Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Intaqaam e Junoon - Episode 4 - By Munaza Niaz - Urdu Romantic Novel - Action base - Novel Addict
انتقامِ جنون
منزہ نیاز
قسط 4
"بھائی میں قسم کھا کے کہہ رہا ہوں، اگر وہ لڑکی مجھے نہ ملی تو میں سب کچھ ختم کر دوں گا"
شیرو کا لہجہ کانپتا نہیں تھا، مگر اس میں ایک جنون ضرور تھا
"کسی کو نہیں چھوڑوں گا ایک ایک کو مار ڈالوں گا چاہے زمین کھودنی پڑے یا آسمان گرانا پڑے مجھے وہ لڑکی ہر حال میں چاہیے"
وہ کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا جوتوں کی چاپ سنسان ماحول میں اور زیادہ بھاری لگ رہی تھی سامنے صوفے پر بیٹھا اس کا بڑا بھائی اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا
اس کے دماغ میں ایک ہی سوچ گونج رہی تھی اگر اس پاگل کو پتہ چل گیا کہ ہمارے اپنے آدمی اس لڑکی پر نظر رکھے ہوئے تھے۔۔۔ تو؟
وہ ایک پل اپنے چھوٹے بھائی کے چہرے پر ابلتے جنون کو دیکھتا اور اگلے لمحے کونے میں کھڑے اپنے "کتوں" کی طرف
وہ لوگ جو آج ہی موت کے منہ سے بال بال بچے تھے
"ٹھیک ہے تم فکر مت کرو"
اس کے بڑے بھائی نے گہری سانس لی اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
"میں کچھ کرتا ہوں تم بیٹھو یہاں"
پھر ہاتھ سے اشارہ کیا
"ادھر آؤ"
شیرو کی آنکھوں میں ایک عجیب وحشت تھی جیسے دنیا میں وہ ایک ہی شکار دیکھ رہا ہو اور باقی سب دھندلا ہو چکا ہو
جب وہ بیٹھ گیا تو اس کے بھائی نے اپنے آدمیوں کی طرف نظریں گاڑ دیں
آواز میں زہر گھلا ہوا تھا
"وہ لڑکی دو دن کے اندر میرے شیرو کے پاس ہونی چاہیے"
وہ آہستہ سے بولا پھر دھیرے دھیرے جھک کر غرایا
"اور سن لو اگر ذرا سی بھی غلطی کی تو تم سب کو ایسی موت ماروں گا کہ میرے کتے بھی تمہارا گوشت کھانے سے انکار کر دیں گے"
آخری الفاظ کے ساتھ اس نے انگلی ان کے چہروں کی طرف جھٹک دی
"ج۔۔۔ جی صاحب، کوئی غلطی نہیں ہوگی!"
ایک ہکلایا ماتھے پر پسینہ اتر آیا تھا
"دفع ہو جاؤ ابھی!"
اور وہ لوگ تقریباً بھاگتے ہوئے کمرے سے نکل گئے
شیرو بے چینی سے اٹھ کر بھائی کے قریب آ بیٹھا
"بھائی۔۔۔ اگر وہ لوگ لڑکی نہ لائے تو؟"
اس کا بڑا بھائی آہستہ سے ہنسا
"کیا تم نے اپنے بھائی کو پہچانا نہیں؟"
وہ دھیرے سے جھکا آنکھوں میں شیطانی چمک تھی
"میں وہ ہوں جس کا کام لاشوں پر کھڑا ہو کر مکمل ہوتا ہے اور تم کہہ رہے ہو یہ ‘چھوٹی سی خواہش’ بھی پوری نہیں کر سکتا؟"
شیرو کے ہونٹوں پر ایک بے قابو مسکراہٹ آگئی
"ہاں میں جانتا ہوں بھائی اسی لیے تو آپ سے کہہ رہا ہوں"
اس کے بڑے بھائی نے پشت سیدھی کی سگریٹ سلگایا اور دھواں اس کے چہرے کی طرف چھوڑ دیا
"دو دن۔۔۔ بس دو دن، پھر وہ لڑکی تمہارے پاس ہوگی"
اس کی بات سن کر شیرو کی آنکھوں میں ایسی چمک ابھری جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی
☆☆☆
"صاحب۔۔۔ آپ کی بیٹی کہیں نہیں ہے"
دوسری طرف سے آئی بھاری آواز میں ہچکچاہٹ تھی
"ہم نے۔۔۔ ہر جگہ تلاش کیا۔۔۔ مگر وہ نہیں ملی"
نواز ملک،، جو پہلے ہی کرسی کے کنارے پر بیٹھا ہوا تھا، یکدم سیدھا ہو کر چیخ پڑا
"کیا بکواس کر رہے ہو تم؟"
اس کے لہجے کی گرج نے کمرے کی فضا کو ہلا دیا
"میں تم سب کو جان سے مار ڈالوں گا۔۔۔ اگر میری بیٹی واپس نہ لائے! ڈھونڈ کر لاؤ۔۔۔چاہے تم سب کو مرنا ہی کیوں نہ پڑے!"
اس کے سامنے کھڑے آدمی خوف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تھے
"صاحب۔۔۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں!"
یہ سنتے ہی نواز ملک نے کال کاٹ دی اور غصے میں موبائل میز پر دے مارا
"یہ سب۔۔۔ صرف تم لوگوں کی وجہ سے ہوا ہے!"
وہ دھاڑا
"مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی اتنے لوگوں کے ہوتے ہوئے کوئی میری بیٹی کو یہاں سے کیسے لے جا سکتا ہے؟ لگتا ہے میں نے گدھوں کی فوج پال رکھی ہے!"
اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا
"صاحب ۔۔۔ ہمیں واقعی کچھ نہیں پتا۔۔۔ کہ کوئی امارہ بی بی کو کیسے لے گیا ہمیں قسم ہے کچھ نہیں پتا!"
ایک آدمی اس کے قدموں میں گر گیا اور ہاتھ جوڑ دیے
نواز ملک نے جھپٹ کر اس کا گریبان پکڑا اور ایک زوردار تھپڑ رسید کیا آدمی لڑکھڑاتا ہوا دور جا گرا
"دفع ہو جاؤ میری نظروں سے! جا کر میری بیٹی کو ڈھونڈ کر لاؤ ورنہ میں کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا!"
وہ سب بکریوں کے ریوڑ کی طرح کوٹھی سے نکل گئے
نواز ملک کا دماغ بھڑکتے الاؤ کی طرح جل رہا تھا آخر کوئی میری اکلوتی اولاد کو میری ناک کے نیچے سے کیسے لے جا سکتا ہے؟ اور کیوں؟
وہ اسی سوچ میں ڈوبا تھا کہ موبائل بج اٹھا اس نے نمبر دیکھے بغیر فون کان سے لگا لیا
"ہاں بولو! کیا ہوا؟ میری بیٹی ملی؟ کچھ پتا چلا؟"
آگے سے ایسی ہنسی گونجی جو عام نہیں تھی ایک لمحے کو نواز ملک کی رگوں میں خون ٹھنڈا پڑ گیا
"کون ہو تم؟"
اس نے دانت پیس کر پوچھا
دوسری طرف سے آواز آئی آہستہ مگر زہر سے لبریز۔۔۔
"ابھی تک نہیں پہچانا؟ کمال ہے ویسے"
نواز ملک نے غصے سے موبائل زور سے پکڑا
"بکواس بند کرو اور بتاؤ کون ہو تم اور یہ کال کیوں کی ہے؟"
اس بار فون کے اسپیکر سے ایک مدھر مگر بے حد سفاک قہقہہ پھوٹا تھا
نواز ملک کا صبر ٹوٹنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک سرسراتی ہوئی آواز اس کے کان کے اندر اتر گئی
"اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیٹی کے ساتھ وہ سب کچھ نہ ہو جو کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی کے ساتھ ہوا تھا"
آواز لمحہ بھر رکی پھر مزید ٹھنڈی اور کاٹ دار ہو گئی
"تو شرافت سے وہاں پہنچ جاؤ جہاں میں کہوں گا اور سن اگر تم نے اپنے کتوں کو ساتھ لانے کی کوشش کی تو تمہاری بیٹی کی ادھڑی ہوئی لاش ملے گی۔"
اس کے بعد ایک ہلکی سی کلک ہوئی اور لائن مردہ ہو گئی
نواز ملک کے ہاتھ سے فون نیچے گر گیا
☆☆☆
"پاپا۔۔۔ آج میں تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گی یونی میں میرا کنسرٹ ہے"
وشال نے ناشتے کی میز پر آتے ہی جھک کر اپنے پاپا کا گال چوما پھر کرسی گھسیٹ کر ان کے برابر بیٹھ گئی
اس کے پاپا نے مسکرا کر وشال کو دیکھا اور دوبارہ ناشتہ کرنے لگے
"ٹھیک ہے بیٹا مگر خیال رکھنا آج کل شہر کے حالات اچھے نہیں جلدی واپس آنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔"
ان کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ شازمہ پھوپھو نے فوراً تیز لہجے میں مداخلت کی
"ارے بھائی! صاحب لڑکی ہے یہ۔۔۔۔ اس کو اتنی چھوٹ مت دیا کریں کل کو کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو کیا منہ دکھائیں گے؟ اور ویسے بھی، مجال ہے جو کبھی اس کو گھر میں دو گھڑی بیٹھے دیکھا ہو!"
انہوں نے نخوت سے چائے کپ میں انڈیلی
وشال کا کافی کی طرف بڑھتا ہاتھ رک گیا۔ میز پر ایک پل کو خاموشی چھا گئی
اسفند، جو وشال سے دو سال بڑا تھا حیرت سے اپنی پھوپھو اور پھر پاپا کی طرف دیکھنے لگا
میز پر باقی دونوں بڑے بھائی بھی موجود تھے، دونوں شادی شدہ تھے اس کی بھابھیاں ناشتہ رکھتے ہوئے لمحہ بھر کے لیے ٹھٹک گئیں
"مجھے پتا ہے میری بیٹی کیسی ہے میں اسے خود سے بھی زیادہ جانتا ہوں اس کی ماں نہیں ہے تو کیا۔۔۔۔ اس کا باپ ابھی زندہ ہے جو اس سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں بہتر یہ ہے کہ تم اپنے بیٹے پر دھیان دو۔۔۔ جسے آج تک کوئی ڈھنگ کی نوکری تو ملی نہیں"
پاپا نے سکون سے کہا
یہ سنتے ہی رمیز، جو چپ چاپ وشال کو طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ گھور رہا تھا سیدھا ہو بیٹھا
شازمہ پھوپھو کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا
"کیا کہا آپ نے؟ مطلب میں اور رمیز آپ پر بوجھ ہیں؟ نوکری کا طعنہ بھی دے مارا! ٹھیک ہے۔۔۔ جیسے ہی میرے رمیز کو نوکری ملی۔۔ میں یہ گھر چھوڑ دوں گی۔۔۔۔ کاش پہلے پتہ ہوتا کہ آپ ہمیں ایسے دیکھتے ہیں تو یہاں ایک پل نہ ٹکتی!"
وہ منہ میں دوپٹہ ٹھونسے رو پڑیں
"شازمہ! ڈرامہ بند کرو میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر تمہارا بیٹا یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا تو کوئی بھی اپنی بیٹی اسے نہیں دے گا۔"
پھر سب کو ناشتہ کرنے کا اشارہ کیا
"کیوں نہیں دے گا؟ میرا بیٹا کوئی گرا پڑا ہے؟"
"امی، پلیز۔۔ چپ ہو جائیں۔"
رمیز نے فوراً انہیں ٹوکا ورنہ وہ کہاں چپ ہونے والی تھیں
"ہاں ہاں، بس مجھ پر ہی زور چلتا ہے تمہارا تم بھی ناشتہ کرو اور کوئی کام ڈھونڈو ورنہ پتہ نہیں کب در بدر ہو جائیں!"
میز پر خاموشی گہری ہو گئی صرف شازمہ کی کاٹ دار آواز گونج رہی تھی
وشال کے ذہن میں ایک تلخ احساس ابھرا اسے اب سمجھ آئی پھوپھو کے طلاق لینے کی وجہ۔۔۔ یہ زبان جو بس زہر اگلتی ہے
اکیس سال سے وہ اسی گھر میں تھیں رمیز اس وقت آٹھ سال کا تھا جب ماں کے ساتھ یہاں آیا وشال کی ماں کا انتقال اس سے ایک سال پہلے ہی ہو چکا تھا تب وہ صرف دو سال کی تھی
وشال اٹھ کھڑی ہوئی
"بابا، میں چلتی ہوں لیٹ ہو رہا ہے"
"ناشتہ تو پورا کر لو بیٹا"
"پھوپھو نے ناشتہ کروا دیا ہے شکریہ بس کافی ہو گیا"
وہ بیگ اٹھا کر تیزی سے پورچ کی طرف نکل گئی
پیچھے شازمہ کی ایک لمبی "ہوں!" کمرے میں گونجی
اور رمیز کے ہونٹوں پر ایک کمینی مسکراہٹ کھیلنے لگی
کوئی دے یا نہ دے آپ اپنی بیٹی مجھے ہی دیں گے ماموں جان۔
☆☆☆
نواز ملک جہاں پہنچا وہ ایک سنسان علاقہ تھا ہوا میں عجیب سا بوجھل سکوت چھایا تھا جیسے یہاں کئی برسوں سے کوئی ذی روح نہ آیا ہو
سامنے ایک بوسیدہ دو منزلہ عمارت کھڑی تھی اس کی کھڑکیوں سے ٹوٹے ہوئے شیشے ایسے جھانک رہے تھے جیسے اندھیرے میں کسی مردہ آنکھ کے خلا ہوں
نواز ملک دھڑکتے دل کے ساتھ اندر بڑھا ہر قدم پر فرش کی لکڑی چیختی اور ہوا میں زنگ کی بو گھلتی جا رہی تھی
ایک کمرے کے دروازے سے ہلکی سی چرچراہٹ آئی
اندر گھپ اندھیرا تھا مگر ایک کونے سے زنجیروں کی کھنکھناہٹ سنائی دے رہی تھی
اس نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا اس کی بیٹی امارہ کونے میں بیٹھی تھی
بال الجھے ہوئے تھے چہرہ مٹی اور آنسوؤں سے لتھڑا ہوا کپڑوں پر خون اور مٹی کے دھبے
اس کی سوجی ہوئی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے
"امارہ!"
نواز ملک آگے بڑھا مگر اچانک کسی بھاری زنجیر نے اس کا راستہ روک لیا
سائے سے ایک لمبا وجود نکلا وہی شخص جس کی آواز فون پر سنی تھی
"آہ۔۔۔ نواز ملک آخر آ ہی گئے"
وہ دھیرے دھیرے قدم رکھتے ہوئے آگے آیا
"میری بیٹی کو چھوڑ دے ورنہ"
"ورنہ کیا؟"
اس نے قہقہہ لگایا پھر آہستگی سے امارہ کی ٹھوڑی کو پکڑا اور اس کا چہرہ نواز ملک کی طرف موڑ دیا
"یہ چہرہ۔۔ یہ خوف۔۔۔ یہ بے بسی۔۔۔کیا تم جانتے ہو میں نے اس کی آنکھوں میں وہی خوف دیکھ لیا ہے جو تم نے سالوں پہلے میری محبت کی آنکھوں میں ڈالا تھا؟"
نواز ملک کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا
"حرامزادے! ہاتھ ہٹا اس سے!"
اچانک دو آدمی سائے سے نکلے اور نواز ملک کو دھکا دے کر گھٹنوں کے بل زمین پر گرا دیا
اس کے چہرے سے خون ٹپکنے لگا مگر وہ اب بھی چیخ رہا تھا
"میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں!"
وہ شخص اس کے سامنے بیٹھ گیا آہستگی سے جیب سے ایک پرانا خنجر نکالا جس کے کنارے زنگ آلود تھے۔۔۔
اس نے خنجر کی دھار نواز ملک کے گال پر ہلکی سی چیر دی
"یہ محض شروعات ہے میں چاہتا ہوں کہ تم مرنے سے پہلے وہی درد چکھو جو میں نے سالوں سہا"
نواز ملک کے بازو پیچھے موڑ دیے گئے اس کے گھٹنے پر ایک بھاری لاٹھی ماری گئی
ٹک۔۔۔۔ ہڈی ٹوٹنے کی آواز گونجی
وہ درد سے چیخ اٹھا مگر اپنی بیٹی کو دیکھ کر دانت پیس لیے جیسے آنسو روک رہا ہو
"دیکھ رہے ہو تمہاری بیٹی کی آنکھوں میں وہ نمی؟ یہ ابھی خوف ہےکچھ دیر میں یہ نفرت بن جائے گی"
اس شخص نے یہ کہہ کر امارہ کے بال پکڑ کر اس کے چہرے پر ایک گندا کپڑا پھیرا جیسے اس کے وجود کو مزید توڑ دینا چاہتا ہو
کمرے میں زنجیروں کی آواز اور نواز ملک کی دبی ہوئی کراہیں گونجنے لگیں
" چھوڑ دے اس کو"
نواز ملک بے بسی سے چلایا
وہ شخص آہستہ سے اٹھا اپنی جیکٹ سے گن نکالی اور مسکرایا
"اب حساب ختم کرنے کا وقت ہے"
"تو نے یہ سب کیوں کیا؟ اس نے تیرا کیا بگاڑا ہے؟"
نواز ملک کے آنسو بہہ نکلے
اگلے ہی لمحے نواز ملک کی گردن اس کے دونوں ہاتھوں میں جکڑ لی گئی
"کیا بگاڑا تھا۔۔؟"
اس کی آنکھیں سرخ ہوئیں
"میرا سب کچھ جلا ڈالا مجھے زندہ لاش بنا دیا میری محبت کو اس بے رحمی سے مار دیا تم نے۔۔۔۔ اسے اتنی بے رحمی سے مارا کہ میری روح سڑ گئی اور تم پوچھ رہے ہو کیوں؟"
اس کا ہاتھ نواز ملک کی گردن پر مزید کسا
نواز ملک کا سانس گھٹنے لگا آنکھیں باہر کو ابھر آئیں
کلاک۔۔۔۔
نواز ملک کی آنکھ پر گن کی نال ٹکا دی
"مرنے کے بعد سوچتے رہنا کہ یہ سب کیوں ہوا"
اس نے ٹریگر دبا دیا
گولی آنکھ پھاڑتی ہوئی دماغ کے پار نکل گئی خون کا ایک گرم فوارہ سائے کے گالوں تک جا پہنچا وہ پلک بھی نہ جھپکا
دوسری آنکھ پر گن رکھی ایک اور دھماکہ ہوا نواز ملک کا جسم جھٹکے سے لرز کر نیم مردہ فرش پر گر گیا
مگر وہ ابھی بھی نہیں رکا اس نے باقی کی تمام گولیاں بھی اس کے سینے پیٹ، گردن اور بازوؤں میں اتار دیں یہاں تک کہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آواز اندھیرے میں گونج اٹھی اس کی بیٹی کی چیخیں کمرے میں گونج گئیں اگلے پل وہ ایک طرف لڑھک گئی
چند لمحے وہ یوں ہی کھڑا رہا سانس پھولتی ہوئی تھی جیسے اس کے اندر کا جنون ابھی مکمل نہ ہوا ہو
"اس لڑکی کو صحیح سلامت اس کے گھر پہنچا دو اور یاد رکھو اس کا سایہ بھی تمہاری حفاظت میں رہے گا۔"
اس نے اپنے آدمیوں کو کہا اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے
☆☆☆
جب وہ یونی پہنچی تو آریان اس کا گٹار تھامے اسی کا انتظار کر رہا تھا وہ سیدھا اس کے پاس پہنچی
"اکثر تم مجھے کہتی ہو کہ میں ہمیشہ لیٹ آتا ہوں۔۔۔ یا پھر تم ہی شاید جلدی پہنچ جاتی ہو خیر، جو بھی ہو۔۔ آج میری چاکلیٹ کیوں لیٹ آئی ہے؟ "
وہ اس کے بولنے سے پہلے ہی بول پڑا لہجے میں شوخی مگر نظریں جیسے اس کی ہر سانس گن رہی ہوں
وشال نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے اسے دیکھتی رہی اگلے ہی پل اس کی آنکھوں میں نمکین پانی تیرنے لگا، جو گال پر سے پھسلتا ہوا کسی بےکار شے کی طرح زمین پر گر گیا
آریان، جو ابھی لمحہ بھر پہلے اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا یکدم سنجیدہ ہو گیا
"وشہ۔۔۔ کیا ہوا؟ روک کیوں رہی ہو؟"
اس کی آواز میں اب بےچینی کھل کر محسوس ہو رہی تھی
"کچھ نہیں ہوا۔"
وشال نے جلدی سے آنکھیں صاف کیں
"مجھ سے جھوٹ مت بولو بتاؤ مجھے کسی نے کچھ کہا ہے؟"
اس نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا، جیسے ایک پل میں سب کچھ جان لینا چاہتا ہو
وشال نے ہولے سے سر اثبات میں ہلایا اور آنسو ایک مرتبہ پھر لڑھک گئے
"تو پھر تم نے گولی کیوں نہیں مار دی۔۔۔ یا کم از کم زہر ہی پلا دیتی"
آریان کے لہجے میں ہلکی سی شوخی تھی مگر آنکھوں میں صرف پریشانی
"میں دونوں کام ہی نہیں کر سکی کیونکہ وہ پھپھو تھی"
وہ روتے ہوئے بولی
وشال ایسی نہیں تھی کہ ہر کسی کی بات دل پر لگا لے مگر شازمہ پھپھو کی باتیں ہی ایسی تھیں کہ اس کا دل چیر کے رکھ دیتی تھیں اور آریان ہی ایک تھا جس کے سامنے وہ اپنا دل کھول سکتی تھی
"پہلی لڑکی دیکھی ہے جو پھپھو کی بات پر رو رہی ہے تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا نا۔۔۔ تو یقین مانو پھپھو میڈم رو رہی ہوتیں۔۔۔ افسوس ہوا سن کر۔"
آریان نے گھور کر کہا
وشال ہنستے ہوئے رو دی
آریان نے گہری سانس لی۔۔۔۔
"چلو تمہاری اس پھپھو کا علاج بھی کریں گے لیکن اس سے پہلے ادھر آؤ مجھے گانا سناؤ ۔۔۔ دیکھنا چاہتا ہوں میری چاکلیٹ کی تیاری کتنی ہوئی ہے۔"
وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے گراؤنڈ میں لے آیا وہاں سب لوگ ایکسائٹڈ تھے وشال نے اس کی طرف دیکھا پھر بنا کچھ کہے اس کے ساتھ بیٹھ گئی
وہ آریان کو کبھی انکار نہیں کر سکتی تھی
آریان نے اس کا گٹار خود تھام لیا وشال نے ٹھنڈی سانس بھری چہرہ صاف کیا اور پھر اس کی طرف دیکھا آریان مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ایک ایسی مسکراہٹ جو سیدھا اس کا دل دھڑکا دیتی تھی
میں جو بھی ہوں
تم ہی تو ہو
مجھے تم سے ملی
اپنی ادا
وشال کی آواز ہلکی سی لرز گئی اس کے گلے میں آنسوؤں کا پھندہ پھنس گیا آریان نے غور سے اسے دیکھا پھر اردگرد کھڑے اسٹوڈنٹس کو اور دوبارہ وشال کی طرف
کیونکہ تم ہی ہو
اب تم ہی ہو
زندگی اب تم ہی ہو
چین بھی، میرا درد بھی
میری عاشقی اب تم ہی ہو
آریان گا کر رکا اس کی نظریں سیدھی وشال پر تھیں کچھ لڑکیاں اس کے پاس مکھیوں کی طرح آ گئیں
وشال نے پھر گایا
تم ہی ہو، تم ہی ہو
عرض بھی میرا، فرض بھی
چین بھی میرا، درد بھی
میری عاشقی اب تم ہی ہو
ارد گرد کھڑے اسٹوڈنٹس نے زور دار تالیاں بجائیں
"یار وشال، تم کتنا خوبصورت گاتی ہو۔۔۔ دل کرتا ہے بس تمہیں سنتے جائیں۔"
ایک لڑکا بولا
"اور آریان۔۔۔ تم بھی کمال گاتے ہو ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا تم دونوں کی آواز سن کر مزہ آ گیا۔"
دوسرا لڑکا جذباتی لہجے میں بولا
آریان نے وشال کو دیکھا پھر ان کی بات پر بس ہلکا سا مسکرایا
"آریان! میرے لیے بھی گاؤ نا!"
ایک لڑکی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی
"سوری۔۔۔میں بہنوں کے لیے نہیں گاتا۔"
اس کی بات پر سب ہنس پڑے
"تو پھر دوسری بیوی سمجھ کر ہی گانا سنا دو میں برا نہیں مناؤں گی!"
وہ لڑکی شکل سے ہی ڈھیٹ لگ رہی تھی اور تیز بھی
"پہلی بات میری شادی نہیں ہوئی دوسری بات اگر ہوئی بھی۔۔۔ اور میں پہلی کے ہوتے دوسری لے آیا تو پھر پہلی والی دوسری کی وہ حالت کرے گی کہ دوسری سوچے گی کاش میں کنواری ہی رہتی۔"
وہ کھڑا ہوا اور اپنا ہاتھ وشال کی طرف بڑھا دیا وشال نے خاموشی سے تھام لیا
"تو کیا ہوا تمہارے لیے تو کوئی بھی لڑکی پھانسی پر بھی چڑھ سکتی ہے"
وہ بھی ساتھ کھڑی ہوئی
"تو چڑھ جائیں۔۔۔کس نے روکا ہے"
وہ اسے لاجواب کرتا ہوا وشال کو لے کر ہجوم سے نکل گیا
پیچھے وہ لڑکی حیرت سے دیکھتی رہ گئی
"یار کیا بندہ ہے یہ۔۔ مجھے تو نہیں لگتا تمہاری دال یہاں گلے گی۔"
ایک لڑکی نے مسکرا کر کہا لہجہ خاصا جلانے والا تھا
اس لڑکی نے سر جھٹکا اور آگے بڑھ گئی مجمع چھٹ گیا اب انہیں رات کا انتظار تھا
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment