Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Intaqaam e Junoon - Episode 5 - by Munaza Niaz - Urdu novel - Romantic & Action base story


Intqaam e junoon Episode 5

By Munaza Niaz 

"تم نے دیکھا نہیں وہ کس طرح بات کر رہی تھی؟"

وشال غصے میں تیز تیز قدم بڑھا رہی تھی 

"پتہ نہیں خود کو سمجھتی کیا ہے؟ آخر مسئلہ کیا ہے ان سب کا؟"

آریان اس کے برابر چل رہا تھا چہرے پر سنجیدگی لیکن آنکھوں میں ہلکی سی مسکراہٹ چھپی ہوئی تھی


"یار۔۔۔ میں بھی نہیں جانتا کہ وہ سب کیا چاہتی ہیں اور بتاتی بھی تو نہیں ہیں نا۔"

وشال ایک دم رک گئی۔ اسے ایسے گھورا جیسے ساری غلطی اسی کی ہو۔

"پتہ نہیں ساری لڑکیاں تمہارے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہیں!"

آریان کے لبوں پر شوخ مسکراہٹ آگئی

"اتنا ہاٹ اور ہینڈسم ہوں نا تو وہ لڑکیاں مریں گی نہیں تو کیا کریں گی؟"

وشال کے ہونٹ سختی سے بھنچے

"مر ہی جائیں جو تم پر مرتی ہیں!"

اگلے ہی لمحے آریان کی آواز کڑک کر اٹھی تھی

"وشال!"

وہ چونکی کیونکہ آریان کا لہجہ پہلی بار اتنا سخت تھا

"خبردار، جو یہ بات دوبارہ کہی!"

وشال کی پلکیں جھپکیں اس کا دل عجیب سا بھاری ہو گیا

"میں نے آخر ایسا کیا کہہ دیا جو تم مجھ پر اس طرح چلانے لگے؟"

آریان ایک قدم آگے آیا نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں

"تمہیں اندازہ بھی ہے کہ ابھی کیا کہا؟ سوچ بھی کیسے لیا تم نے۔۔۔جانتی بھی ہو۔۔۔؟"

وہ کہنا چاہتا تھا کہ وہی تو ہے جو آریان مراد سے حد سے زیادہ محبت کرتی ہے، اور وہ مرنے کی بات کر گئی تھی لیکن الفاظ گلے میں اٹک گئے۔ وشال نے تھوڑا سا منہ پھیر کر کہا "صحیح ہی تو کہا ہے میں نے جھوٹ تو نہیں بولا۔"

آریان نے ایک دم اپنی انگلی اس کے لبوں پر رکھ دی

"خاموش۔۔۔ ابھی کچھ نہیں سننا چاہتا۔"

وہ پلٹا ہی تھا کہ ایک لڑکی سامنے سے آکر اس کے کندھے سے زور سے ٹکرائی تھی۔

"آریان! آئی ایم سو سوری، میں دیکھ نہیں پائی تم ٹھیک ہو نا؟"

وہ لپک کر قریب ہوئی ہی تھی کہ وشال نے اس کی اونچی پونی اپنی طرف کھینچی، اور اگلے ہی لمحے ایک کرارا تھپڑ اس کے گال پر بجا تھا۔ لڑکی لڑکھڑا کر پیچھے ہوئی

"دفع ہو جاؤ یہاں سے، ورنہ حشر بگاڑ دوں گی تمہارا!"

آریان ابھی تک حیرت سے وشال کو دیکھ رہا تھا اسے کیا ہو گیا تھا آج؟ اتنی ہائپر اور دکھی کیوں تھی؟ لڑکی پلٹ کر وشال کی طرف بڑھی لیکن اس سے پہلے ہی آریان دونوں کے بیچ آ گیا


"چلی جاؤ۔۔۔ورنہ میری چاکلیٹ کے ہاتھوں بے موت ماری جاؤ گی۔"

وہ پیر پٹختی وہاں سے نکل گئی۔ آریان نے وشال کی آنکھوں میں دیکھا


"اچھا، سوری۔۔۔ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔ تم رو تو نہیں رہی نا؟"

وشال نے پانی بھری آنکھوں کے ساتھ رخ موڑ لیا


"نہیں چاہیے تمہارا سوری۔۔۔تم بھی چلے جاؤ یہاں سے۔"

آریان نے اس کا بازو تھام لیا


"جہاں بھی جاؤں گا۔۔۔ واپس تمہارے پاس ہی آؤں گا۔ خود بتاؤ، کوئی ایسی جگہ ہے جہاں میں تمہیں چھوڑ کے جا سکوں؟"

"پلیز آریان، مت روکو!"

اس نے جھٹکے سے بازو چھڑوایا۔ آریان نے ہاتھ پیچھے کر لیا


"ٹھیک ہے۔۔۔ چلی جاؤ۔ لیکن پھر دوبارہ میرے پاس مت آنا۔"


وشال کے قدم ایک دم رک گئے وہ مڑی، آنکھوں میں خفگی تھی۔

"تم اتنے بے رحم تو نہیں تھے!"


آریان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، لیکن لہجہ ابھی بھی بھاری تھا


"اپنی محبت کے لیے۔۔۔ انسان کو اتنا بے رحم تو ہونا ہی پڑتا ہے۔"

وشال کی آنکھوں میں چمک اور غصہ دونوں آگئے


"تم بہت برے انسان ہو آریان۔۔۔ میری سوچ سے بھی زیادہ برے!"

آریان نے ایک پل اسے دیکھا پھر دھیرے سے مسکرا دیا


"لیکن تم سے زیادہ برا نہیں ہوں۔"

وہ مسکرایا اور وشال کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی


☆☆☆


"نواز ملک۔۔۔ مر گیا؟"

ابراہیم قیانی کی آواز میں حیرت اور خوف ایک ساتھ لرزے تھے

"کیسے؟ کس نے اتنی بے رحمی سے مار ڈالا؟ یقین نہیں آ رہا اور قاتل نے کوئی ثبوت کوئی نشان تک نہیں چھوڑا۔"


وہ پل بھرتا جیسے اپنی ہی بات پر یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہو

"مجھے تو اس کی لاش تک دیکھنے نہیں دی گئی!"


اس کے الفاظ اسپیکر پر گونجے اور دوسری طرف ارقم کے چہرے کی رگیں پھڑک اٹھیں خون ابل رہا تھا

"دیکھو، میں ابھی واپس نہیں آ سکتا۔" ارقم کی آواز ٹھنڈی مگر خطرناک تھی 


"یہاں بہت سے کام نپٹانے ہیں لیکن تم فکر مت کرو میں جلد واپس آؤں گا اور پتہ لگاؤں گا۔۔ کون ہے جس نے ہمارے اتنے اہم بندے کو مارا۔"


ایک لمحے کے توقف کے بعد اس کا لہجہ مزید نیچے گرا۔ جیسے کسی اندھی کھائی میں ڈوب رہا ہو۔


"اگر اس نے ہمارے کام میں ذرا سا بھی خلل ڈالا۔۔ تو نقصان اتنا بھاری ہوگا کہ سنبھال نہ سکو گے۔"

اچانک ارقم نے سوال بدلا تھا


"اور ہاں۔۔ اس انسپیکٹر کا کیا سین ہے؟"

ابراہیم نے گہری سانس لی


"میرے بندوں کی نظر اسی پر ہے وہی نواز کا کیس دیکھ رہا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس کے پیچھے ہے۔ وہ ایک عام پولیس آفیسر ہے۔ اور اب تمہیں جیل سے رہا ہوئے چھ ماہ ہو چکے ہیں اگر اس نے کچھ کرنا ہوتا تو کب کا کر چکا ہوتا۔"

ارقم کے ماتھے کی نس پھڑکی اس نے سوچتے ہوئے ماتھا مسلا، پھر کال کاٹ دی 


ابراہیم نے موبائل نیچے رکھا تو ایک اور سوچ نے سر اٹھایا قیصر کو بھی اطلاع دے؟ لیکن اس کا فون پچھلے دو دن سے بند جا رہا تھا ایک سرد لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اتر گئی۔ آخر یہ سب ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟


☆☆☆


"میری دلہن کیسی ہے؟"

فون پر اشعر کی شوخ چھیڑتی ہوئی آواز گونجی۔ سحر نے ذرا سا چونک کر مسکراتے ہوئے کہا۔

"ویسے ہی۔۔۔ جیسے پہلے تھی۔"

"یعنی ڈرپوک!"

اشعر کے قہقہے میں شرارت صاف سنائی دے رہی تھی

"جی نہیں!" 

وہ منہ بنا کر بولی 

"میں ڈرپوک نہیں ہوں آپ تو ایک بات کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں۔"

"تو پھر کیا کروں؟ یہ بات مجھے بھولتی ہی نہیں۔" 

اس کی آواز میں ہنسی رقص کر رہی تھی

"چلو خیر۔۔۔ اگر ڈر ابھی ختم نہیں ہوا تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں ختم کرنے کے۔"

وہ ہلکا سا رکا پھر شرارت سے بولا 

"اب کیا ہر رات تمہیں سوئمنگ پول میں ڈبکیاں تھوڑی لگواتا رہوں گا؟"


"ہمت بھی نہیں ہے آپ میں! کیونکہ میں اب ڈرتی نہیں میرا سارا ڈر اسی دن ختم ہو گیا تھا۔"

وہ خفگی اور نرمی کے بیچ بیڈ پر لیٹ گئی۔ اس کے کانوں میں پھر اشعر کا مدھر قہقہہ گونجا


"اچھا مطلب اب مجھے تمہیں پکڑنے کا بہانہ بھی نہیں ملے گا؟" 

وہ شوخی سے بولا 

"یہ تو اچھا نہیں ہوا آخر میں تم سے دور کیسے رہ سکتا ہوں!"

سحر کے گالوں پر ہلکی سی لالی دوڑ گئی اسی لمحے اس کے ذہن میں وہ پھول اور وہ چٹ کا منظر بجلی کی طرح لپکا

"اشعر مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا۔"

وہ یکدم سیدھی ہو کر بیٹھ گئی

اشعر کا لہجہ فورا بدل گیا

"ہاں بولو کیا بات ہے؟"

"نہیں۔۔۔کچھ نہیں بس ایسے ہی۔"


اس نے ہچکچاتے ہوئے الفاظ نگل لیے پہلے ارادہ کیا کہ پوچھ لے پھر دل نے کہا کیا پتا وہ بس تنگ کر رہا ہو؟ اس نے بات وہیں ختم کر دی

"دیکھو۔۔۔اگر کوئی مسئلہ یا پریشانی ہے تو بلا جھجک بتا دینا۔"

اشعر نے سنجیدگی دے کہا۔ پولیس میں سالوں گزارنے کے بعد وہ آدھی ادھوری بات ہضم کرنے والا آدمی نہیں تھا


"ایسا کچھ بھی نہیں ہے آپ فکر نہ کریں اگر کچھ ہوا۔۔۔تو سب سے پہلے آپ کو ہی بتاؤں گی۔"

سحر نے مسکرا کر کہا۔ اشعر نے مزید کریدنا مناسب نہیں سمجھا۔ ان کی گفتگو مہندی کی تیاریوں پر مڑ گئی آج رات مہندی تھی اور کل بارات تھی۔ خوشیوں کے رنگ گہرے ہو رہے تھے


لیکن انہیں خبر نہیں تھی کہ ان کی اس چھوٹی سی جنت کے دروازے پر ایک طوفان پہلے سے دستک دے رہا تھا


☆☆☆


وہ ہاسپٹل کے ٹھنڈی بینچ پر بیٹھی تھی۔ سر جھکائے۔ انگلیوں میں وہ کارڈ دبائے ہوئے جو ایک اجنبی نے اسے دیا تھا۔ سفید روشنی کے نیچے اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا


ماں کی حالت اچانک اتنی بگڑ گئی تھی کہ انہیں فوراً آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا دل کی دھڑکنیں مانیٹر کی بیپ کے ساتھ بےترتیب چل رہی تھیں اور اس کی اپنی دھڑکن بھی. آنکھوں سے نکلنے والے آنسو ہاتھوں پر گرتے رہے


پیسے ختم ہو چکے تھے اور امید بھی

وہ سوچتی رہی کہ کروں تو کیا کروں؟

نظریں کارڈ پر جمی تھیں 


اس شخص کو کال کروں یا نہیں؟

وہ کہہ تو گیا تھا "کبھی ضرورت ہو تو بلا جھجک کہنا" لیکن۔۔۔ وہ کیسے دوبارہ پیسے مانگے اس آدمی سے جس نے پہلے ہی ایک بڑی رقم قرض دی تھی؟

اس نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ قرض کا بوجھ اتنا بڑھ جائے کہ اتار ہی نہ سکے لیکن۔۔۔۔

اگلا خیال آنے سے پہلے ہی آنکھیں بھیگ گئیں


"ٹھیک ہے۔۔۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی"  

اس نے خود کو بہلایا دل دھڑک رہا تھا ہاتھ کانپ رہے تھے پھر بھی اس نے نمبر ڈائل کر دیا


دو بار، تین بار۔۔۔ کال بجی مگر کسی نے نہیں اٹھایا


اس نے مایوسی سے فون گود میں رکھ دیا ابھی وہ اگلا قدم سوچ ہی رہی تھی کہ فون کی اسکرین روشنی سے چمکی نمبر دیکھتے ہی وہ چونکی ہاتھ فوراً ریسیو بٹن پر گیا

"کون ہے؟"

دوسری طرف ایک بھاری، سنجیدہ آواز آئی

"م۔۔۔میں۔۔"

لفظ گلے میں اٹک گئے آنسو نے باقی بات روک دی

"میں کون؟"

لہجے میں ناسمجھی تھی

"جی۔۔میں وہی ہوں۔۔۔جس کی آپ نے مدد کی تھی۔۔۔ ہاسپٹل میں۔۔ امی کو پہنچانے میں۔۔۔"


"اوکے۔۔ بولیے، میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟"

وہ اب بھی اس کا نام نہیں جانتی تھی، اور وہ اب تک اس کا نام نہیں پوچھ پایا تھا


"میری امی۔۔۔ آئی سی یو میں ہیں میرے پاس پیسے نہیں ہیں امی کی وجہ سے میں کام پر بھی نہیں جا سکی۔۔ اور اب۔۔۔"

اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ شخص بیچ میں بولا


"زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے بس یہ بتائیں آپ کہاں ہیں کون سا ہاسپٹل؟"


اس نے پتہ بتایا

"اوکے میں بس تھوڑی دیر میں پہنچتا ہوں۔"

کال کٹ گئی۔ وہ بیٹھی رہی لمحہ بھر کے لیے خالی نگاہوں سے دروازے کو دیکھتی ہوئی۔ پھر دھیرے سے اس نے آنسو صاف کر لیے


☆☆☆


ہوائیں ٹھنڈی تھیں لیکن آڈیٹوریم کے اندر جوش کا درجہ حرارت سو درجے سے اوپر جا چکا تھا اسٹوڈنٹس کی پرجوش چیئرنگ موبائل کیمروں کی چمک اور نیون لائٹ اسٹکس کا جادو۔ سب ایک ہی پل کے انتظار میں تھے وشال کا اسٹیج پر آنا۔۔۔


اسٹیج کے عین وسط میں سنہری اسپاٹ لائٹس کی تیز کرنیں جمی ہوئی تھیں۔ ایم سی نے مائیک پر جوش بھری آواز میں اعلان کیا


"اور اب وہ آواز جس کا آپ سب کو انتظار تھا اس شام کا دل وشال کو خوش آمدید!"

جیسے ہی نرم پیانو کی دھن بجی پردے کے پیچھے سے وشال نے قدم آگے بڑھائے 


کالی سیکوئنز کی لمبی سلٹ والی گاؤن، چمکتے سلور اسٹیلٹوز، اور ڈھیلے ڈھالے کرلز جو شانوں پر بکھرے ہوئے روشنی پکڑ رہے تھے


میک اپ سوفٹ گلیمر۔ آنکھوں میں وہ خطرناک چمک جو پہلی نظر میں ہی سامعین کو بے بس کر دے


ہال میں شور اٹھا 

"وووووہوووو!"

لائٹس نے ایک آہستہ سا چکر لگایا اور ایک سنہری کرن سیدھی اس کے چہرے پر آ کر ٹھہری وشال نے مائیک اٹھایا


کیویں تینوں میں ویکھاواں

دلوں رس گئی آں چھاواں


اس کے پہلے ہی بول نے ہال کو جکڑ لیا تھا ہجوم میں جیسے سب سانس روک کر سننے لگے تھے۔ پیچھے ایل ای ڈی اسکرین پر خوابناک منظر تھا


تیری یاداں اچ بکھرا میں

دنیا سجاواں

سن وے میں کتھے جاواں


وشال نے ایک خوبصورت انداز میں اپنے بال پہلو سے ہٹائے اسپاٹ لائٹ نے اس کے چہرے پر ہیروں جیسی چمک پیدا کر دی تھی پہلی صف میں بیٹھے طلبہ نے بے اختیار آہ بھری


ہن چھپ گئی آں راواں

میں تے دسیا سی، خواباں اچ تکیا سی 


بیٹ تیز ہوئی تو اسٹیج کے دونوں جانب سے جامنی اور گلابی روشنیوں کی لکیریں کٹ کر گزریں


ہلے ہن دن وی نئی چڑیا

تے اچ تو

میرے من اچ تو


اس کے لہجے میں نرمی سے شدت نے جگہ لے لی تھی۔ اسکرین پر کلوز اپ آیا آنکھوں میں ہلکی نمی اور چہرے پر مکمل اعتماد۔


جدو وی نئیں ہوندی پاس

تے تڑپ دی ہے روح


پِیچھے گٹارسٹ نے ہلکی سی دھن شامل کی، مجمع مزید مدہوش ہوا


تے روے تو قریب سونی

ہالی نہ تو جا

تو ہی ہے میرا نصیب

کدی وی نہ جاویں دور


اچانک ہی اسٹیج پر سنہری چمکیلے ذرات کی بارش ہونے لگی


آسی لا دتے جنے وی تو منگدی اے تارے

میری جان کدی وی نہ ڈری میرے پیارے


وشال ایک قدم آگے بڑھی اور مائیک کو مضبوطی سے تھاما جیسے یہ الفاظ صرف ایک شخص کے لیے تھے اور باقی دنیا دھندلا گئی تھی۔


دل اچ تو

میری حسرت توں

اسی تیرے اتے مردے نے

سندے نئیں کیوں 


اس کی نظریں سیدھا آریان پر گئیں


ہن تے روز تینوں چاندے چاندے

تیرے حسن اتے مردے اسی روز


اس وقت اسٹیج کی روشنی ہال کے ہر کونے میں گھوم رہی تھی


کی کریے سجنڑاں بول

ہاں تیرے ہی جھول

اتے نچدے سارے

تیرے پیار اچ کریے کی ہن بول؟

سجنڑاں کیا آواں کول؟


گانے کے ختم ہوتے ہی لائٹس ایک لمحے کو چمک کر بجھ گئیں 


پورا ہال کھڑا ہو گیا اسٹینڈنگ اوویشن۔ وشال نے آہستہ سا سر جھکا کر شکریہ ادا کیا مائیک رکھا اور جیسے ہی اسٹیج سے رخصت ہوئی اس کے گاؤن کی چمک آخری بار روشنیوں میں جھلک گئی


☆☆☆


آریان سب سے الگ ویران جگہ پر اپنی بائیک کے ساتھ بیٹھا تھا نگاہیں بس اس پر جمی تھیں۔ ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کا ادھ بھرا کین، جس سے وہ وقفے وقفے سے گھونٹ لیتا جا رہا تھا

اس لڑکی میں ایسا کیا ہے؟ جس نے مجھے دیوانہ بنا دیا ہے


کیوں اس کے سوا کوئی اور دکھائی نہیں دیتا؟ کیوں سب سے بیگانہ ہوتا جا رہا ہوں؟


گہری سانس بھر کر اس نے کین دور اچھال دیا تھوڑی ہی دیر میں وہ اس کی طرف آتی دکھائی دی جیسے اس کے دل نے بلایا ہو۔ وہ سیدھی اسی کی طرف آتی نظر آئی


"واہ جی! میرے بغیر ہی کوک ختم کر دی؟"

اس نے راستے میں پڑے کین کی طرف اشارہ کیا

"نہیں تمہیں دیکھتے دیکھتے ختم کی ہے۔"

آریان کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ تھی۔


"مجھے شدید پیاس لگ رہی ہے، ایک میرے لیے بھی لا دو نا۔"

وشال نے ٹشو سے چہرہ تھپتھپایا


"یہ بھی کوئی فرمائش ہے؟ تمہارے لیے تو دنیا خرید کر قدموں میں بچھا دوں۔"

وہ ساتھ چلنے لگا


کینٹین سے کوک لیتے ہوئے دونوں باہر نکل آئے۔ سنسان سڑک پر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وشال نے پوچھا

"آگے کا کیا پلان ہے آریان؟"

"شادی کا۔"

وشال نے آنکھیں پھیلائیں،

"میرا مطلب ہے اسٹڈی کے بعد؟"

"ڈیڈ کا بزنس ہے، وہی جوائن کروں گا۔ تم کیوں فکر کر رہی ہو؟"

وہ لاپرواہی سے بولا

"تو پھر شادی کب کر رہے ہو؟"

"جب کوئی لڑکی ملے گی۔"

وشال رک گئی

"ابھی تک ملی نہیں؟"

"شاید میں کسی کو پسند نہیں آیا اور ممی بھی آج کل یہی کر رہی ہیں، لڑکی ڈھونڈ رہی ہیں۔"

وشال کے ہاتھ میں پکڑا کین تھوڑا سختی سے دب گیا۔

"اچھا لڑکیاں دیکھ رہی ہیں؟"

"ہاں پوچھا بھی کہ اگر کسی کو پسند کرتا ہوں تو بتا دوں میں نے کہا، ایسا کچھ نہیں ہے۔"

آریان نے پلٹ کر دیکھا، وہ رک چکی تھی وہ قریب آ کر نرمی سے بولا

"کیا ہوا میری چاکلیٹ؟ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟"

"کچھ نہیں مجھے کیا ہونا ہے۔" 

وہ اداسی سے مسکرائی


"ارے تم جانتی ہو نا تمہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتا میں۔ بس مذاق کر رہا تھا "

وہ اس کے بال کان کے پیچھے کرتا ہوا بولا


"ایسے جان لیوا مذاق مت کیا کرو آریان مجھ سے برداشت نہیں ہوتے۔"

وشال کی آنکھوں میں نمی اتر آئی


"اور تم جو روز میری جان نکالتی ہو؟"

آریان نے شرارت سے کہا پھر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے لیا


"کبھی اپنی جھلک میری آنکھوں میں دیکھی ہے؟ نہیں؟ تو دیکھو۔ پھر تمہیں سب سمجھ آ جائے گا۔"

وشال نے دم سادھے اس کی آنکھوں میں دیکھا


وہاں محبت تھی، شدت تھی، تڑپ تھی اور کھونے کا ڈر بھی. اس کی پلکیں بھیگ گئیں آریان نے اس کی پیشانی پر لب رکھے اور نرمی سے اسے قریب کر لیا۔ وہ اس کے سینے سے لگ کر رو پڑی "کیوں آریان؟ اتنی محبت کیوں کرتے ہو مجھ سے؟"

"پتہ نہیں مگر کرتا ہوں۔"

آریان نے اس کے آنسو صاف کیے


"اب خبردار! ایک بھی آنسو نکلا تو۔"

وشال دھیما سا مسکرائی


"جب پونچھنے والا تم جیسا ہو تو رونے میں بھی مزہ ہے۔"

وہ ہنس پڑی آریان اس کی نم پلکوں کو چوم کر چلنے لگا

"ویسے آج کچھ زیادہ ایموشنل ہو گئی تھی۔۔۔ایک دم بے وقوف لگ رہی تھی۔"

"کیا کہا؟ میں بے وقوف لگتی ہوں؟"

وہ تیزی سے اس کے ساتھ چلنے لگی

"بالکل۔"

"تو کس نے کہا تھا مجھ جیسی بے وقوف لڑکی سے محبت کرو؟"


"ایک بیوقوف کے ہاتھوں بے وقوف جو بن گیا تھا پھر کیا کرتا۔"

وشال نے غصے سے اسے گھمایا

"اچھا تو اب تم بیوقوف ہو گئے ہو؟"

"نہیں، بس ایک بے وقوف کو اپنی عقل دینے کے لیے ساتھ رہ رہا ہوں۔"

وہ ہنس رہا تھا 


وشال کا منہ حیرت سے کھل گیا اگلے ہی لمحے اس نے آریان کو کان سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا

آریان کچھ سمجھتا اس سے پہلے ہی وشال نے اس کے گال میں دانت گاڑ دیے۔

"آہہہ۔۔ وشال!"

وہ بلبلایا اور وہ قہقہہ مارتی فورا پیچھے ہٹی پھر ایک جھٹکے سے دوڑ گئی


آریان نے گال پر ہاتھ رکھ کر اسے گھورا

"بڑی ظالم لڑکی ہو تم یار!"

بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے وہ اس کے پیچھے لپکا


"وشال! رک جاؤ۔۔۔میں بھی آ رہا ہوں!"

اس کی آواز سن کر وشال نے پیچھے دیکھا اور مزید ہنس دی لیکن اگلے ہی لمحے۔۔۔


ایک کالے شیشوں والی گاڑی اس کے قریب جھٹکے سے رکی آریان کے قدم تھمے دل میں ایک انجان سا خوف جاگا

دروازے دھڑ دھڑ کھلے، پانچ نقاب پوش آدمی بجلی کی طرح باہر نکلے تھے۔ پلک جھپکتے وشال کے دونوں بازو جکڑ لیے گئے


"آریان!"

وہ چیخی

"کون ہو تم لوگ؟ چھوڑو مجھے!"

وہ مچلی 


"تم لوگ اسے پکڑو ہم جا رہے ہیں!"

چار آدمیوں نے آریان کو قابو کرنے کی کوشش کی لیکن اگلے ہی لمحے ایک زوردار گھونسا پہلے کے جبڑے پر پڑا وہ کراہتا ہوا زمین پر گر گیا۔ اس نے باقی تین کو بھی دھکیل کر زمین پر گرا دیا اور ایک ایک پر مکے برسانے لگا


مگر تب تک۔۔۔

وشال کو لے جانے والی گاڑی تیز رفتاری سے غائب ہو چکی تھی۔ آریان نے زمین پر گرے ایک آدمی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا


" کہاں لے گئے ہیں اسے؟ بول حرامزادے! ورنہ یہیں زمین میں گاڑ دوں گا!"


"میں۔۔۔ نہیں بتاؤں گا!"

اس کا لہجہ ہچکچاتا تھا مگر اگلے ہی لمحے آریان کے ہاتھ کا تھپڑ اس کے چہرے پر بجا کہ اس کی آنکھوں کے آگے تارے گھوم گئے


"بول!"

آریان کی آواز زمین ہلا رہی تھی


"بتاتا ہوں۔۔۔ بتاتا ہوں۔۔۔بس رک جاؤ!"

اس کے ناک سے خون بہنے لگا


"بول، کہاں؟"

"وہ لڑکی کو صاحب کے پاس لے گئے ہیں۔۔۔صاحب کے چھوٹے بھائی کو وہ لڑکی چاہیے تھی!"

آریان کی آنکھوں کی سرخی بڑھ گئی "کون صاحب؟"

ایک اور تھپڑ پڑا


"ق۔۔۔ قیصر۔۔۔ نام ہے صاحب کا۔۔ فارم ہاؤس لے گئے ہیں!"

یہ سنتے ہی آریان نے پاس کھڑے درخت سے موٹا ڈنڈا توڑ لیا اگلے لمحے

دھڑ دھڑ۔۔۔ ہر ضرب کے ساتھ ایک چیخ نکلتی۔ کوئی ایک ہڈی 

ٹوٹتی اور ہر نقاب پوش زمین پر تڑپتا رہا. آریان کے چہرے پر پسینہ اور غصہ ایک ساتھ بہہ رہے تھے


آخری وار کے بعد اس نے ڈنڈا دور پھینکا اور بپھری سانسوں کے ساتھ یونی کی طرف دوڑا. بائیک کو کک لگاتے ہی انجن دھاڑ اٹھا اس کی آنکھوں میں بس وشال کا خوفزدہ چہرہ اور ذہن میں قیصر کا نام دہک رہا تھا


بائیک سڑک پر یوں نکلی جیسے کوئی آندھی طوفان کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی


جاری ہے 


Comments

Popular Posts