Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Bloods Ep 4 by Munaza Niaz season 1

 


Bloods 

By Munaza Niaz 

Ep - 4


(Revised version)

Edited and improved version 



" تم لوگ یقین کرو گے، میں نے اپنے ہاتھوں سے ایلا کو مار دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے۔۔۔۔۔۔ وہ میری جان تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری محبت۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا سب کچھ۔۔۔۔۔ مگر اس نے مجھے ٹھکرا دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے شادی سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف اس لیے کہ میں اس کے جیسا خوبصورت نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے میری بہت بے عزتی کی ارے اتنی بے عزتی کون برداشت کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تم سب کو بتا رہا ہوں کبھی کسی خوبصورت لڑکی کو شادی کا نہ کہنا ورنہ وہ تمہاری بے عزتی کر کے چلتی بنے گی اور تم اس کی پیٹھ دیکھتے رہ جاؤ گے۔ یہاں ہر خوبصورت لڑکی انا کی ماری ہے انہیں لگتا ہے ان کے لیے کوئی پرنس چارم اور ٹوم کروز جیسے مرد آئیں گے جن کی وجہ سے وہ ہمارے جیسے مردوں کو ٹھینگا دکھا کر چلی جاتی ہیں اب تم سب جب کبھی کسی خوبصورت لڑکی کو دیکھو تو اسے پکڑ کر میرے پاس لے آنا میں نہیں چاہتا کہ میرے جیسے معصوم لڑکوں کا دل ٹوٹے میں انہیں آنے والی تکلیف سے بچانا چاہتا ہوں تم سب سمجھ رہے ہو نا کہ میں کیا بول رہا ہوں"


اپنے آدمیوں کو باری باری دیکھتے ان سب سے پوچھا جیک خاموش سا اس ذہنی مریض کو دیکھتا رہا جو پاگل ہو جانے کے قریب تھا آخر کب تک وہ اس کھیل میں اس کے ساتھ شامل رہے گا وہ تو اس سب کو چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتا تھا اگر وہ بھاگ جاتا یا غائب بھی ہو جاتا تو جوف اسے ڈھونڈ لیتا اور اسے اس دنیا سے ہی غائب کر دیتا دنیا کا ایسا کوئی شخص نہیں تھا جسے جوف تلاش کرے اور اسے وہ نہ ملے 


جیک کو موت کا کوئی خوف نہیں تھا جب سے نینسی مری تھی وہ مردہ سا ہو گیا تھا وہ صرف ایک وجہ سے جوف کے ساتھ تھا کہ اسے مار ڈالے اسے جہنم واصل کرے جس نے اس کی محبت کو اس کی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا جب تک وہ اسے مار نہ دیتا اسے سکون نہیں ملنے والا تھا اس کی باتیں سن کر ایک ابال سا اس کے اندر ٹھاٹھیں مارنے لگا تھا۔


"تم نہیں بچو گے جوف تم نہیں بچو گے بہت جلد میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں کتنی محبت کرتا تھا نینسی سے۔ بہت جلد تم دیکھو گے کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔"


دل ہی دل میں کہتے ہوئے اس نے سلگتی آنکھیں بند کر لیں۔

☆☆☆


 

اپنے سامنے الٹے لٹکے ہوئے شخص کو وہ چبھتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جو پنڈولم کی طرح آگے پیچھے جھول رہا تھا اس کے ہاتھ میں لمبا تیز دھار چاقو تھا جس کو وہ سختی سے مٹھی میں دبوچے ہوئے تھی تھوڑی دیر بعد اس شخص نے سوجی ہوئی آنکھیں کھولیں اس کا پورا چہرہ نیل سے بھرا تھا اس کی ناک سے خون نکل رہا تھا جیسے ہی اس کی نظر سامنے کھڑی لڑکی پر پڑی وہ گھبرا گیا اس کی موت اس سے محض چند انچ کے فاصلے پر کھڑی تھی وہ دو قدم چل کر اس کے قریب ہوئی 


دور بیٹھا شخص ہاتھ میں گن گھماتے ان دونوں کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا جیسے ہی اس لڑکی نے آدمی کو مارنے کے لیے چاقو والے ہاتھ اٹھائے سامنے جھولتے شخص نے ایک جھٹکے سے اس کی گردن دبوچ لی چاقو نیچے گر گیا اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھے جن میں اس کی گردن دبی ہوئی تھی گرفت اتنی سخت تھی کہ اس کا دم گھٹنے لگا


"تم مجھے نہیں مار سکتی۔۔۔۔۔۔ تم مجھے نہیں مار سکتی"

اس کی گردن دبوچے وہ چلایا دور بیٹھا شخص خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا وہ اٹھ کر پچھلی بار کی طرح اس کے پاس نہیں آیا تھا وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ اس کے بغیر کیا کر سکتی ہے اور پھر اس نے دیکھا تھا۔ 


ایک جھٹکے سے اس لڑکی نے اپنے ہاتھ کا گھونسا بنا کر اس کی سوجے ہوئے جبڑے پر مارا اس کی گردن یکدم آزاد ہوئی تھی کھانستے ہوئے وہ چار قدم پیچھے ہوئی آہستہ سے جھک کر اس نے ڈیڑھ فٹ لمبا چاقو دوبارہ اٹھا کر اس کے سامنے آئی اگلے ہی پل گھومتے ہوئے اس نے چاقو سے ایک ہی جھٹکے میں اس کا دایاں ہاتھ کاٹ ڈالا وہ دور جا گرا پھر دوسرا ہاتھ بھی اسی طرح کٹ کر دور جا گرا تھا اس سنسان بلڈنگ میں اس کی دردناک چیخیں پورے دو منٹ گونجتی رہیں جسے وہ لڑکی آنکھیں بند کر کے سنتی رہی دور بیٹھا شخص اسے دیکھتے ہلکا سا مسکرایا تھا بس ایک لمحے کے لیے، اس کے بعد وہ سنجیدہ ہو گیا تھا چیختے ہوئے اس لڑکی نے چاقو اپنی پوری قوت سے اس کی گردن میں اتار دیا پوری بلڈنگ میں سناٹا چھا گیا 


صرف تیزی سے فرش پر گرتے خون کی آواز تھی جو پانی کی طرح بہہ رہا تھا ایک اور آواز بھی تھی جو اس آواز میں شامل ہو گئی تھی

سیٹی کی آواز۔۔۔۔۔۔۔۔

جو دور بیٹھے شخص کے ہونٹوں سے نکلی تھی

☆☆☆


" ہمیں صرف ایک لڑکی کے فنگر پرنٹ ملے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ملا لیکن چھان بین سے معلوم ہوا ہے اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے لیکن ان کے فنگر پرنٹ ہمیں نہیں مل سکے ہم نے ان پرنٹس کو بہت سی لڑکیوں کے فنگر پرنٹ سے میچ کیے ہیں جو مافیا اور آپ کے بھائی اور ماں کے قاتل سے کافی حد تک تعلق رکھتی تھی ہمیں وہ لڑکی مل گئی ہے جو قتل کے وقت وہاں تھی اور وہی قاتلہ تھی"


آفیسر نے کمپیوٹر کی اسکرین کی طرف اشارہ کیا ایمی نے دیکھا وہ ایک بھورے بالوں والی خوبصورت سی لڑکی تھی پہلی نظر میں کوئی بھی اسے دیکھ کر کچھ بھی کہہ سکتا تھا مگر بے رحم قاتل نہیں کہہ سکتا تھا


"اس کا نام ارورا رولڈ ہے یہ مافیا کوئین کے نام سے جانی جاتی ہے اس کی عمر چھبیس سال ہے یہی وہ لڑکی ہے جس نے چند ماہ پہلے رابرٹ ملر کو جیل سے فرار کروایا تھا یہ وہاں خود آئی تھی۔ اس نے تقریباً سارے آفیسرز کو بری طرح زخمی کیا تھا۔ اس اکیلی نے۔۔۔۔۔۔ یہ اکیلی درجنوں مردوں کے برابر ہے یہ میں نے کہہ رہا ہے یہ سب ان آفیسرز نے کہا جو بری طرح زخمی ہوئے تھے اس نے آپ کے بھائی کو اس کی اسٹوڈیو سمیت اس لیے جلایا تھا کہ ہم دوبارہ ان تک نہ پہنچ سکیں اگر آپ کا بھائی قتل نہ ہوتا تو اس کی مدد سے ہم اس سمیت اس کے پورے گینگ تک پہنچ جاتے اس لیے ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے انہیں دوبارہ کھو دیا ہے"


آفیسر نے اسے ساری تفصیل، تفصیل سے بتا دی تھی وہ ڈگمگاتے قدموں سے پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گئی پورے دو گھنٹے وہ سڑک پر چلتی رہی۔۔۔۔۔۔ چلتی رہی۔۔۔۔۔۔ چلتی رہی۔۔۔۔۔۔ 


کہتی رہی تھی وہ ہیری سے کہ مت پڑو ان معاملوں میں مگر وہ تو اپنی نہیں سنتا تھا تو اس کی کیا سنتا ہیری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس کی ماں کو بھی مار ڈالا تھا پولیس نے بتایا کہ اس کی ماں کو نو گولیاں ماری گئی تھیں اس کے بھائی کو چاقو سے بے رحمی سے قتل کیا گیا تھا یہ سب سن کر اس کا دل پھٹ سا گیا تھا وہ اتنی شاکڈ رہ گئی تھی کہ رو بھی نہ سکی جب وہ تھک گئی تو سڑک کے بیچ و بیچ بیٹھ گئی وہ سٹریٹ اس وقت بالکل ویران تھی گھٹنوں کے بل بیٹھے اس نے دونوں ہاتھ سڑک پر ٹکا دیے پہلے وہ گھٹ گھٹ کر رونے لگی پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے منہ سے چیخیں نکلنے لگیں وہ اتنی زور زور سے چلا رہی تھی کہ اگر کوئی سن لیتا تو بہرا ہو جاتا وہ کتنی دیر وہاں بیٹھی روتی رہی وہ نہیں جانتی تھی جب وہ تھک چکی تو اٹھ کھڑی ہوئی اطراف میں نظر ڈالی تو کوئی نہیں تھا اس کا گھر چند قدم کے فاصلے پر تھا رات کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا گال رگڑ کر وہ بھاگتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہو گئی تھی جو اب گھر نہیں رہا تھا اگلے دن تیار ہو کر وہ کام کے لیے نکل گئی


"تم اتنے دنوں سے نہیں آ رہی تھی میں سمجھا تم نے جاب چھوڑ دی ہے میں نے تمہارا نام خارج کر دیا ہے اب تم پھر سے آ گئی ہو تو تمہیں پہلے باس سے بات کرنی ہوگی"


کمپنی کے مینیجر نے اس سے کہا اس نے باس سے بات کی باس نے اسے سختی سے منع کر دیا کہ وہ ایک لاپرواہ لڑکی کو نہیں رکھ سکتا اس کی منت سماجت بھی کام نہ آئی بھاری دل کے ساتھ وہ اس بلڈنگ سے باہر نکل گئی کافی دیر تک چلتے رہنے کے بعد اس نے موبائل نکالا 


کیا اسے مارک سے بات کرنی چاہیے؟  کچھ لمحہ سوچتی رہی پھر سر جھٹک کر موبائل واپس رکھ دیا چند قدم کے فاصلے پر میوزک بار تھا وہ وہاں چلی گئی کاؤنٹر کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر اس نے سامنے دیکھا جہاں ایک لڑکی چھوٹے سے سٹیج پر کھڑی گانا گا رہی تھی


"کتنی بے سری ہے"

کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے نے تبصرہ کیا


"آج ہماری سنگر نہیں آئی اس وجہ سے یہاں پر ہر آنے والا اپنے گلے کے جوہر دکھانے پر تلا ہوا ہے تم بھی چلی جاؤ"

اس کے سامنے ایک گلاس رکھتے ہوئے اس نے ایمی کا بھی مذاق اڑایا 


وہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر سٹیج کی طرف چلی گئی۔ سٹینڈ پر لگا مائیک اتار کر اس نے ہاتھ میں پکڑ لیا اب سب لوگ اسے ہی دیکھ رہے تھے کہ یہ کون سا تیر مارنے والی ہے اس نے لمبی سانس بھر کے ہوا میں چھوڑی پھر آنکھیں بند کر لیں 


Isn't it lovely

All alone

Heart made of glass

My mind of stone


Tear me to pieces

Skin to bone

Hello

Welcome home


گاتے گاتے آخر میں اس کی آواز بھرانے لگی ایک دم سے رک کر اس نے چاروں طرف نظر ڈالی سب اسے ہی دیکھ رہے تھے اگلے ہی پل اسے دیکھتے سب نے بیک وقت تالیاں پیٹ ڈالیں وہ اتنا اچھا گا سکتی ہے یہ بات وہ خود بھی نہیں جانتی تھی یا پھر دل ٹوٹنے اور تنہا ہونے کے بعد سب سر میں آنے لگتے ہیں کاؤنٹر پر کھڑا لڑکا اس کے پاس آیا


"تم نے بہت اچھا گایا ہے کیا تم سنگر ہو؟"

اس نے نفی میں سر ہلایا

"اگر تم یہاں گانا گاؤ تو میں تمہیں بہت اچھی سیلری پر رکھ لوں گا ہماری پرانی سنگر بھاگ گئی ہے ہمیں نئی سنگر کی تلاش تھی کیا تم یہ جاب کرنا چاہتی ہو؟"


بے اختیار اس کا سر اثبات میں ہل گیا

"اوکے کل سے تم آ سکتی ہو"

مسکرا کر کہتا ہوا وہ واپس پلٹ گیا تھا

☆☆☆


Ellis Island 


سمندر کے بیچ و بیچ بنا ایک خوبصورت جزیرہ جہاں بہت ساری چھوٹی بڑی خوبصورت عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں اس کے چاروں طرف پانی تھا ہزاروں فٹ بڑا جزیرہ پانی پر اس طرح کھڑا تھا گویا زمین پر کھڑا ہو جزیرے کی کسی بھی عمارت پر کھڑے ہو کر دور تک دیکھو تو شہر کی عمارتیں صاف دکھائی دیتی تھیں بیڈ سے اتر کر ننگے پیر چلتی وہ اس شیشے کی دیوار کے سامنے آ کھڑی ہوئی پانی کی لہروں کا ہلکا سا شور، سمندر کے اوپر پھڑپھڑاتے پرندوں کی چہچہاہٹ۔ وہاں اتنا سکون تھا کہ اس نے آنکھیں بند کر لیں دفعتاً کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا


"اٹھ گئی تم؟"

وہ چلتا ہوا اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا

"ہاں"

اس نے پلٹ کر اسے دیکھا وہ سیاہ جینز اور سیاہ ہی ٹی شرٹ میں ملبوس تھا ہلکی ہلکی بڑھی شیو، سیاہ آنکھیں اور سیاہ ہی گھنے بال، سرخ و سفید رنگت کشادہ پیشانی اور ہلکے سرخ ہونٹ وہ واقعی اتنا خوبصورت تھا یا پھر آج ارورا کو اتنا خوبصورت نظر آ رہا تھا وہ بے اختیار اسے دیکھے جا رہی تھی رابرٹ نے اس کی محویت دیکھتے ہوئے نرمی سے اس کی چھوٹی سی خوبصورت ناک کو چٹکی میں بھرا


"ایسے کیوں دیکھ رہی ہو کیا پہلے کبھی نہیں دیکھا مجھے"

ہلکا سا مسکرا کر اس کی نیلی آنکھوں میں جھانکا

"اس نظر سے پہلے کبھی نہیں دیکھا"

مسکرا کر گویا اعتراف کیا وہ ہنس پڑا

"اوکے جتنی دیر دیکھنا ہے دیکھو میں سامنے کھڑا ہوں جب تک کہو گی نہیں میں یہاں سے ہلوں گا بھی نہیں"

مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ لیے 


وہ ہنسنے لگی پھر ایک قدم چل کر اس کے قریب آئی دونوں ہاتھوں میں اس کا وجیہہ چہرہ تھاما پنجوں پر اونچی ہو کر اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ دیے وہ بے اختیار مسکراتا رہا۔ ارورا نے اس کی داڑھی پر موجود چھوٹے سے تل کو دیکھا پھر اس پر بھی اپنے ہونٹ رکھ دیے


"میرے ساتھ رہ رہ کر تم بھی رومینٹک ہوتی جا رہی ہو"

جب وہ پیچھے ہوئی تو رابرٹ نے ایک آنکھ دبا کر اسے چھیڑا وہ کھلکھلا کر ہنسی


"تیار ہو جاؤ پہلے ہم کھانا کھائیں گے پھر پورا آئی لینڈ گھومیں گے اس کے بعد ہم واپس جائیں گے اور ایک ریس ہو گی تمہاری اور میری میں جیتا تو تم وہ کرو گی جو میں چاہوں گا اور اگر تم جیتی تو تم وہ کرو گی جو میں کہوں گا"

ارورا جو مسکراتے ہوئے اسے سن رہی تھی اس کی آخری بات پر بے اختیار ہنستی گئی


"یعنی دونوں صورتوں میں فائدہ تمہارا ہی ہو گا تم کس قسم کے انسان ہو رابرٹ؟"

ہنسی روک کر دلچسپی سے پوچھا


"میں ہر قسم کا ہوں"

اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کر کے کہا

"تمہیں پتہ ہے ممی کہا کرتی تھیں کہ جب تم شادی کرنا تو کسی امیر آدمی سے کرنا میں بھی ایسا ہی سوچتی تھی پھر آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا کہ جن کی ہمیں ضرورت ہے ہم خود وہ کیوں نہیں بن سکتے اور آج  دیکھو میں ویسی بن گئی جس کی مجھے ضرورت تھی"

اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر ہلکا سا گردن ہلاتے ہوئے کہا 


اور رابرٹ کو تو اس کی ہر ادا سے عشق تھا اس کی پیٹھ پر دونوں بازو حمائل کر کے اسے اپنے برابر کیا پھر کان میں سرگوشی کی

"آئی لو یو"

"می مور دین یو"

وہ کھلکھلائی تھی

جاری ہے


Bloods ep 5 link 👇🔥

https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/03/bloods-ep-5-by-munaza-niaz.html

Comments

Popular Posts