Skip to main content

Featured

Rukh e Jaan episode 4 by Munaza Niaz - Romantic novel - Childhood love

  رخِ جاں ا ز منزہ نیاز قسط نمبر 4 گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ میرب ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ عبدالباری نے محض ایک نظر اس پر ڈالی تھی۔ نہ اس سے کوئی سوال کیا نہ کچھ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ گھر جانے کے بجائے اس نے گاڑی ایک چھوٹے مگر بے حد خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکی۔ " پلیز گھر چلو " میرب بے زاری سے بولی۔ " پہلے ناشتہ کر لیں پھر گھر چلتے ہیں۔" وہ نرمی سے بولا۔ " مجھے بھوک نہیں ہے۔" مگر عبدالباری نے اس کی ایک نہ سنی بلکہ اس کی طرف کا آکر دروازہ کھولا۔ " آ جائیں بہت اچھا ہوٹل ہے۔"  اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ میرب نے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کو اور بنا اس کی مدد کے خود باہر نکل آئی۔ عبدالباری نے بنا برا مانے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دونوں ہوٹل میں داخل ہوئے، جو پہاڑ کی اونچائی پر بنا تھا۔ باہر بیٹھنے کی بجائے وہ اس کو اندر لے گیا۔ عبدالباری نے اس کے لیے کرسی کھینچی اور اس کے مقابل بیٹھا۔ دونوں ہاتھ باہم پھنسائے اب وہ اس کو دیکھنے لگا تھا۔ جو کھڑکی سے باہر بلندی سے نیچے سڑک کو دیکھ رہ...

Bloods Episode 17 by Munaza Niaz

 


Bloods 

By Munaza Niaz

Episode 17



" کین مرچکا ہے، جیکسن تم سے بات کرنا چاہتا ہے، وہ آئی سی یو میں ہے، اس کے پاس زیادہ وقت بھی نہیں ہے۔" 

ہسپتال کے کوریڈور میں کھڑا مین اسے بتا رہا تھا۔


وہ بھاگ کر اندر گیا تھا، قریب پہنچ کر اس نے جیکسن کا چہرہ دیکھا، وہ بمشکل آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔


"میری بات سنو رابرٹ! آج سے میرا سب کچھ تمہارے حوالے ہے۔۔۔ آج سے تم میری جگہ ہو۔"

اتنا بول کر ہی اس کا سانس چڑھ گیا۔ داؤد کچھ بولنے لگا تھا کہ رک گیا۔


"میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، اگر کین زندہ بچ جاتا تب بھی میں یہ گینگ اس کے حوالے نہ کرتا، آج سے تم ریبل (Rebel) گینگ کے سربراہ ہو۔ میں نے تمہیں پہچاننے میں غلطی کر دی تھی۔ مگر اب میں یہ غلطی دوبارہ نہیں دہراؤں گا۔ میں نے مین سے بات کر لی ہے، سب کچھ تمہارے حوالے کر دیا جائے گا، تمہاری مرضی ہے کہ تم یہاں رہو یا یہ ملک چھوڑ دو۔ بس ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، اپنے دشمنوں کو کبھی کھلا مت چھوڑنا، کین یہ بات کبھی نہیں سمجھ سکا اس لیے مارا گیا اور۔۔۔۔۔۔۔"


داؤد بنا پلک جھپکائے اسے سن رہا تھا، اس نے چہرہ موڑ کر مشین پر نظر ڈالی جہاں آڑی ترچھی لکیریں مٹ چکی تھیں۔ وہ خاموشی سے باہر نکل گیا۔

☆☆☆


" کین وہ آخری گیم جیت گیا تھا، جیکسن نے اسے اپنے خاص آدمیوں میں شامل کر لیا تھا جبکہ مجھے اس نے اپنے خاص کاموں کے لیے رکھ لیا تھا، میں یہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہوں کیونکہ میں اب مزید یہاں نہیں ٹھہر سکتا، میں سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا چاہتا ہوں۔"

گرل کے ساتھ ٹیک لگائے وہ بول رہا تھا۔


"کیا تم نے کبھی جیکسن سے کہا کہ تم پاکستان جانا چاہتے ہو؟"

ارورا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ اسے سب کچھ بتا چکا تھا۔


"جب میں پندرہ سال کا تھا تب میں نے کہا تھا، اس نے میری بات سنتے ہی میرے پیر پر گولی ماری تھی، اس دن کے بعد میں نے دوبارہ کوئی بات نہیں کہی۔"

وہ اس طرح بول رہا تھا جیسے کسی اور کی بات کر رہا ہو، وہ کچھ بول نہیں سکی۔


"جب تک ایک گینگ میں کوئی کوئین شامل نہ ہو وہ گینگ ادھورا ہوتا ہے، کیا تم میری دنیا میں، ایک مافیا کے گینگ میں قدم رکھنا چاہوگی؟"

وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا پوچھ رہا تھا۔


"تم ایسا کیوں چاہتے ہو داؤد؟"

وہ پوچھ رہی تھی۔


" میں اس دنیا میں رابرٹ کے نام سے جینا چاہتا ہوں یہاں پر کسی کو نہیں معلوم کہ میں مسلمان ہوں تم مجھے ہمیشہ رابرٹ بلانا کیونکہ داؤد مرتضیٰ کو یہاں کوئی نہیں جانتا، میں خود بھی نہیں۔" 

اس کا لہجہ ٹھنڈا اور بے تاثر تھا۔


" ٹھیک ہے مگر تمہاری پہچان تو تمہارا اصل نام اور تمہارا ملک ہے کیا تم

پاکستان جانا چاہتے ہو؟" 


داؤد نے نفی میں سر ہلایا

" نہیں ۔۔۔۔ میں یو ایس اے جا رہا ہوں۔" 

" میں تیار ہوں تمہارے ساتھ جانے کے لیے۔" 


اور پھر وہ نیویارک شفٹ ہو گیا ریبل گینگ کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ اس کے

گینگ کا نام بلڈز (Bloods) رکھا جا چکا تھا جو اس نے خود تجویز کیا تھا۔ وہ کروڑوں ڈالرز میں کھیل رہا تھا۔ اس نے ارورا کو ایک سرخ کار گفٹ کی تھی دیوقامت عمارت میں اس کا نظام چل رہا تھا اس عرصے میں اس نے اتنے اسمگلنگ کرنے والوں کا علم ہوا تھا کہ وہ دنگ رہ گیا تھا اسلحہ، ڈرگز، بچے اور لڑکیاں۔ یہ وہ چار چیزیں تھی جو اسمگلنگ میں اوپر جارہی تھیں اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ سب کیسے رکے گا آخر کب ختم ہوگا یہ سب؟ شاید کبھی نہیں۔ کیونکہ جب ایک برا کام شروع ہوتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا بالا فرض اگر ختم ہو بھی جائے تو دوسرے اس کام کو شروع کر دیتے ہیں۔ اس سب میں صرف ارورا ہی تھی جو اسے گرنے نہیں دے رہی تھی۔ ہر موڑ پر وہ اس کے ساتھ ساتھ تھی۔ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ارورا کو پکڑ لیا تھا اور وہ بری پھنسی تھی داؤد نے ان سب کو ہر طرح سے معذور کر دیا تھا۔ ارورا دنگ رہ گئی تھی۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اتنا سفاک ہوگا۔


"میں سفاک بننا نہیں چاہتا مگر تمہارے لیے میں بنتا جا رہا ہوں"

وہ اسے بائیک چلانا سکھا رہا تھا وہ ڈگمگا کر گر گئی تھی اس کا پاؤں مڑ گیا تھا 


" پتہ نہیں تمہارا دھیان کہاں ہوتا ہے کہا بھی تھا کہ ہینڈل کو زیادہ ہلاؤ مت مگر نہیں۔۔۔" 

اس کے پیر پر پٹی باندھتا وہ اسے ناراضی سے ڈانٹ رہا تھا۔


"کیا تم ہمیشہ میرا اس طرح خیال رکھو گے؟" 

وہ مسکرائی داؤد نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا۔

"ہاں۔۔۔ ہمیشہ"

پھر سر جھکا دیا۔


وہ اس کے ساتھ ایک کانسرٹ دیکھنے آئی تھی، پولیس ان کو ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ مل کے نہ دے رہے تھے۔

"یہ پولیس ہمارے پیچھے کیوں ہے؟ حالانکہ تم غلط کام تو نہیں کرتے۔"

اتنے شور میں وہ اس کے قریب ہو کر بولی تھی، سٹیج پر کوئی سنگر گا رہا تھا۔


"یہ میرے دشمنوں کے کام ہیں، وہ مجھے پکڑوا کر اپنا راستہ صاف کرنا چاہتے ہیں مگر مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ مجھے اس سب میں مزہ آتا ہے۔"

وہ آنکھوں سے مسکرایا تھا۔


آہستہ آہستہ وہ اسے مافیا کے سارے گر سکھا رہا تھا۔ اس کے بعد ارورا پہلے جیسی نہیں رہی تھی، وہ داؤد سے کئی گنا زیادہ بے رحم ہوگئی تھی۔


"بتاؤ کیا چاہیے تمہیں؟ جو کہو گی وہی لا کر تمہارے سامنے رکھوں گا۔"

ایک مرتبہ اس نے ارورا کو کہا تھا، اگر اس کے بس میں ہوتا تو واقعی میں چاند تارے لا کر اس کے ہاتھوں میں سجا دیتا۔

"میں تمہارے ساتھ پوری دنیا گھومنا چاہتی ہوں۔"

وہ بچوں کے سے انداز میں بولی تھی۔ وہ ہنس پڑا تھا، اور وہ جس جس ملک کا نام لیتی گئی وہ وہاں وہاں اس کے قدم رکھتا گیا۔ 


آخر میں اس نے پاکستان کا نام لیا تھا، وہ سانس روکے اسے دیکھتا گیا۔

"میں تمہیں وہاں بھیج دوں گا مگر میں وہاں نہیں جا سکتا۔"

جھیل کنارے ٹھہرے اس نے آہستہ آواز میں کہا۔

"تم کیوں نہیں جانا چاہتے حالانکہ جس کا ڈر تھا، جو روکنے والا تھا وہ مر چکا ہے۔"

وہ اداس ہوگئی تھی۔


"مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں اپنے ملک کی طرف دیکھ بھی سکوں، وہاں پر تو شاید سب مجھے مردہ سمجھ کر بھول چکے ہوں گے۔"

اس کی آنکھوں میں درد سا آن ٹھہرا۔


"پھر تو تمہیں واقعی میں جانا چاہیے داؤد، میری بات مانو تو چلو، اگر تمہارا دل مانا تو اپنے گھر والوں سے مل لینا ورنہ واپس آجانا پلیز منع مت کرنا۔"

وہ جیسے منت کر رہی تھی اور پھر داؤد مرتضیٰ نے بات مان لی تھی، پورے اٹھارہ سال بعد وہ پاکستان آیا تھا اس نے کہاں سوچا تھا کہ ایسا بھی کبھی ہوگا؟ ایسا بھی کبھی ہو سکتا ہے؟ 


داؤد کے برعکس ارورا بہت خوش تھی وہ اسے سوات لے گیا تھا دو تین دن تک وہ اسے گھماتا پھرتا رہا ارورا نے اسے نہیں کہا کہ اسے اپنے گھر والوں سے ملنا چاہیے وہ اسے فورس نہیں کرنا چاہتی تھی وہ پاکستان آگیا تھا یہ اس کے لیے بہت تھا اسے اتنا یقین ضرور تھا کہ اب نہ سہی اگلی مرتبہ وہ یہاں ضرور آئے گا اور اپنے گھر والوں سے بھی ملے گا۔


جب وہ واپس جانے کے لیے تیار ہو کر ہوٹل سے باہر نکلے تو داؤد نے کسی احساس کے تحت مڑ کر دیکھا وہاں ایک گلابی لباس میں ملبوس ایک خوبصورت سی لڑکی اپنے سامنے کھڑی ایک عورت سے ہنستے ہوئے بات کر رہی تھی 

"میں نے کہا تھا نہ خالہ امی! آپ یہاں آئیں گی تو بہت بہتر فیل کریں گی۔ دیکھیں نا کتنا مزہ آ رہا ہے"

دونوں ہاتھ اٹھا کر وہ کھلکھلائی۔


داؤد نے اس عورت کو دیکھا جن کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی اس کا رنگ سفید پڑنے لگا۔ 

"کیا ہوا داؤد؟" 

داؤد نے تیزی سے ارورا کا ہاتھ تھاما اور آگے بڑھ گیا۔ بہت آگے جا کر وہ رکا پھر ارورا کے دونوں ہاتھ تھامے۔

"فی الحال مجھ سے کچھ بھی مت پوچھو"

واپس پہنچ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں قید ہو گیا تھا 


وہ عورت؟ وہ تو اس کی ماں تھی۔ وہ کیسے اپنی ماں کو بھول سکتا تھا اور وہ لڑکی ضرور ہیر ہوگی تو کیا وہ سب مجھے بھول چکے ہیں؟ کیا کسی کو بھولنا واقعی اتنا آسان ہوتا ہے؟ کیا میری ماں تک مجھے بھول چکی ہے؟ اس نے پورا کمرہ الٹ کر رکھ دیا تھا ایک ایک چیز کو اس نے ٹکڑے کر دیا تھا بالکل اپنے دل کی طرح ارورا نے جب اتنا شور سنا تو بھاگ کر اس کے کمرے میں آئی تھی وہ فرش پر بیٹھا بکھری چیزوں کے درمیان تڑپ تڑپ کر رو رہا تھا 


"داؤد۔۔۔۔ کیا ہوا؟ مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟" 

اس کے سامنے بیٹھی وہ ڈر گئی تھی۔


"ان سب نے مجھے بھلا دیا۔ وہ مجھے بھول گئے وہ داؤد مرتضیٰ کو بھول گئے۔۔۔۔۔۔ میری ماں تک مجھے بھول گئی۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔ میں کسی کو یاد نہیں رہا اور ایک میں۔۔۔۔۔۔ جو ہمیشہ اپنوں سے ملنے کے لیے تڑپتا رہا۔۔۔۔۔۔ میں جو ہر رات ان کو۔۔۔۔۔۔ ان کو یاد کرتے سوتا ہوں میں نے جو اتنا لمبا عرصہ ان کو دیکھے بغیر ان کو یاد کرتے گزارا ہے۔۔۔۔۔۔ میں تو کبھی نہیں بھولا ان کو۔۔۔۔۔۔ وہ تو ہمیشہ مجھے یاد آتے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور وہ سب وہ سب تو مجھے۔۔۔۔۔۔ ایسے بھول گئے ہیں جیسے میں کبھی تھا ہی نہیں" 

وہ اس بری طرح رو رہا تھا کہ ارورا کے دل کو کچھ ہونے لگا۔ وہ اسے پہلی مرتبہ اتنے برے طریقے سے روتا ہوا دیکھ رہی تھی اس نے دونوں ہاتھ بڑھا کر اس کا سر اپنے کندھے سے لگایا۔

"پلیز سوری داؤد یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے کاش میں تمہیں فورس نہ کرتی۔"

نرمی سے اس کی پیٹھ مسلتی وہ بھیگی آواز میں بولی، داؤد نے کوئی جواب نہیں دیا بس اس کے کندھے سے لگ کر روتا رہا تھا۔


"ان پیپرز پر سائن کر دو۔"

وہ دو دن تک اس سے بات تو کیا نظریں تک نہیں ملا پا رہا تھا، تیسرے دن وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔

"یہ کیا ہے؟"

اس نے پیپرز تھام لیے، ان پر نگاہ دوڑائی وہ اردو میں تھے، اسے اردو پڑھنی نہیں آتی تھی۔


"ایک طرح کا اجازت نامہ۔۔۔ ان پر اپنے پورے دل سے سائن کر دو، اس کے بعد میں تو کیا کوئی بھی تمہیں میرے قریب آنے سے نہیں روک سکتا۔"

وہ اسے بتا نہیں سکا کہ یہ نکاح نامہ ہے، وہ سمجھی تو نہیں مگر اس نے اپنے دل سے اس پر سائن کر دیے۔ انہی دنوں روزلی نامی لڑکی ان کے گینگ میں شامل ہو گئی تھی، وہ انہیں ایک جگہ چھاپا مارتے ہوئے ملی تھی، اس کی حالت بہت خراب تھی اور وہ بے ہوش تھی، اس کا مکمل علاج کروانے کے بعد ارورا نے اسے اپنے ساتھ رہنے کا کہا تھا، اس نے بتایا کہ وہ ایک ہیکر ہے، پکڑی جانے کے بعد انہوں نے اس کے ساتھ یہ سب کیا تھا۔ ارورا کو بے اختیار صوفیہ یاد آئی تھی۔


"تم بالکل سیف ہو، کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہاں پر سب تمہارے اپنے ہیں۔"

نرمی سے اس کا گال تھپک کر وہ باہر نکل گئی تھی، وہ اٹھ کر دروازے کی درز سے باہر جھانکنے لگی ارورا ایک شخص کے سامنے کھڑی اسے کچھ بتا رہی تھی۔ اس نے تھوڑا آگے ہو کر دیکھا تو اس کی پلکیں ساکت ہو گئیں۔


وہ تو کوئی یونانی دیوتا لگ رہا تھا، اتنا خوبصورت کہ وہ بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتی رہ گئی۔


"تم جانتی ہو، تم سے محبت ہو جانے سے پہلے میں زندگی گزار رہا تھا، پھر تم سے محبت ہو جانے کے بعد میں زندگی جینے لگا ہوں، آہستہ آہستہ مجھے احساس ہونے لگا ہے کہ اب میں تم سے محبت نہیں کرتا۔"

وہ رکا، پھر نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھے، چار آنکھیں بنا پلک جھپکائے سانس روکے اسے دیکھ رہی تھیں 


"مجھے تم سے عشق ہو گیا ہے اور یہ عشق مجھے جینے نہیں دے رہا۔۔۔ بالکل تمہاری طرح"

آہستہ سے اس کا ماتھا چوم کر اسے چھوڑ دیا ارورا نڈھال ہی ہو گئی۔ جبکہ روزلی نے آہستہ سے دروازہ بند کر دیا تھا۔


••••


آج کے دن۔


پورے ہال میں سناٹا تھا، ایک سانس لینے کی آواز تھی جو سنائی دے رہی تھی، ایمی دونوں ہاتھ باہم پھنسائے بیٹھی تھی اس کی آنکھوں میں نمی تھی جبکہ داؤد صوفے پر بیٹھا خاموش ہو چکا تھا، تبھی سامنے رکھا اس کا موبائل بجا، نمبر دیکھتے ہی اس نے فوراً ریسیور کیا۔ دوسری طرف جو کہا گیا اسے سن کر وہ کچھ بول نہ سکا اور پھر سب نے اسے تیزی سے باہر کی جانب بھاگتے دیکھا۔ پندرہ منٹ بعد وہ ایک ہسپتال کی راہداری میں بھاگتا ہوا نظر آیا، اس کے پیچھے جیک اور ایمی بھی بھاگ رہے تھے، 


ایک روم کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تھا، ایک ڈاکٹر وہاں سامنے کھڑی نرس کو ہدایت دے رہا تھا، ڈاکٹر نے اسے دیکھا پھر مسکرا کر اس کے پاس آیا۔

"کانگریچولیشنز۔" 

ہلکا سا شانہ تھپک کر وہ باہر نکل گیا۔


داؤد بے جان قدموں سے اس کے قریب پہنچا، پاس بیٹھ کر نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اس نے آہستہ سے اسے پکارا۔ ارورا نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا، داؤد کو لگا کسی نے ساری دنیا اس کے ہاتھ میں رکھ دی ہے۔


"تم ٹھیک ہو۔۔۔ ہاں۔۔۔ تم بالکل ٹھیک ہو۔"

اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ ہنسنے لگا تھا یا شاید وہ رونے لگا تھا۔


"میں تمہیں یہاں سے لے جاؤں گا۔ دور۔۔۔ بہت دور جہاں ہمیں کوئی نہیں جانتا ہوگا میں مزید تمہیں اپنی وجہ سے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا"

اس نے ایک ہاتھ سے بھیگی پلکیں صاف کیں۔ وہ اور بھی کچھ کہہ رہا تھا مگر ارورا کا ذہن پھر سے تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔


••••


حسنہ، ہیر کو رات کے کھانے کے لیے بلانے آئی تھی مگر وہ آنکھوں پر بازو رکھے سو رہی تھی، انہوں نے اسے پکارتے آہستہ سے اس کا بازو ہٹایا تو دھک سے رہ گئیں۔

"ہیر۔۔۔ کیا ہوا؟ تم۔۔۔۔ تم رو کیوں رہی ہو؟"

بازو سے پکڑ کر اسے اٹھاتے وہ پریشان ہو گئیں۔

"پلیز امی مت کریں۔۔۔ آپ تو مت کریں"

وہ بری طرح رو دی۔

"میں نے کیا کیا ہے؟"

وہ حیران ہوئیں۔


"آپ جانتی ہیں امی میں ہر وقت خالہ کے ساتھ کیوں رہتی ہوں۔ انہوں نے اپنی اکلوتی اولاد کھوئی ہے جبکہ آپ کے پاس تو تین بچے ہیں۔ وہ بالکل اکیلی ہو گئی تھیں امی۔۔۔ کسی نے بھی ان کے درد کو نہیں سمجھا میں ان کے پاس چلی جاتی ہوں تو اس میں برائی ہی کیا ہے۔ اس وجہ سے آپ مجھ سے کیوں دور ہونے لگی ہیں مجھے لگتا ہے کہ میں بھی آج ان کی طرح اکیلی ہو گئی ہوں۔"

وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی اور حسنہ کے دل پر چھریاں سی چل رہی تھیں۔


"ایسی بات نہیں ہے ہیر بس مجھے لگا وہ تمہیں مجھ سے چھین لے گی مجھے تم سے دور کر دے گی مگر تم۔۔۔"


ہیر نے ان کی بات کاٹی

"کس نے کہا آپ کو کہ وہ مجھے آپ سے چھین لیں گی آپ دونوں میرے لیے ایک جیسی ہیں مگر آپ دونوں مجھے اپنی بیٹی نہیں سمجھتیں مجھے لگا تھا کہ آپ مجھے سمجھ جائیں گی مگر کل جو کچھ آپ نے خالہ سے کہا مجھے ایسا لگا آپ مجھے میری نظروں میں گرا رہی ہیں کیسے آپ نے ان پر یہ الزام تک لگا دیا کہ وہ آپ کے بچوں کی دشمن ہیں۔"

اس نے آنکھوں کو رگڑا


"میں بس غصے میں تھی"

وہ رونے لگیں پھر آہستہ سے انہوں نے ہیر کو سینے سے لگایا


"میں آمنہ سے معافی مانگ لوں گی تم بھی مجھے معاف کر دو بچے مجھے معلوم نہیں ہو سکا کہ میں جانے انجانے میں کیا کر رہی تھی بس اب رونا نہیں ہے خاموش ہو جاؤ"

وہ نرمی سے اس کی پیٹھ تھپک رہی تھیں دروازے میں کھڑی آمنہ گیلا چہرہ لیے واپس پلٹ گئی تھیں۔

☆☆☆


"آؤ رابرٹ آؤ۔۔۔ بڑی دیر لگا دی آنے میں"

جوف صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ روزلی اس کے ساتھ تقریباً چپکی بیٹھی تھی وہ رابرٹ کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔


"وہ کیا ہے کہ میں کافی مصروف تھا یہ بات تو تم بہت اچھی طرح جانتے ہو گے ابھی سارے کام نپٹا کر سیدھا تمہارے پاس آیا ہوں اور تم کیسی ہو روزلی؟" 

وہ ان کے عین سامنے صوفے پر بیٹھ چکا تھا جوف کے سارے آدمی چوکس سے اس پر گن تانے کھڑے تھے


"اکیلے آئے ہو؟ اپنی نفری ساتھ نہیں لائے"

جوف سیدھا ہو بیٹھا جبکہ داؤد ہنس دیا۔


"تم ڈر کیوں رہے ہو ریلیکس ہو جاؤ میرے پاس کوئی ہتھیار بھی نہیں ہے ویسے تم نے اچھا نہیں کیا روزلی نہ میرے ساتھ نہ بیچارے جوف کے ساتھ"

وہ جیسے افسوس کر رہا تھا


"جوف اسے مار دو ورنہ یہ ہمیں مار دے گا"

وہ تیزی سے سیدھی ہوئی


"تم کہنا کیا چاہتے ہو؟"

جوف نے اپنی آنکھیں سکیڑیں اس نے گویا روزلی کی بات سنی ہی نہیں تھی اسی وقت جوف کے موبائل پر بپ ہوئی۔

"ویڈیو دیکھو"

وہ مسکرایا جوف نے جلدی سے موبائل آن کر کے ویڈیو چلا دی


"یہ جوف ہے اور یہی اسے مارنا چاہتا ہے یہ ایک سائیکو ہے اور یہ لڑکیوں کا شکاری ہے۔۔۔ خوبصورت لڑکیوں کا شکاری۔۔۔"


"ہیلو رابرٹ میری بات سنو میں جو لوکیشن تمہیں بھیج رہی ہوں وہاں جوف اپنے آدمیوں سمیت آنے والا ہے ۔۔۔۔"


"میں نے جوف کا سارا ریکارڈ ہیک کر لیا ہے یہ اس کا ڈیٹا ہے اور یہ ان لڑکیوں کی ساری تصویریں ہیں جن کو مارنے کے بعد وہ لیتا تھا میں یہ سارے ثبوت ایف بی آئی کو بھیجنے سے پہلے تمہیں دکھانا چاہتی تھی تمہارے لیے رابرٹ۔۔۔۔ صرف اور صرف تمہارے لیے میں جوف جیسے پاگل اور خطرناک آدمی سے الجھ پڑی ہوں"

روزلی اس کے ساتھ بیٹھی سانس روکے ویڈیو دیکھ رہی تھی


"نہیں نہیں جوف ایسا نہیں ہے یہ۔۔۔۔ یہ ہم دونوں کو آپس میں لڑوا کر مارنا چاہتا ہے یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔"

اس کا چہرہ زرد ہو چکا تھا


"کتنی بڑی بے وقوف ہو تم روزلی ۔۔۔ جوف تم ہی بتاؤ۔۔۔ کیا ہم ایک دوسرے کو مار سکتے ہیں وہ بھی اس کی وجہ سے۔" 

وہ گویا صدمے سے بولا تھا


"یہ جھوٹ بول رہا ہے جوف میرا یقین کرو۔۔۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ ہمیں لڑوانا چاہتا ہے"

اس نے جوف کا ہاتھ پکڑ لیا


"تم اگر سوچ رہے ہو کہ ایسا کر کے تم ہم دونوں کو الگ کر دو گے تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے"

تنفر سے اس نے موبائل واپس رکھ دیا


"کس نے کہا کہ میں تم دونوں کو الگ کرنا چاہتا ہوں میں تو بس یہ بتانے آیا تھا کہ اس نے تمہارا سارا ریکارڈ ایف بی آئی کو بھیج دیا تھا وہ بس آنے ہی والے ہوں گے"

کندھے اچکا کر وہ کھڑا ہو گیا 


روزلی نے جوف کو دیکھا جس کے چہرے پر زلزلے کے آثار تھے پھر اس نے رابرٹ کو دیکھا جو نفرت بھری نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے پیچھے کہیں بہت سے قدموں کی آوازیں آنے لگی تھیں


"جوف یہ۔۔۔۔"

وہ بولنے ہی لگی تھی کہ یک دم گنگ ہو گئی اس نے نظر جھکا کر پیٹ پر دیکھا جہاں جوف نے چاقو گھسا دیا تھا

"تم نے مجھے دھوکہ دیا؟"

وہ بے یقینی سے غرایا تھا


"تمہاری وجہ سے مجھے اتنا نقصان ہوا ہے اور تم کہہ رہی ہو وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ تمہاری وجہ سے اس نے میری کروڑوں کی فیکٹری کا دیوالیہ نکال دیا میرے آدمی مارے گئے میرے نئے گھر کو جلا کر راکھ کر دیا گیا اور تم کہتی ہو تم نے کچھ بھی نہیں کیا"

اس نے زور سے چاقو اس کے پیٹ میں گھما ڈالا وہ تڑپنے لگی داؤد ششدر کھڑا انہیں دیکھے گیا اسے توقع نہیں تھی کہ جوف ایسا کچھ کر ڈالے گا


"چھوڑوں گا تو میں تمہیں بھی نہیں"

گن نکال کر اس نے داؤد پر تانی اس سے پہلے کہ وہ ٹریگر دباتا کسی نے پیچھے سے گن اس کے سر پر رکھ دی۔


" گولی چلانے کی غلطی مت کرنا جوف ورنہ میری گولی چل جائے گی۔" 

جیک کی نفرت بھری آواز اس کی سماعتوں کو چھو گئی اس نے بے یقینی سے داؤد کو دیکھا جو مدھم سا مسکرایا تھا۔


" اوہ تو تم نے بھی اپنی اوقات دکھا دی۔۔۔۔مجھے چھوڑ کر تم میرے دشمنوں کی صف میں کھڑے ہو گئے"

اس نے ایک جھٹکے سے چاقو روزلی کے پیٹ سے نکالا۔ روزلی پیٹ پر ہاتھ رکھے صوفے پر لڑھک گئی۔


" کتنا کہا تھا میں نے کہ نینسی کو چھوڑ دو آخر کیا بگاڑا تھا اس نے تمہارا جو اسے مار دیا میں نے تو اسی دن طے کر لیا تھا کہ تمہیں تمہارے انجام تک ضرور پہنچاؤں گا چاہے اس کے لیے مجھے تمہارے دشمنوں سے ہاتھ ہی کیوں نہ ملانا پڑے"

جوف کے کان سائیں سائیں کرنے لگے 


صوفے پر لڑھکی دھندلی آنکھوں سے جوف کو دیکھتی روزلی بمشکل سانس لے رہی تھی اس نے دیکھا کچھ لوگ جوف کو ہتھکڑی لگا کر لے جا رہے تھے وہ پاگلوں کی طرح چلا رہا تھا اس نے پلکیں جھپکائیں۔ کوئی چلتا ہوا اس کے سامنے آکھڑا ہوا


" ارورا اگر چاہتی تو تمہیں اسی دن مار دیتی جس دن تم نے اسے گولیاں ماری تھیں مگر اس نے ایسا نہیں کیا جانتی ہو کیوں؟" 

وہ پنجوں کے بل اس کے سامنے جھکا۔


" کیونکہ وہ تمہیں بہن سمجھتی تھی بہت محبت کرتی تھی تم سے مگر تم نے اسے احساس دلایا کہ تم اس کی محبت کے قابل نہیں ہو بلکہ تم تو کسی کی بھی محبت کے قابل نہیں ہو۔۔۔"

وہ رکا


" آج میں تمہیں ایک سچ بتاتا ہوں۔۔۔ تم نے مجھ سے کبھی محبت کی ہی نہیں ہے۔۔۔ تم مجھ سے محبت نہیں بلکہ ارورا سے حسد کرتی تھیں۔۔۔۔ کتنی خطرناک چیز ہے یہ حسد۔۔۔۔ اچھے اچھوں کو تباہ کر دیتا۔ تم اس چیز سے جلتی تھیں کہ کوئی کسی سے اتنی محبت کیسے کر سکتا ہے۔۔۔۔ دیکھو تو سہی خود کو۔ تم کیا تھی اور کیا ہو گئی ہو تمہارے اس حسد نے تمہیں کہاں لا پٹخا ہے۔۔۔۔ یہاں تک کہ تمہاری جان تک لے لی"

پھر وہ اپنا چہرہ اس کے کان کے قریب لے گیا

"وہ زندہ ہے اور وہ میرے پاس ہے۔" 


ایک ہچکی آئی اور پھر دوسرے ہی لمحے اس کے جسم کو جھٹکا سا لگا خون آلود ہاتھ بے جان ہوتا صوفے کے کنارے جھول گیا اس کے آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو چکی تھیں۔


نفرت سے اسے دیکھتے ہوئے وہ کھڑا ہوا اور الٹے قدم اٹھاتا ہوا تیزی سے مڑا اور فوراً وہاں سے چلا گیا جیک اس کے پیچھے تھا

•••••


بیڈ کے سرہانے تکیے سے ٹیک لگائے وہ آنکھیں موندے ہوئے تھی تھوڑی دیر بعد اس نے جب آنکھیں کھول کر دیکھیں تو وہ دائیں طرف جائے نماز پر کھڑا نماز پڑھ رہا تھا وہاں اتنا سکون تھا کہ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔


تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ وہ چل کر اس کے سامنے آ بیٹھا ہے اس نے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں وہ نرم مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا


"کوئی نہیں ہے سب ختم ہو گئے ہیں سب ٹھیک ہو گیا ہے تم بھی بالکل ٹھیک ہو"

وہ آہستہ آواز میں بولا تھا


"میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں داؤد"

وہ بھیگی آواز میں ایک دم بولی تھی داؤد بالکل خاموش ہو گیا


"کیا تم کسی دباؤ کی وجہ سے ایسا کر رہی ہو؟"

ارورا نے نفی میں سر ہلایا۔

"نہیں۔۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔۔۔ کوئی مجھ پر دباؤ کیسے ڈال سکتا ہے میں نے خود قرآن پاک کا ترجمہ پڑھا ہے داؤد تم بتاؤ میں کیسے اس کتاب کو جھٹلا سکتی ہوں جس میں سچ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ترجمہ پڑھتے مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں جہنم کے قریب کھڑی ہوں اور بس اس میں گرنے والی ہوں میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی کوئی دوسری کتاب نہیں پڑھی میں تمہاری طرح ایک مسلمان بننا چاہتی ہوں داؤد۔۔۔۔ پہلے میں نے صرف سوچا تھا مگر اب میں ایسا چاہتی ہوں"

اس کی آنکھوں میں نمی تھی داؤد خاموشی سے اسے دیکھے گیا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح اپنی خوشی کا اظہار کرے۔


"کیا تم اکیلے جنت میں جانا چاہتے ہو مجھے لے کر نہیں جاؤ گے؟" 

وہ ناراضی سے بولی تھی۔


"میں وہاں اکیلا تمہارے بغیر کیا کروں گا؟" 

اس نے نرمی سے اس کے آنسو صاف کیے


"تم اکیلے کہاں ہو گے وہاں پر تو تمہیں حوریں مل جائیں گی میں نے پڑھا ہے۔"

داؤد ہنس پڑا پھر مسکراتے ہوئے اس کا دوسرا ہاتھ بھی تھام لیا


"مگر میری حور تو تم ہو۔۔۔۔۔ میں اپنی حور یہاں سے لے کر جاؤں گا"

اس نے چھیڑا۔


"وعدہ کرو مجھ سے ایسا ہی ہو گا"

ارورا نے جلدی سے کہا کہ کہیں وہ مکر نہ جائے

"وعدہ تو میں نہیں کر سکتا کیا معلوم وہ تم سے زیادہ خوبصورت ہوں ورنہ میں تو لٹ جاؤں گا"

ارورا اس کی ٹون پر حیران ہوئی پھر دھپ سے اس کے بازو پر مکا مارا


"شرم کرو شرم"

وہ ہنسنے لگا پھر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا

"تمہیں پتہ ہے میرا دل نہ۔۔۔۔۔ یہاں ڈوبتا ہے۔۔۔۔۔ اس چہرے کے سوا یہ آنکھیں کسی اور کو دیکھنا نہیں چاہتیں۔ اس دل میں تمہاری دھڑکنیں قید ہیں تم نہیں دھڑکو گی تو یہ دل بند ہو جائے گا۔ تمہارے کچھ حصے میری تکمیل میں شامل ہیں اگر میں تم سے نہ ملتا تو ہمیشہ ادھورا ہی رہتا"

وہ رکا پھر اس کی نیلی جھیل سی آنکھوں میں جھانکا۔


"تمہاری ان آنکھوں کی قسم میرے دل نے ہی نہیں روح نے بھی تم سے بہت محبت کی ہے"

وہ سانس روکے دل تھامے اس کے لفظوں میں کھو گئی۔


"مگر میں تو ایک عام سی لڑکی ہوں تمہارے لیے اتنی خاص کیسے ہو سکتی ہوں؟" 

وہ پہلی مرتبہ اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر رہا تھا مگر پہلی مرتبہ ان لفظوں میں اظہار ضرور کر رہا تھا۔


اس کی بات پر اس نے آہستہ سے اس کے چہرے پر آئے بال ہٹائے اور اسی طرح مسکراتا رہا۔


"تم عام کیسے ہو سکتی ہو میرے لیے جس سے میں عشق کروں جسے میں صرف اپنا کہوں تم بتاؤ تم میرے لیے عام کیسے ہو سکتی ہو؟"

وہ خاموش ہو گئی داؤد نے نرمی سے اس کا ہاتھ چوما۔

"میں پاکستان جا رہا ہوں تم چلو گی؟" 

وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی

"تم سچ کہہ رہے ہو؟"

اسے یقین نہیں آ رہا تھا پچھلی مرتبہ جو کچھ ہوا تھا وہ بھولی کہاں تھی۔


" میں تھک گیا ہوں ایسی زندگی گزارتے جس میں صرف دکھ اور موت کے علاوہ کچھ نہیں ہے میں اپنوں کے پاس جانا چاہتا ہوں ان سے ملنا چاہتا ہوں تمہیں ان سے ملوانا چاہتا ہوں تم چلو گی نا؟"

وہ اس سے پوچھ رہا تھا ارورا نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا


"ہاں میں چلوں گی تمہارے ساتھ۔"

اس نے دیکھا تھا داؤد کی آنکھوں میں نمی پھیلنے لگی تھی مگر وہ مسکرانے لگا تھا 


وہ واپس جا رہا تھا اپنے ملک، اپنے لوگوں میں۔ جہاں شاید سب نے اسے یاد رکھا ہو یا شاید سب اسے بھول چکے ہوں یا پھر سب اس کو مردہ سمجھ کر اس کا انتظار کرنا چھوڑ چکے ہوں یا پھر آج تک کوئی اس کے انتظار میں ہو شاید۔۔۔

☆☆☆


وہ ایک سنگنگ کنسرٹ تھا داؤد ارورا کے کندھے کے گرد بازو پھیلائے جیک سے باتیں کر رہا تھا ارورا اس کے بازو پر سر رکھے مسکراتے ہوئے دونوں کو سن رہی تھی ان کے چاروں طرف اتنے لوگ تھے کہ پیر رکھنے کی جگہ نہ مل رہی تھی۔ شو شروع ہونے میں ابھی چند منٹ باقی تھے۔


"میں تم دونوں کو مس کروں گا۔۔۔۔۔ بہت اچھا وقت گزرا تم دونوں کے ساتھ"

وہ داؤد کو دیکھتا کہہ رہا تھا

"شادی کر لو پھر کسی کو مس کرنے کے قابل نہیں رہو گے"

وہ ہنسنے لگا جبکہ ارورا نے اسے گھور کر دیکھا

"نہیں بھئی میں فی الحال آزاد گھومنا چاہتا ہوں مجھے پابندیوں بھری زندگی نہیں گزارنی"

دونوں ہاتھ اٹھائے اس نے نفی میں سر ہلایا


"کسی کے چلے جانے سے زندگی نہیں رکتی جیک۔۔۔۔۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو تم زندگی سے تنگ آجاؤ گے دنیا میں ہر ایک کو لائف پارٹنر کی ضرورت ہوتی ہے آج نہیں تو کل تمہیں بھی اس کی ضرورت محسوس ہو گی ایک بار پھر سوچ لینا اب مجھے ہی دیکھ لو کیسے اس کے پلو سے بندھا رہتا ہوں جہاں کہتی ہے وہاں لے جاتا ہوں کبھی منع نہیں کرتا سمجھ نہیں آتا ان حالات میں روو یا ہنسوں۔" 

وہ بالکل سنجیدہ نظر آ رہا تھا۔ اس نے گردن موڑ کر ارورا کو دیکھا جو سیدھی ہو کر اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جیک مسکراہٹ دبائے انہیں دیکھنے لگا۔


"یہ تم اسے شادی کے لیے کنوینس کر رہے ہو یا بیزار؟" 

اس نے ایک ہاتھ کمر پر رکھ لیا۔

"ابھی تو میں نے اسے حوروں کے بارے میں نہیں بتایا"

اس نے ایک آنکھ دبائی۔ ارورا سر جھٹک کر رہ گئی

"میں تمہیں کبھی نہیں سمجھ سکتی"

وہ دونوں ہنسنے لگے پھر وہ جیک کی طرف مڑا

"ویسے ایک لڑکی ہے میری نظر میں کہو تو اس سے بات کروں؟"

وہ دونوں ہی جیک کو مسکرا کر دیکھ رہے تھے

"کون سی لڑکی؟"

وہ نہیں سمجھا

"وہ والی"

داؤد نے مسکرا کر اسٹیج کی طرف اشارہ کیا جہاں ایمی گانے کے لیے آ چکی تھی نئی ابھرتی ہوئی سنگر۔


"مذاق مت کرو داؤد ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟"

وہ اسے دیکھتے بڑبڑایا ایمی کو دیکھتے وہ بلا ارادہ مسکرایا تھا۔


" بالکل ہو سکتا ہے بس ایک بات کا خیال رکھنا وہ روتی بہت ہے۔ لڑکیوں کو پیدائشی بیماری ہوتی ہے نہ رونے کی"

اس نے مسکراہٹ دبا کر ارورا کو دیکھا جو بس بھی کرو ایکٹنگ والے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی جیک ہنس پڑا۔


"پھر تم فکر مت کرو میں ویسے بھی ٹشو کی دکان کھولنے جا رہا ہوں"

اور وہ دونوں قہقہہ مار کر ہنسے تھے ارورا ناراضی سے اس سے الگ ہو گئی۔


" بناؤ مذاق ہم لڑکیوں کا لیکن ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔۔ ہم لڑکیوں کو صرف رونا نہیں آتا بلکہ جو آتا ہے اسے دیکھ کر لڑکے ہنسنا بھول جاتے ہیں۔" 

وہ اب اسٹیج کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں ایمی گا رہی تھی


"یہ رومانس کی بات کر رہی ہے تم ڈرو نہیں۔"

داؤد نے اتنی اونچی آواز میں سرگوشی کی کہ وہ بے اختیار سرخ ہوئی مگر مڑ کر اسے دوبارہ گھور نہیں سکی وہ بالکل خاموش سا اس کے پیچھے کھڑا کبھی اس کے بالوں کو دیکھتا تو کبھی اسٹیج کی طرف۔ تھوڑی دیر بعد جیک داؤد کو کچھ کہتا اسٹیج کی طرف بڑھ گیا تھا۔


"یہ کہاں جا رہا ہے؟"

ارورا نے بنا مڑے پوچھا تھا

"خود ہی دیکھ لو"

آہستہ سے اس کے گرد دونوں بازو پھیلا کر اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا وہ دونوں ہی اب سامنے کی طرف دیکھ رہے تھے جہاں جیک ایمی کے سامنے کھڑا اسے پرپوز کر رہا تھا وہ حیران کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔


"وہ مان جائے گی؟"

ارورا نے چہرہ اٹھا کر اس سے پوچھا

"وہ مان جائے گی"

داؤد نے مسکرا کر کہا


"ہاں میں تم سے شادی کروں گی۔"

جیک سے مائیک لے کر ایمی مسکرا کر بولی اس کے چہرے پر اتنے رنگ بکھر رہے تھے کہ جیک اسے دیکھ کر رہ گیا وہ بھی مسکرا رہا تھا۔


"ایک آخری ریس ہو جائے؟" 

داؤد نے سرگوشی کی

"کیوں نہیں"

انگلی سے اس کے گال کو چھوا

"کہاں پر؟"

"پاکستان"

داؤد نے اسے گول گول گھما ڈالا


جاری ہے

Comments

Popular Posts