Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Intaqaam e Junoon - Episode 6 & 7 - By Munaza Niaz - Urdu Novel - Dark revenge story
Intqaam e junoon Episode 6 & 7
(Mega Episode)
By Munaza Niaz
"آپ کی امی خطرے سے باہر ہیں، مگر کم از کم دو دن ہاسپٹل میں رہنا ضروری ہے۔"
وہ دھیمے لہجے میں بولا جیسے الفاظ کو احتیاط سے تول رہا ہو۔
"فکر نہ کیجیے۔۔۔ میں نے سب سنبھال لیا ہے۔"
اس نے کوٹ کی جیب سے لفافہ نکالا، آہستہ سے اس کی طرف بڑھایا۔
"یہ کچھ پیسے ہیں۔ اور پلیز یہ مت کہیے گا کہ میں ادھار سمجھ کر لے رہی ہوں۔"
وہ چند قدم کے فاصلے پر بینچ پر بیٹھا تھا۔ لڑکی نے کپکپاتے ہاتھوں سے لفافہ تھاما، نظریں نیچی رہیں۔
"میں۔۔۔ یہ سب بہت جلد واپس کر دوں گی۔"
وہ ہلکا سا مسکرایا، لیکن مسکراہٹ آنکھوں تک نہ پہنچی۔
"میں نے کہا نا۔۔۔ ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ ہی مجھے یہ واپس چاہیے۔ دوبارہ یہ بات مت دہرائیے گا۔"
اس نے آنکھوں پر لگی عینک اتار کر نیچے کی، جیسے کسی لمحے کے لیے وہ چاہتا ہو کہ لڑکی اس کی آنکھوں میں کچھ پڑھ لے مگر وہاں خلا کے سوا کچھ نہ تھا۔
لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا، بس خاموش بیٹھی رہی۔ چند لمحے کی خاموشی کے بعد وہ کھڑا ہوا۔
"میں چلتا ہوں۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو یا دوبارہ مدد چاہیے ہو بلا جھجک کال کیجیے گا۔"
وہ ہلکا سا رکا، ایک نظر اس پر ڈالی۔
"اگر آج میرا دوسرا کام نہ ہوتا تو شاید تھوڑی دیر اور یہیں بیٹھا رہتا۔"
وہ جانے کو مڑا تو لڑکی بھی کھڑی ہو گئی۔
"جی۔۔۔ ٹھیک ہے۔ اور۔۔ ایک بار پھر شکریہ۔"
اس نے بس سر ہلایا، مگر قدم روک دیے اور آہستہ سے پلٹا۔
"اتنی باتیں ہو گئیں۔۔ مگر اب تک میں آپ کا نام نہیں جان پایا۔"
لڑکی نے اسے غور سے دیکھا۔
اس شخص کا چہرہ ایسا تھا جیسے کسی نے اسے لاکھ ٹکڑوں میں توڑ کر پھر جوڑ دیا ہو مگر جوڑ اس نے اتنے مضبوط کیے تھے کہ کوئی دراڑ نظر نہ آئے۔
ایک ایسا چہرہ۔۔۔ جو اپنی کہانی کسی کو سنانے کے لیے بنا ہی نہ ہو۔
وہ خاموش کھڑا رہا۔ بس آنکھوں کی گہرائی میں ایک عجیب سا سوال تھا۔
لڑکی نے دھیرے سے کہا
"میرا نام۔۔۔ سحر۔۔۔ پورا نام۔۔۔"
☆☆☆
گاڑی فارم ہاؤس کے آہنی گیٹ سے گزری اور ایک جھٹکے کے ساتھ رکی۔ ٹائروں کی چرچراہٹ، اور اس کے بعد گہری خاموشی۔ دروازہ کھلا، اور دو وحشی ہاتھوں نے وشال کو باہر گھسیٹ لیا۔ اس کی چیخیں سنسان احاطے میں گونج اٹھیں۔
"کہاں لے کر آئے ہو؟ تم لوگ چاہتے کیا ہو؟ خدا کے واسطے، جانے دو مجھے!"
وہ بری طرح تڑپ رہی تھی، مگر ان شیطان صفت آدمیوں کی گرفت میں وہ خود کو کمزور، بے بس اور ٹوٹا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
"خاموش!"
ایک نے غرا کر کہا۔
"اندر چل پھر خود پتہ چل جائے گا کہ یہاں کیوں لائی گئی ہے۔"
وہ دونوں اسے زبردستی فارم ہاؤس کے ہال میں گھسیٹ لائے۔
ہال کاغذی طور پر خوبصورت تھا چمکتے فانوس، سنگ مرمر کے فرش مگر اس کی دیواروں اور روشنی کے بیچ ایک عجیب سی وحشت بسی ہوئی تھی۔ جیسے یہ جگہ صرف خوف کے لیے بنی ہو۔
انہوں نے وشال کو ایک شاہانہ کرسی پر بیٹھے قیصر کے سامنے لا کھڑا کیا۔ قیصر اپنی گھٹنے پر انگلیاں پیانو کی طرز پر بجا رہا تھا، لبوں پر وحشی مسکراہٹ تھی۔ خوف کی ایک خاص خوشبو ہوتی ہے اور یہ ہال اسی سے مہکتا ہے۔
"بہت خوب۔۔۔ اسے میرے قریب لاؤ۔"
وہ دونوں وشال کو گھسیٹ کر لائے۔ قیصر نے جھٹکے سے اس کا بازو پکڑ لیا۔
"ارے پگلی۔۔۔ روتی کیوں ہے؟ ابھی تو تیرے عیش کے دن شروع بھی نہیں ہوئے۔ تو نے میرے بھائی کو پاگل کر رکھا ہے۔۔۔ پانے کے لیے مر رہا ہے وہ۔ رک، ابھی بلاتا ہوں اسے۔۔۔ شیرو! کہاں ہے تو؟"
اس کی آواز میں ایک عجیب سا خمار اور زہر ملا ہوا تھا۔
وشال کے دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی۔ اس نے ایک بار پھر خود کو چھڑوانے کی کوشش کی مگر قیصر کی گرفت نے اس کے بازو کو جیسے لوہے کے شکنجے میں جکڑ دیا ہو۔
"مجھے جانے دو۔۔ میں کہیں نہیں جانا چاہتی!"
اس کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔
سیڑھیوں سے ایک شخص نیچے اترا سادہ چہرہ، عام سا حلیہ مگر آنکھوں میں بیماروں جیسی خوشی کی چمک۔ جیسے وہ لمحہ اسی کے لیے آیا ہو۔
"بھائی۔۔۔ یہ تو وہی لڑکی ہے"
"ہاں لے جا اسے۔۔۔ اور جب تک جی چاہے، اپنے پاس رکھ۔"
قیصر نے اس کا بازو چھوڑا، اور شیرو نے فوراً وہی بازو دوبارہ دبوچ لیا۔
"کون ہو تم؟ ہاتھ مت لگاؤ مجھے! کیوں پیچھے پڑ گئے ہو، گھٹیا انسان!"
وہ چیخی، مگر شیرو نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا۔
"خاموش۔۔۔ ورنہ انجام سوچ سے بھی بدتر ہوگا۔ اب چلو."
"نہیں جاؤں گی!"
اس کے الفاظ گونجے، اور اگلے ہی پل ایک بھرپور تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا تھا۔
وشال پیچھے گری، ہونٹ پھٹ گیا، خون بہنے لگا۔ اس کے بے داغ چہرے پر شیرو کی انگلیوں کے نشان جیسے مہر بن گئے۔ وہ اسے بالوں سے پکڑ کر اسے کھڑا کر چکا تھا۔
"ایک اور لفظ کہا۔۔۔ تو یہیں گاڑ دوں گا۔"
اس کی آواز میں وہ سفاکی تھی جو انسان کو جانور سے زیادہ خطرناک بنا دے۔
وہ اسے کھینچتے ہوئے اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ قیصر نے باقی آدمیوں کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے، اب تم لوگ بھی چھٹی کرو۔"
وہ سب خوشی سے چمک اٹھے۔
"بہت شکریہ، صاحب!"
اور اگر وہ نہ جاتے تو شاید ان کی لاشیں یہاں سے جاتیں۔
☆☆☆
آدھی رات گزر چکی تھی۔ کلب کے شور، میوزک اور ہنسی قہقہوں کے بیچ، وہ ایک کونے میں صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔ اس کی نظریں سیدھی سامنے فاصلے پر بیٹھے ابراہیم پر جمی تھیں۔
ابراہیم لڑکیوں کے بیچ گھرا ہوا، نشے سے لڑکھڑاتا، آنکھیں آدھی بند۔ ہر گھونٹ کے ساتھ اس کے چہرے کی مسکراہٹ اور گندی ہو رہی تھی۔
ہر شکار سے پہلے میں اس کی آخری سانس سوچتا ہوں اور یہ لمحہ سب سے حسین ہوتا ہے۔
وہ شخص ایک خاموش شکاری اور ہلکی سی پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔
"جتنے مزے کرنے ہیں کر لے۔ بس چند لمحے اور۔"
"آپ کچھ لیں گے، سر؟"
جانی پہچانی نسوانی آواز پر وہ چونکا۔ نظر اٹھائی اور جیسے لمحہ جم گیا۔
سامنے ویٹرس کی وردی میں کھڑی لڑکی ۔۔۔۔۔ سحر!
وہ بھی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
"تم یہاں کیا کر رہی ہو؟"
اس کے لہجے میں غصہ، صدمہ، بے یقینی سب ایک ساتھ تھے۔
"میں یہاں کام کرتی ہوں۔"
اس کی آواز ہچکچاہٹ اور خوف سے بھری ہوئی تھی۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا، اس کا بازو پکڑا، اور کلب کی راہداری میں گھسیٹتا ہوا ایک کمرے میں لے گیا۔
دروازہ بند کرتے ہی اس کا بازو چھوڑا۔
"تم جانتی بھی ہو یہ جگہ ہے کیا؟"
وہ غصے میں آپ سے تم پر آ چکا تھا۔
"چار ماہ۔۔۔ چار ماہ ہو گئے ہیں یہاں کام کرتے ہوئے۔"
وہ نظریں چراتے ہوئے بولی۔
"کیوں؟ کیا تم۔۔۔"
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ چیخ کر سب توڑ دے۔
"میں مجبور ہوں!"
اس کی آواز کانپ گئی۔
"کوئی شوق نہیں ہے میرا ایسی جگہ پر آنے کا آپ جانتے ہیں میرے حالات لیکن پھر بھی یہ سوال؟"
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"میں نے کہا تھا۔۔ جب بھی ضرورت ہو۔۔۔"
"کب تک آپ کے احسان لیتی رہوں؟" اس نے بات کاٹ دی۔
"ساری زندگی تو آپ سے لے کر نہیں کھا سکتی!"
وہ دھیرے سے پاس کے صوفے پر گر گئی۔ وہ اسے چند لمحے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ بولا
"آج تمہارا یہاں آخری دن ہے۔"
وہ پلٹا اور دروازہ کھول کر نکل گیا۔
سحر نے آنکھیں بند کر کے رگڑ ڈالیں، جیسے اپنے آنسو چھپانا چاہتی ہو۔ وہ ہال میں واپس آیا، لیکن صوفہ خالی تھا۔
ابراہیم غائب۔
اس نے اوپر کو جاتی سیڑھیوں پر نظر ڈالی اور قدم بڑھا دیے۔
کلب کا شور اوپر آتے آتے دب گیا۔ اب صرف دھیمی روشنی، اور خاموشی میں گونجتے اس کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔
اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا۔
نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں بیڈ پر ابراہیم پڑا تھا۔ نشے میں دھت اور اپنی موت سے بے خبر۔
وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب پہنچا۔ جیب سے چاقو نکالا۔ دھات کا نوکیلا پھل روشنی میں خطرناک حد تک چمک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں جیسے خون بہا دیں گی۔
اس کی یادوں میں وہ لمحہ زندہ ہو گیا وہ لڑکی جسے وہ چاہتا تھا اور جسے بے دردی سے موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا تھا۔ وہ جھکا، اور اگلے ہی پل پہلا وار۔
پھر دوسرا۔
پھر تیسرا۔۔۔ اور پھر گنتی بیکار ہو گئی۔
ابراہیم کی چیخ بھی باہر نکلنے نہ پائی۔ اس کے سینے کو اس نے یوں چاک کیا جیسے نفرت ہر وار کے ساتھ اپنا بدلہ لے رہی ہو۔ لیکن یہ کافی نہ تھا۔
اس نے چاقو ایک طرف پھینکا، اور دونوں ہاتھوں سے اس کی آنکھیں نوچ ڈالیں۔ کمرے میں خون کی بو بھر گئی۔
آنکھیں نکال دی تاکہ تو اگلی دنیا میں بھی میرا چہرہ نہ دیکھ سکے۔
وہ چند لمحے لاش کو گھورتا رہا پھر ایک ٹھنڈی سانس لی، اور نفرت سے منہ موڑ لیا۔ بغیر پیچھے دیکھے، وہ باتھ روم کی طرف بڑھا جہاں خون آلود کپڑوں کو بدلنا تھا۔
☆☆☆
بائیک کے ٹائر فارم ہاؤس کے گیٹ پر چرچرائے۔ ہیڈلائٹ کی روشنی میں ایک گارڈ کرسی پر نیم دراز سویا ہوا نظر آیا۔ بندوق پاس رکھی تھی۔
وہ آہستہ اتر کر چلنے لگا قدم ایسے جیسے کوئی بھوکا بھیڑیا شکار کے قریب پہنچتا ہے۔
گارڈ نے اسے آتے دیکھا تو چونک کر سیدھا ہوا۔
"کون ہو تم؟"
اس کی نظر بندوق پر تھی، انگلی ٹریگر کے قریب. آریان کے چہرے پر ایک ٹھنڈی، خطرناک مسکراہٹ آئی۔
"تیرے باپ کا۔۔۔ استاد ہوں۔"
اگلے ہی لمحے، مکے کی گونج خاموش رات میں پھیل گئی ایک چہرے پر، دوسرا پیٹ میں۔
گارڈ دوہرا ہو کر جھکا، مگر فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے بندوق اٹھا چکا تھا۔ آریان کی نظر گیٹ کے ساتھ رکھی لوہے کی سلاخوں پر پڑی۔
اس نے ایک سلاخ پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن گولی چل گئی۔ فائر کی آواز رات کو چیر گئی۔ گولی اس کے بازو کو چیرتی دیوار میں دھنس گئی۔
خون کا گرم فوارہ پھوٹا۔۔۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے زخم پر ہاتھ رکھا پھر آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔ سلاخ گھما کر سیدھا گارڈ کے کندھے میں ماری بندوق ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ دوسری سلاخ اٹھائی، اور پوری قوت سے اس کی گردن میں اتار دی۔ ایک مکروہ سا گڑگڑاتا سانس نکلا اور گارڈ وہیں گر گیا۔
آریان نے سلاخ جھٹکے سے نکالی خون دھار کی صورت بہنے لگا، جیسے زمین بھی پیاسی ہو۔ وہ اندر بڑھا۔ فارم ہاؤس قبرستان کی طرح خاموش تھا۔
ہال سناٹے میں ڈوبا ہوا۔ سیڑھیوں کے قریب ایک سیاہ دوپٹہ پڑا تھا۔ اس نے جھک کر اٹھایا، آنکھوں میں ایک وحشت اتر آئی۔
"وشال۔۔۔"
بازو کی تکلیف کو بھول کر وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا قدم بھاری مگر تیز تھے
اچانک اس نے چیخیں سنی تھیں
"آریان۔۔۔ آریان۔۔۔ پلیز بچاؤ!"
اس کا دماغ سنسنا اٹھا۔ دل کی دھڑکن دھماکے کرنے لگی تھی۔ وہ آواز کی سمت دوڑا ایک دروازے پر رکا۔ دروازہ بند تھا، لیکن تالہ نہیں تھا۔ دروازہ لات کھا کر دیوار سے ٹکرایا۔
اندر کا منظر دیکھ کر اس کے اندر کا شیطان جاگ اٹھا تھا. شیرو وشال کی گردن دبوچے ہوئے تھا آنکھوں میں جنون، منہ میں زہر تھا
"کیا کہا تم نے؟ آریان کون ہے؟"
وہ غرا رہا تھا۔
"ہمت کیسے ہوئی میرے علاوہ کسی اور کا نام لینے کی؟"
وشال کا دم گھٹنے لگا آنکھیں باہر آنے کو تھیں۔
اگلے لمحے، آریان کا جنونی سایہ اس پر ٹوٹ پڑا۔ اس نے کسی درندے کی طرح اس کی گردن اپنی گرفت میں لی اور زور سے کھینچ کر فرش پر پٹخ دیا۔
شیرو کی آنکھوں میں پہلی بار خوف آیا تھا۔ جیسے اس نے پہلی بار سچ میں موت کا چہرہ دیکھا ہو۔
"میں بتاتا ہوں۔۔۔میں کون ہوں۔"
آریان کی آواز بھاری اور خطرناک تھی۔
" تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی؟"
سلاخ گھوم کر سیدھی شیرو کے منہ پر لگی تھی دھات کی ٹکر اور ہڈی کی آواز ایک ساتھ گونج گئی
شیرو کی چیخیں کمرے میں بھڑک اٹھیں مگر آریان رکا نہیں۔ ایک کے بعد ایک وار جیسے ہر ضرب کے ساتھ اس کا غصہ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہو۔ آخرکار سر پر لگنے والے زوردار وار نے شیرو کو بے ہوش کر دیا تھا۔ وہ فرش پر اوندھے منہ پڑا تھا، سانسیں بھاری اور جسم ڈھیلا پڑ چکا تھا
وشال منہ پر ہاتھ رکھے کانپتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں خوف، حیرت اور یقین نہ آنے کا ملا جلا عکس تھا
آریان کے سانسوں کی گرج کمرے میں گونج رہی تھی، آنکھیں اب بھی سرخ تھیں اور ہاتھ خون سے لتھڑے ہوئے۔
اگر وہ چند لمحے دیر سے آتا تو؟
اس سوچ نے وشال کو جھنجھوڑ دیا۔
آریان نے نظر گھما کر اسے دیکھا۔ وہ دیوار کے ساتھ جمی ہوئی تھی اور آنکھیں اس پر گاڑے کھڑی تھی
آریان کی نظر وشال کے کندھے پر گئی جہاں قمیض پھٹ چکی تھی۔ وہ قریب گیا ہاتھ میں پکڑا دوپٹہ اٹھا کر اس کے گرد لپیٹ دیا۔
"آریان۔۔ کہاں تھے تم؟ اتنی دیر کیوں لگا دی؟"
وہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
"اگر تم نہ آتے تو؟"
اس نے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچا۔
آریان نے اسے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا۔ گرفت اتنی مضبوط جیسے کہہ رہا ہو اب کوئی اسے نہیں چھو سکتا۔
"کیسے نہ آتا؟ کیا میں تمہیں یوں ہی چھوڑ دیتا؟"
وشال کچھ کہنے ہی والی تھی کہ آریان نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
"بس۔۔ خاموش۔ کچھ نہیں ہوا۔ اور سنو۔۔ اگر دوبارہ کسی نے تمہیں ہاتھ لگایا۔۔۔ تو اس کی ہڈیاں نہیں۔۔ اس کا وجود ختم کر دوں گا۔"
اس نے اس کے آنسو صاف کیے۔ وشال نے ایک نظر شیرو پر ڈالی جو فرش پر بے سدھ پڑا تھا۔
"وہ مر گیا ہے؟"
آریان نے اس کی نظر کا پیچھا کیا۔
"نہیں بھی مرا۔۔ تو مرنے دو۔"
دونوں کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اتر ہی رہے تھے کہ ایک شخص تیزی سے سامنے آیا. وشال نے جب دیکھا تو قدم رک گئے خوف اس کے چہرے پر چھلک آیا۔
آریان نے اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ محسوس کی۔
"کون ہو تم؟ اندر کیسے گھس آئے؟"
وہ چیخا۔
" موت اور میرا پرانا تعلق ہے جسے چاہے بلا لو"
قیصر کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی
"گارڈ! جاسم! ارباز! کہاں مر گئے سب؟"
وہ دوبارہ چیخا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ سب کو آج رات کی چھٹی دے دی گئی تھی۔
آریان نے وشال کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور چلنے لگا۔ قیصر نے غصے میں آ کر وشال کے بال پکڑنے کی کوشش کی اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
آریان کے دوسرے ہاتھ میں سلاخ تھی۔ ایک جھٹکے میں وہ اس کے پیٹ میں پیوست ہو گئی۔ قیصر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ سانس اس کے گلے میں ہی اٹک گئی۔ آریان کی آواز اب سرسراہٹ میں بدل گئی تھی مگر ہر لفظ کاٹ رہا تھا۔
"تمہارے بھائی نے بھی یہ حرکت کی تھی۔۔۔اور دیکھو، کہاں گیا وہ۔ لگتا ہے تمہیں بھی یاد دہانی کی ضرورت تھی۔
اب قصور میرا نہیں تم خود ہمارے بیچ آ گئے۔"
وہ ایک لمحے کے لیے رکا پھر ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
"فکر نہ کرو تم دونوں اوپر مل ہی جاؤ گے۔"
قیصر تڑپتا ہوا فرش پر گر گیا۔ آریان نے وشال کا ہاتھ تھاما اور بغیر پلٹے تیزی سے نکل گیا۔
☆☆☆
انسپیکٹر اشعر، ابراہیم قیانی کی لاش کو غور سے دیکھ رہا تھا کچھ دنوں پہلے ہی اس نے نواز ملک کی لاش ریسیو کی تھی جو کہ ایک ویران علاقے سے ملی تھی اور اس کے کچھ دنوں بعد ہی اس کے ساتھی ابراہیم قیانی کو بے رحمی سے اس کے قلب میں گھس کر مار دیا گیا تھا۔
وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں پر موجود سب لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہا تھا۔ لیکن کوئی بھی تسلی بخش جواب اسے نہیں ملا تھا۔
یہ نواز کے قتل کے کچھ دنوں بعد کا واقعہ تھا پولیس اس کلب میں موجود تھی۔ ابراہیم کو بڑی بے رحمی سے اس دنیا سے بھیجا گیا تھا قاتل ضرور کسی انتقام کی آگ میں یہ سب کچھ کر رہا تھا وہ کافی دیر تک وہاں پر موجود سبھی لوگوں سے پوچھ گچھ کرتا رہا پھر اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے چلا گیا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا تھا لاش کو دیکھ کر تو وہ خود ایک لمحے کے لیے سکتے میں رہ گیا تھا لاش کی آنکھیں تک قاتل نے نکال دی تھیں ۔
بہت سے سوالوں اور الجھنوں کے ساتھ وہ آفس پہنچا تھا۔
☆☆☆
گھر میں روشنیوں کا جادو بکھرا ہوا تھا۔ آج مہندی کی رات تھی۔ ہرے اور پیلے رنگ کا لہنگا پہنے، سحر نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ایک لمحے کو اپنی ہی پرچھائی پہچاننے سے انکار کر دیا۔ ماتھے پر خوبصورت سی بندیا، مہندی سے سجے ہاتھ، اور آنکھوں میں عجب سا چمکتا سکون۔
" بارات نہ بھی ہو نا، پھر بھی آپ دلہن ہی لگ رہی ہیں۔"
بیوٹیشن ہنستے ہوئے بولی
سحر ہلکا سا مسکرائی، مگر دل میں کہیں دھڑکن تیز ہو گئی۔ یاد آیا اشعر نے کہا تھا،
"تیار ہوتے ہی سب سے پہلے تصویر مجھے بھیجنی ہے۔"
اس نے موبائل اٹھایا تصویر بنائی اور اشعر کو سینڈ کر دی۔
فنکشن دھوم دھام سے گزرا ہنسی، گانے، اور ڈانس کے شور میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ رات کے ایک بجے جب سب اپنے کمروں میں جا چکے، سحر تھکن سے نڈھال بستر پر لیٹ گئی۔
کمرے کی خاموشی میں اچانک دروازہ ہلکا سا چرچرا کر کھلا تھا وہ چونک کر اٹھ بیٹھی۔ چاندنی کھڑکی سے چھن کر اندر آ رہی تھی، اور اسی روشنی میں ایک سایہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آ رہا تھا۔
"کون ہے؟"
اس نے دبے لہجے میں پوچھا۔ وہ سایہ قریب آ کر رکا پھر وہی مانوس آواز مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ گنگنائی
"ہم آپ کے ہیں کون؟"
سحر کے لبوں پر حیرت بھری مسکراہٹ آ گئی۔
"اشعر؟ آپ یہاں؟ اس وقت؟"
"واہ! کمال ہے نیندیں میری اڑائیں، اور خود مزے سے سو رہی تھیں۔"
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا آنکھوں میں شرارت مگر لہجے میں گہری محبت تھی۔
"اشعر، پلیز۔۔ کوئی دیکھ لے گا، جائیں یہاں سے۔"
وہ تھوڑا پیچھے سرکی۔ اشعر نے اس کا مہندی سے سجا ہاتھ تھام لیا
"خالی تصویر سے دل کہاں بھرتا ہے سوچا خود آ کر دیدار کر لوں۔"
"دیدار ہو گیا نا۔۔ اب جائیں، میں بہت تھک گئی ہوں۔"
اس نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی۔
"اتنی آسانی سے؟ نہیں، ابھی تو آیا ہوں۔"
وہ اس کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ چکا تھا۔
"کل کا دن گزرنے دو، پھر جتنا چاہیں مجھے دیکھ لینا۔"
سحر نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا
"سچ بتاؤں؟ یہ ایک دن بھی صدی لگ رہا ہے۔ دل چاہتا ہے ابھی اٹھا کر لے جاؤں تمہیں، اور سب کو کہہ دوں یہ میری ہے۔"
اشعر ہلکا سا مسکرایا
"اگر زیادہ تنگ کیا نا تو کل رات دروازہ نہیں کھولوں گی۔"
چاندنی میں سحر کا چہرہ اور بھی دمکنے لگا۔ اس نے شوخی سے ناک چڑھائی
"ایسا کر کے تو دیکھو پھر تمہیں منانے میں پوری رات لگا دوں گا۔"
سحر نے آنکھیں مٹکائیں
"یعنی مجھے رلائیں گے؟"
وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
"تمہیں رلاؤں؟ کبھی نہیں۔ تمہیں تو میں پھول کی طرح سنبھال کر رکھوں گا، تاکہ تم کبھی مرجھاؤ نہیں۔ تمہارے گرد ہمیشہ خوشبو پھیلی رہے۔ تم میری دنیا کا وہ کونہ ہو، جہاں آ کر میں ہر درد، ہر غم بھول جاؤں۔"
سحر کا دل ایک پل کو رک سا گیا۔ وہ کچھ نہ بولی بس نظریں اس پر ج
ما دیں۔ اشعر آہستہ سے کھڑا ہوا
"صرف کل کا دن اور پھر۔۔۔۔ تم ہمیشہ کے لیے میری ہو جاؤ گی۔ اس طرح تمہیں اپنے پاس رکھوں گا کہ میرے سوا کوئی تمہیں نہ دیکھ سکے۔"
وہ جھک کر اس کے ماتھے پر ایک لمبا بوسہ دے گیا پھر ہلکی سی اس کے گال پر چٹکی کاٹ کر مسکراتا ہوا چلا گیا۔
سحر وہیں بیٹھی رہ گئی۔۔ چاندنی میں بھیگے دل کے ساتھ۔
Episode 7 👇
وہ اسے گھسیٹتا ہوا سیدھا بائیک کی طرف لایا۔ وشال نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا، سانس پھولی ہوئی تھی۔
“تم نے۔۔۔ یہ کیا کر دیا آریان؟ تم نے۔۔۔تم نے واقعـی ان دونوں کو مار دیا؟”
وشال کی آواز کپکپا رہی تھی۔ آنکھوں میں نمی اور خوف ایک ساتھ جھلملا رہے تھے۔ آریان نے سنی ان سنی کرتے ہوئے خاموشی سے بائیک اسٹارٹ کی۔
“بیٹھو!”
وشال نے ساکت آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“یہ۔۔۔ یہ پاگل پن ہے! اگر پولیس کو معلوم ہو گیا تو۔۔ تمہیں جیل۔۔۔”
آریان نے ایک گہرا سانس لیا ہلکی سی طنزیہ ہنسی لبوں سے نکلی۔
“تو کیا کرتا؟ ہاتھ باندھ کر تماشا دیکھتا؟ تمہیں چیختا چھوڑ کر یہاں سے چلا جاتا؟ یا ان کی منتیں کرتا کہ براہِ مہربانی اسے چھوڑ دو، یہ میری وشال ہے۔۔۔”
وہ بائیک سے اترا اور اس کے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا، آنکھوں میں آگ تھی۔
“میں ویسا آدمی نہیں ہوں وشال! جس پر ہاتھ اٹھایا جائے اور وہ خاموش رہے۔ اور اگر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔ تو بہتر ہے ابھی چپ رہو!”
وشال نے دھڑکتے دل سے ایک قدم پیچھے لیا۔
“آریان۔۔۔ تم پاگل ہو گئے ہو!”
اگلے ہی لمحے آریان نے اس کی کمر میں بازو ڈال کر اسے زور سے اپنی طرف کھینچا دوسرے ہاتھ سے اس کے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔
“ہاں۔۔۔ پاگل ہوں میں! اتنا پاگل کہ جو تمہیں ہاتھ لگائے، اس کے جسم کو قبر میں بھی سکون نہ ملنے دوں۔ اور اگر تم نے اب ایک لفظ بھی بولا۔۔۔ تو میں تمہیں یہیں چھوڑ دوں گا!”
وہ جھٹکے سے دور ہوا اور دوبارہ بائیک پر بیٹھ گیا۔ وشال کانپتے ہوئے خاموش ہوئی اور پیچھے بیٹھ گئی۔ وہ چپ اس کے پیچھے بیٹھی اسے دیکھے گئی اس نے کپکپاتا ہاتھ اٹھایا اور اس کے بازو پر رکھ دیا اچانک اس کے انگلیوں پر خون محسوس ہوا وہ ٹھٹک گئی۔
“آریان۔۔۔ تمہیں۔۔۔چوٹ لگی ہے؟”
بائیک ایک دم رک گئی۔ آریان نے بائیک دوبارہ اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ وشال کچھ کہہ ہی نہ سکی۔ اسے لگا جیسے آسمان اس کے سر پر گر گیا ہو
“شاید پیٹرول ختم ہو گیا ہے”
آریان نے غصے سے بائیک کی ٹینکی پر ہاتھ مارا۔
“آریان۔۔ خون۔۔۔”
وشال کی آواز آنسوؤں میں بھیگ گئی۔ آریان نے بے نیازی سے اپنا بازو دیکھا
“کہا نا۔۔ کچھ نہیں ہے یہ!”
لیکن وہ خاموش نہیں رہی دونوں ہاتھوں سے اپنے دوپٹے کو کھولا اور آہستگی سے اس کے زخمی بازو پر لپیٹنے لگی۔ آریان نے خاموشی سے نظریں پھیر لیں۔ جب وہ باندھ چکی تو آریان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ بنا کچھ کہے وہ اسے لیے چل پڑا۔ گھنی ویرانی، درختوں کی سرسراہٹ اور ہوا میں عجیب سا خوف تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی خاموش مسافت کے بعد وشال تھک کر سڑک کے بیچوں بیچ بیٹھ گئی۔
آریان رکا۔ جھک کر اس کو دیکھا۔
“کیا ہوا۔۔۔؟”
وشال نے بےبسی سے اس کی طرف دیکھا
“مجھ سے اب اور نہیں چلا جاتا”
آریان ایک پل کو خاموش رہا پھر بغیر کچھ بولے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا۔وہ سٹپٹا گئی
" آریان مجھے نیچے اتار دو میں خود چل لوں گی"
“تم نے خود کو کبھی دیکھا ہے وشال؟ تم لگتی کمزور ہو لیکن ہو نہیں۔ اس لیے بس۔۔ چپ کر کے اپنا سر میرے کندھے پر رکھو اور مجھے چلنے دو!”
وہ مذاق کر رہا تھا لیکن وشال سنجیدہ ہی رہی تھی۔ اس نے سر آریان کے کندھے پر رکھ دیا تھا۔ پہلی بار خوف، تھکن اور محبت۔۔۔ تینوں نے ایک ساتھ ہار مان لی تھی۔
کافی دیر بعد اذان کی آواز نے دونوں کو چونکا دیا۔
“کیا یہ۔۔۔ فجر کی اذان ہے؟”
وشال نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
“ہاں۔۔۔”
تبھی دور سے دو گاڑیاں نظر آئیں۔ آریان نے ایک گاڑی کو روکا، شیشہ نیچے ہوا وہ اندر بیٹھے جوڑے سے بات کرنے لگا۔
وشال نے بمشکل کھڑے رہتے ہوئے خود کو سنبھالا ایک ہی بات ذہن میں گونج رہی تھی
اس نے پوری رات باہر گزاری تھی۔
☆☆☆
اس نے فلائٹ کا دروازہ دھیرے سے کھولا اور اندر قدم رکھا۔ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ بالکل اس کے دل کی طرح۔
وہ دروازہ بند کرتا ہوا آگے بڑھا اور نائٹ بلب روشن کیا۔ ہلکی مدھم سی روشنی چاروں طرف پھیل گئی مگر کمرے سے زیادہ اس کی آنکھوں میں چبھنے لگی۔
بغیر آواز کے لمبے قدم اٹھاتا ہوا وہ وارڈروب تک پہنچا۔ کپڑے نکالنے کیلئے جیسے ہی دروازہ کھولا اس کا سانس ایک پل کو رک گیا۔
سامنے پڑا وہی دوپٹہ۔ جس پر آج بھی خشک خون کے نشان جوں کے توں موجود تھے۔ اس کے ہاتھ کپکپانے لگے۔ دھیرے سے دوپٹہ اٹھایا۔ بے اختیار بیڈ پر بیٹھ گیا۔
وہ خاموش تھا ۔۔۔لیکن اس خاموشی کے اندر ایک جنگ برپا تھی۔اس نے خالی خالی نظروں سے دوپٹہ دیکھا آنکھ سے آنسو نکلا اور سیدھا دوپٹے پر ٹپک گیا۔
“کاش۔۔۔ کاش میں اسی دن مر گیا ہوتا۔۔۔اسی لمحے جس دن۔۔۔ میں نے تمہیں۔۔”
آواز گلے میں پھنس گئی زبان نے ساتھ دینا چھوڑ دیا اور وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
“کیوں گئی تم؟ کیوں تم نے مجھے اس آگ میں اکیلا چھوڑ دیا؟ میں کہاں جاؤں۔۔۔سکون تو جیسے میری زندگی میں کبھی تھا ہی نہیں لیکن اب۔۔۔ اب تو سانس لینا بھی گناہ لگتا ہے۔۔"
اس نے آنکھیں زور سے بند کیں پوری طاقت سے دوپٹہ مٹھی میں جکڑ لیا۔
“اگر۔۔۔ اگر تم اچانک میرے سامنے آ جاؤ تو شاید میرا دل دھڑکنا ہی بھول جائے لیکن تم آؤ گی کہاں سے؟ موت بھی شاید ڈر گئی ہے مجھ سے."
وہ بیڈ پر لیٹ گیا۔ گالوں سے آنسو بہہ بہہ کر تکیے میں جذب ہونے لگے۔ کمرے میں صرف اس کی سسکیوں کی آواز تھی۔۔۔ اور مدھم بلب کی زرد روشنی۔ وہ آنکھیں بند کیے اندر ہی اندر اسے دیکھ رہا تھا۔
اچانک موبائل کی بیل خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں اور فون کان سے لگایا۔
“قیصر مر چکا ہے۔۔۔”
“کیا؟ کیا کہہ رہے ہو تم؟”
“دو دن پہلے کسی نے اسے بہت بری طرح قتل کیا اور اس کا بھائی کوما میں ہے۔ ارقم ابھی تک دوسرے ملک میں پھنسا ہوا ہے۔۔۔ اس نے سوچا تھا وہ سب کو بچا لے گا لیکن شاید وہ بھول گیا ہے کہ اگلا نمبر اسی کا ہے۔”
دوسری طرف ہلکی سی خاموش ہنسی ابھری۔ اس کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی۔
“مارنا تو میں چاہتا تھا لیکن اچھا ہوا
کسی اور نے جہنم کا دروازہ اس کیلئے کھول دیا”
ایک پل کو سانس روکا پھر سرگوشی کے انداز میں بولا
“اب آنے دو اسے مجھے صرف اس کی آخری سانس کا انتظار ہے۔۔۔”
فون بند کیا اور ایک بار پھر دوپٹہ اپنے چہرے پر رکھ لیا۔ دھیرے دھیرے وہ پر سکون ہوتا گیا حتیٰ کہ نیند نے اسے خاموشی سے اپنی آغوش میں لے لیا۔
لیکن اس رات اس کے خوابوں میں بھی خون کا رنگ ہلکا نہیں پڑا تھا۔
☆☆☆
“رکو۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔”
آریان نے آہستگی سے اس کا ہاتھ تھاما۔ فجر کی روشنی آسمان پر پھیلنے لگی تھی، دونوں وشال کے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔
ہوا خنک تھی لیکن آریان کے دل میں عجیب سی گھبراہٹ لہرا رہی تھی۔ وشال نے ایک پل اسے دیکھا، پھر دھیرے سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔
“نہیں۔۔ اس کی ضرورت نہیں ہے۔”
“کیوں ضرورت نہیں؟”
آریان کی آواز بھاری ہو گئی۔
“میں سب کچھ تمہارے بابا کو بتاؤں گا کل رات جو ہوا وہ تمہاری غلطی نہیں تھی۔۔ انہیں یقین کرنا ہوگا وشال، ورنہ۔۔۔”
وشال نے ایک دم نظریں اٹھائیں آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
“نہیں آریان اگر ان کو واقعی مجھ پر تھوڑا سا بھی یقین ہوا تو وہ میری بات سن لیں گے۔ اور اگر پھوپھو نے تمہیں میرے ساتھ دیکھ لیا تو وہ ساری بات تمہاری طرف پھیر دیں گی۔۔۔ تم نہیں جانتے انہیں۔ اس لیے۔۔ پلیز چلے جاؤ میں۔۔۔ میں سب کچھ خود سنبھال لوں گی۔۔۔”
اس نے پلٹ کر اندر قدم رکھا اور دروازہ بند ہونے کی آواز آریان کے دل پر گونج گئی
جیسے ہی وشال لاؤنج میں داخل ہوئی سامنے اسفند کسی سے فون پر سخت لہجے میں بات کر رہا تھا۔ اس کی نگاہ بے اختیار وشال پر ٹھٹھک گئی سانس رک گیا۔
“و۔۔۔وشال؟”
وشال ایک پل ٹکی ٹکی دیکھتی رہی، پھر پھوٹ کر رو پڑی اور بھاگتی ہوئی اسفند کے سینے سے لگ گئی۔
“میں نے کچھ نہیں کیا اسفند۔۔۔۔ پلیز یقین کرو مجھے نہیں پتا تھا وہ کون لوگ تھے۔۔۔ میں کسی کو نہیں جانتی تھی۔ خدا کی قسم۔۔۔”
زخمی لفظ ابھی پورے بھی نہیں ہوئے تھے کہ اچانک کسی نے اسے بازو سے کھینچ کر زور کا تھپڑ مارا۔ وہ فرش پر گر پڑی آنکھیں پھیل گئیں۔
“بے شرم لڑکی! منہ کالا کر کے اب یہاں کیا لینے آئی ہے؟ اپنے باپ کی عزت کا کچھ تو پاس رکھ لیتی! تم جیسی لڑکیوں کیلئے قبر ہی بہتر تھی!”
شازمہ کا غصہ زہر بن کر لفظوں میں ٹپک رہا تھا۔ ان کے چیخنے کی آواز سن کر سب کمرے سے نکل آئے۔ وشال کانپتی ہوئی کھڑی ہوئی، آنسو مسلسل اس کے گالوں پہ بہہ رہے تھے۔
“جھوٹ مت بولیں پھوپھو۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا! آپ لوگ کیوں سمجھ نہیں رہے۔۔ بابا کہاں ہیں؟ م۔۔۔مجھے ان سے بات کرنی ہے۔۔۔ میں سب بتاتی ہوں۔۔۔ بابا!”
وہ روتے روتے لڑکھڑا گئی۔ اسفند نے ہاتھ بڑھایا لیکن پھر خود ہی پیچھے ہٹ گیا جیسے اس کے اپنے وجود پر کسی نے بوجھ رکھ دیا ہو۔
دور صوفے پر بیٹھا رمیز طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ “تماشہ” دیکھ رہا تھا جیسے یہ سب اس کے لئے کوئی دلچسپ کھیل ہو۔
اسی لمحے بابا اور دونوں بھائیوں نے لاؤنج میں قدم رکھا تھا۔ وشال کو دیکھ کر وہ چونک گئے۔
"وشال؟ تم کہاں تھی۔۔۔ ہم نے کہاں کہاں نہیں تمہیں ڈھونڈا!”
وہ بمشکل لب کھولنے لگی کہ شازمہ ایک بار پھر چیخی
“پوچھو اس سے! کس منہ سے بتائے گی وہ اپنا کارنامہ؟ تم لوگوں کی عزت روند کر اب معصوم بن رہی ہے!”
وشال نے ان سب کی باتیں سنی لیکن نظریں سیدھی بابا پر ٹکی تھیں۔
وہ روتے ہوئے ان کی طرف بڑھی۔
“بابا۔۔۔ پلیز۔۔ میں سب بتاتی ہوں۔۔۔ آپ یقین کریں۔۔۔ میں بے قصور ہوں”
بابا نے ایک دم ہاتھ اٹھایا۔
“خبردار۔۔ اگر میرے پاس بھی آئی!
جان سے مار دوں گا، عباد!”
انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو پکارا
" اسے میری نظروں سے دور کر دو ورنہ یہ۔۔۔ میرے ہاتھوں مر جائے گی۔"
پورے لاؤنج میں سناٹا چھا گیا وشال کے قدم وہیں جکڑ گئے۔ آنکھوں سے آنسو نہیں خون بہنے لگا تھا۔
“بابا۔۔۔ آپ بھی؟”
اس کے لبوں سے بس اتنا نکلا تھا۔ بابا کے قدم لڑکھڑائے سب اسے چھوڑ بابا کی طرف بھاگے
“دفع ہو جاؤ یہاں سے! کیا میرے بھائی کو مارنا چاہتی ہے۔”
شازمہ نے بازو سے پکڑا اور زبردستی اوپر کی طرف گھسیٹنے لگی۔
“ہمارے گھر کی عزت خاک میں ملا دی، اب ہمارا منہ کیا دیکھ رہی ہے؟”
سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے وشال نے نیچے دیکھا۔
رمیز صوفے پر بیٹھا مسکرا رہا تھا
تب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے دشمن باہر نہیں، اسی گھر کے اندر موجود ہیں۔
جاری ہے
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment