Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Bloods EP 3 by Munaza Niaz
Bloods
By Munaza Niaz
Ep - 3
(Revised version)
Edited and improved version
"وہ لڑکا ہیری مر چکا ہے کسی نے اس کے گھر جا کر اس سمیت اس کے پورے اسٹوڈیو کو جلا دیا"
اس کے سامنے کھڑا پال اس سے بولا
"اور پولیس کو صرف ایک ہی آدمی پر شک ہے اور وہ ہے رابرٹ ملر۔ اب آپ بتائیں ہمیں کیا کرنا چاہیے"
دوسرا لڑکا شیرف بولا
"فی الحال پولیس جو کرنا چاہتی ہے اسے کرنے دو بس یہ معلوم کرو کہ یہ کام کیا کس نے ہے"
تبھی ایک لڑکا تیز تیز چلتا ہال میں داخل ہوا
"باس! دو ٹرک ہیں جو بارڈر کی طرف جا رہے ہیں"
جلدی سے کہہ کر وہ واپس مڑ گیا
" چلو۔"
اس کی بات سنتے ہی اس نے سب کو کہا اور تیزی سے باہر کی طرف بھاگا
اس نے موبائل نکال کر ارورا کو کال کی جو اسی بلڈنگ کے سب سے اوپر والے فلور پر تھی دفعتاً روزلی اس کی طرف آتی دکھائی دی۔
"کیا ہوا رابرٹ؟"
اس نے اس کا راستہ روکا
"ارورا کو لے کر ہمارے پیچھے آؤ گو گو گو"
روزلی کو کہتا وہ باہر نکل گیا
اگلے دو منٹ میں ارورا اور وہ ایک لفٹ سے نکلیں۔ دونوں ایک ساتھ باہر کی طرف بھاگیں۔ ارورا گاڑی خود ڈرائیو کر رہی تھی جبکہ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی روزلی ٹیب پر ان کی لوکیشن ٹریس کر رہی تھی وہ ان سے تقریباً تین سو میٹر کے فاصلے پر تھے آنکھوں پر گلاسز لگائے وہ بڑی مہارت سے دوسری گاڑیوں کو اوور ٹیک کرتی آگے بڑھ رہی تھی۔ دو منٹ میں اس کی گاڑی رابرٹ کی گاڑی کے برابر تھی۔ ان دونوں کی گاڑی کے پیچھے تیس سے زیادہ گاڑیاں تھیں جن میں ان کا آدھا گینگ شامل تھا
" وہ دونوں ٹرک الگ الگ راستوں پر مڑ گئے ہیں ایک جنگل کی طرف جا رہا ہے دوسرا اس جنگل کے دوسری طرف پہاڑوں پر"
اس کے ساتھ بیٹھا شیرف بولا
"شیرف تمہیں لوکیشن بھیج رہا ہے ایک کے پیچھے تم جاؤ گی"
کان پر لگے ایئر فون میں اس نے ارورا سے کہا
" اوکے۔"
رابرٹ کو کہتے اس نے گاڑی کی سپیڈ مزید تیز کر دی گاڑی کی اسکرین پر اس ٹرک کی لوکیشن آن ہو گئی تھی۔
"مجھے معاف کر دو ارورا اس دن میں نے تم سے بہت بدتمیزی کی میں ایکس کیوز کرنا چاہتی ہوں"
روزلی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"اٹس اوکے"
وہ ہلکا سا مسکرائی
"اچھی بات ہے کہ تم سمجھ گئی ہو امید ہے آئندہ خیال رکھو گی"
روزلی نے چہرہ سامنے کر لیا اس نے اتنی ہمت کر لی تھی یہ بہت بڑا جگرہ تھا اس کی گاڑی جنگل کی طرف جا رہی تھی تبھی اس نے اپنے سامنے اس ٹرک کو آہستہ رفتار میں آگے بڑھتے دیکھا
یہ بالکل سنسان علاقہ تھا اس نے اپنی گن نکالی ٹائر پر نشانہ باندھتے فائر کھول دیے ٹرک کے دونوں ٹائر پھٹ گئے وہ ایک جھٹکے سے رکا اس کی گاڑی بھی وہیں پیچھے رک گئی تھی۔
وہ دونوں جیسے ہی ان کے قریب پہنچیں اچانک فائرنگ شروع ہو گئی روزلی دوسری طرف تھی اس نے جھک کر اطراف میں نظر ڈالی کچھ لوگ چہرے لپیٹے درختوں کی اوٹ سے نکل کر ان کی طرف بڑھے ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں
"کون ہو تم؟"
ایک آدمی ارورا کی طرف بڑھا
"گن پھینک دو"
ارورا نے گن پھینک دی وہ آدمی اس کے قریب آیا تبھی ارورا نے اچانک جھک کر پھرتی سے اپنی گن اٹھائی اس کی سائیڈ سے گھوم کر اس کی پیٹھ کی طرف مڑ گئی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کا بھیجا اڑا دیا گھوم کر اس نے باقیوں کی طرف بھی فائر کھول دیے وہ چند آدمی تھے اور سارے کے سارے مر گئے تھے
"ارورا"
اسے روزلی کی چیخ سنائی دی۔ پھرتی سے چھلانگ لگا کر وہ ٹرک کی چھت پر چڑھ گئی ایک آدمی روزلی کے سر پر گن تانے کھڑا تھا ساتھ ساتھ اطراف میں بھی دیکھ رہا تھا
"ہیلو میں یہاں ہوں"
اس آدمی نے اوپر کی طرف دیکھا تب ہی ارورا نے اس کا بھیجا اڑا دیا
"تم ٹھیک ہو؟"
چھلانگ لگا کر وہ اس کے سامنے کھڑی ہوئی
"ہاں۔"
وہ ڈرتے ڈرتے بولی
بے اختیار اس نے ارورا کے پیچھے ایک آدمی کو دیکھا جو اس پر فائر کرنے لگا تھا وہ چلاتے ہوئے ارورا کی اوٹ میں ہو گئی گولی ارورا کا بازو چیرتی آگے بڑھ گئی بازو پر ہاتھ رکھے اس نے مڑ کر دیکھا وہ آدمی تڑپتا ہوا نیچے گر گیا اس کی نظر دور کھڑے رابرٹ پر پڑی جو تیزی سے اس کی طرف آ رہا تھا
"ٹرک میں دیکھو کوئی اور تو نہیں ہے"
وہ اونچی آواز میں بولا
"کیا تم ٹھیک ہو؟"
اس نے ارورا کے پاس پہنچ کر اسے کندھوں سے تھاما
"ہاں میں ٹھیک ہوں"
رابرٹ نے دیکھا اس کے بازو سے خون نکل رہا تھا
"تم کیا کر رہی تھی تماشہ دیکھنے کے لیے کھڑی تھی میں نے تمہیں کس لیے اس کے ساتھ بھیجا تھا"
وہ ساتھ کھڑی روزلی پر گرجا
"مگر میں۔۔۔۔۔"
اس کی کوئی بات سنے بغیر وہ ارورا کو بازو کے حصار میں لیے پلٹ گیا روزلی جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی
"ایک منٹ مجھے دیکھنے دو"
اس کے آدمی ٹرک کو پچھلی طرف سے کھولے کھڑے تھے ارورا نے انہیں روک کر اندر جھانکا وہاں بچے تھے درجنوں بچے جو بے ہوش تھے
"کیوں رابرٹ؟"
اس نے نم آنکھوں سے رابرٹ کو دیکھا
"ڈونٹ وری انہیں کچھ نہیں ہوگا میں انہیں ان کی فیملی تک پہنچا دوں گا تم جانتی ہو کہ میں ایسا کر سکتا ہوں"
ہلکا سا اس کا گال تھپکا۔ اس نے کچھ نہیں کہا بس دھیرے سے گاڑی کی طرف بڑھ گئی
☆☆☆
"تم مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو میں نے آخر کیا بگاڑا ہے تمہارا؟"
وہ لڑکی روتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی جوف نے معصومیت سے اسے دیکھا
"تم مرنے والی ہو بے بی۔ میں جس بھی لڑکی کو مارتا ہوں وہ رو رہی ہوتی ہے بس ایک ہی لڑکی تھی جو مرنے سے پہلے نہیں روئی تم پلیز اپنے آنسو صاف کرو"
گن گول گول گھماتے اس نے ٹیک لگالی
"پلیز تم مجھے مت مارو تم جو کہو گے میں وہی کروں گی پلیز مجھے جانے دو"
جلدی سے آنسو صاف کر کے اس نے جوف کا گھٹنا پکڑ لیا جوف کے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا اس نے کھینچ کر تھپڑ اس کے منہ پر مارا وہ تیورا کر پیچھے جا گری دور کھڑا جیک آنکھوں میں خون لیے یہ سب کچھ دیکھتا رہا
"جیک"
جوف نے اسے پکارا وہ چونکا پھر خود کو ریلیکس کر کے اس کے سامنے آکھڑا ہوا
"یہ بہت شور کر رہی ہے میرے سر میں درد ہونے لگا ہے پلیز یار اسے خاموش کرواؤ"
جوف نے اسے دیکھتے بے زاری سے کہا جیک پورا اس لڑکی کی طرف گھوم گیا۔
" نہیں نہیں۔"
وہ لڑکی خوف زدہ سی چلائی جیک نے اپنی گن نکال کر اس پر تانی اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا
"جلدی کرو جیک"
پیچھے جوف بولا جیک نے گن لوڈ کی اطراف میں کھڑے جوف کے آدمی چوکنے ہوئے ان سب نے بیک وقت اپنی گنوں پر ہاتھ رکھے جوف کو پورا یقین تھا کہ وہ گھوم کر اس پر گولیاں چلا دے گا تبھی جیک نے گردن موڑ کر جوف کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
پورے ہال میں گولی کی آواز گونجی جو جیک کی گن سے نکلی تھی اور اس لڑکی کے سر میں لگی تھی جوف تیزی سے کھڑا ہوا گویا وہ بے یقین تھا اس نے اپنا ایک ہاتھ اٹھایا سارے آدمی ڈھیلے پڑ گئے
" تم اپنی منگیتر سے محبت نہیں کرتے تھے"
اسے کہہ کر وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا جیک کے کان سائیں سائیں کرنے لگے
☆☆☆
"دو ہفتے ہو گئے ہیں مگر آپ لوگوں کو ان کا کوئی سراغ نہیں ملا آپ لوگ ان کو کیوں نہیں ڈھونڈ پا رہے"
پولیس اسٹیشن میں کھڑی وہ آفیسر پر چلائی اس کے ساتھ کھڑا مارک دو قدم آگے آیا
"ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں جہاں تک ہمیں معلوم ہوا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کا ڈیٹا آپ کے بھائی نے آرمی کو دیا ہے ہم اسے پکڑ چکے تھے مگر وہ جیل توڑ کر بھاگ نکلا۔ باہر نکل کر اس نے اپنا بدلہ لے لیا ہے اس لیے آپ کو بھی احتیاط رکھنی چاہیے"
آفیسر نے اسے سمجھایا ایمی غصے سے انہیں دیکھتی پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گئی مارک بھی اس کے ساتھ ہی تھا۔
"میں تمہیں اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں تم اکیلی کیسے رہو گی"
گاڑی میں بیٹھتے اس نے ایمی سے کہا جو ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی
"نہیں مجھے کہیں نہیں جانا تم مجھے میرے گھر ڈراپ کر دو"
مارک نے محض سر ہلایا وہ اس کا یونیورسٹی فیلو تھا اور دوست بھی۔
جب سے ایمی کے ساتھ یہ حادثہ ہوا تھا وہ اس کے ساتھ ساتھ تھا آدھے گھنٹے بعد ان کی گاڑی ایمی کے گھر کے سامنے رکی وہ اترنے ہی لگی تھی کہ مارک نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اس نے چونک کر اسے دیکھا
"ڈونٹ وری میں تمہارے ساتھ ہوں"
ہلکا سا دبا کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا وہ کچھ نہیں بولی بس ہلکا سا سر ہلا کر گاڑی سے باہر نکل گئی
☆☆☆
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے خاموش بیٹھی تھی رابرٹ نے اسے دو تین مرتبہ مخاطب کیا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بازو پر پٹی بندھی تھی جو کچھ دیر قبل رابرٹ نے باندھی تھی وہ اسے بہت دور خوبصورت پہاڑوں کی طرف لے کر جا رہا تھا جب گاڑی رک گئی تو اس نے باہر دیکھا پھر رابرٹ کو جو گاڑی سے باہر نکل کر اس کی طرف آیا گاڑی کا دروازہ کھول کر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اس کا ہاتھ تھامے وہ
باہر نکل آئی
"تم مجھے یہاں کیوں لے آئے ہو؟"
ایک پتھر پر کھڑے ہو کر اس نے سامنے دور آسمان کو دیکھا جس کے نیچے خوبصورت پہاڑوں کا جزیرہ تھا پرندوں کا غول پھڑپھڑاتا ہوا ڈوبتے سورج کے سامنے سے گزر رہا تھا
"تمہاری اداسی ختم کرنے کے لیے"
رابرٹ اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا نرمی سے اس کے پیٹ پر اپنے دونوں بازو باندھ لیے ٹھوڑی اس کے سر پر رکھی
"میں اداس نہیں ہوں رابرٹ"
اس نے اپنے دونوں ہاتھ رابرٹ کے ہاتھوں پر رکھے
"اچھی طرح جانتا ہوں"
دور کہیں پہاڑوں پر بجلی گرجی تھی سورج یکدم ہی بادلوں میں چھپ گیا
"یہ دنیا بہت خوبصورت ہے رابرٹ میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتی"
وہ پتا نہیں اسے کیا کہنا چاہ رہی تھی رابرٹ کی گرفت سخت ہوئی۔
"اس دوسرے ٹرک میں بھی بچے تھے کیا"
اس نے چہرہ اوپر کر کے رابرٹ کو دیکھا وہ کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا پھر اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے
"تھوڑی دیر پہلے جو ہوا اسے بھول جاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں تم میرے ساتھ ہو بس یہ یاد رکھو"
کندھوں سے تھام کر اسے اپنے سامنے کیا وہ خاموشی سے اسے دیکھے گئی وہ بات بدل گیا تھا یہ وہ جانتی تھی ایک قطرہ اس کے چہرے پر گرا اور پھر لگاتار کئی۔
"تم جانتی ہو کہ تم میرے لیے کیا ہو؟"
اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ارورا نے نفی میں سر ہلایا
"تم میری زندگی ہو تمہارے بغیر میں کچھ نہیں ہو تم مجھے نہ ملتی تو آج میں یہاں کھڑا نہ ہوتا تمہارے بغیر میں ادھورا ہوں ہمارا گینگ تمہارے بغیر زیرو ہے تم ہمارے گینگ کی کوئین ہو میں جنگ لڑتا ہوں مگر جیت تم جاتی ہو اور یہی چیز ہے جو ہر لڑکی میں نہیں ہوتی میں چاہتا ہوں دنیا کی ہر لڑکی تمہارے جیسی ہو بہادر، نڈر اور خطرناک تاکہ کوئی اسے نقصان پہنچانے کا سوچے بھی مت اور میں خوش قسمت ترین ہوں کیونکہ تمہارا ساتھ میرے ساتھ ہے"
ہلکا سا اس کا سر جھٹک کر چھوڑ دیا
"اگر تمہارے جیسا شخص ہر لڑکی کو ملے تو وہ مجھ سے بھی کئی گنا زیادہ بہادر اور خطرناک ہو سکتی ہے ایک مرد ہی کسی عورت کو ایسا مقام دے سکتا ہے جو تم نے مجھے دیا جو ایسا نہیں کرتا وہ مرد نہیں ہوتا"
رابرٹ محض ہلکا سا مسکرایا پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا۔ گاڑی کے دوسری طرف ایک پرانی عمارت کھڑی تھی اسے لیے وہ اندر چلا گیا وہ بالکل ویران تھی وہاں کچھ بھی نہیں تھا بس دیواریں اور چھت تھیں جو اسے باہر سے مکان دکھا رہی تھیں وہ دونوں بھاگتے ہوئے اندر داخل ہو گئے
اندر پہنچنے تک دونوں ہی بھیگ چکے تھے رابرٹ نے اپنا کوٹ اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیا ارورا نے پونی کھول دی اس کے بال گیلے ہو چکے تھے ایک ہاتھ کی انگلیوں سے اس نے بالوں کو سنوارا رابرٹ بے اختیار اسے دیکھنے لگا پھر قدم قدم چلتا ہوا اس کی طرف بڑھنے لگا اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ پیچھے کی طرف چلنے لگی پیچھے دیوار تھی وہ رک گئی رابرٹ نے اپنا چاقو نکال کر اس کی گردن پر رکھا۔ دوسرا ہاتھ دیوار پر۔ وہ مسکراہٹ دبائے اسے دیکھنے لگی
"کیا ہوا رک کیوں گئے؟"
کالر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔
وہ مسکرایا پھر چاقو واپس رکھ دیا
"میں سوچ رہا تھا ہمیں واپس چلنا چاہیے"
دوسرا ہاتھ بھی دیوار پر رکھ دیا
"تم ڈر رہے ہو مجھ سے؟"
آنکھوں میں شرارت چمکی
"ڈانس کرو گی؟"
اور وہ کھلکھلا کر ہنسی
رابرٹ نے اس کا ایک ہاتھ تھاما دوسرا کمر پر رکھا اسے لیے کھلی جگہ پر آگیا ایک ہاتھ اس کی گردن کے گرد ڈالے وہ مسکراتی رہی باہر تیز بارش مزید تیز ہوتی گئی بارش کے قطروں نے الگ ہی سماں باندھ لیا تھا بجلی وقفے وقفے سے چمکتی سیاہ آسمان کچھ پل روشن ہوتا پھر غائب ہو جاتا اس عمارت میں مدھم سی ٹھنڈی میٹھی
روشنی تھی ورنہ وہ دونوں ایک دوسرے کو کہاں دیکھ پاتے رابرٹ نے مسکرا کر اسے دور کیا پھر ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا وہ اس کے سینے سے ٹکرا کر رہ گئی
"اف رابرٹ ایسا لگ رہا ہے تم ڈانس نہیں لڑائی کر رہے ہو"
اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کے رابرٹ کو گھورا وہ ہنس پڑا
"تو تم بھی لڑائی کرو جیسے میں کر رہا ہوں"
اس نے ارورا کو گول گول گھمایا اسے چکر آ گیا مگر وہ گری نہیں۔ رابرٹ اسے کبھی گرنے نہیں دیتا تھا وہ جانتی تھی
"میرے پاس تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے"
اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے بولا
"کیا؟"
ارورا نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے گردن کے پیچھے پھنسائے
"میں شادی کرنے والا ہوں"
"ارے واہ کب کر رہے ہو؟"
"جس دن تم ہاں کرو گی"
"مگر تم نے مجھ سے نہیں پوچھا"
وہ رک گیا پھر اسے دیکھتے ہوئے ایک گھٹنے کے بل بیٹھ گیا اس کا بایاں ہاتھ تھامے مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا
"رابرٹ ملر آپ سے پوچھ رہا ہے کہ آپ ایک گینگسٹر سے شادی کریں گی؟"
وہ کچھ دیر مسکراتے ہوئے اسے دیکھتی رہی پھر تھوڑا سا اس کی طرف جھکی
"آف کورس تمہارے علاوہ میں کسی اور سے کیسے شادی کر سکتی ہوں"
رابرٹ نے چہرہ آگے کر کے اس کے ہاتھ کی پشت کو چوما پھر اٹھ کھڑا ہوا
"مائے گرل"
کہتے ہوئے اس کا گال چوما۔ ارورا نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں
☆☆☆
وہ تیز تیز چلتے بنا کسی کی طرف دیکھے آگے بڑھ رہی تھی چھوٹے شولڈر کٹ بال جیل کی مدد سے ایک جگہ جما کر رکھے ہوئے تھے اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اسے اطراف میں چلتے لوگ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے صرف ایک چہرہ تھا۔
ارورا رولڈ کا۔
جتنی نفرت وہ اس سے کر سکتی تھی اس نے کر ڈالی تھی مگر یہ نفرت آہستہ آہستہ ہوتی ہوئی انتہا تک پہنچ چکی تھی۔ تبھی اس کا کندھا کسی سے ٹکرایا اس نے قہر بھری نظروں سے انہیں دیکھا وہ سات لڑکے تھے جن میں سے ایک اس سے ٹکرایا تھا
"اے اندھی ہے کیا؟"
وہ لڑکا تیورا کر اس کے قریب آیا اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کے اسے پیچھے دھکا دیا
"دفع ہو جاؤ سب ورنہ جان سے مار دوں گی تم سب کو"
ان سب کی طرف دیکھ کر چلائی وہ سب ایک ساتھ ہنس پڑے
"یہ ہمیں مارے گی؟ یہ۔۔۔۔ اور وہ بھی جان سے"
قہقہہ لگاتے انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارے وہ بل کھا کر اس کی طرف بڑھی اور بنا رکے کئی تھپڑ اس کے منہ پر دے مارے۔ دوسرا اس کی طرف بڑھا جس کو اس نے لات مار کر پرے پھینکا سب کی ہنسی تھم گئی تبھی وہ ایک ساتھ اس کی طرف بڑھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے چھڑی ہوئی کو چھیڑ دیا ہے
ایک اس کے منہ پر گھونسا مارنے آیا تھا مگر خود کھا کر ناک پر ہاتھ رکھے سڑک پر جا گرا وہ مارشل آرٹ اور کراٹے کی ماہر تھی اور اس نے یہ سب ارورا سے سیکھا تھا۔ اپنی سب سے بڑی دشمن سے۔ صرف دو منٹ میں اس نے ان سب کو اپنے پیروں کی دھول چٹا دی تھی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے خوفزدہ ہو کر وہ بھاگ کھڑے ہوئے مگر اس کا غصہ تھا کہ ابھی تک کم نہیں ہوا تھا زور سے چلاتے ہوئے اس نے سڑک سے پتھر اٹھا کر ان کی طرف پھینکا جو دور جا چکے تھے۔
جاری ہے
Bloods ep 4 link 🖇️ 👇
https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/03/bloods-ep-4-by-munaza-niaz-season-1.html
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment