Intqaam e junoon
Episode 10 & Last episode
دروازہ دھڑام سے کھلا، وہ تیز قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ آتے ہی جھٹکے سے اپنی شرٹ اتار کر صوفے پر پھینکی۔ سانس بھاری تھی رگیں ابھر رہی تھیں۔ آنکھیں بند کیں تو وہ اجنبی لڑکی سامنے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں، اس کی آواز۔۔۔ اور وہ ایک جملہ
"میرا نام سحر ہے، پورا نام سحر ارہا۔"
بس نام ہی تو تھا۔۔۔ مگر جیسے کسی نے پرانے زخموں کو نوچ ڈالا ہو۔ اس نے کبھی سحر کو یاد کرنے کی ہمت نہ کی تھی لیکن ایک اجنبی کے لبوں سے نکلا ہوا "سحر" سب کچھ دہرا گیا۔ وہ کمرے کے بیچ کھڑا بےاختیار بڑبڑایا.
"یہ صرف نام ہی تو ہے۔۔۔ صرف نام۔۔۔ پھر دل کیوں جل رہا ہے؟ سانس کیوں کانپ رہی ہے؟ یہ غصہ، یہ درد آخر جاگ کیوں گئے ہیں؟"
ہاتھوں کی مٹھی بھینچ کر وہ دیوار سے ٹیک لگا گیا۔ آنکھیں سرخ، دل ٹوٹا ہوا اور لب کپکپا رہے تھے۔
"نام ہی تو ہے۔۔۔ مگر کیوں یہ میری جان نکال رہا ہے؟"
اس نے سر دونوں ہاتھوں میں گرایا۔ آنکھوں سے سیال بہہ رہا تھا اور اسے احساس بھی نہ ہوا۔ جس دن سحر مری تھی، اس دن خالہ نے بھی زندگی ہار دی تھی۔ اور وہ؟ وہ تو ایک خالی خول بن کر رہ گیا تھا۔ زندہ، مگر لاش۔۔
اب جب وہ انتقام لینے نکلا تو اسی نام کی لڑکی کیوں اس کے راستے میں آ گری؟ وہ تو ہمدردی میں اس کی مدد کر رہا تھا، مگر کیا خبر تھی کہ وہ ہمدردی اس کے زخموں کو پھر سے ادھیڑ دے گی۔
"سحر۔۔۔"
اس نے ہولے سے پکارا، جیسے کوئی صدا ہو۔
"میں کسی کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ ایک ایک سے تمہارے خون کا حساب لوں گا۔"
یہ اس کا عہد تھا۔ اور اب؟ صرف ارقم باقی تھا۔۔۔ اصلی قاتل۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ موت اس کے قدموں کے سائے میں کھڑی ہے، اور فاصلے بس چند لمحوں کے رہ گئے ہیں۔
☆☆☆
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ خود کو کرسی سے بندھا پایا۔ پہلے حیرت ہوئی، پھر بے اختیار سامنے بیٹھے ایک شخص کو دیکھا جو مسلسل اسے گھور رہا تھا۔
"ہاں، تو آگیا ہوش؟ چلو اچھی بات ہے۔۔۔ ورنہ میرا ارادہ تھا کہ تمہیں بے ہوشی میں ہی اوپر بھیج دوں۔"
وہ مسکرایا۔
"کون ہو تم؟ اور مجھے کیوں لائے ہو یہاں؟"
آریان نے تیز نظروں سے اسے دیکھا۔
"بکواس بند کرو۔ میرے تین آدمیوں کو مار کر مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ میں کون ہوں؟ چاہتا تو اسی ایکسیڈنٹ میں تمہیں مروا دیتا، لیکن نہیں۔۔۔ تمہیں اتنی آسان موت نہیں ملے گی۔"
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گیا۔
"میں نے کسی کو نہیں مارا۔ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے، جاؤ جا کر علاج کرواؤ!"
آریان کے جواب پر ارقم تلخی سے مسکرایا۔ وہ اٹھ ہی رہا تھا کہ سامنے ٹیبل پر رکھا آریان کا موبائل بج اٹھا۔
اس نے تیزی سے موبائل اٹھایا، اور اسکرین پر نام دیکھ کر اس کے لبوں پر کمینگی بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔
"چاکلیٹ! میں بھی دیکھوں ذرا کتنی میٹھی ہے۔۔۔"
اس نے کال ریسیو کی۔ آریان کا خون کھولنے لگا۔
"تجھے ایسی موت ماروں گا کہ تیرے کتے بھی تجھے پہچان نہیں پائیں گے!" وہ پھنکارا۔
"آریان کہاں ہو تم؟ میں پچھلے دو گھنٹے سے انتظار کر رہی ہوں۔۔۔ اور تم ہو کہ کال تک نہیں اٹھا رہے۔۔۔"
اسپیکر سے میٹھی آواز ابھری۔ ارقم کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
"تمہارا آریان میرے پاس ہے، سویٹی۔ فکر مت کرو۔۔۔ میں تمہارا خیال رکھوں گا۔"
اس کے لہجے پر آریان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
"فون بند کر حرام خور۔۔۔ ورنہ تجھے چھوڑوں گا نہیں!"
وہ جھٹکے سے ہاتھ پیر مارتا رہا مگر ناکام رہا۔
"کون ہو تم؟ آریان کہاں ہے؟ کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ۔۔۔؟"
دوسری طرف کی آواز کانپ رہی تھی۔ ہاتھ میں پکڑا گلاس نیچے جا گرا۔
ارقم ہنسا۔
"ارے ڈرو مت۔۔۔ میں بس اسے ایک گولی ماروں گا۔ وہ بھی سیدھی سر میں۔۔۔ زیادہ کچھ نہیں۔ سننا چاہو گی آواز؟"
"وشال، میری بات سنو۔۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، تم۔۔۔۔"
آریان کی بات مکمل نہ ہوئی کہ اچانک گولی کی آواز گونجی۔ فون بند ہوگیا۔
"آریان۔۔۔ نہیں!"
وشال کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا۔ وہ ننگے پاؤں باہر بھاگی۔ گلاس کے ٹکڑے اس کے دودھیا پیر میں کھب گئے۔ فرش سرخ ہونے لگا مگر اسے پروا نہ تھی۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے آنکھوں کے سامنے دھند چھا گئی۔ قدم لڑکھڑائے۔ سامنے ایک شخص موبائل دیکھتے ہوئے اوپر چڑھ رہا تھا۔ اچانک لڑکی کو گرتا دیکھ وہ لپکا۔
"چھوڑو مجھے! مجھے آریان کے پاس جانا ہے۔۔۔ اس کو گولی مار دی گئی ہے!"
وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی. اشعر چونکا۔ یہ لڑکی جانی پہچانی لگ رہی تھی۔
"کیا کہا؟ کس نے گولی ماری ہے؟ کون ہو تم؟"
وشال ہانپتے ہوئے بولی
"مجھے نہیں پتہ۔۔۔ میں نہیں جانتی! مجھے بس میرے آریان کے پاس جانا ہے۔۔۔ وہ لوگ اسے مار دیں گے۔۔۔ انہوں نے مجھے بھی اغوا کیا تھا۔۔۔"
اشعر نے اسے تھام کر سیڑھی پر بٹھایا۔
"دیکھو، ریلیکس ہو جاؤ۔۔۔ آرام سے بتاؤ کیا ہوا ہے۔ میں مدد کروں گا۔"
وشال نے آنکھوں میں آنسو لیے سب کچھ کہہ دیا۔ اشعر سن کر چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اسے سہارے سے کمرے میں چھوڑ آیا اور فوراً ارہا کو بلا لیا۔
وشال صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی۔ اشعر نے غور سے اسے دیکھا۔ اچانک یاد آیا۔۔۔ یہ وہی لڑکی تھی جو ساحل پر اس دن ایک لڑکے کے ساتھ تھی۔ اس نے جھک کر اس کے پیر سے شیشے کے ٹکڑے نکالے۔
"میں پولیس والا ہوں۔ شاید تمہاری مدد کر سکوں۔"
وشال نے سب کچھ بتا دیا۔ اشعر کے دماغ کی گرہیں کھلتی گئیں۔ شک یقین میں بدل گیا۔ وشال نے اسے صرف یہ نہیں بتایا کہ آریان نے قتل بھی کیا تھا وہ یہ بات چھپا گئی تھی اشعر اس کی چالاکی پر مسکرایا۔ تبھی اسے ارہا کی کال آئی۔ وہ باہر گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک لڑکی کے ساتھ واپس آیا۔
"آپ فکر نہ کریں، میں دیکھتا ہوں آریان کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ آپ کا خیال رکھیں گی۔"
وہ باہر نکل گیا۔
ارہا مسکرائی۔
"ٹینشن مت لیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
وہ اس کے برابر بیٹھ کر بینڈیج باندھنے لگی۔ تبھی وشال نے جھجکتے پوچھا
"آپ کون ہیں؟ اور وہ شخص۔۔۔ پولیس والا؟"
ارہا نے لمحہ بھر کو سوچا، پھر نرمی سے کہا
"بس یہ سمجھ لیں کہ انہوں نے میری اتنی مدد کی ہے جتنی شاید کوئی اور نہ کرتا۔ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔"
وشال خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ وقت گزرتا گیا، مگر اشعر نہ آیا۔ تبھی دروازہ کھٹکا۔
"میں دیکھتی ہوں۔"
ارہا جلدی سے اٹھی۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، زور کا دھکا دیا گیا۔ وہ پیچھے گری۔ چند آدمی اندر گھس آئے۔
ایک نے ارہا کو دبوچ لیا، دوسرا وشال کی طرف لپکا۔ باقیوں نے کچن اور بالکونی دیکھ ڈالی۔ تسلی پا کر دونوں لڑکیوں کو گھسیٹ کر باہر لے جانے لگے۔
ارہا نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی، مگر ایک زور دار تھپڑ کھا کر زمین پر گری۔۔۔ اور بے ہوش ہوگئی۔
☆☆☆
ہال کے ایک کونے میں ارہا بے ہوش پڑی ہوئی تھی۔ جبکہ ایک شخص نے وشال کو ارقم کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔ ارقم گہری نگاہوں سے اسے دیکھے جا رہا تھا یہ جاننے کے لیے کہ وہ بہت زیادہ خوبصورت تھی یا پھر اس کی آواز جو کچھ دیر پہلے اس نے سنی تھی۔
" آریان ۔۔۔۔ آریان کہاں پر ہے کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ بتاؤ مجھے کون ہو تم۔۔۔ مجھے اس کے پاس جانے دو۔"
ارقم ہلکا سا ہنسا اور اپنی گن نکال لی
" میں نے اسے وہاں بھیج دیا ہے۔"
اس نے گن کا رخ آسمان کی طرف کیا۔ وشال کے آنسو تھمے۔ آنکھوں میں بے یقینی اتری وہ دھیرے سے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
" کیا۔۔۔"
اس کے لب کپکپائے مگر وہ بول نہیں سکی ارقم خباثت سا آگے جھکا
" وہ مر گیا ہے سوئٹی۔"
وہ پھنکارا۔ وشال کچھ پل اس کو دیکھتی رہی اور پھر ہاتھ بڑھا کر اس کی گن کا رخ اپنے چہرے کی طرف کر لیا۔ ارقم مسکراتے ہوئے اس کو دیکھتا رہا اور ساتھ ہی اس نے اپنے آدمی کو آنکھ کے اشارے سے کچھ کہا وہ آدمی فورا سمجھتے ہوئے چلا گیا۔
" مجھے بھی مار دو تم۔۔۔میں زندہ رہ کر اب کیا کروں گی۔۔۔چلاو گولی ختم کر دو مجھے۔ "
وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ بولی
" نہ نہ نہ۔۔۔ کیا میں تمہیں پاگل نظر آتا ہوں کہ ایک خوبصورت لڑکی کو مار دوں گا۔ سننے میں جتنی حسین لگی تھی حقیقت میں اس سے بھی زیادہ حسین ہو تم۔ "
اس نے گن کی نال اس کے گال پر سے پھیرتے ہوئے پیچھے کر لی۔ وشال کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ابھی وہ اس کو چھوتا کہ کسی کی آواز نے اسے روک دیا۔
" اگر اس کو ہاتھ لگایا نا تو میں تمہیں ایسی موت ماروں گا کہ تو قبر میں بھی تڑپتا رہے گا۔"
وشال نے نم چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا دو شخص آریان کو دبوچے کھڑے تھے۔
" آریان ۔۔"
وشال نے شاکڈ کی سی کیفیت میں اس کو دیکھا۔ ابھی وہ اٹھ کر جانے لگی کہ ارقم نے تیزی سے اس کو پکڑ لیا۔ دوسری طرف ارہا مندی مندی آنکھیں کھول کر یہ منظر دیکھنے لگی تھی۔ اس کا سر بہت بری طرح چکرا رہا تھا۔
" اتنی بھی کیا جلدی ہے سوئٹی، یہاں میرے پاس بیٹھو میں ہوں نا۔۔ دیکھنا تم۔۔۔ کیسے میں اسے تمہاری آنکھوں کے سامنے مارتا ہوں۔"
ایک ہاتھ سے وشال کا بازو پکڑے دوسرے ہاتھ سے گن کا رخ آریان کی طرف کر دیا ابھی وہ ٹریگر دباتا تب ہی کوئی تیزی سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا اس کے ساتھ پانچ نقاب پوش آدمی تھے ارقم کے چھکے چھوٹ گئے۔
" ارے انسپیکٹر اشعر۔۔۔؟ آؤ ادھر آؤ یہ دیکھو میں نے اپنے ساتھیوں کے قاتل کو پکڑ لیا ہے میں بس تمہیں بلانے والا تھا۔"
اس نے جلدی سے ہاتھ نیچے کر لیا اشعر کے آدمیوں نے ارقم کے سارے آدمیوں کو پکڑ لیا وہ خاموشی سے چلتا ہوا اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔
کیا نہیں تھا اس کی آنکھوں میں؟ نفرت؟ غصہ؟ درد۔۔ سب کچھ ختم کر دینے کا جنون اسے سامنے بیٹھے ہوئے شخص سے صرف ایک ہی چیز چاہیے تھی۔
اس کی موت۔
وشال نے اپنے بازو پر اس کے گرفت ڈھیلی محسوس کی اور جھٹکے سے خود کو چھڑوا کر دور کھڑی ہو گئی۔ چوٹ کی وجہ سے وہ ہلکا سا لڑکھڑا گئی تھی۔ آریان نے سانس بھر کر اس کو دیکھا اس کے دونوں ہاتھ پیٹھ پر بندھے ہوئے تھے۔ ارقم ابھی کچھ اور کہتا اشعر نے ایک زوردار کک اس کے سینے پر دے ماری وہ تیار نہیں تھا اس لیے صوفے سمیت پیچھے کی طرف گر گیا۔ اشعر نے اسے کالر سے پکڑ کر کھڑا کیا اور بنا وقت ضائع کیے اس کے چہرے پر پوری قوت سے مکے برسانا شروع کر دیے۔ ارقم کا چہرہ لہولان ہو گیا گن چھوٹ کر نیچے گر گئی۔
" تم نے میری سحر کو مار دیا۔۔"
اس نے ایک اور مکا مارا۔ ارقم پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگا۔ پسینے اور خون نے اس کا چہرہ ڈھانپ لیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پہلی بار خوف اتر آیا تھا۔
"اشعر۔۔۔ دیکھو۔۔۔ غلطی تم سے ہو رہی ہے۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ سحر کی موت میں۔۔۔"
اس کے الفاظ ابھی پورے بھی نہیں ہوئے تھے کہ اشعر نے اس کے منہ پر اتنا زوردار مکا مارا کہ اس کے ہونٹ سے خون کا فوارہ چھوٹا۔
"چپ!"
اشعر غرایا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔
"سحر کا نام اپنی زبان پر مت لا۔۔۔ تم نے اسے چھینا مجھ سے۔۔۔ میری دنیا اجاڑ دی۔۔ اور آج۔۔۔ آج تیرا حساب ہوگا۔"
اشعر نے اسے گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا اور زمین پر پٹخ دیا۔ ارقم کراہتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اگلے ہی لمحے اشعر نے اس کی پسلیوں پر لات ماری۔ ارقم کی چیخ ہال میں گونج گئ. اشعر نے پاگلوں کی طرح اس پر مکے برسانا شروع کر دیے۔ ارقم کے ہاتھ کمزور پڑ گئے، چہرہ لہو میں تر ہوگیا۔ آخرکار اشعر نے گن اٹھائی اور اس کی نال ارقم کے ماتھے پر رکھ دی. ارقم کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
"نہیں۔۔۔ اشعر مت کرو۔۔۔ میں بدل جاؤں گا۔۔۔ مجھے زندہ رہنے دو!"
اشعر کا چہرہ پتھر کی طرح سخت تھا۔
"سزا۔۔۔ یہی ہے تیری۔"
اس نے ٹریگر دبا دیا۔ گولی کی گونج لمحے بھر کو سب کچھ ساکت کر گئی۔ ارقم کی آنکھوں کی روشنی بجھ گئی اور وہ فرش پر ڈھیر ہوگیا۔ اشعر نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ساری گولیاں اس کے جسم میں اتار دیں۔ اس نے گہری سانس لی، جیسے برسوں کا بوجھ ایک لمحے میں اتر گیا ہو، مگر اس کی آنکھوں میں سکون کے بجائے صرف خالی پن رہ گیا تھا۔ وشال نے آریان کو دیکھا اور لڑکھڑاتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔ اس نے اس کے دونوں ہاتھ کھول دیے۔ آریان نے جھٹکے سے اسے خود سے لگا لیا۔ وشال کے پیر ہوا میں جھولنے لگے۔ وہ اس کے سینے سے لگی بے اختیار رونے لگی۔ اشعر نے ایک نظر ان کو دیکھا اور دوسری نظر سحر پر ڈالی۔ تبھی وہ لڑکھڑایا اور پوری قوت سے شیشے کی میز الٹ دی تھی وہ اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا۔
سحر نے تیزی سے اس کی طرف بڑھ کر اسے سنبھالنا چاہا لیکن وہ جھٹکے سے دور ہوا۔
" خبردار جو مجھے ہاتھ بھی لگایا۔۔دور ہو جاؤ مجھ سے "
وہ تیزی سے باہر نکل گیا وہ تینوں بھی اس کے پیچھے نکلے تھے۔
☆☆☆
گاڑی ان کے فلیٹ کے سامنے رکی تھی آریان نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا اور اسے بانہوں میں اٹھا لیا. وشال خاموشی سے اسے دیکھے گی. وہ اسے یونہی اٹھائے فلیٹ میں پہنچا تھا کمرے میں پہنچ کر اس نے وشال کو بیڈ پر لٹایا اور بنا کچھ کہے اس کے سینے پر سر رکھ گیا.اپنے دونوں بازو اس کے پیٹ کے پیچھے کمر پر باندھ دیے وشال نے روتے ہوئے اس کے گرد اپنے بازو حمائل کر دیے.
" کچھ بھی مت کہنا وشال، بس مجھے محسوس کرنے دو کہ تم میرے پاس ہو"
آریان نے چہرہ اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور نرمی سے اس کی ٹھوڑی پر لب رکھ دیے اور پھر اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی.
وشال نے اپنی انگلیاں اس کے بالوں میں پھنسا کر اسے خود میں بھینچ لیا اور آنکھیں بند کر لیں.
☆☆☆
"میں نے بدلہ لے لیا، سحر۔۔۔تمہارے قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا۔"
اشعر کی آواز دھند میں گونجی۔
"مگر پتہ نہیں کیوں۔۔ دل کو قرار نہیں آ رہا۔ کاش اس دن میں تمہیں وہاں اکیلا نہ چھوڑتا۔۔۔ کاش تمہاری آنکھوں میں چھپا درد سمجھ پاتا۔۔۔ کاش۔۔۔"
الفاظ ٹوٹ گئے، آنکھوں سے بہتے آنسو نہ رکے۔ سرد ہوا میں اس کی کپکپاہٹ اور بڑھ گئی۔
"مجھے معاف کر دو، سحر۔۔۔ پلیز اپنے اشعر کو معاف کر دینا۔"
اس نے قبر پر ہاتھ پھیرا اور بوجھل قدموں کے ساتھ قبرستان سے نکلنے لگا۔
چند قدم ہی چلا تھا کہ اچانک اسے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ پلٹ کر دیکھا تو دھند میں لپٹی ایک مانوس سی پرچھائیں کھڑی تھی۔
اشعر کے قدم ڈگمگا گئے۔
اس نے آہستہ سے اپنے بازو پھیلا دیے شاید پہلی بار اس نے ہار مان لی تھی۔
سحر کی محبت سے۔ سحر چند لمحے حیرت سے دیکھتی رہی، پھر مسکرا کر دوڑتی ہوئی آئی اور اس کے سینے سے لگ گئی۔ اشعر کے کپکپاتے بازوؤں نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ آنسو اس کی گردن پر ٹپکنے لگے۔ سحر نے نرمی سے اس کا چہرہ دیکھا، اپنی پوروں سے اس کے آنسو صاف کیے۔
"میں آپ کی وہ سحر تو نہیں ہوں۔۔۔ نہ ہی ویسی محبت کر سکوں گی۔"
وہ آہستگی سے بولی۔
"لیکن ایک وعدہ ہے۔۔۔ آپ کو کبھی اکیلا محسوس نہیں ہونے دوں گی۔ اتنی محبت دوں گی کہ آپ کو اپنی ٹوٹی ہوئی کمی یاد بھی نہ رہے۔"
اشعر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا جیسے الفاظ کھو گئے ہوں۔ پھر ہولے سے بولا
"سحر۔۔۔ کیا تم۔۔۔مجھ سے۔۔۔ محبت کرتی ہو؟"
وہ لمحہ لمحہ رک کر بولا تھا۔ نہ جانے کتنے برسوں بعد وہ نام زبان پر آیا تھا۔
سحر نے مسکرا کر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما، اور اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے۔
"اتنی کہ آپ وہاں تک پہنچنا بھی چاہیں گے تو نہیں پہنچ پائیں گے۔۔۔"
اشعر کی پلکیں جھک گئیں۔ اس نے کچھ نہیں کہا، بس اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔
☆☆☆
"تمہیں بابا بہت یاد کرتے ہیں، وشال! ان کو پھوپھو کی اصلیت پتہ چل گئی ہے، بابا بار بار کہتے ہیں کہ میں تمہیں واپس لے آؤں۔"
اسفند کی آواز میں خوشی اور دکھ دونوں تھے۔
"بابا نے پھوپھو اور رمیز کو الگ گھر بھیج دیا ہے۔ رمیز نشے میں ڈوب کر اپنی زندگی برباد کر رہا ہے۔۔ اور پھوپھو اب بھی ضد اور انا میں ڈوبی ہوئی ہیں، انہیں اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔"
وشال خاموشی سے سنتی رہی۔ آنکھیں بھیگ گئیں۔
"میں۔۔ میں بہت جلد واپس آ رہی ہوں۔"
وہ رندھی آواز میں بولی۔
"بابا سے کہنا۔۔۔ ان کی وشال آ رہی ہے۔"
کال کاٹی تو کمرے کی خاموشی اور بڑھ گئی۔ اس نے رخ موڑا تو آریان بیڈ پر اوندھے منہ سو رہا تھا۔ ہلکی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی، وہ قریب آ کر بیڈ کے پائینتی سے لگ کر فرش پر بیٹھ گئی۔ آنکھیں آریان کے چہرے کا طواف کرتی رہیں۔ شاید اس کی نظروں کی تپش تھی جو آریان نے آنکھیں کھول دیں۔ چند لمحے تک وشال کو دیکھتا رہا، پھر سیدھا اٹھ بیٹھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے پاس کھینچ لیا۔
"اب کیسا ہے تمہارا پاؤں؟"
اس نے دھیرے سے پوچھا۔
"ٹھیک ہے۔۔۔"
وہ بمشکل مسکرائی۔
آریان جھکا اور اس کے زخم خوردہ، سرخ سپید پاؤں پر لب رکھ دیے۔ اس لمس میں کوئی خواہش نہیں تھی، صرف اطمینان تھا۔ وشال کی پلکیں بھیگ گئیں۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ باہر کا آسمان بادلوں سے کھیل رہا تھا۔ سرد ہوا اندر آ رہی تھی۔ اچانک آریان نے اپنے کندھے پر نرمی محسوس کی، وشال تھی۔۔۔ جو پیچھے آ کر اس کے بازوؤں میں سمٹ گئی۔
وہ اس کا ہاتھ تھام کر سامنے لے آیا، اس کا چہرہ دونوں ہتھیلیوں میں تھاما اور ماتھے پر لب رکھ دیے۔ پھر آہستہ سے اسے اپنے سینے سے لگایا اور اس کا رخ آسمان کی طرف کر دیا۔
"مجھے لگا تھا۔۔۔ میں نے تمہیں کھو دیا ہے، آریان۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو میں۔۔"
اس کی آواز بھرا گئی۔
آریان نے نرمی سے اس کی بات کاٹی
"ایسا ہوا تو نہیں۔ اور اب کبھی نہیں ہوگا۔ سب کچھ ختم۔۔۔ اب بس تم اور میں ہیں۔"
اس کے بازو وشال کے گرد مضبوط ہو گئے۔ پھر اچانک وہ شرارت سے بولا۔
"اور ہاں۔۔۔ ہماری ڈھیر ساری کینڈیز بھی۔"
وشال نے چونک کر پلک جھپکی۔
"کون سی کینڈیز؟"
آریان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے گال کو چھیڑا۔
"تم میری سب سے بڑی چاکلیٹ۔۔۔ اور ہمارے بچے ہوں گے ہماری کینڈیز۔ سوچو کیسا مزہ آئے گا۔۔ جب میں گھر آؤں گا اور تم روتی ہوئی کہو گی، ‘دیکھو آریان! آج سارا دن انہوں نے مجھے تنگ کیا۔’ اور پھر میں کہوں گا اچھا ہوا تمہارے ساتھ۔۔ میری کینڈیز ہیں، جو تم سے بدلہ لے رہی ہیں۔"
آخر میں اس نے وشال کی نقل بھی اتاری، وہ ہنسی روک نہ سکی۔
"میں نے کب تم پر ظلم کیا؟"
اس نے حیرت سے گردن اٹھائی۔
آریان ہنسا
"یہ جو تم نے مجھے اپنی محبت کے پیچھے اتنا خوار کیا۔۔۔ وہ بھلا کیا تھا؟ خیر۔۔۔۔ اب میں نہ صحیح، تو ہماری چھوٹی ٹیم تم سے بدلا ضرور لے گی۔"
وشال نے ناک سے مکھی اڑائی۔
"اوہ۔۔ ایسا ہے کیا؟ تو ٹھیک ہے، اگر انہوں نے مجھے تنگ کیا نا، تو تمہارے ساتھ ان کی بھی پٹائی ہوگی۔"
آریان کھل کر ہنس دیا، اور اگلے ہی لمحے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔
وشال نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں جیسے برسوں کے بعد سکون نے اس کے دل میں جگہ بنا لی ہو۔
اختتام
Comments
Post a Comment