Intqaam e junoon
Episode 9 by Munaza Niaz
وہ ایک خوبصورت اور کشادہ فلیٹ تھا جہاں وہ آئے تھے۔ صبح کا اجالا آہستہ آہستہ ہر طرف پھیل رہا تھا۔ راستے میں آریان ناشتہ لیتا آیا تھا۔
"تم فریش ہو جاؤ، پھر آرام سے مل کر ناشتہ کریں گے۔"
پورا راستہ وشال خاموش بیٹھی رہی تھی۔ اور اب بھی اس کی خاموشی آریان کے دل کو چبھ رہی تھی۔ اسے علم تھا کہ یہ سب اس کے لیے کتنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ وشال آہستہ قدموں سے باتھ روم میں چلی گئی۔ تب تک آریان نے ناشتہ لگا دیا تھا۔ وہ جب باہر نکلی تو آنکھوں میں ہلکی نمی اور چہرے پر تھکن تھی۔ آریان بنا کچھ کہے خود اندر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ گیلے بالوں کے ساتھ باہر آیا۔
اس نے ٹرے اس کے سامنے رکھی اور پاس بیٹھ گیا۔ وشال نے کوئی حرکت نہیں کی۔ آریان نے بنا کچھ بولے نرمی سے خود ہی نوالے بنا کر اسے کھلانا شروع کر دیا۔ وشال خاموشی سے کھاتی رہی لیکن ہر نوالے کے ساتھ اس کی بصارت دھندلانے لگی۔
کھانا ختم ہوتے ہی آریان برتن سمیٹنے اٹھ گیا۔ اور واپسی پر جب اس کے سامنے بیٹھا تو ایک لمحے کے بعد اپنے بازو پھیلائے۔ وشال نے کوئی سوال نہیں کیا، بس خود بخود اس کے سینے سے لگ گئی۔
یہی تو وہ لمحہ تھا۔۔۔ جس کا اسے شدت سے انتظار تھا۔ کسی ایک کندھے کا سہارا۔ کسی ایک سینے کی پناہ۔
وہ جوں ہی آریان کے سینے سے لگی۔۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ آریان نے اسے روکا نہیں۔ بس اس کا سر تھام کر سہلاتا رہا۔
"جتنا رونا ہے رو لو۔۔ بعد میں تمہیں رونے نہیں دوں گا۔ کبھی نہیں۔"
وہ سرگوشی جیسا لہجہ تھا مگر وشال کے وجود میں دھڑکن بن کر اتر گیا۔ وشال اس کے سینے میں چہرہ چھپائے ہچکیوں کے بیچ بولی۔
"آریان! میرے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہوا؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا۔۔ تمہیں پتہ ہے نا؟ مگر بابا نے تو میری ایک بات تک نہیں سنی!"
آریان نے اس کے بالوں پر لب رکھے اور گہرے لہجے میں بولا۔
"وہ ایک خواب تھا جو ختم ہو گیا۔ اب حقیقت کو دیکھو، حقیقت میں تمہارے سامنے صرف میں ہوں۔ کیا میں کافی نہیں ہوں تم سے محبت کرنے کے لیے؟ تم پر اعتبار کرنے کے لیے؟"
وشال ساکت ہو گئی۔ اس کے لہجے میں ایسا یقین تھا جو اس کی بکھری دنیا کو سمیٹ رہا تھا۔ تھکن اور جاگے دنوں نے اسے اپنی گرفت میں لیا۔ وہ آریان کے بازوؤں میں ہی نیند کے سپرد ہو گئی۔ آریان نے اس کے بھیگے چہرے پر نظر ڈالی، آہستہ سے آنسو صاف کیے، اور اپنا گال اس کے بالوں سے ٹکا دیا۔
"اب تم اکیلی نہیں ہو۔۔ کبھی نہیں۔"
اس کی آنکھیں بند ہوئیں اور کمرے میں خاموشی اتر آئی۔
☆☆☆
جب اس کی آنکھ کھلی تو سب کچھ دھندلا سا تھا۔ سانس لینا مشکل لگ رہا تھا کمرے میں سگریٹ کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے گھبرا کر گردن گھمائی۔ چار لوگ صوفے پر بیٹھے تھے جیسے اس کے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے۔
"تم۔۔۔ تم لوگ کون ہو؟ اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟"
اس کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔ ایک شخص اٹھا اور پنجوں کے بل اس کے سامنے آ بیٹھا۔ سحر سہم کر پیچھے ہٹی۔
"تمہیں پتہ بھی ہے کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں؟ جب سے تمہیں دیکھا ہے۔۔ بس پاگل ہو گیا ہوں۔"
ارقم کی آنکھوں میں وحشت تھی. سحر نے الجھ کر کہا۔
"کیا مطلب؟ میں تو تمہیں جانتی بھی نہیں!"
ارقم کے لبوں پر کڑوی ہنسی آئی۔
"ہاں۔۔ تم مجھے نہیں جانتی۔ لیکن اشعر کو جانتی ہو نا؟ اسی کے ساتھ تم نے زندگی کا فیصلہ کر لیا۔"
سحر کے لب کپکپائے۔
"اشعر؟۔۔۔ مم۔۔۔ میں تمہیں نہیں پہچانتی نہ ہی کبھی دیکھا ہے۔ پلیز مجھے جانے دو!"
ارقم کے چہرے پر چھائی وحشت گہری ہوئی۔
"جانے کے لیے نہیں لایا۔ تم اب میرے پاس رہو گی۔ ہمیشہ۔"
اس نے اس کا بازو پکڑا۔ سحر چیخی۔
"ہاتھ مت لگاؤ مجھے!"
لیکن اس کی گرفت فولادی تھی۔ باقی تینوں۔۔۔نواز ملک، ابراہیم اور قیصر تماشائی بنے بیٹھے تھے۔ جب وہ اسے گھسیٹ کر لے جانے لگا تو وہ چلا اٹھی۔
"چھوڑو مجھے!"
سحر نے پوری قوت سے بازو چھڑایا اور ایک جھٹکے میں اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ کمرے کی ہوا جم گئی۔ ارقم سکتے میں رہ گیا۔ باقی تینوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
آہستہ سے اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا، پھر زہریلے لہجے میں بولا
"تم نے۔۔۔ مجھے تھپڑ مارا۔"
وہ جھٹکے سے اٹھا اور اس کے بالوں کو جکڑ لیا۔ سحر کی چیخ فضا میں لرزی۔
"اگر تم مجھے جانتی ہوتیں تو ایسا سوچتیں بھی نہیں۔"
وہ اسے گھسیٹ کر کھڑا کر چکا تھا۔
"میں تمہیں اپنا بنانا چاہتا تھا۔۔ لیکن تم نے اشعر کے لیے مجھے ٹھکرا دیا۔ اس نے مجھے جیل میں پھینکا، میجھے سب کے سامنے ایکسپوز کیا میرا دھندا خراب کرنے کی کوشش کی، یہ جانے بغیر کہ میں کتنا بڑا شیطان ہوں اور اب دیکھو وہ تمہیں بھی نہیں بچا سکے گا۔"
اس کے الفاظ سحر کے دل کو کاٹ گئے۔ وہ بے بسی سے روئی
"میں۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا!"
ارقم کے اعصاب ٹوٹ گئے۔ اس نے زور سے اس کا چہرہ جھکایا۔ آنکھوں میں وحشت ناچ رہی تھی۔
"اشعر نے مجھے ہلکا سمجھا تھا اسی لیے تمہاری پرواہ تک نہیں کی اور نہ اپنی۔۔۔۔ اور اب وہ دیکھے گا کہ اس کی سب سے قیمتی چیز کس طرح مر رہی ہے۔"
ابراہیم پیچھے سے بڑھا اور چاقو اس کی پیٹھ میں گھونپ دیا۔ سحر کی چیخ کمرے کو چیرتی ہوئی نکلی۔ باقی دونوں نے قہقہے لگائے تھے۔ ارقم نے خون میں تر چاقو بے دردی سے کھینچ کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔
"میری محبت نے تمہیں چھوا نہیں لیکن میری نفرت نے تمہیں ختم کر دیا۔"
سحر کے قدم ڈگمگائے وہ زمین پر گری۔ اس کا مہندی سے سجا ہاتھ پیٹ پر گیا۔۔۔۔سرخی سب کچھ ڈھانپ گئی۔ آنکھوں میں آخری امید تھی کہ دروازہ کھلے گا اور اشعر آ جائے گا۔ مگر دروازہ نہیں کھلا۔ آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو گئیں۔ ارقم نے ایک سرد نظر اس پر ڈالی اور باہر نکل گیا۔
"انسپیکٹر اشعر کو فون ملاؤ۔"
ڈرائیور نے کال ملائی اور آہستہ سے بولا
"انسپیکٹر صاحب۔۔۔ آپ کی لڑکی کا پتہ مل گیا ہے۔ میں لوکیشن بھیج رہا ہوں، جلدی پہنچیں۔"
اشعر کی آواز کانپ اٹھی
"کیا؟ کہاں ہے وہ؟ سحر کہاں ہے؟"
ڈرائیور نے اطمینان سے پتہ بتایا اور فون بند کر دیا۔ ارقم نے سیٹ سے ٹیک لگا کر ہنسی دبائی۔
"بہت خوب۔۔۔ اب دیکھتا ہوں اشعر کا کیا حال ہوتا ہے۔"
☆☆☆
کمرے کے لائٹس بند تھیں باہر بارش زوروں پر تھی۔ وشال بالکنی میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ سر گھٹنوں میں چھپائے، چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا۔ دوپٹہ قدموں میں گر چکا تھا اور بارش کا پانی اس کے گیلے بالوں سے بہہ رہا تھا۔
آریان اندر آیا، کچن اور باتھ روم دیکھ چکا تھا۔ جب بالکنی میں اسے دیکھا تو چند لمحے وہیں رک گیا۔ بارش، بجلی کی روشنی اور اس کا بھیگا وجود سب کچھ پراسرار بنا رہا تھا۔
"وشہ!"
اس کی پکار پر وشال نے آہستہ سے چہرہ اٹھایا۔ آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔
"اندر آ جاؤ، ورنہ بیمار ہو جاؤ گی۔"
آریان نے ہاتھ بڑھایا مگر وشال نے سر نفی میں ہلا دیا۔ وہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور بازو اس کے گرد حمائل کر کے اسے قریب کر لیا۔ وشال نے روتے ہوئے کہا
"یہ سب کیوں ہوا، آریان؟ پاپا نے میری بات تک نہیں سنی۔ ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ سچ کیا ہے۔"
وہ زار و قطار رونے لگی اور اس کی شرٹ کو مٹھی میں جکڑ لیا۔ آریان نے گہری سانس لی اور دوسرے بازو سے بھی اسے تھام لیا۔ کچھ دیر تھپکتا رہا، پھر اس کا چہرہ اٹھا کر آنسو صاف کیے۔
"اتنا مت ٹوٹو وشال۔۔ ورنہ تمہیں جوڑتے جوڑتے میں خود بکھر جاؤں گا۔"
ان کی نظریں ملیں۔ وقت جیسے ٹھہر گیا۔ وشال نے اور سختی سے اس کی شرٹ پکڑ لی۔
"کیوں آریان؟ تم کیوں اتنے قریب آ گئے ہو؟"
آریان نے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھاما اور پیشانی پر لب رکھے۔
"کیونکہ تمہارا درد اب میرا ہے۔ برداشت نہیں ہو رہا مجھ سے۔"
بارش تیزی سے دونوں کو بھگو رہی تھی۔ وشال نے آہستہ سے کہا
"آریان۔۔۔۔"
آریان نے ایک لمحے کو بھی جھجکے بغیر اسے بانہوں میں اٹھا لیا۔ کمرے میں نیم اندھیرا اور باہر بجلی کی گرج تھی۔ وہ بیڈ پر نیم دراز ہوا اور وشال کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ دیا۔
"یہ دھڑکن سن رہی ہو؟ اب اس کے بیچ کوئی دوری نہیں ہے۔ نہ کوئی رکاوٹ۔ بس تم اور میں۔"
وشال نے اپنا چہرہ اس کی گردن میں چھپا لیا۔ آنکھوں سے بہتے آنسو اور بارش کے قطرے ایک ساتھ اس کے وجود میں جذب ہو گئے۔
☆☆☆
اشعر کی جیپ ایک جھٹکے سے رکی۔ ہاتھ میں گن لیے وہ پاگلوں کی طرح بوسیدہ عمارت کی طرف بھاگا۔
"سحررر!"
اس کی آواز خالی راہداریوں میں گونجنے لگی۔ وہ ایک ایک کمرہ کھولتا جا رہا تھا مگر ہر بار خالی دیواریں اس کا دل توڑ دیتیں۔ دل پھٹ رہا تھا، بس ایک دعا تھی کہ سحر ٹھیک ہو۔
اچانک اس کی نظر ایک دروازے کی درز سے چوڑیوں والے خون آلود ہاتھ پر پڑی۔ دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا۔ کپکپاتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا اور اگلے لمحے اس کی روح فنا ہو گئی۔ گن ہاتھ سے گر پڑی۔ وہ بھاگ کر سحر کے پاس پہنچا اور زمین پر بیٹھ گیا۔
"سحر۔۔۔! سحر ادھر دیکھو۔۔۔۔ آنکھیں کھولو! دیکھو میں آ گیا ہوں کچھ نہیں ہونے دوں گا تمہیں۔ پلیز۔۔ آنکھیں کھولو اپنے اشعر کے لیے۔"
اس نے نبض ٹٹولی مگر ہاتھ ڈھیلا پڑ گیا۔
"نہیں۔۔۔ نہیں سحر! یہ جھوٹ ہے۔ تم ایسا نہیں کر سکتیں۔۔ پلیز آنکھیں کھولو!"
اس نے اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا اس کا چہرہ تھپتھپاتا رہا۔ آنسو بے قابو ہو کر سحر کے خون آلود رخسار پر گرنے لگے۔ اچانک سحر کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔
اشعر کی نظریں اس کے پیٹ پر گئیں جہاں چاقو اب بھی پیوست تھا خون ابھر کر فرش پر تالاب بنا چکا تھا۔ اس کے ہاتھ کپکپانے لگے۔ ہمت جمع کر کے چاقو نکالا، تو خون فوارے کی طرح بہنے لگا۔ اس نے سحر کے پیٹ پر ہاتھ رکھ دیا جیسے اپنے ہاتھوں سے زندگی واپس روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔
"سحر۔۔ یہ سب کیا ہو گیا؟ تم تو میری ہونے والی تھی نا۔۔ پھر مجھے چھوڑ کر کہاں چلی گئی؟ پلیز ایسا مت کرو۔ میں مر جاؤں گا!"
وہ چیخ چیخ کر رونے لگا۔ کمرے کی دیواریں اس کی سسکیوں سے لرزنے لگیں۔ اس نے سحر کے بے جان وجود کو اپنے سینے سے لپٹا لیا ایسے جیسے بازوؤں کی گرفت اسے موت سے چھین لے گی۔
مگر وقت رکا نہیں۔۔۔ اور اشعر کا سب کچھ اس کے ہاتھوں سے چھن گیا۔
☆☆☆
سورج کی کرنیں چھن کر کھڑکی سے اندر جھانک رہی تھیں. کھڑکی پر لہراتے پردے اور پرندوں کے چہچہاٹ ہلکی سی موسیقی بن کر گونج رہی تھی. وشال نے آنکھیں کھولیں اور آریان کے سینے سے لپٹی اپنی بانہیں دیکھ کر ٹھٹک گئی.
آریان نیند بھری آنکھوں سے اس کا گال سہلا رہا تھا. کچھ لمحے کی خاموشی چھا گئی پھر آریان نے اس کی بکھری لٹوں کو انگلیوں میں الجھا دیا.
" تمہیں معلوم ہے مجھے تم سے پہلا عشق کب ہوا تھا."
آریان نے مدھم گہری آواز میں کہا. وشال نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا آریان ہلکا سا جھکا اور انگلی اس کے ہونٹ پر موجود تل پر رکھ دی.
" جب یہ دکھا تھا "
وہ ہلکا سا مسکرایا وشال چپ اسے دیکھے گی. وہ تل اس کے نچلے ہونٹ کی ایک سائیڈ پر تھا بالکل چھوٹا سا جسے وشال کوئی خاص بات نہیں سمجھتی تھی.
" اس تل نے میری زندگی برباد کر دی وشال، مجھے لگا تھا میں دنیا کا سب سے مضبوط انسان ہوں پر جب سے اس تل کو دیکھا تو میری پوری ہمت، سانس اور سوچ سمیت سب تمہارے نام کے غلام بن گئے."
" تو تم اس تل سے عشق کرتے ہو."
وشال نے ہلکا سا مسکرا کر پوچھا.
" نہیں میں اس تل سے نہیں اس تل کے مالک سے عشق کرتا ہوں. اور آج میں اس عشق میں ڈوب کے جینا چاہتا ہوں اور یہی میری زندگی ہے. "
وشال نے اس کے سینے پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھا.
" اب صرف میری ایک ہی منزل ہے۔۔۔ تم. "
وہ ہلکا سا جھکا اور اس کے تل کو چھو لیا.
" جب تم ہستی ہو نا تو یہ تل زیادہ کچھ نہیں کرتا بس میری سانسیں روک دیتا ہے."
وشال کی آنکھیں چمکی آریان ابھی بھی بول رہا تھا
" یہ میری دیوانگی ہے جاناں! تم سے پہلے مجھے اس سے محبت ہوئی تھی اور بعد میں اس سے بھی زیادہ صرف تم سے. "
وشال ہلکا سا ہنس دی.
" میں بھی تم سے اسی جنون کے ساتھ محبت کرتی ہوں آریان! جس میں کوئی لاجک نہیں صرف ایک دیوانگی ہے"
آریان نے انگوٹھے سے اس کے تل کو چھوا.
" اس جگہ کو یاد رکھنا وشال یہ تمہارا جنون کا مقام ہے اور میں تمہارا پاگل"
وشال نے مسکراتے ہوئے اس کی گردن کے گرد بازو پھر سے لپیٹ لیے.
جاری ہے
Comments
Post a Comment