Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Intaqaam e Junoon - Episode 3 - Urdu Novel - Heart breaking
Intqaam e junoon Episode 3
By Munaza Niaz
کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ نہ کوئی چراغ، نہ کوئی آہٹ۔ بس کبھی کبھار کھڑکی کے پار آسمان چیرتی ہوئی کڑکتی بجلی کی روشنی جو چند لمحوں کے لیے دیواروں پر ایک وحشی لرزتا ہوا سایہ پھینک دیتی
کھڑکی کے پاس ایک شخص خاموش کھڑا تھا لمبا قد، چوڑا سینہ، مگر کندھے کسی بوجھ تلے جھکے ہوئے اس کا چہرہ ساکت، جیسے پتھر تراشا ہو۔۔۔
مگر آنکھیں؟
وہ سب کہہ رہی تھیں۔۔ وہ سب جو زبان پر کبھی لایا ہی نہیں جا سکا
باہر بارش نہیں ہو رہی تھی مگر فضا بگڑی ہوئی تھی ہوا میں وہ خاموشی تھی جو طوفان سے پہلے اترتی ہے
وہ پلک جھپکائے بغیر باہر دیکھتا رہا سانسیں آہستہ آہستہ، مگر دل کی دھڑکن جیسے ہر لمحہ رکتی جا رہی ہو
بجلی ایک بار پھر چمکی اور اس روشنی میں اس کے گال پر بہتا ہوا ایک آنسو صاف نظر آی
وہ چونکا تک نہیں شاید اس لیے کہ اسے پتہ ہی نہ چلا، کہ وہ رو رہا ہے
ایک اور آنسو گرا۔۔۔ پھر ایک اور۔۔۔
جیسے برسوں کے ضبط کے بند ٹوٹنے لگے ہوں
چند لمحوں بعد وہ پلٹا قدم بھاری تھے وہ سیدھا الماری کی طرف بڑھا۔۔ دروازہ آہستہ سے کھولا اندر ہاتھ کاغذات، کپڑوں، اور پرانی فائلوں میں الجھنے لگے
اچانک ایک تصویر پھسل کر نیچے جا گر
چپ۔۔۔
یہ بس فرش سے تصویر کے ٹکرانے کی ہلکی سی آواز تھی مگر اس کے لیے جیسے وقت رک گیا
وہ جھکا اور تصویر اٹھائی اور جیسے لمحہ منجمد ہو گیا اس کی آنکھیں اس چہرے پر جمی رہ گئیں
سانس تھم گئی چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا، مگر اندر کہیں ایک طوفان چیخنے لگا تھا
اس کی سانس بھاری ہوئی اور آنسو بہنے لگے ایسے جیسے برسوں سے قید کوئی دریا آج بند توڑ کر نکل آیا ہو
اس نے تصویر واپس الماری میں رکھی
آنکھیں ہاتھ کی پشت سے رگڑیں مگر اب وہ لال تھیں صرف آنسوؤں سے نہیں، جنون سے بھی
اس نے لمبی اور گہری سانس لی اور آہستہ سے ہاتھ الماری کے اندر بڑھایا
وہاں سے ایک ریوالور نکالا سیاہ دھات بجلی کی روشنی میں چمک رہی تھی
اب اس کے چہرے پر نہ درد تھا، نہ خوف اور نہ ہی کوئی نمی بس ایک سرد جان لیوا سکون تھا
اس نے ریوالور چیک کیا اور جیب میں ڈالا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا
ہینڈل گھمایا، دروازہ آہستہ سے کھولا
اور اندھیرے میں غائب ہو گیا
☆☆☆
اس نے اپنی میٹ بلیک ہیوی بائیک ایک کونے میں پارک کی دونوں ہاتھ ہینڈل پر۔۔۔ بائیک کی ہلکی سی گونج اور گلی میں سبز اور سرخ روشنی تھی بالکل ہلکی سی
تھوڑی دیر بعد پانچ لڑکے اس کے پاس آئے مگر فاصلے پر رک گئے
" تو ہی آریان ہے نا! لگتا ہے تجھے موت سے کھیلنے کا شوق ہے اسی لیے ہمارے بھائی کو چھیڑا"
ایک لڑکا چک چک کرتے ہوئے بولا آریان نے بس ایک بار ان سب کی طرف دیکھا بائیک سے اتر کر اس نے ہیلمٹ اٹھا لیا
" بڑا ایٹیٹیوڈ ہے تجھ میں ہاں سن بے سالے وہ لڑکی صرف ہمارے ریحان بھائی کے ہے اس سے دور ہی رہنا سمجھا"
دوسرا لڑکا بولا
آریان نے گردن ایک سائیڈ پر کی
'کریک' پھر دوسری سائیڈ پر۔۔۔
" چپ کیوں ہے ب***کے کچھ بولتا کیوں نہیں"
تیسرے نے گالی دی آریان نے بنا کچھ کہے سیدھا ہیلمٹ اس کے منہ پر دے مارا وہ لڑکا سیدھا نیچے جا گرا
" ابے او۔۔۔!"
دوسرا اور پھر تیسرا اس کی طرف بڑھے آریان بنا ہوا میں اچھلے ان پر چڑھ دوڑا ایک کو اٹھا کے بائیک کے شیشے پردے مارا دوسرے کے سینے پر گھونسا۔۔۔ آواز ایسی نکلی جیسے روح قبض کی جا رہی ہو اور تیسرے کو اٹھا کر دیوار میں دے مارا
ریحان نامی لڑکا جو دیکھ رہا تھا پھرتی سے اس پر پیچھے سے حملہ کرنا چاہا مگر آریان نے اس کا گلا پکڑ لیا
" کیا بولا تھا تو ہاں ؟ چاکلیٹ شئیر کی جا سکتی ہے"
اسی طرح اسے پکڑے دیوار سے لگا دیا اس لڑکے کے پیر ہوا میں جھولنے لگے وہ پوری کوشش کر رہا تھا خود کو چھڑوانے کی مگر آریان کی گرفت کسی زخمی شیر جیسی تھی
" سن اب وہ صرف میری ہے دوبارہ اس پر نظر بھی ڈالی تو دیوار پر تمہاری فوٹو اور نیچے مسنگ لکھوا دوں گا"
اسے چھوڑ کر پوری قوت سے ہیلمٹ اس کے جبڑے پر مارا وہ لڑھک گیا
اس کا منہ کھلا اور آنکھیں بند ہو چکی تھیں آریان کی سانس بھاری اور آنکھوں کا رنگ گہرا ہو چکا تھا
وہ بنا دوسری نظر ان پر ڈالے اپنی بائیک کی طرف بڑھ گیا
☆☆☆
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے کروٹیں بدل رہی تھی مگر نیند جیسے ضد پر اتر آئی تھی کہ آئے گی ہی نہیں
جھنجلا کر وہ سیدھی ہوئی ہی تھی کہ موبائل کی ہلکی سی گھن سنائی دی اس نے چونک کر فون اٹھایا اور سکرین پر نام دیکھتے ہی ہلکی سی حیرت آنکھوں میں اتر آئی
"السلام علیکم۔۔۔آپ اس وقت؟ سب خیریت ہے نا؟"
فون کان سے لگاتے ہی اس نے آہستگی سے کہا
"وعلیکم السلام۔ ہاں سب خیریت ہے بس تم جلدی نیچے آ جاؤ، میں باہر ہوں۔"
اشعر کی گہری آواز اسپیکر میں گونجی
"کیا؟ اس وقت آپ نیچے؟ میں امی کو۔۔۔۔"
"امی کو مت جگانا، سحر! بس آج رات میرے ساتھ چلو۔"
ایک سکینڈ کا توقف، پھر فون بند
کچھ ہی لمحوں بعد وہ دبے قدموں باہر نکلی۔ گیٹ کے پاس کھڑی گاڑی کے اندر اشعر کی مسکراتی آنکھیں اسے خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ وہ گاڑی میں آ بیٹھی
"خیریت ہے؟ اس وقت کہاں لے جا رہے ہیں؟"
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
"بس۔۔۔۔ تھوڑا صبر کرو، پھر سب پتا چل جائے گا۔"
اشعر کے لبوں پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی
گاڑی ایک کشادہ لان والے گھر کے سامنے رکی۔ اشعر نے اتر کر اس کا دروازہ کھولا، اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا
"آؤ، آج تمہیں ایک خواب دکھاتا ہوں۔"
کچھ جھجھک کے بعد سحر نے ہاتھ تھاما گیٹ کھلا تو لان کے بیچ چاندنی میں نہایا گھر سامنے آ گیا۔
بائیں جانب پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، دائیں جانب نیلا سا سوئمنگ پول جس میں چاند کا عکس ہلکورے لے رہا تھا
"یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟"
وہ مدھم حیرت سے بول
"یہ جنت ہے۔۔ ہماری چھوٹی سی جنت شادی کے بعد یہ تمہارا گھر ہوگا۔"
اشعر نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیے
"سچ میں؟"
اس کی آنکھوں میں چمک ابھ
"بالکل۔"
وہ دھیرے سے مسکرایا
سحر گھر کا جائزہ لینے لگی، ہر کونے میں جیسے خواب بول رہے تھے
سویمنگ پول کے پاس پہنچ کر وہ رکی۔
"بہت خوبصورت ہے۔۔۔الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔
"خوبصورت تو تب ہوگا جب تم یہاں آ جاؤ گی۔۔۔ اور میری دنیا مکمل ہو جائے گی۔"
اشعر کی نظر اس کے چہرے پر ٹکی تھی
سحر نے نظریں جھکا کر پانی کی طرف دیکھا
"مجھے گہرے پانی سے ڈر لگتا ہے۔"
"میں ہوں تب بھی ڈر لگتا ہے؟"
اس نے ہلکے سے شرارت بھری مسکراہٹ د
"نہیں۔۔۔ بس ایسے ہی۔"
"آج یہ ڈر ختم ہو جائے گا۔"
کہہ کر اشعر نے ایک لمحے میں اس کی کمر کے گرد بازو ڈالے اور اپنے ساتھ پول میں چھلانگ لگا دی
"اشعررر!!"
اس کی چیخ پانی میں دب گئی
ٹھنڈا پانی، چاندنی، اور قریب سے گونجتی دھڑکنیں۔۔۔ سحر نے بے اختیار اس کے کندھوں کو پکڑ لیا۔
اشعر نے مسکراتے ہوئے اسے پول کی دیوار کے ساتھ لگا دیا
"اب؟ ڈر ختم ہوا یا اور قریب آنا پڑے گا؟"
اس نے شوخ لہجے میں کہا، آنکھوں میں ہلکی سی شرارت تھی
وہ تیز سانسوں کے ساتھ اس کو گھورتی رہی۔
"مجھے باہر نکالیں۔۔ فوراً۔"
"پانی ہو یا خشکی رہو گی تو میرے ساتھ ہی۔"
اس نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لیا
"اشعر، پلیز!"
لیکن اگلے ہی پل وہ اسے پول کے درمیان لے آیا وہ اس کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے ایک ڈبکی کھا گئی
بال چہرے سے چپک گئے تھے۔ اشعر نے دھیرے سے لٹیں ہٹائیں، اور ٹھوڑی اٹھا کر کہا
"جب تم پاس ہوتی ہو تو باقی سب بھول جاتا ہوں۔"
اشعر نے ایک پل کو اس کی آنکھوں میں جھانکا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی
"سحر۔۔۔"
اس نے دھیرے سے پکارہ وہ کچھ نہیں بولی
"آج تمہارا ڈر ختم کر کے رہوں گا۔"
اس کی آواز میں شرارت تھی
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی وہ اچانک اس کی کمر کے گرد مضبوطی سے بازو باندھ چکا تھا
"چھوڑیں! باہر نکالیں!"
وہ ہانپتی ہوئی بول
"چھوڑ دوں؟"
اس نے آنکھ دبا کر کہا،
"پہلے یہ دیکھ لو۔"
پھر اگلے ہی لمحے اس نے اسے بازوؤں میں جکڑ کر پانی کے اندر الٹا گھما دیا
لمحہ بھر کو سب کچھ دھندلا سا ہو گی پانی کی ٹھنڈک، چاندنی کا عکس، اور اس کے ہاتھوں کی گرفت
جب وہ دوبارہ اوپر آئی، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، بھیگی پلکوں سے قطرے گر رہے تھے
"اشعر!!"
وہ چیخی، لیکن اس کے چہرے پر وہی شرارت قائم تھی
"اب تو لگتا ہے۔۔۔ تمہارا ڈر آدھا ختم ہو گیا ہے باقی آدھا بھی کر دوں؟"
وہ مسکرا کر مزید قریب آیا، اور اس کے بالوں سے پانی کی لٹیں ہٹائیں
وہ لمحہ جیسے رک گیا تھا پھر اشعر اسے کنارے تک لایا اور پانی سے باہر نکال دیا دونوں کنارے پر بیٹھ گئے، پیر پانی میں تھے
"پتا ہے میں خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان کیوں سمجھتا ہوں؟"
اس کی نظریں گہری تھیں
"کیوں؟"
سحر نے آہستگی سے پوچھا
"کیونکہ تم میری زندگی میں ہو۔"
وہ چند پل اسے دیکھتی رہی پھر مسکرا دی
"لیکن میں آپ سے زیادہ خوش قسمت ہوں۔۔۔ کیونکہ مجھے آپ ملے ہیں۔"
چاندنی میں دونوں کی مسکراہٹیں جیسے ایک دوسرے کے وعدے لکھ رہی تھیں۔
☆☆☆
اس نے پورچ میں گاڑی روکی شیشے سے جھانکتی ایک تھکی مگر پر اعتماد مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر تھی۔
بیگ کندھے پر ڈال کر جیسے ہی لانچ میں قدم رکھا، سامنے سے رمیز آتا دکھائی دیا
وشال نے ایک نظر اس پر ڈالی اور اگلے ہی لمحے نظر پھیر کر آگے بڑھ گئی مگر رمیز نے پھرتی سے اس کی کلائی پکڑ لی
وشال کا ہاتھ ایک لمحے کو کانپا، پھر تیزی سے اپنی کلائی جھٹک کر آزاد کی
"ہاؤ ڈئیر یو! تمہارا مسئلہ کیا ہے؟"
اس کی آواز غصے سے لرز اٹھی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں
رمیز کے چہرے پر عجیب سی مکار مسکراہٹ پھیل گئی
"مسئلہ؟ تم مل جاؤ۔۔۔ تو مسئلہ خو ہی حل ہو جائے گا۔"
"اپنی یہ گھٹیا حرکتیں اپنے پاس رکھو، میرے سامنے بکواس کرنے کی ضرورت نہیں۔"
وشال کی سرد نظر اس کے چہرے پر ٹکی رہی
"وشال، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔"
رمیز کے لہجے میں مصنوعی نرمی تھی مگر اس کی آنکھوں میں اور کہانی لکھی تھی
وشال نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس کو دیکھا
"مجھے اب ہاتھ لگایا نا، تو ہاتھ توڑ دوں گی اور یہ تمہاری محبت۔۔۔ اپنے پاس ہی دفن کر دو اگلی بار ایسی حرکت کی، تو بابا کو بتا دوں گی کہ ان کا بھانجا کس طرح ان کی بیٹی کے پیچھے کتے کی طرح بھاگ رہا ہے۔"
آج وہ کئی دنوں کی برداشت کا حساب برابر کرنے کے موڈ میں تھی
"زبان سنبھال کر!"
رمیز کی آنکھوں میں خون اتر آیا
وشال ایک قدم قریب آئی، چہرہ اس کے بالکل سامنے تھا
"زبان تم سنبھالو اور یہاں سے غائب ہو جاؤ۔ اگر پھر محبت کا ایک لفظ بھی سنایا نا، تو تمہاری بقیہ زندگی تمہیں پچھتانے میں گزرے گی۔"
وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی، اس کی ہیل کی ٹک ٹک لانچ میں گونجتی گئی
رمیز نے چند لمحے اسے جاتے دیکھا، پھر غصے سے اپنا ہاتھ دیوار پر دے مارا
☆☆☆
وہ گراؤنڈ میں بیٹھی تھی، دماغ میں صرف ایک ہی چیز چل رہی تھی
تین دن بعد یونی کا میگا کنسرٹ۔
آریان ریس پر گیا ہوا تھا، اور وہ جانتی تھی کہ واپسی پر وہ سیدھا اسے ہی ڈھونڈے گا
یونی سے نکل کر وہ اس جگہ کھڑی تھی جہاں آریان اپنی بائیک روکنے والا تھا۔ دھوپ ہلکی ہلکی پڑ رہی تھی، ہوا اس کے بالوں سے کھیل رہی تھی، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی بےچینی اتر رہی تھی جیسے کوئی اسے دور سے گھور رہا ہو
اس نے مڑ کر دیکھا سب مصروف، سب عام تھا
“میرا وہم ہے شاید”
وہ بڑبڑائی
اچانک چار سائے اس کے آس پاس رکے۔ چاروں طرف سے لڑکے گھوم کر قریب آئے آنکھوں میں وہی گھٹیا چمک جو اکثر ہوتی ہے
“واہ۔۔ صاحب کی پسند تو لاجواب ہے۔”
ایک نے اسے سر سے پاؤں تک ناپا
وشال کی آنکھوں میں غصہ چمکا
“تم لوگ کون ہو؟ اور میرے راستے میں کیوں کھڑے ہو؟”
“کچھ نہیں سویٹ ہارٹ بس پاس سے دیکھنا تھا کہ اصلی میں اتنی ہی حسین ہو جتنی دور سے لگتی ہو”
اس کے لہجے میں ایسی غلاظت تھی کہ وشال کی ریڑھ کی ہڈی میں ٹھنڈ دوڑ گئی
“دفع ہو جاؤ۔۔۔ ورنہ چیخنا شروع کر دوں گی!”
اس نے دھاڑ کر کہا
وہ سب ہنس پڑے جیسے انہوں نے لطیفہ سنا ہو
وشال نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں لوگ دیکھ رہے تھے، مگر کوئی رکا نہیں تھا اس کا دل زور سے دھڑکا
"یا اللہ، آریان۔۔۔ بس اب آ جا۔"
ایک لڑکا آگے بڑھا، اس کے چہرے پر گندی سی مسکراہٹ تھی، ہاتھ وشال کے کندھے کی طرف بڑھ رہا تھا
پھٹاک!
ایک ہیلمٹ گھومتا ہوا اس کے منہ پر اس شدت سے لگا کہ وہ چیختا ہوا الٹے قدم لڑکھڑا کر گرا۔ ناک سے خون کا فوارہ پھوٹا
باقی تینوں نے چونک کر پیچھے دیکھا اور وہ لمحہ ان کے لیے آخری سکون کا لمحہ ثابت ہوا
ہیلمٹ تھامے، سیاہ بائیک، جیکٹ میں، دھوپ میں آنکھوں پر سیاہ شیشہ
آریان مراد۔
چہرے پر نہ مسکراہٹ تھی نہ غصے کی لہر بس ایک خاموش اور خطرناک سنجیدگی تھی
“بہت غلط جگہ ہاتھ ڈالا ہے۔۔”
اس کی آواز کم مگر بھاری تھی اس کی گونج سیدھی ان کے سینوں میں لگی
پھر جو ہوا، وہ کسی فائٹ شو سے کم نہ تھا ہیلمٹ، گھونسے، گھٹنے، کہنیاں
ہر وار ایسا جیسے وہ ان کا قرض اتار رہا ہو۔ چند لمحوں میں وہ سب زمین پر تڑپ رہے تھے
"وشال، تم ٹھیک ہو؟"
آریان نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
“آریان، پیچھے!”
وہ چیخی
اس نے مڑ کر دیکھا ایک لڑکا ڈنڈا لہرا رہا تھا وار آریان کے سر پر لگا
خون کی لکیر کنپٹی سے گردن تک بہہ گئی آریان نے سر پر ہاتھ رکھا انگلیوں پر گرم خون محسوس کیا اور پھر وہ رک گیا
اس لمحے اس کی آنکھوں میں ایک ٹھنڈا سا قہر اترا
ڈنڈا کھینچ کر ایسے وار کیا کہ لڑکا وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑ
وشال نے جھٹ سے اس کا بازو پکڑا “بس، میرے ساتھ چلو!”
وہ اسے یونی کے اندر کھینچ کر لے گئی
پیچھے، زمین پر کراہتا ایک لڑکا جیب سے فون نکال کر کال ملا رہا تھا
کچھ منٹ بعد، ایک سیاہ مرسڈیز کے دروازے کھلے اور دو بھاری جسم والے مرد باہر نکلے
ہجوم کو دھکیلتے ہوئے وہ زخمی لڑکوں کے پاس پہنچے اور انہیں جانوروں کی طرح گھسیٹ کر گاڑی میں تقریبا پھینک رہے تھے
☆☆
وہ بہت تیزی سے موڑ کاٹ رہا تھا کہ اچانک ایک کمزور سی عورت اس کی گاڑی کے عین سامنے آ گئی
اس نے فوراً بریک لگائی مگر ہلکی سی ٹکر بھی اس کے لیے بھاری ثابت ہوئی تھی عورت دھڑام سے گر کر بے ہوش ہو گئی
وہ فوراً گاڑی سے باہر نکلا۔ ارد گرد لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے چہ میگوئیاں، حیرت بھرے چہرے، اور کسی کی مدد کو نہ بڑھتا ہاتھ
تبھی ایک لڑکی دوائیوں کا شاپر پکڑے ہجوم کو چیرتی ہوئی بھاگتی آئی
"امی! امی۔۔۔ کیا ہوا؟ آپ آنکھیں کھولیں!"
وہ گھبراہٹ سے ماں کے پاس جھکی اسے سنبھالنے کی کوشش کرنے لگی
"یہ صرف بے ہوش ہوئی ہیں چلیں، میں مدد کر دیتا ہوں۔"
اس نے دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا انداز ایسا کہ جیسے کوئی حکم بھی دے رہا ہو اور تسلی بھی
یقیناً وہ لڑکی دوائیاں لینے سڑک پار گئی تھی، مگر اس کی ماں، شاید پریشانی یا کمزوری کے باعث، اکیلی نکل پڑی تھی
لڑکی نے ایک لمحے کو سر اٹھا کر اس اجنبی کو دیکھا پھر فوراً نظریں چرا لیں۔
اگلے ہی پل اس کی مدد سے اپنی ماں کو سنبھالا اور قریبی اسپتال کی طرف بڑھ گئی
جب تک اس کی ماں کو روم میں شفٹ نہیں کر دیا گیا وہ خاموشی سے ساتھ ساتھ رہا اس کے پاس صرف دو گھنٹے تھے، اور ایک اہم کام باقی تھا۔وہی جس کے لیے وہ نکلا تھا
مگر اس چھوٹی سی غلطی کی تلافی کرنا بھی ضروری تھا
رات کے نو بج رہے تھے وہ کوریڈور میں ایک بینچ پر بیٹھی اسی لڑکی کے پاس آیا
"آپ کی والدہ اب ٹھیک ہیں تھوڑی دیر بعد گھر لے جا سکتی ہیں ڈاکٹر سے بات کر لی ہے فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بتا دیجیے گا۔"
اس نے نظریں ملائے بغیر کہا
"بہت شکریہ۔۔۔"
اس نے آہستگی سے جواب دیا
"آپ کی فیملی میں سے کوئی نہیں آئے گا؟ میرا مطلب۔۔۔ باپ یا بھائی؟"
اس نے سوال کیا
شاید اتنی دیر ساتھ رہنے کے بعد یہ قدرتی تجسس تھا کہ کوئی رشتہ دار نظر کیوں نہیں آیا
لڑکی نے چہرہ اٹھا کر دیکھا پھر نظریں جھکا لیں
"میرا کوئی نہیں ہے میں اور امی اکیلی رہتی ہیں ابو کی وفات کو کئی سال ہو گئے بھائی بہن بھی نہیں ہیں"
وہ بس اسے دیکھتا رہا
"تو آپ اکیلی سب کچھ مینیج کر لیتی ہیں؟ گھر کا خرچہ۔۔ یہ علاج جو اتنا مہنگا ہے؟"
"میں نوکری کرتی ہوں معمولی سی ہے مگر گھر چل جاتا ہے اللہ کا شکر ہے ہم کبھی بھوکے نہیں سوئے۔ ہاں۔۔۔کبھی کبھی امی کے علاج میں سارے پیسے لگ جاتے ہیں اور فاقہ کرنا پڑتا ہے مگر شاید یہی ہماری قسمت میں لکھا ہے۔"
اس کی آواز میں سکون سا تھا جیسے کوئی غم نہ ہو یا جیسے وہ غم کو زندگی کا حصہ مان چکی ہو
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا وہ لڑکی بہت خوبصورت تھی مگر حالات نے اس کی چمک ماند کر دی تھی۔ اس لڑکی پرواہ بھی نہیں تھی اسے بس ماں کی فکر تھی جس کی سانسوں سے اس کا دن نکلتا اور جس کے وجود سے اس کی رات ہوتی
"یہ میرا کارڈ ہے اگر کوئی مسئلہ ہو تو کال کر دیجیے گا اور یہ کچھ پیسے"
اس نے اچانک جیب سے رقم نکالی اور کارڈ اس کی طرف بڑھایا
لڑکی کا چہرہ سرخ ہوا مگر کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ کہنے لگا
"پلیز یہ مت کہیے گا کہ ضرورت نہیں اور یہ بھی مت سوچیے گا کہ میں آپ کو حقیر سمجھ رہا ہوں مجھے معلوم ہے اس علاج میں لاکھوں لگتے ہیں میں بس ایک چھوٹی سی مدد کر رہا ہوں۔"
وہ سچ کہہ رہا تھا، اس لیے وہ خاموش ہو گئی
"لیکن میں یہ سب نہیں لے سکتی اگر آپ ادھار دینا چاہتے ہیں تو رکھ لوں گی، ورنہ نہیں۔"
"ٹھیک ہے۔"
اس نے بحث نہیں کی وقت کم تھا وہ تیزی سے پلٹا، اور لمبے ڈگ بھرتا ہوا ہجوم میں گم ہو گیا
بینچ پر بیٹھی وہ لڑکی بس دھندلائی آنکھوں سے اس اجنبی کو دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔
☆☆☆
"کیا ضرورت تھی اتنی لڑائی کرنے کی؟ تم انہیں ڈرا دھمکا کر بھی بھگا سکتے تھے، مگر نہیں۔۔ تمہیں تو بس ہیرو بننے کا شوق ہے تم نے تو میرے بارے میں بھی نہیں سوچا کہ میرا کیا ہوگا۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ مرے گی یا جیے گی، کیا کرے گی۔۔ لیکن تمہیں اگر میری پرواہ ہوتی، تب تم سمجھتے نا!"
وہ آنکھوں میں نمی لیے، اس کے زخمی ہاتھ پر پٹی باندھتے ہوئے بول رہی تھی، اور زبان کی تیزی ہاتھوں کی نرمی کے ساتھ چل رہی تھی
سائنس لیب خالی تھی۔ وہ دونوں کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھے تھے
آریان کے سر پر سفید پٹی بندھی ہوئ تھی، گھنے بال ماتھے پر بکھرے، اور چہرے پر وہی لاپرواہ سی مسکراہٹ جیسے اسے ذرا پروا نہیں کہ کیا ہوا ہے
"تم بہت ہی برے ہو آریان۔۔۔ہمیشہ غلط وقت پر ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہو!"
وہ پٹی باندھ کر اپنے آنسو پونچھ رہی تھی، مگر سامنے والا بس اسے دیکھے جا رہا تھا
"تو کیا میں اپنی چاکلیٹ کا ہیرو نہیں ہوں؟ کیا میں ان کتوں کو ایسے ہی جانے دیتا، جنہوں نے آریان مراد کی چاکلیٹ پر نظر رکھی تھی؟"
آخر میں وہ شوخ لہجے میں بولا
وہ جو اس کے ہونٹ کے کنارے سے خون صاف کر رہی تھی، اس کے بات پر غصے سے ٹشو اس کے ہونٹوں پر چٹکا دیا
"کیا کرتی ہو یار۔۔ تم بھی نہ، کبھی خوش نہیں رہنے دینا!"
اس نے خفگی سے اس کا ہاتھ پیچھے ہٹایا
"آرام سے بیٹھو ورنہ تھپڑ مار دوں گی!"
وشال نے گھور کر پھر سے ٹشو بڑھایا
"نہیں بیٹھوں گا آرام سے جب ظالم محبت سامنے ہو، تو کس کو سکون ہوتا ہے؟"
وہ شوخ ہوا اور ایک جھٹکے سے اس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا وہ اس کے اوپر جا گری، آریان نے دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر تھام لی اور کرسی پر پرسکون بیٹھا، اسے بس دیکھتا رہا
وشال کے بال اس کے چہرے پر بکھر گئے وہ انہیں ہٹانے کی کوشش بھی نہیں کر رہا تھا، بس اس کی آنکھوں میں ڈوبا ہوا تھا وہ پہلے گھبرائی، پھر پیچھے ہونا چاہا مگر اس کی گرفت مضبوط تھی
"آریان تم پاگل ہو گئے ہو؟ چھوڑ مجھے!"
"ہاں پچھلے چار سالوں سے پاگل ہی تو ہوں!"
اس نے اس کے تل کو دیکھا، پھر اسے شکر تھا لیب خالی تھی، ورنہ شاید وہ یہ حرکت نہ کرتا یا اگر کرتا بھی تب بھی اسے فرق نہیں پڑتا تھا
وشال کا دل دھڑکنے لگا
"آریان پلیز چھوڑ دو، کوئی آ جائے گا!"
"تو آنے دو ہم نے کون سا کسی کے پیسے چوری کیے ہیں جو اتنا ڈر رہی ہو؟"
وہ اسے مزید قریب لے آیا
"تو کیا ایسے ہی پکڑے رہو گے مجھے؟"
"نہیں۔"
کہتے ہی اس نے اس کی ٹھوڑی پر ہلکے سے لب رکھ دی
"اب اتنا بھی برا نہیں ہوں میں"
وہ ہنسا
"تم۔۔۔ تم کسی دن قتل ہو جاؤ گے میرے ہاتھوں!"
وہ تیزی سے پیچھے ہٹی
"تو کر دو قتل مرنا تو ویسے بھی تمہارے ہی ہاتھوں سے ہے، کل نہیں تو آج ہی سہی!"
وہ مزید پھیل کر بیٹھ گیا
وشال نے حیرت سے دیکھا، پھر اچانک آنکھوں میں چمک آئی اس نے آریان کو کالر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اس کے گال پر ہلکا سا لمس چھوڑا
آریان سانس روکے، آنکھیں چھوٹ کیے، بس اسے دیکھتا رہا
وہ چہرے سے بال ہٹانے لگی، تو وہ شوخی سے بولا
"اگر معلوم ہوتا کہ تم غصہ اس طرح نکالو گی، تو میں ہر تھوڑی دیر بعد تمہیں تنگ کرتا!"
وشال اچھل پڑی
"تم نے صرف میرا غصہ دیکھا ہے محبت نہیں کہو تو محبت کی جھلک بھی دکھا دوں؟"
وہ مسکرائی
"میں صدقے جاؤں اپنی چاکلیٹ کے میں تو کب سے انتظار کر رہا ہوں کہ کب تم مجھ پر اپنی حسین محبت کا جادو چلاؤ گی!"
وہ ایک قدم قریب آیا
وشال نے دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑا اپنے چہرے کے قریب
لائی، اور اگلے ہی لمحے بری طرح دانت گاڑ دیے آریان کے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی، بس خاموشی سے اسے دیکھتا رہا
وشال نے حیرت سے ہاتھ چھوڑا آریان نے گہری نگاہوں سے دیکھا، پھر اپنے ہاتھ پر لب رکھ دیے جہاں اس کے دانتوں کے نشان تھے۔۔اور ایک آنکھ مار دی
وشال سٹپٹا کر فوراً باہر بھاگی پیچھے اس نے آریان کا قہقہہ زور سنا تھا
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment