Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Intaqaam e Junoon - Episode 8 by Munaza Niaz - Urdu Revenge base Novel


Intqaam e junoon 

Episode 8 by Munaza Niaz 


گاڑی سیلون کے سامنے آ کر رکی تو سحر کی دھڑکن جانے کیوں ذرا سی بے ترتیب ہو گئی۔ اشعر نے اس کی طرف دیکھا پھر مسکرا کر نرمی سے بولا۔

"میں ٹھیک نو بجے آ جاؤں گا تمہیں لینے۔۔۔ promise."

سحر نے ہلکی سا سر ہلایا لیکن نہ جانے کیوں دل نے عجیب سا احتجاج کیا۔

بےاختیار اس کے لبوں سے نکلا۔


"کیا تم۔۔۔ تھوڑی دیر اور نہیں رک سکتے؟ پھر اکٹھے ہی چلتے ہیں" 


"یار! تھوڑی سی تو دیر ہے۔ اس کے بعد تو تم ویسے بھی ہمیشہ کے لیے میرے پاس ہو گی۔ پھر میں چاہوں بھی تو تم مجھے کہیں نہیں جانے دو گی ہے نا؟"

یہ کہتے ہوئے اس نے شرارت سے اس کی ناک کو ہلکا سا کھینچا۔

سحر صرف خاموشی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ اس کا دل کچھ اور کہنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر زبان ساتھ نہ دے رہی تھی۔

وہ گاڑی سے اتری اور سیلون کے دروازے پر جا کر ایک پل کو رکی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو اشعر اب بھی گاڑی میں تھا مگر نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔ اس ایک لمحے میں سحر کی آنکھوں میں عجیب سی التجا تیر گئی


"رک جاؤ۔۔ مت جاؤ۔۔ آج کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔۔"

اشعر نے اس کی نظروں کو پڑھنے کی کوشش کی۔۔۔لیکن وہ پل بہت جلد گزر گیا۔ سحر نے گہری سانس بھری نظریں پھیریں اور تیزی سے اندر چلی گئی


دروازہ بند ہوا تو ایک نامعلوم سی خاموشی اس کے دل پر اتر آئی ایک بے نام سا خوف۔ جیسے کہ کوئی سایہ اس کے پیچھے اندر آ گیا ہو۔


(اور یہی وہ خاموشی تھی جس کے بعد سب کچھ بدل جانا تھا)

☆☆☆

وہ پورا دن کمرے میں بند رہی تھی۔

رو رو کر آنکھیں جل چکی تھیں جیسے پلکوں کے نیچے آگ دبی ہو۔ بھابھی کھانا دینے آئی تو وہ بس چپ چاپ دیکھتی رہی مگر جیسے ہی پلیٹ سامنے رکھی گئی پیٹ میں شدید بل سا پڑا۔ صبح سے اس کے حلق سے ایک نوالہ تک اندر نہیں گیا تھا۔ اس نے خاموشی سے کھانا کھایا پھر کپڑے بدل کر بے جان سی بیڈ پر لیٹ گئی۔


دروازہ باہر سے بند تھا پھپھو نے جاتے ہوئے آخری بار بھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ ٹھیک ہے یا مر گئی۔


لمحہ بہ لمحہ گھٹن بڑھتی گئی۔ سر درد سے پھٹا جا رہا تھا مگر نیند جیسے ناراض ہو کر دور کھڑی تھی۔ دماغ بار بار گزری ہوئی رات کی طرف کھنچ جاتا۔۔۔ پھر اچانک آریان کا خیال آ جاتا۔۔۔ کہاں ہوگا وہ؟ کیا اسے پتہ ہے کہ میں یہاں۔۔ اس طرح بند ہوں؟ پھر بابا کا خیال۔۔۔ جنہوں نے اس کی بات سنی تک نہیں تھی۔


بس یہی سوچتے سوچتے پتہ نہیں کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح آنکھ باہر اٹھتی ہوئی آوازوں نے کھولی۔ اس کا دل زور سے دھڑکا جیسے کوئی بری خبر سیڑھیوں سے اوپر چڑھ رہی ہو۔ پھپھو کی کرخت آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی


"ارے بھائی صاحب! اب بھی اسی کی حمایت میں بیٹھے ہیں؟ میری مانیں تو اس کی فوراً شادی کر دیں۔ پتہ نہیں کون تھا جو اسے استعمال کر کے یہاں مصیبت چھوڑ گیا! کاش وہیں کہیں مر گئی ہوتی۔۔ کم از کم بدنامی تو نہ ہوتی!" 


وشال کا خون جیسے رگوں میں جم گیا۔ دروازے کے پیچھے کھڑی ذس کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ بابا؟ سچ میں یہ سب سن رہے ہیں؟

ادھر بابا کی آواز آئی سپاٹ، ٹھنڈی۔


"میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ بہت جلد اس کی شادی کر دوں گا۔ رمیز سے پوچھ لو۔۔ اگر اسے کوئی اعتراض ہے تو ابھی کہہ دے۔"

تبھی دروازے کے اس پار رمیز کی غصیلی آواز گونجی تھی

"میں ہرگز شادی نہیں کروں گا ایسی بے حیا لڑکی سے! نہیں معلوم کہاں کہاں رات گزار کر آئی ہے!",

پہلے ایک لمحہ کے لیے وشال کا دل رک گیا پھر اگلے لمحے شازمہ پھوپھو کی سخت آواز گونجی

"چپ کر بےغیرت! تیری ماں ابھی زندہ ہے۔ ایک لفظ اور بولا تو زبان کاٹ دوں گی!"

رمیز پیر پٹختا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

لیکن پھپھو۔۔۔پھر شروع ہو گئیں

"بھائی صاحب! آپ کو تو پتہ بھی نہیں میں رات کو اس کے پاس گئی تھی میں نے بڑے پیار سے پوچھا کہ کیوں کیا اس نے یہ سب۔لیکن وہ تو الٹا مجھ پر ہی چلا اٹھی! بولنے لگی کہ جو کیا وہ بالکل ٹھیک کیا اور میں تو واپس بھی نہیں آتی مگر اس نے کہا تھا کہ پہلے جا کر جائیداد میں سے اپنا حق لو! تاکہ بعد میں کوئی پریشانی نہ ہو میں تو ہکا بکا رہ گئی بھائی صاحب یہ لڑکی اتنا گر سکتی ہے؟"


وہ بنا رکے بولتی جا رہی تھیں اور اندر کمرے میں وشال اپنی ہچکیوں کو ہاتھوں سے دباتی بیٹھی تھی۔ جانے کیا دشمنی تھی اس عورت کو اس سے۔ بابا کی آخری بات نے اس کا سارا جسم سن کر دیا تھا

"دو دن کے اندر اندر۔۔۔۔ رمیز کے ساتھ اس کا نکاح کروا دوں گا۔ اور نکاح کے اگلے ہی دن اسے باہر ملک بھیج دوں گا۔

سب بات ختم۔"


وشال کا ہاتھ اس کے سینے پر گیا ایک ایسی گھبراہٹ جیسے سانس بھی قاتل بن گئی ہو۔ اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اصل قید ابھی آئی ہی نہیں۔

☆☆☆

سحر پوری طرح تیار ہو کر صوفے پر خاموش بیٹھی تھی۔ موبائل اس کے ہاتھ میں تھا مگر نظریں اس کی سکرین کو نہیں کہیں دور کسی انجانی آہٹ کو محسوس کر رہی تھیں۔ اشعر کے آنے میں چند ہی منٹ باقی تھے۔ لیکن اس کا دل جیسے کسی انجان خوف کی گرفت میں تھا، دھڑکن بےترتیب، سانس بےقراری سے بھری ہوئی۔


کوئی خاص بات نہیں تھی۔۔ کوئی واضح پریشانی نہیں۔۔۔ پھر بھی دماغ باربار کسی انہونی کا اشارہ دے رہا تھا۔

",بس۔۔ وہ آ جائے اور جلدی سے ہم یہاں سے چلے جائیں." 

اس نے دل ہی دل میں خود سے کہا تھا جیسے خود کو ہی تسلی دے رہی ہو۔


سامنے ایک اور لڑکی پارٹی میک اپ کروارہی تھی۔ سحر نے نظر اس پر ڈالی، پھر ہولے سے مسکرا دی، اسی لمحے اشعر کی وہ بات یاد آ گئی

"میں چاہتا ہوں۔۔ جب تم دلہن بنو۔۔ تو سب سے پہلے میں تمہیں دیکھوں۔"

دل ایک پل کے لیے نرم پڑ گیا۔ چہرہ ہلکا سا گلابی ہوا۔۔ اور آنکھوں میں بےاختیار چمک آ گئی۔


بیوٹیشن نے مسکرا کر اس کو دیکھا

"میں نے زندگی میں جتنی دلہنیں تیار کی ہیں نا۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی آپ جتنی خوبصورت نہیں لگی آج تک."

سحر مسکرانے ہی لگی تھی کہ دروازہ ایک جھٹکے کے ساتھ کھلا۔ کئی نامعلوم مرد اندر آ دھمکے۔ فضا یکدم ٹھہری ہر چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا۔ ان میں سے ایک سیدھا سحر کی طرف بڑھا۔ سحر کے جسم میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا وہ اٹھنے لگی مگر اگلے ہی لمحے اس شخص نے اس کا بازو بری طرح پکڑ کر جھٹکے سے کھینچا۔


"چھوڑو! کیا کر رہے ہو۔۔ مجھے، چھوڑو!"

اس کی چیخ کمرے میں گونج گئی

بیوٹیشن بدحواس ہو کر آگے بڑھی 

"آپ لوگ۔۔۔ رکیں۔۔۔ یہ۔۔۔"

مگر دوسرا آدمی مڑا اور زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا۔ وہ چیخ کے ساتھ پیچھے گر پڑی۔ پہلا آدمی غرا کر بولا

" اگر کسی نے بھی ذرا سی حرکت کی۔۔۔ تو سب کے سر اڑ جائیں گے۔"

اس نے انگلی سیدھی ان سب پر تان دی۔ ایک دم سراپا ساکت ہو گیا کوئی بولنے کی ہمت نہ کر سکا۔ 


سحر نے سہم کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی 

" پلیز میری مدد۔۔۔ کوئی مدد کرے۔۔۔"

لیکن اگلے ہی پل رومال اس کے منہ پر رکھ دیا گیا تیز بو دماغ تک پہنچی آواز حلق میں دب گئی۔ اس کی آنکھیں چند لمحوں تک لڑکھڑاتی روشنی کو دیکھتی رہیں پھر سب کچھ تاریکی میں ڈوب گیا۔ وہ لوگ اسے گود میں اٹھا کر تیزی سے باہر لے گئے۔ چند ہی لمحوں میں ایک گاڑی کا دروازہ کھلا اور سحر اس شہر کی روشن سڑکوں سے دور۔۔ اندھیرے کی طرف لے جائی جا چکی تھی۔


(اور ادھر اشعر اب بھی وہیں تھا یہی سوچتے ہوئے کہ صرف ایک منٹ رہ گیا ہے ملاقات میں۔۔۔)

☆☆☆

"کیا مطلب ہے تم لوگوں کا!؟ آخر کون تھے وہ لوگ!؟"

اشعر کی دھاڑ نے پورے سیلون کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کی آنکھوں میں اس وقت صرف آگ تھی ایسی آگ جو سب کچھ جلا سکتی تھی۔


"اگر مجھے ذرا سا بھی شک ہوا کہ تم لوگوں کا ہاتھ ہے اس پورے معاملے میں تو قسم ہے مجھے، تم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا! سب کو سلاخوں کے پیچھے پھینکوں گا۔۔ اور اس پورے پالر کو آگ لگا دوں گا، سمجھے تم؟"

بیوٹیشن کانپتے ہوئے رونے لگی

"ہم نے جو دیکھا سب بتا دیا سر۔۔۔ خدا کی قسم ہم جھوٹ نہیں بول رہے۔۔۔"


اشعر نے ایک آخری زہر بھری نظر ان سب پر ڈالی اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ پولیس سڑکوں پر چھاپے مار رہی تھی۔ جگہ جگہ ناکے لگ چکے تھے لیکن سحر کا کوئی سراغ۔۔ کوئی اشارہ۔۔۔ کوئی ٹریس۔۔۔ کہیں نہیں تھا۔


اشعر بےچینی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور اگلے ہی لمحے اس نے پوری قوت سے اسٹیئرنگ پر مُکا دے مارا۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ آنکھوں کے کنارے سرخ ہو چکے تھے۔ اسی لمحے موبائل بجا۔ اس نے جھٹ سے کال اٹھائی

“کچھ پتا چلا؟”

“ن۔۔ نہیں سر۔ ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ لیکن ہم پوری کوش۔۔۔”

“اگر سحر کو کچھ بھی ہوا نا۔۔۔”

اس کی آواز غصے سے کانپنے لگی

“تو میں کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا! سمجھ آئی؟ کسی ایک کو بھی نہیں!”


دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی صرف ڈری ہوئی ہکلاہٹ ہوئی

“ج۔۔۔جی سر۔۔۔”

اشعر نے فون جھٹکے سے کاٹ کر ڈیش بورڈ پر پھینک دیا۔ ایک گھنٹے تک وہ سڑکوں، گلیوں اور ہر ممکن جگہ پر بھاگتا رہا ہر پاس سے گزرنے والی گاڑی کو دیوانوں کی طرح روکتا۔۔ ہر چہرے کو گھورتا۔۔۔ لیکن ہر دفعہ۔۔۔ صرف مایوسی اس کے ہاتھ لگی۔ دل کے اندر ایک انجانی وحشت سمٹتی جا رہی تھی۔۔ اور پھر موبائل دوبارہ بجا۔


اس بار اسکرین پر نام نہیں تھا صرف Unknown Number۔۔۔۔ اور اشعر کے ہاتھ ایک پل کے لیے رک گئے۔ اس کے سینے میں دھڑکن خوفناک طریقے سے اچھلی۔۔۔ جیسے کوئی آنے والی قیامت کی پہلی دستک ہو۔

☆☆☆

رات کا کون سا پہر تھا اسے معلوم نہیں تھا۔ بس اتنا یاد تھا کہ سارا گھر سوتا ہوا تھا اور وہ ایک اندھیرے کونے میں گھٹن کے ساتھ چپ چاپ سمٹی بیٹھی تھی۔ پتا نہیں کب سے رو رہی تھی جسم کانپ رہا تھا۔۔۔۔ اسی لمحے دروازہ آہستگی سے کھلا۔ وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ کمرے میں موبائل کی ٹارچ روشن ہوئی اور روشنی میں وہ چہرہ ابھرا 

“اسفند۔۔۔؟”

آواز ٹوٹ کر لبوں سے نکلی اگلے ہی پل آنسو چھلک پڑے۔ اسفند تیزی سے آگے بڑھا اور اسے مضبوطی سے سینے سے لگا لیا

“وشال۔۔ میری بہن۔۔ بس، بس۔۔ میں آ گیا ہوں۔”

وہ ہچکیوں کے بیچ کانپتی رہی۔ اس کے آنسو صاف کرتے اسفند دھیمی آواز میں بولا

“چلو میرے ساتھ، فوراً!”

وشال رک گئی 

“کہاں؟”

“میں زیادہ نہیں بتا سکتا بس اتنا کہتا ہوں میں تمہاری شادی رمیز سے کبھی نہیں ہونے دوں گا!”

وہ اس کے سامنے کھڑا تھا آنکھوں میں وہی بےبسی۔۔ مگر اس کے پیچھے کسی جنگ کی آگ. وشال نے بےیقینی سے اسے دیکھا

“لیکن۔۔ تم مجھے کہاں لے جاؤ گے؟ اور اگر بابا کو پتا چل گیا تو۔۔؟ اسفند میں پہلے ہی ان کی نظروں میں گر چکی ہوں۔۔۔ مجھے ان کی نفرت سے ڈر لگتا ہے۔۔ پلیز مجھ پر یہ بوجھ مت ڈا۔۔”

اسفند نے اس کی بات کاٹ دی

“مجھے صرف اتنا بتاؤ کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے؟ اگر ہے تو میری بات مانو۔ سب ٹھیک کر دوں گا لیکن ابھی کے لیے تمہیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔

ابھی۔۔۔ اسی وقت!”

اس نے بے بسی سے اسفند کو دیکھا۔

آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب پھر سے ابھرا تھا اور پھر آخرکار خاموشی میں سر ہلا دیا۔ اسفند نے فوراً ایک بڑی چادر اس کے ارد گرد لپیٹی اور بغیر ایک لفظ بولے اسے آہستہ آہستہ گھر سے باہر لے آیا۔ رات کے سناٹے میں وہ دونوں پیدل سڑک پر چلتے رہے۔ پانچ منٹ بعد ایک گاڑی نظر آئی۔اسفند کا ہاتھ وشال کے کندھے پر تھا جیسے ساری دنیا سے بچا کر لے جا رہا ہو۔

لیکن جیسے ہی وہ گاڑی کے قریب پہنچے وشال کے قدم ساکت ہو گئے۔ اس نے حیرت سے پہلے اسفند کو دیکھا پھر گاڑی سے اترتے ہوئے آریان کو جو خاموش مگر تیز قدموں کے ساتھ سیدھا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔


وشال کی آنکھیں پھٹ سی گئیں۔ وہ ایک لفظ تک نہ بول سکی۔ آریان نے ایک پل کو بس اسے دیکھا پھر نظریں جھکائیں اور بڑے وقار سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ گھبراہٹ سے بھری ہوئی مگر اسفند کے ہاتھ کو محسوس کرتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ گاڑی سیدھا کورٹ کی طرف روانہ ہوئی اور چند ہی منٹوں بعد اسفند اس کا بھائی نہیں ولی بن کر نکاح نامے پر دستخط کر رہا تھا۔

چاروں طرف خاموشی۔۔۔

قلم کی خر خر کرتی آواز۔۔۔۔

اور وشال کی آنکھوں میں حیرت،خوف اور انجانی تسکین سب اکھٹے اتر گئے۔


کچھ دیر بعد نکاح مکمل ہو چکا تھا۔

وہ تینوں کورٹ سے باہر نکلے۔ وشال اپنی جگہ گم سم کھڑی تھی اسے سمجھ ہی نہ آ رہا تھا کہ یہ سب خواب ہے یا حقیقت۔ اسفند نے آریان کی طرف دیکھا


"مجھے تم پر اپنے گھر والوں سے زیادہ یقین ہے اسی لیے یہ قدم اٹھایا۔ اب تم وشال کو یہاں سے بہت دور لے جاؤ اور صرف ایک بات یاد رکھنا۔۔۔ وعدہ میرا تھا۔۔۔اب حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔"

آریان نے سنجیدگی کے ساتھ سر ہلایا۔

"مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔ میں اپنی جان دے دوں گا مگر اسے ٹوٹنے نہیں دوں گا۔"

اس نے وشال کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا، دروازہ کھولا، اور اسے اندر بٹھا دیا۔ اسفند نے ایک آخری نظر اپنی بہن پر ڈالی پھر پیچھے مُڑ گیا۔۔۔۔

اپنے آنسو اسے دکھائے بغیر۔۔۔۔


آریان نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ اسفند کا وجود پیچھے دھیرے دھیرے چھوٹتا گیا اور گاڑی تیزی سے سنسان رات میں آگے بڑھنے لگی۔ وشال نے نیم خوفزدہ سی آواز میں پوچھا

"تم۔۔۔ تم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو؟" 

گاڑی کی رفتار بڑھ گئی۔ آریان نے پل بھر کو آنکھیں بند کیں پھر بہت آہستہ، مگر مضبوط لہجے میں کہا

"وہاں۔۔۔ جہاں تمہیں کبھی دوبارہ خوف محسوس نہیں ہوگا۔"


جاری ہے

Comments

Popular Posts