی تھیں۔ وہ آدھا لمحہ تھا اور کچھ بھی نہیں۔


" میں اسے فورس نہیں کروں گا۔ کبھی نہیں۔"  

اس نے دھیرے سے کہا اور پلیٹ اپنی طرف کھسکا لی۔ باقی تینوں نے مسکراتے ہوئے دوبارہ کھانا شروع کر دیا۔ 


زوہیب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جیسے تسلی دے رہا ہو کہ سب ٹھیک ہوگا۔ 

" فکر نہیں، صرف چِل کرو اور کھانا ختم کرو۔ ہمیں نکلنا بھی ہے۔"  

زوہیب نے سنجیدگی سے کہا۔ شہریار نے سر ہلا دیا 


اور یہی وہ وقت تھا جہاں روشنی اپنے بند کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھی۔ اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ بار بار کروٹیں بدل رہی تھی۔ اس نے رات کا کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا تھا۔ 


اب وہ سیدھی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔ اس کے دماغ میں شہریار آیا تھا جو اس کے پاس بیٹھا تھا لیکن دور تھا۔ وہ کچھ بول نہیں رہا تھا، صرف اسے دیکھ رہا تھا۔ اور پھر رافیل۔ وہ اچانک سے اتنی فکر کیوں کرنے لگا تھا؟ اور جب اس نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا اور بالکل قریب چلا آیا تھا تو وہ ڈر کیوں گئی تھی؟ 


شہریار۔۔۔ رافیل۔۔۔ رافیل۔۔۔ شہریار۔ 


شہریار دور رہ کر بھی اسے محسوس ہو رہا تھا جبکہ رافیل پاس ہو کر بھی اسے گھٹن محسوس کروا رہا تھا۔ وہ دھیرے سے اٹھ بیٹھی۔ پیر ٹھنڈے فرش پر رکھ دیے۔ دوپٹہ انگلیوں میں الجھ گیا تھا۔


" میں اوور تھنکنگ کر رہی ہوں شاید۔ سب ٹھیک ہے۔ روشنی بس کرو سوچنا" 

اس نے خود کو ڈپٹا۔ 


شہریار۔۔۔ وہ شاید اچھا ہو۔ رافیل۔۔۔ شاید وہ جھوٹ بول رہا ہو۔ وہ پھر سے الجھ گئی تھی۔ کچھ لمحے ایسے ہی سرک گئے۔ اس نے ٹھنڈی سانس لی، لیمپ آف کیا اور واپس لیٹ گئی۔


•••••


اس نے گاڑی پورچ میں پارک کی۔ گیٹ لاک کیا اور اندر داخل ہو گیا۔ پورے گھر کی لائٹس آف تھیں۔ اسے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ اس نے کہہ رکھا تھا کہ اگر وہ کبھی گھر دیر سے آئے تو اس کا انتظار نہ کیا جائے۔ آفس میں زیادہ کام کی وجہ سے آج وہ واقعی تھک گیا تھا۔


گھر میں ایسا سناٹا تھا جیسے وہاں کوئی رہتا ہی نہیں۔ کوٹ اتارتے ہوئے اس نے ہال میں قدم رکھے تبھی ساری لائٹیں جل اٹھیں۔


" سرپرائز۔"


پہلے وہ کنفیوژ ہوا پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ ان دونوں کو دیکھتے اسے لگا جیسے اس کی ساری تھکن اتر گئی ہے۔ 


" ہیپی برتھ ڈے اذلان بھائی۔"

شیزل ہنستی ہوئی اس کے پاس آئی ساتھ سونیا بھی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں سرخ گلابوں کا گلدستہ تھا جسے اس نے مسکراتے ہوئے اذلان کی طرف بڑھایا۔


" ہیپی برتھ ڈے مائے ڈیئرسٹ ہسبینڈ۔" 

" تھینک یو۔"  

شاک سے نکلتے ہوئے وہ ہنس دیا۔ 

" تم دونوں نے مل کر یہ سب کیا؟"

صوفے پر بیٹھتے اس نے پورے ہال کا جائزہ لیا۔


کینڈلز، میز سجی ہوئی تھی، درمیان میں کیک اور ڈھیر سارے غبارے۔


" بس اتنا سا ہی تو ہے۔۔۔ سمپل کیک بنایا ہے اور دل سے بنایا ہے۔"

سونیا بھی مسکراتی اس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔


" بھائی جلدی کریں کیک کاٹیں ورنہ میلٹ ہو جائے گا۔ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔ جلدی کریں پھر ڈنر کرتے ہیں۔"  

شیزل چہکی، اذلان نے کیک کاٹا، شیزل نے پارٹی پاپر پھاڑ دیا۔


" پہلے بھابھی کو کیک کھلائیے گا ورنہ مجھے سنائیں گی۔"

شیزل نے چھیڑا۔ سونیا ہنس دی۔


اذلان جو سونیا کو کچھ کہنے والا تھا شیزل کی بات پر اس کو دیکھا۔

" تم ہمیشہ بیچ میں بولنا ضروری سمجھتی ہو اور تم اس کی ہر بات پر ہنس دیتی ہو۔"

اس نے سونیا کی طرف دیکھا۔ 


اس کا چہرہ ہلکا سا سنجیدہ لیکن لہجے میں شرارت تھی۔ شیزل نے فوراً ایک ٹکڑا اٹھا کر پلیٹ میں ڈال لیا۔


" یہ سب کر کے تم دونوں ہی مجھے بگاڑ رہی ہو۔"  

" اگلا برتھ ڈے اس سے بھی بڑا منائیں گے۔"

شیزل ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے مزے سے کیک کھاتے بولی۔ 


اذلان نے مسکرا کر چھوٹی بہن کو دیکھا پھر ساتھ بیٹھی اپنی خوبصورت بیوی کو اور نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر دبایا۔


" تھینک یو اتنا سب کرنے کے لیے۔"  

سونیا مسکراتی رہی۔

" جلدی آ جائیے گا۔ میں ٹیبل پر ویٹ کروں گی۔"

شرارت سے کہتی وہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔ 

" چلیں میں آپ کے کپڑے نکال دیتی ہوں۔ آپ چینج کر لیں پھر ڈنر کرتے ہیں۔"

دونوں ساتھ کھڑے ہوئے۔

" ویسے یہ پلان کس نے کیا تھا؟"

اذلان نے چلتے ہوئے پوچھا۔

" آف کورس ہم دونوں نے۔"  

سونیا نے مسکراہٹ دبائی۔

" اچھا مجھے لگا شیزل نے کیا ہے."  

" کیوں؟ میں کیوں نہیں کر سکتی تھی؟"  

" کیونکہ میں آپ سے کسی اور ہی سرپرائز کی توقع کر رہا تھا."

پہلے تو سونیا نہیں سمجھی پھر جب سمجھ آئی تو گال گلابی ہو گئے۔ 


اذلان نے بمشکل ہنسی روکی۔

" جب تمہیں اس طرح شرماتے ہوئے دیکھتا ہوں تو دل کرتا ہے اور چھیڑوں۔

 By the way you're looking stunning tonight." 


سونیا کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہے۔ اس کے تعریف کرنے پر وہ محض شرما لیتی تھی بولتی کچھ نہیں تھی۔ اس بار بھی اس نے نظریں جھکا لی تھیں۔

••••••

وہ لاہور کا ایک ہائی پروفائل ٹاپ فلور کا آفس روم تھا۔ آفس پورا لگژری تھا۔ سیاہ اور سفید تھیم سے سجا۔ میز پر ایک عدد فائل اور موبائل رکھا تھا۔ سامنے ایک چیئر پر سجاد دُرّانی ہاتھ میں سگار دبائے گلاس وال سے باہر دیکھ رہا تھا۔


اس کا چہرہ ہر تاثر سے پاک تھا۔ کوئی بھی اس کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اس کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ سامنے رکھی فائل کھلی ہوئی تھی۔ اس نے دھواں فضا میں بکھیرا اور کرسی سے ٹیک لگا لی۔ 


معاً ہلکی سی آہٹ ہوئی۔ آفس روم کا دروازہ بغیر دستک کے کھلا۔ کوئی بنا آہٹ پیدا کیے اندر داخل ہوا اور چلتا ہوا سجاد دُرّانی کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ نہ سلام، نہ حال۔


" کیا بنا؟"

سجاد نے کرسی جھولاتے ہوئے پوچھا۔ 


" دونوں کو ہی ٹھکانے لگا دیا ہے۔"  

سامنے والا بھی اتنا ہی پر سکون تھا جتنا سجاد خود۔ 


سجاد نے فون اٹھایا۔ اسکرین کھولی۔ ایک تصویر نکال کر موبائل واپس میز پر رکھ دیا۔


" یہ میرے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کو صاف کرنا ہے۔"  

سجاد کا لہجہ نارمل تھا، جیسے وہ ایسے حکم گاہے بگاہے دیتا رہتا ہو۔ 


اکبر نے پہلے تصویر، پھر کھلی ہوئی فائل پر نظر ڈالی۔ اوپر نام لکھا تھا۔ 

ارباز جنید۔ 


"کب؟" 

اکبر کا لہجہ سجاد سے زیادہ ٹھہرا ہوا تھا۔


سجاد نے وقت بتایا اکبر اسی خاموشی کے ساتھ پلٹ گیا۔


•••••


ردا اس وقت میڈ کے ساتھ ٹیبل سیٹ کر رہی تھی۔ ڈنر کا وقت ہو چکا تھا۔ 


" پانی رہ گیا ہے ایک منٹ میں لے کر آتی ہوں۔" 

ردا ابھی خود جاتی کہ میڈ نے اسے روک دیا۔

" نہیں ردا بی بی آپ رکیں میں خود لے کر آتی ہوں۔"

میڈ کچن کی طرف بڑھ گئی تب ہی باہر گیٹ پر ہارن سنائی دیا۔ ردا مسکراتی ہوئی مین ہال سے گزرتی دروازے کی جانب بڑھی۔ گاڑی پورچ میں آ کر رکی۔ ارباز جنید باہر نکلے۔ 


پہلی نظر ردا پر گئی تھی جو نرم مسکراہٹ چہرے پر سجائے ان کو دیکھ رہی تھی۔ وہ باہر نکلے ردا نے آگے بڑھ کر ان کے بازو پر رکھا کوٹ لے لیا۔


" السلام علیکم پاپا۔ آج آپ تھوڑا لیٹ ہو گئے ہیں۔"  

" ہاں آج کام زیادہ تھا۔ تم سناؤ کیسی ہو۔ کہیں زیادہ انتظار تو نہیں کروا دیا میں نے اپنی بیٹی کو۔"  

سلام کا جواب دیتے اس کے گرد بازو پھیلائے وہ اندر کی جانب بڑھے۔

" بالکل بھی نہیں۔ آپ جلدی سے فریش ہو کر آئیں پھر ڈنر کرتے ہیں۔"  


ارباز سر ہلاتے سیڑھیاں چڑھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ آرام دہ کپڑوں میں ملبوس سیڑھیاں اترتے دکھائی دیے۔ دونوں ہلکی پھلکی گفتگو کرتے کھانا شروع کر چکے تھے۔ 


دونوں باپ بیٹی چاہے پورا دن نہ ملتے ہوں لیکن رات کا کھانا ہمیشہ ساتھ کھاتے تھے۔


" پاپا۔"

ردا نے پلیٹ میں چمچ ہلاتے یونی کی پوری روداد سنانے کے بعد رک کر ان کو پکارا۔

" ہممم۔۔۔"

انہوں نے پانی کا گلاس اٹھاتے اسے دیکھا۔

" میں سوچ رہی ہوں کہ گریجوئیشن کے بعد آپ کا بزنس جوائن کروں۔"  

اس نے ایکسائٹڈ ہو کر ان کو دیکھا۔ 


ارباز کا ہاتھ رکا۔ انہوں نے بمشکل ایک گھونٹ لے کر گلاس واپس رکھ دیا پھر ردا کو دیکھا جو امید سے ان کو دیکھ رہی تھی۔

" نہیں ردا! یہ بات اب دوبارہ مت کرنا۔"  

ان کے چہرے پر سنجیدگی چھائی تھی۔ 

" مگر پاپا میں تو صرف آپ کی مدد۔۔۔"  

ارباز نے اسے ٹوک دیا۔

" میرا کام سیف نہیں ہے۔ اس بزنس میں رہنا صرف پیسوں کا کھیل نہیں ہوتا۔"  

ردا چپ ہو گئی۔


ارباز جنید ایک مشہور اور ایماندار بزنس مین تھے۔ ان کا کام پولیٹیشن کے گھپلے پکڑنا، بلیک منی ایکسپوز کرنا، جعلی دستاویزات کے ثبوت جمع کرنا وغیرہ تھا۔ اس سب میں ہمیشہ جان کا خطرہ منڈلاتا رہتا تھا۔ وہ بیٹی کو اس سب سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اسے تفصیل بتانے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔


" میں چاہتا ہوں تم اس سب سے دور رہو۔"

انہوں نے مسکرا کر اسے کھانے کا اشارہ کیا جو حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھی۔ 


ردا نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے پھر چپ رہ گئی۔ اس نے دوبارہ کھانا شروع کر دیا تھا لیکن اس کے دماغ میں الجھن پھیل گئی تھی۔ ارباز اٹھے، اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔


" تم صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دو باقی

 سب سنبھالنا میری ذمہ داری ہے۔"  

ردا نے محض سر ہلا دیا تھا۔


جاری ہے

Comments

  1. Getting interesting 🫶🏻❤️😍

    ReplyDelete
  2. Getting interesting 🫶🏻❤️😍

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts