Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz
By Munaza Niaz
Episode - 3
شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔
رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔
عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔
دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر گھس آیا۔ روشنی کے منہ کے زاویے بگڑ گئے۔ رافیل نے جب دیکھا تو اسے تپ چڑھ گئی۔ کیا اتنی منحوس شکل تھی اس کی جو ہر بار وہ اس کو دیکھ کر منہ بگاڑ لیتی تھی۔
" تم اندر کیوں آئے ہو؟"
رافیل چلتا ہوا اس کے سامنے آیا۔
" تھکا ہوا آیا ہوں باہر سے، سوچا تمہیں ایک نظر دیکھ لوں۔ کیا ہوا اتنا ڈر کیوں گئی ہو۔ ارے تمہارا کزن ہوں کوئی جن نہیں۔"
روشنی نے دروازے کی جانب اشارہ کیا۔
" میں تمہاری کوئی فضول بات نہیں سننا چاہتی، فوراً میرے کمرے سے باہر نکلو۔"
اس کی نیلی آنکھوں میں سختی اتر آئی تھی۔
" نہ نکلوں تو؟"
وہ خباثت سے مسکراتے ہوئے اس کی طرف جھکا۔
" کیا کرو گی؟ پھر سے تھپڑ مارو گی؟ ٹھیک ہے مار کے دکھاؤ۔ مارو۔"
" میں نے کہا ابھی کے ابھی یہاں سے دفع ہو جاؤ۔"
روشنی نے زور سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
" نہیں جاتا جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لو۔"
جیسے ہی وہ تھوڑا آگے آیا روشنی نے پوری طاقت سے تھپڑ کھینچ کر مارا۔ رافیل کا چہرہ سن ہو گیا۔
" میرے پاس بھی مت آنا ورنہ بابا کو بتا دوں گی۔"
روشنی ہانپتی ہوئی بولی۔ اس نے زور سے ہاتھ دوسرے ہاتھ میں دبایا۔
وہ بچپن سے اس کی ہراسمنٹ سہتی آ رہی تھی۔ وہ ہمیشہ چپ رہتی تھی لیکن جب سے اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا اسے اب رافیل سے گھن آنے لگی تھی۔ وہ پہلے ڈرتی تھی مگر اب اس کا ڈر نفرت میں بدل گیا تھا۔
غصے سے کھولتے ہوئے رافیل نے جھٹکے سے اس کے بال پکڑے، جیب سے چھری نکال کر اس کی گردن پر رکھ دی۔ روشنی کانپ سی گئی۔
" اگر تم نے اس بڈھے کو کچھ بھی بتایا تو تمہاری قسم کھاتا ہوں جان سے مار دوں گا اسے۔"
روشنی نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ رافیل اپنے چچا کے لیے ایسے الفاظ بول سکتا ہے۔ وہ اتنا نیچ ہو کر گر جائے گا روشنی کو توقع نہیں تھی۔
" رافیل چھوڑو مجھے۔"
روشنی ہل نہیں سکی۔ اس کے چہرے پر خوف تھا۔ رافیل نے وہ چھوٹی چھری اس کی گردن سے اٹھا کر گال پر پھیری۔
" تو اتنی خوبصورت کیوں ہے روشنی۔ میں تم سے چاہ کر بھی نفرت نہیں کر پا رہا۔ تم نے مجھے برباد کر دیا۔"
روشنی کی آنکھیں نم ہو گئیں رافیل نے چھری ہٹائی پھر اس کے کان پر جھکا۔
" آئندہ اگر مجھے دھمکی دی تو یاد رکھنا، تمہیں تو کچھ نہیں کہوں گا لیکن تمہارے باپ کی لائف ایکسپائر ہو جائے گی۔ میں مذاق تو بالکل نہیں کرتا اور دوسرا۔۔۔"
وہ پھنکار رہا تھا۔ روشنی کی سانسیں رک سی گئیں۔
" مجھ پر دوسری دفعہ ہاتھ اٹھا کر تم نے بالکل بھی اچھا نہیں کیا۔ اگر میں نے ہاتھ اٹھایا نا تو تم سہہ نہیں پاؤ گی۔"
رافیل نے اسے چھوڑا۔
روشنی روتے ہوئے تیزی سے پیچھے ہٹی۔ معاً پھر سے باہر دروازہ کھٹکنے کی آواز آئی۔ رافیل شیطانیت سے مسکراتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
روشنی نے گہرے گہرے سانس لیتے خود کو سنبھالا اور باہر چلی گئی۔ عباد صاحب تھکے ہوئے سے اندر داخل ہوئے۔
" بابا آپ اتنی دیر سے کیوں آئے۔"
وہ بھیگے لہجے میں کہتی بھاگ کر ان کے پاس گئی۔ عباد صاحب کانپتی انگلیوں سے جوتا اتار رہے تھے۔
" کچھ نہیں بیٹا بس آج دیر ہو گئی تھوڑی۔"
انہوں نے آہستہ سے کہا۔ روشنی چونکی۔
" بابا کیا ہوا؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں۔"
روشنی سب کچھ بھلا کر ان کے ساتھ ہی اندر داخل ہوئی۔ عباد صاحب نے گویا اس کو سنا ہی نہیں۔ وہ اپنے کمرے میں چلے گئے۔ روشنی کو تشویش ہوئی۔
عباد صاحب نے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ایک پرچی نکالی۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد واپس رکھ دی تبھی پیچھے روشنی تیزی سے اندر داخل ہوئی۔
" بابا آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں نا؟ بتائیں کیا ہوا ہے؟"
عباد صاحب کو اپنے پیروں پر کھڑے رہنا محال ہو گیا۔ وہ پاس رکھی کرسی پر گر گئے۔ جیب سے وہی پرچی نکال کر انہوں نے روشنی کی طرف بڑھا دی۔
" یہ کیا ہے؟"
سوالیہ ان کو دیکھتے اس نے پرچی تھام لی پھر جب کھول کر دیکھا تو اس کے صحیح معنوں میں پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔
" بابا یہ۔۔۔؟"
وہ کچھ بول نہیں سکی۔
" واپسی پر کسی نے دی تھی۔ ساتھ وقت اور جگہ بھی بتا دیے تھے۔ اگر میں نے ان کو یہ رقم نہ دی تو وہ جان سے مار دیں گے۔"
ان کے چہرے پر بے بسی تھی۔ روشنی کی ہوائیاں اڑنے لگیں۔
" نہیں بابا! ایسا کیسے کوئی کر سکتا ہے۔ آپ کو فوراً پولیس میں کمپلین کروانی چاہیے۔ آپ اتنی بڑی رقم کہاں سے لائیں گے۔"
وہ آہستہ سے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے نیچے بیٹھی۔ انہوں نے دھیرے سے اس کے ہاتھ سے وہ پرچی لے لی۔
" صحیح کہہ رہی ہو۔ میں کل ہی پولیس اسٹیشن جاؤں گا۔"
روشنی کا دل ڈوبا۔
" کیا ہوا چچا جان آپ اتنے پریشان کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟"
رافیل عجلت میں چہرے پر تفکر کی لکیریں سجائے اندر چلا آیا۔
روشنی نے لب بھینچ لیے اور بنا اس پر کوئی نگاہ ڈالے کمرے سے باہر نکل گئی۔ عباد صاحب نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا پھر ساری بات بتا دی۔
" ہم کل ہی کمپلین کروائیں گے چچا۔ آخر اس کی ہمت کیسے ہوئی ہے آپ کو بھتے کی پرچی دینے کی۔ میں وہاں ہوتا تو اسے چھوڑتا نہیں۔"
وہ غصے سے ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا۔
" مجھے اپنی فکر نہیں ہے صرف روشنی کی ہے۔ میں نہیں چاہتا میری وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچائے۔"
رافیل ان کے سامنے بیٹھا۔
" آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں چچا جان۔ میں ہوں نہ۔ میں اس کی حفاظت کروں گا۔ مجھے بھی روشنی اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔ میں اس کے لیے اپنی جان سے بھی کھیل جاؤں گا۔ وہ میری بھی ذمہ داری ہے۔"
وہ چہرے پر جہاں بھر کی معصومیت اور فکر مندی سجائے بول رہا تھا۔
" اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میری روشنی کا خیال رکھنا رافیل۔ وہ معصوم ہے۔ اسے نہیں پتہ باہر انسان کے روپ میں بھیڑیے گھوم رہے ہیں۔ میں جب تک زندہ ہوں اس کی حفاظت کروں گا لیکن اب مجھے اپنی زندگی پر اعتبار نہیں رہا کہ کب دھوکہ دے دے۔ مجھ سے وعدہ کرو رافیل اسے کبھی تکلیف نہیں پہنچنے دو گے۔"
عباد صاحب نے نم لہجے میں کہتے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ رافیل کی بولتی بند ہو چکی تھی۔
" ہا۔۔۔۔ ہاں چچا میں وعدہ کرتا ہوں۔"
عباد صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
" شکریہ رافیل میں تمہارا احسان ہمیشہ یاد رکھوں گا۔"
رافیل اٹھا، کمرے سے باہر نکلا تو دیکھا روشنی کھانے کی ٹرے اٹھائے دروازے پر کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر دکھ، بے یقینی اور نہ جانے کیا کیا تھا۔ رافیل اس کو نظر انداز کرتا تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
روشنی نے ٹرے مضبوطی سے تھامی اور سارے آنسو اندر ہی اتار دیے۔
•••••
وہ یونیورسٹی کا ایک پرسکون گوشہ تھا۔ گراؤنڈ میں فاصلے فاصلے پر اسٹوڈنٹس بیٹھے کتابیں پھیلائے پڑھائی میں غرق تھے اور کچھ درختوں کے سائے تلے آرام فرما رہے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں پڑھائی کے بہانے تنہائی چاہیے ہوتی تھی یا خاموشی۔
انہی اسٹوڈنٹس میں ایک طرف ایک درخت کے سائے تلے روشنی بھی بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔ وہ بے دھیانی میں کتاب کے صفحے پلٹ رہی تھی۔ دفعتاً کوئی ہلکے قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا اور آہستگی سے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ روشنی نے اس کی موجودگی محسوس کرتے چہرہ مزید جھکا لیا۔ کچھ لمحوں میں شہریار کے پرفیوم کے مہک اس کے چاروں طرف بکھر گئی۔ روشنی کو جیسے محسوس ہوا وہ اسے ہی دیکھے جا رہا ہے۔ اس کی نظر پہلے شہریار کی جوتوں پر گئی وہاں سے اس کے کپڑوں پر پھر اس کے چہرے پر۔
وہ یونیورسٹی کا سب سے امیر لڑکا تھا اور شاید سب سے ہینڈسم بھی۔ روشنی بے دھیانی میں اس کو دیکھنے لگی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ شہریار اس سے اتنی الفت کیوں رکھتا ہے۔ وہ سیدھا اظہار نہیں کرتا تھا لیکن اس کی نظریں اور اس کی موجودگی سب کہہ دیتی تھیں۔ وہ خود ایک عام لڑکی تھی۔ اس کے جیسی امیر تو بالکل نہیں تھی۔ اس کے کپڑے بھی سادہ تھے۔ وہ باقی لڑکیوں کی طرح میک اپ بھی نہیں کرتی تھی لیکن اس نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا کہ وہ بغیر میک اپ اور بناؤ سنگھار کے بھی مکمل لگتی ہے۔ اس کا رنگ دودھ جیسا سفید تھا۔ گال قدرتی سرخ، آنکھیں بڑی بڑی نیلی سمندر جیسی گہری تھیں۔ ہونٹ قدرتی سرخ تھے لیکن پھر بھی وہ خود کو شہریار کے مقابلے میں کچھ نہیں سمجھتی تھی۔ شہریار کو تو اس سے کہیں زیادہ خوبصورت اور امیر لڑکی مل سکتی تھی پھر وہ کیوں بار بار اس کے پاس آ جاتا تھا۔ کیا یہی محبت تھی؟
" کیا اتنا اچھا لگ رہا ہوں؟"
شہریار نے شوخی سے مسکرا کر پوچھا۔
روشنی نے گڑبڑا کر نظر ہٹا لی۔
" نہیں۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔ بس میں۔۔"
" یعنی میں تمہیں واقعی اچھا نہیں لگتا؟"
شہریار مایوس ہو گیا تھا۔
" نہیں۔۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ آپ بہت اچھے ہیں۔"
وہ گھبراتے ہوئے کتابیں سمیٹنے لگی۔
" کیا بات ہے روشنی۔ آج اتنی بجھی بجھی کیوں ہو تم؟ پریشان لگ رہی ہو۔"
شہریار نے غور سے اس کو دیکھا۔ روشنی چونکی۔
" نہیں میں ٹھیک ہوں۔"
وہ اٹھنے لگی شہریار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔
" بیٹھو ابھی یہیں اور بتاؤ مجھے کیا پریشانی ہے؟"
روشنی نے ہچکچاتے ہوئے اپنی کلائی چھوڑوا لی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنی پریشانی اس سے کیسے شیئر کرے۔
" ادھر دیکھو مجھے۔ میں سن رہا ہوں۔ بتاؤ کیا بات ہے؟"
شہریار کا لہجہ نرم تھا۔ نظریں رافیل جیسی نہیں تھیں۔ روشنی کی آنکھیں بھرنے لگیں۔ شہریار نے فوراً بوتل کا ڈھکن کھول کر پانی اس کی طرف بڑھایا۔ روشنی نے ایک گھونٹ لے کر واپس کر دیا۔
" اگر تم نہیں بتانا چاہتی تو میں فورس نہیں کروں گا مگر پھر بھی میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی پریشانی مجھ سے شیئر کرو۔ اس طرح دل میں دبا کر مت رکھو۔"
روشنی نے نم پلکیں جھپکائیں۔ دونوں ہاتھ گود میں رکھے۔
" شہریار وہ۔۔۔"
اس کا گلا پھر سے خشک ہو گیا۔
" ہاں میں سن رہا ہوں۔"
وہ پوری توجہ سے اس کو دیکھ رہا تھا۔
" کل بابا کو واپسی پر کسی نے پرچی دی۔ ساتھ جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔ اگر بابا نے ان کو وہ رقم نہ دی تو۔۔۔"
اس نے ہچکی لی۔
شہریار پریشان ہو گیا۔
" پلیز روشنی اس طرح مت روؤ مجھے تکلیف ہوتی ہے۔"
روشنی نے آنسو پونچھے پھر دوبارہ بولی۔
" اور۔۔۔ وہ رافیل۔۔۔ میرا کزن۔۔۔ وہ کل میرے روم میں گھس آیا تھا۔۔۔ اس نے۔۔۔"
شہریار کے چہرے کا رنگ بدلا اس کی آنکھیں ایک دم سخت ہوئی تھیں۔
" کیا کیا اس نے تمہارے ساتھ؟"
روشنی اس کے بدلتے تیور دیکھ کر ڈر گئی۔
" نہیں شہریار ایسا کچھ نہیں ہوا اس نے بس مجھے۔۔۔"
وہ بولنے لگی لیکن شہریار نے پھر سے اس کی بات کاٹ دی۔
" اس نے تمہیں کیا؟ مجھے بتاؤ روشنی اگر اس نے ایسی ویسی کوئی حرکت کی ہے تو میں اس کی جان نکال لوں گا۔"
" شہریار پہلے میری پوری بات تو سنو۔"
روشنی چاہ کر بھی غصہ نہیں کر سکی۔ شہریار چپ ہو گیا لیکن چہرے پر ابھی بھی غصہ جھلک رہا تھا۔
" اس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے اس کے بارے میں بابا کو کچھ بھی بتایا تو وہ بابا کو جان سے مار دے گا۔"
" کیا؟"
شہریار نے حیرت سے اس کو دیکھا۔
" ہاں! وہ پتہ نہیں کیا چاہتا ہے۔ وہ جب بھی میرے پاس آتا ہے مجھے ڈر لگتا ہے۔ وہ جان بوجھ کر مجھے تنگ کرتا ہے۔ میں ہر بار سوچتی ہوں کہ بابا کو بتا دوں لیکن رافیل کی وجہ سے نہیں بتا پاتی۔ اگر اس نے بابا کو کوئی نقصان پہنچایا تو میں سہہ نہیں پاؤں گی۔"
وہ پھر سے رونے لگی تھی۔
" روشنی! کچھ نہیں ہوا۔ کچھ نہیں ہوگا تمہارے بابا کو۔ جتنا مجھے اندازہ ہوا ہے رافیل بس دھمکی دے رہا ہے۔ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا۔ وہ کسی کو جان سے نہیں مار سکتا۔ اس کا مقصد کوئی اور ہے۔"
شہریار نے سنجیدگی سے کہا۔
" کیسا مقصد؟"
روشنی نے تھوک نگلا۔ شہریار نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
" تم۔۔۔ وہ تمہیں حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کا طریقہ غلط ہے۔ اگر وہ تم سے شادی کرنا چاہتا تو سیدھا کہہ دیتا لیکن وہ ایسا نہیں کر رہا۔"
روشنی سانس لینا بھول گئی۔
شہریار نے گہری سانس لی پھر دوسری طرف دیکھنے لگا۔
" میں سچ کہہ رہا ہوں روشنی۔ تمہیں اپنی حفاظت کرنی چاہیے۔ خود کے لیے، میرے لیے۔"
روشنی کا دل بھر آیا۔ اس کو لگا اس کی ساری پریشانی کہیں غائب ہو چکی ہے۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی۔
کیا محبت ایسی ہوتی ہے جیسی شہریار اس سے کرتا ہے؟
" روشنی ایک وعدہ کرو مجھ سے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے تم اپنے اس کزن کو بھی کیا کسی اور کو بھی اپنے قریب نہیں آنے دو گی۔ تم سے محبت کرنا، تمہیں دیکھنا اور تمہارے پاس آنے کا حق صرف میرا ہوگا۔ کیا تم میرے لیے اتنا کر سکتی ہو؟"
شہریار نے دھیرے سے چہرہ موڑ کر اس کو دیکھا تھا۔ روشنی نے بے اختیار ہاں میں گردن ہلا دی تھی۔
•••••
ردا ایک بینچ پر بیٹھی موبائل اسکرول کر رہی تھی تبھی ہارون اس سے تھوڑا فاصلہ رکھ کر بیٹھ گیا۔ ردا نے ایک نظر اس کو دیکھا پھر واپس موبائل پر جھک گئی۔
" اگر آپ کو میرا یہاں بیٹھنا برا لگا ہے تو میں اٹھ جاتا ہوں۔"
ردا نے چہرہ اٹھا کر پھر سے اس کو دیکھا۔
" آف کورس مجھے برا لگا ہے لیکن میں آپ کو یہاں سے جانے کا نہیں کہہ سکتی کیونکہ نہ یہ یونیورسٹی میری ملکیت ہے اور نہ ہہ بینچ۔"
ہارون نے مسکراہٹ چھپانے کو ہلکا سا چہرہ جھکایا۔ ردا نے موبائل آف کر کے بیگ میں ڈال دیا۔
" تم ہمیشہ ہی اتنی سنجیدہ رہتی ہو یا یہ ایکسپریشن صرف میرے لیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔"
ردا ہلکا سا اس کی طرف مڑی جو مسکراتی نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔
" آف کورس آپ کے لیے ہی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔"
ہارون کے ابرو بے ساختہ اٹھے۔
" اوہ یعنی اتنا بورنگ ہوں میں۔ تم کہو گی تو سدھر جاؤں گا۔"
" تمہیں لگتا ہے محض بول دینے سے ٹھیک ہو جاؤ گے۔"
ردا بالآخر چڑ گئی۔
" ایسا نہیں ہے لیکن جب کوئی بنا وجہ ٹھہر جائے، صرف آپ کو سننے کے لیے تو چیزیں ہلکی ہونے لگتی ہیں۔"
ہارون کا لہجہ نرم تھا۔ وہ کھڑا ہوا۔ ایک پل اس کا چہرہ دیکھا پھر بنا کچھ اور کہے پلٹ گیا۔
ردا نے خاموشی سے اس کو جاتے دیکھا پھر گہری سانس بھری۔ وہ اپنا کام بھول چکی تھی۔ ذہن میں صرف ہارون کے الفاظ رہ گئے تھے۔
شاید پہلی بار وہ اندر سے پگھل رہی تھی۔ بنا جانے۔ ہارون کے لیے۔ شاید! اور اسے اس بات کا احساس تک نہیں تھا۔
•••••
شہر سے دور ایک جنگل کے قریب بنا انڈر گراؤنڈ سیف ہاؤس جس میں موت جیسا سناٹا تھا۔ ہر طرف ایسا اندھیرا جیسے اس جگہ کو سورج نے بھی نہیں دیکھا۔ سیف ہاؤس کے ساتھ ایک پرانا پیٹرول پمپ تھا جو سالوں سے بند تھا۔ جنگل کی وجہ سے آس پاس کوئی آبادی بھی نہیں تھی۔ اسی اثناء میں ایک ہیوی بائیک اس رات کی جان لیوا خاموشی کو توڑتی پٹرول پمپ کے پاس آکر رکی۔
اس نے بائیک پمپ کے ساتھ بنے ایک چھوٹے سے گودام میں پارک کی۔ اس کے بھاری بوٹوں کی دھمک ہر طرف گونج رہی تھی۔ اس نے پمپ کے دوسری طرف بنے ایک دروازے کی جانب قدم بڑھائے۔ دروازہ پرنٹ لاک سے کھلتا تھا۔ اس نے اپنا انگوٹھا پرنٹر پر رکھا۔ چند سیکنڈز بعد بِپ کی آواز گونجی اور دروازہ کھل گیا۔ سامنے ایک لفٹ تھی۔ لفٹ میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند ہو گیا۔
لفٹ اب نیچے کی طرف سفر کرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ پھر سے کھلا اور وہ اپنے سیف ہاؤس میں داخل ہوا۔ ہر طرف گہری خاموشی اور اندھیرا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک سرخ بلب جلا دیا۔ فضا میں زنگ آلود لوہے کی بدبو تھی۔ اس نے اپنے گلوز اتار کر سائیڈ میں پڑی ایک ٹیبل پر رکھ دیے۔ ساتھ اپنا ہیلمٹ اتار کر بھی رکھ دیا۔
کمرے کی دیواریں گرے تھیں۔ ان پر نہ کوئی تصویر تھی نہ گھڑی اور نہ ہی کوئی ڈیکوریشن۔ صرف ایک دیوار تھی جہاں سرخ بلب جل رہا تھا۔
وہ اس دیوار کی طرف بڑھا۔ پوری دیوار اسکرین سے بھری ہوئی تھی۔ سی سی ٹی وی فیڈز، پرانی ریکارڈنگز، بے ترتیب جگہوں کی تصویریں۔کچھ چیزیں دھندلی تھیں اور کچھ صاف۔
اکبر کا چہرہ بے تاثر تھا۔ وہ ساکن پلکوں سے ایک ایک چیز دیکھ رہا تھا۔ اس نے انگلی اٹھائی اور ایک جگہ رکھی۔
" یہاں۔"
اس کی زبان ہلی۔ لب بے حرکت رہے۔ پھر اس کی انگلی دوسری طرف گئی۔
" یہاں۔۔۔ نہیں۔"
اس نے دوسری اسکرین آن کی۔
نقشے، لوکیشن، سرخ نقطے۔ ہر چیز چمکنے لگی تھی۔ پیلی لائن سے کچھ جگہیں کاٹی گئی تھیں۔ سالوں کا کام تھا۔ مہینوں کا حساب تھا۔ ہر گھنٹہ، ہر منٹ کا۔
پھر وہ ایک پِن کے پاس رکا۔
" یہاں بھی نہیں تھی۔"
اس کے لب ہلے۔
اس کی آواز میں کچھ نہیں تھا۔ نہ غصہ، نہ بے بسی، صرف قبولیت تھی۔ جیسے وہ ہر دفعہ اس کی مطلوبہ جگہ نہ ملنے پر اس چیز کو قبول کرتا آ رہا ہو۔
اس نے ایک دراز کھولی اندر چھوٹا سا کچھ پڑا تھا۔ اس نے وہ اٹھایا وہ ایک لاکٹ تھا۔ پرانا، بہت پرانا۔ اس نے وہ واپس رکھا اور دراز بند کر دی پھر ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔
" میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا۔ تم جہاں بھی ہو میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا۔ تمہیں لگتا ہوگا کہ میں تمہیں بھول چکا ہوں مگر نہیں۔"
اس کے چہرے پر پہلی بار تاریکی چھائی تھی۔
" ایک میں ہی تو نہیں بھولا تمہیں۔"
اس نے روشنی ہلکی کر دی۔ اس جگہ کے ساتھ اس کا دل بھی بھاری ہو گیا تھا۔ ہر گھنٹہ، ہر سیکنڈ ہر لمحہ وہ گنتا آرہا تھا پر اس کا انتظار ختم نہیں ہو رہا تھا۔ اس کی تلاش رکی نہیں تھی۔
وہ آج بھی اسے ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ جو اس کی پوری کائنات تھی۔ اس نے کرسی سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں۔
جاری ہے

I don't have words 😔 to say something 😔😔😔😔😔😔 i don't know why but this episode makes me deeply sad 😔😔😔😔😔😔😔😔😔😔😔😔😔😔
ReplyDeleteBTW iwish there could be print lock in Pakistan as its my dream lock weird but side effects of watching K-drama 😭😭😭😭😭😭😭