Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Bloods Ep 5 by Munaza Niaz
Bloods
By Munaza Niaz
EP - 5
" ہمارے سارے آدمی مارے گئے دونوں ٹرک اب مافیا والوں کے قبضے میں ہیں ایک بات سمجھ نہیں آتی باس آخر ان کو معلوم کیسے ہو جاتا ہے کہ ہم کس وقت کیا چیز کہاں پہنچانے والے ہیں؟"
جوف کے آدمی نے مایوسی سے کہتے ہوئے آخر میں غیر معمولی دلچسپی سے پوچھا
جوف جو بظاہر پرسکون نظر آ رہا تھا مگر وہی جانتا تھا کہ اس کا پہلی مرتبہ کتنا بڑا نقصان ہوا ہے
"مافیا والے آرمی سے بھی چھ قدم آگے ہوتے ہیں ایسی چیزوں کی معلومات ان کے لیے بچگانہ کھیل کے سوا کچھ نہیں ہماری معلومات کا ذخیرہ وہ ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں مگر مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ کیسا گینگ ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں سمگل کیے گئے ٹرک آخر وہ کہاں غائب کر دیتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔ ہماری اتنے عرصے کی محنت وہ یوں چرا لے جاتے ہیں گویا ان کے باپ کا مال ہو میں ان کو چھوڑوں گا نہیں"
یکدم ہی وہ طیش میں آگیا
"باس وہ لڑکی دوبارہ ملنے آئی ہے"
ایک آدمی اس کے پاس آ کر بولا
"دوبارہ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے لے آؤ اسے میرے پاس"
اس کا غصہ ایک دم ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا کچھ لمحہ بعد وہ سیاہ ہیل پر چلتی اس کے سامنے صوفے پر آ بیٹھی
"مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے"
صوفے پر ٹیک لگاتے اس نے ٹانگ پر ٹانگ جمائی جوف نے دلچسپی سے اسے دیکھا
"دوبارہ؟"
"ہاں"
"بولو کیسی مدد کروں اب میں تمہاری؟"
جوف نے بھی ٹیک لگا لی
"رابرٹ! اس کو نہیں معلوم کہ میں نے تمہارے آدمیوں کے ساتھ مل کر دو لوگوں کا قتل کیا ہے اگر اسے معلوم ہو گیا تو وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا وہ بے گناہ لوگوں کو نہیں مارتا جبکہ جن دو لوگوں کو میں نے مارا وہ بے گناہ نہیں تھے۔ ہیری وہ لڑکا۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ سے رابرٹ جیل چلا گیا اور دوسرا اس کی ماں، جو اس کو ہمارے جیسے لوگوں سے الجھتے ہوئے دیکھتی رہی اسے روکا نہیں وہ بھی رابرٹ کو جیل بھیجنے میں برابر کی قصوروار تھی اس لیے پہلے میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ تم نے میری بات سنی اور سمجھی"
وہ بولتی رہی اور وہ خاموشی سے سنتا رہا
"اب مجھے دوبارہ تمہاری مدد چاہیے میں نے کسی اور کو بھی ختم کرنا ہے پچھلے کئی عرصے سے وہ میرے اور رابرٹ کے درمیان آگئی تھی مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ رابرٹ کو مجھ سے چھین نہ لے اب میں اس کو مارنا چاہتی ہوں۔ یہ بات میں رابرٹ کو بھی نہیں بتا سکتی کیونکہ وہ یقین نہیں کرے گا۔ کیا تم میری مدد کرو گے؟"
دونوں ہاتھ باہم پھنسائے وہ آگے ہوئی
"ٹھیک ہے میں تمہاری مدد کروں گا لیکن بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟"
کچھ لمحہ اسے دیکھنے کے بعد جوف نے کہا
"میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم کیا چاہتے ہو میں وعدہ کرتی ہوں تم سے۔ جیسا تم کہو گے میں ویسا کروں گی"
"تمہیں پتہ بھی ہے جو دو ٹرک میں نے یہاں سے بھجوائے تھے وہ دونوں مافیا والوں کے قبضے میں ہیں تمہیں معلوم بھی ہے کہ میرا کتنا بڑا نقصان ہوا ہے۔ ایک ٹرک میں بچے تھے اور دوسرے میں وہ لڑکیاں تھیں جن کو مار کر میں کئی عرصے سے جمع کر رہا تھا ایک انسانی جسم کی قیمت کروڑوں میں ہے اور میرا اربوں میں نقصان ہوا ہے۔"
وہ تلملایا ہوا لگ رہا تھا۔
" اگر تم مجھ پر بھروسہ کرتے ہو تو میں تمہاری پوری مدد کروں گی میں وعدہ کرتی ہوں مجھے معلوم ہے کہ وہ قبضے میں آئے ٹرک کہاں بھجواتے ہیں میں تمہیں بتاؤں گی کہ کس وقت وہ لوگ ٹرک کہاں لے جائیں گے اس کے علاوہ میں تمہیں ایک اور خزانے کا بھی پتہ بتاؤں گی۔ کچھ دنوں تک اسلحہ اور منشیات سے بھرے بحری جہاز میکسیکو اور افغانستان بھیجے جائیں گے 'بلڈز گینگ' سے پہلے تمہیں وہاں پہنچنا ہو گا میں پوری کوشش کروں گی کہ بلڈز گینگ کو معلومات لیٹ سے لیٹ ملے تم سمجھ رہے ہو نا"
جوف جو دلچسپی سے سن رہا تھا ایک دم پرجوش ہو گیا
"ٹھیک ہے تم مجھے وقت دن اور جگہ بتا دینا میں پہنچ جاؤں گا اور ہاں جب بھی تمہیں میرے آدمیوں کی ضرورت ہو تم مجھے بس ایک کال کرنا"
وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی
"تھینکس جوف! میں بہت جلد تم سے رابطہ کروں گی مجھے اب چلنا ہو گا ورنہ رابرٹ اور باقی سب کو شک ہو جائے گا"
کہتے وہ پلٹی اور تیز تیز چلتے باہر نکل گئی
•••••
وہ دو اسپورٹس کار تھیں ایک سرخ، دوسری سیاہ بالکل ان کے جیسی سڑک کے اطراف میں ان کا پورا گینگ کھڑا تھا وہ دونوں بالکل تیار تھے ان دونوں گاڑیوں کے درمیان ذرا فاصلے پر کھڑی سنہرے بالوں والی لڑکی جس کے ہاتھ میں ایک گن تھی اس نے گن کا رخ اوپر کی طرف کیا
"کیا تم تیار ہو؟"
ارورا کے کان میں رابرٹ کی آواز ابھری
"تم سے زیادہ"
اس کے چہرے پر دلفریب سی مسکراہٹ پھیلی۔
جس سپیڈ سے گولی بندوق سے نکلی تھی اسی سپیڈ سے ان کی کاریں اس لڑکی کی اطراف سے نکلی تھیں
سڑک کے کنارے بنی ایک شاپ تلے کرسی پر بیٹھی وہ جوس کے گھونٹ بھر رہی تھی اس نے دور سے ان دو گاڑیوں کو جاتے دیکھا کچھ اس طرح گویا بس آخری دفعہ دیکھ رہی ہو کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے وہ مسکرائی
"آئی لو یو ارورا۔۔۔۔ آئی لو یو سو مچ"
وہ قاتلانہ ہنسی ہنسی۔ پھر جوس کا خالی کین دور اچھال دیا
"ہار مان جاؤ رابرٹ"
دونوں گاڑیاں آگے پیچھے ہو رہی تھیں جب ارورا کی گاڑی آگے نکلی تو اس نے رابرٹ سے کہا
"مجھے ہارنا منظور ہے ہار ماننا نہیں"
روبرٹ کی کار ایک دم ہی اس کی کار سے آگے نکلی تھی ارورا نے اسے آگے نکلتے دیکھ کر سپیڈ 180 تک بڑھا دی
انہوں نے برج کو پار کر کے دوسرے کنارے تک جانا تھا (بروک لین برج) جو نیویارک کا سب سے خوبصورت برج تھا سڑکوں پر بہت سی گاڑیاں چل رہی تھیں جنہیں وہ دونوں ہی مہارت سے اوور ٹیک کرتے آگے بڑھ رہے تھے اچانک ہی سگنل رکا تھا رابرٹ نے بروقت گاڑی روکی تبھی اس نے دیکھا ارورا کی سرخ کار گولی کی سی سپیڈ سے اس کے دائیں طرف سے نکلی تھی سڑک پار کرتے کچھ لوگ اچھل کر دور جا گرے
"ارورا کیا تم پاگل ہو گئی ہو؟"
اس نے تیکھے لہجے میں ارورا سے کہا۔ ریس اپنی جگہ اور قانون اپنی جگہ۔
"رابرٹ ایک مسئلہ ہو گیا ہے۔ گاڑی کے بریکس کام نہیں کر رہے"
اس کی آواز میں ہلکی سی بے چینی تھی
"کیا؟"
وہ بھونچکا ہوا
"ہاں رابرٹ میں پوری کوشش کر رہی ہوں مگر بریکس نہیں لگ رہے"
سگنل کھلتے ہی رابرٹ نے ایک جھٹکے سے گاڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی
"تم پریشان مت ہو بس سپیڈ کم کرو میں قریب آ رہا ہوں"
روبرٹ نے اس سے کہا
"سپیڈ بھی کم نہیں ہو رہی"
اس نے ایک اور دھماکہ کیا رابرٹ کا دماغ بھک سے اڑ گیا ان دونوں کی گاڑیاں برج تک پہنچنے والی تھیں اور تب ہی انہوں نے دیکھا برج پر ٹریفک جام ہے
"ایم سوری رابرٹ"
رابرٹ کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے اور دوسرے لمحے رابرٹ نے دیکھا ارورا کی گاڑی ایک جھٹکے سے ہوا میں اڑی تھی اور پھر اس نے دیکھا گاڑی تیزی سے دوسری طرف اڑتی پانی میں جا گری ہے
رابرٹ کو لگا اس کے جسم سے جان نکلنے لگی ہے اس نے اپنی گاڑی بہت پیچھے کھڑی کی سامنے گاڑیوں کی لمبی قطار تھی گاڑی سے نکل کر وہ اسی طرف بھاگا بہت سے لوگوں نے ایک کار کو پانی میں گرتے دیکھا تھا وہ سب کنارے پر کھڑے ہو کر نیچے گہرے پانی کو دیکھنے لگے رابرٹ نے ان کو دھکا دے کر پیچھے کیا پھر نیچے جھانکا جہاں کوئی نہیں تھا بس پانی کے ڈھیر سارے بلبلے تھے جو بنتے ہوئے پھٹ رہے تھے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ پانی میں کود گیا وہ دن کا سما تھا اگر رات ہوتی تو وہ گاڑی کبھی اسے نظر نہ آتی جو گہرائی کی طرف جا رہی تھی منہ میں ہوا بھرے وہ پوری جان لگا کر نیچے کی طرف تیرتا گیا گاڑی کے قریب پہنچ کر اس
نے اندر جھانکا گاڑی میں پانی بھر رہا تھا جو ارورا کی گردن تک پہنچ چکا تھا۔ زور سے دروازہ بجاتے رابرٹ نے اسے دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا گاڑی آہستہ آہستہ اور نیچے جا رہی تھی۔ ارورا جو کافی دیر سے دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی اس کا اشارہ سمجھ کر نفی میں سر ہلایا ایک دم ہی پانی کار کی چھت تک جا پہنچا تھا۔ رابرٹ نے تیزی سے تیر کر گاڑی کے پچھلے دروازے چیک کیے وہ بھی لاک تھے اس کی بے بسی میں مزید اضافہ ہو گیا لاک اندر سے کھل سکتے تھے مگر کھل نہیں رہے تھے اچانک ہی وہ ہاتھ کا مکا بنا کر شیشے پر مارنے لگا
وہ مضبوط شیشے تھے اس کے مکوں سے اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹنے والے تھے ارورا شیشے پر دونوں ہاتھ رکھے اسے دیکھے گئی اور تبھی اس نے جان لیا کہ وہ کبھی شیشے کے دوسری طرف نہیں جا سکے گی اس نے ہلکے سے شیشہ بجایا جس پر کئی ضربوں کے بعد ہلکی سی دراڑ پڑ گئی تھی رابرٹ نے چونک کر اسے دیکھا۔ نفی میں سر ہلاتے اس نے رابرٹ کو اوپر جانے کا اشارہ کیا مگر وہ مزید زور سے ضربیں لگانے لگا دفعتاً رابرٹ نے ارورا کے ہاتھوں کو شیشے سے ہٹتے دیکھا۔ ہاتھوں سے ہوتی اس کی نظر اس کے چہرے پر پڑی ارورا نے سانس لینے کے لیے یکدم منہ کھول دیا بہت سا پانی اس کی ناک اور منہ کے ذریعے اندر داخل ہوتا گیا رابرٹ نے دیکھا وہ بے جان سی ہوتی سیٹ پر گر گئی ہے تبھی اس نے اپنی گن نکالی اور شیشے پر فائر کر دیا گولی شیشے کو توڑتی ارورا کے اوپر سے گزرتی دوسرے شیشے میں پھنس گئی صرف ایک گولی سے ہی وہ شیشہ پورا ٹوٹ گیا اندر ہو کر اس نے ارورا کی کلائی تھام کر اپنی طرف کھینچا وہ بے جان سی اس کی طرف ہوئی دونوں ہاتھوں سے اسے پکڑ کر اس نے اسے کار سے باہر نکالا اس کا خود کا دم گھٹنے لگا تھا وہ کافی نیچے آ چکے تھے اسے پکڑ کر وہ پوری جان سے اوپر کی طرف تیرنے لگا اسے پورے پانچ منٹ لگے تھے باہر نکلنے میں جیسے ہی اس کا سر پانی سے باہر نکلا اس نے بے اختیار لمبا سانس لیا اس نے ادھر ادھر دیکھا دو عدد بڑی بوٹس اس کی طرف آ رہی تھیں پھر اس نے ارورا کو دیکھا جس کا سر اس کے کندھے سے لگا تھا اگلے دو منٹ میں وہ دونوں اس بوٹ پر تھے
"شیرف جلدی کرو"
وہ شیرف پر گرجا جو فون پر کسی سے بات کر رہا تھا شاید ڈاکٹر آنے والا تھا
وہ جدید ٹیکنالوجی سے بنی بوٹ تھی باہر سے جتنی خوبصورت تھی اندر سے کئی گنا زیادہ خوبصورت تھی بوٹ کے اندر کئی کمرے تھے وہ ارورا کو لیے ایک کمرے میں داخل ہوا اسے بیڈ پر لیٹا کر اس کا سانس چیک کیا وہ سانس نہیں لے رہی تھی اس کا خود کا سانس بند ہونے لگا اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کے اس نے دبایا ایک بار، دو بار، تین بار، کئی بار
ارورا کے منہ سے پانی نکلنے لگا
" میں دیکھتا ہوں آپ پیچھے ہوں"
ایک ڈاکٹر اس کے آدمیوں کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا
اسے فوراً پیچھے ہٹا کر اس نے ارورا کا معائنہ کیا وہ اپنے بیگ سے کچھ نکال رہا تھا رابرٹ نے دیکھا وہ اس کے آدمیوں کو بھی کچھ کہہ رہا تھا
اسے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا اس نے اسے نہیں دیکھا وہ بس سامنے لیٹی ارورا کو دیکھ رہا تھا وہ دو قدم چل کر اس کے اور ارورا کے درمیان آ گئی اس طرح کے بیڈ پر لیٹی ارورا پیچھے چھپ گئی
"تم ٹھیک ہو؟ تمہیں تو کچھ نہیں ہوا؟"
وہ آنکھوں میں بے چینی لیے پوچھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں دنیا جہان کا درد سمٹ آیا تھا ایک نظر اسے دیکھ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا
بوٹ کی منڈیر پر کھڑے ہو کر اس نے گہرے پانی کو دیکھا اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تیری
"ریلیکس راب وہ ٹھیک ہو جائے گی"
اس کے پیچھے آ کر کھڑی وہ جس دل سے بولی یہ وہی جانتی تھی
'آہ کاش وہ مر ہی جائے'
اس نے دل سے بددعا دی تھی۔
"مجھے اکیلا چھوڑ دو روزلی"
وہ مدھم مگر مضبوط آواز میں بولا
"میں جانتی ہوں کہ تم ڈسٹرب ہو ویسے اس نے خود کو کیوں مارنا چاہا؟ کیا اس نے تمہیں بتایا؟"
وہ اس کے برابر آ کھڑی ہوئی
"میں اسے ڈھونڈ لوں گا جس نے بھی اس کے ساتھ یہ سب کیا ہے اسے بہت جلد ڈھونڈ لوں گا اس کے بہت سے دشمن بن گئے ہیں جنہیں میں ختم کر دوں گا اور تم بھی جانتی ہو کہ میں ایسا کر سکتا ہوں"
اس نے شعلہ بار نظروں سے روزلی کو دیکھا جس کا حلق خشک ہو چکا تھا پھر وہ واپس پلٹ گیا
"وہ مرے گی رابرٹ وہ ضرور مرے گی آج نہیں تو کل میں اسے ختم کر ہی دوں گی اور تم نہیں جانتے کہ میں بھی ایسا کر سکتی ہوں"
اس کی پیٹھ کو دیکھتے وہ اس مچھلی کی طرح تڑپی تھی جسے کسی نے بے دردی سے پانی سے نکال کر تپتی زمین پر پھینک دیا ہو
☆☆☆
اسے تقریباً ایک ہفتہ ہو گیا تھا میوزک بار میں کام کرتے آمدنی زیادہ نہیں تھی مگر اتنی تھی کہ اس کا گزارا ہو رہا تھا ایک رات معمول کے مطابق جب وہ واپس جانے کے لیے اپنا سامان سمیٹ رہی تھی کہ بار کے مینیجر نے اسے اپنے پاس بلوایا
" تم بہت اچھا گاتی ہو مگر تم اتنا نہیں کما رہی جتنا تمہارا حق بنتا ہے یہاں سے تقریباً چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بہت بڑا میوزک ہال ہے میں تمہیں وہاں بھیجنا چاہتا ہوں وہ نیویارک کا سب سے مشہور میوزک ہال ہے صرف ایک رات کے لیے تم نے وہاں گانا گانے جانا ہے اور تمہیں اس کے بدلے اتنی رقم ملے گی کہ تم آرام سے اپنا چھوٹا موٹا کام شروع کر سکتی ہو۔"
وہ بنا پلک جھپکائے مینیجر کی بات سنتی رہی
"مگر سر آپ صرف مجھے کیوں بھیج رہے ہیں میں تو ایک عام سی لڑکی ہوں سنگر بھی نہیں ہوں اور پھر مجھے اتنی رقم کیوں ملے گی؟"
ذہن میں کلبلاتے سوال زبان پر آئے
"اس لیے تو تمہیں بھیج رہا ہوں کہ تم مشہور نہیں، مگر سنگر ہو اور اتنی رقم تمہیں مل رہی ہے تو تم خوش ہو جاؤ نہ کہ یہ سوچو کہ تمہیں یہ کیوں مل رہی ہے"
مینیجر نے اسے کہا اور وہ خاموش سی ہو کر وہاں سے چلی گئی
دو دن بعد وہ اس ہال میں موجود تھی اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے لے جایا گیا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ کون لوگ ہیں اور اسے ایسے کیوں لے کر آئے ہیں جہاں پر وہ بیٹھی تھی وہاں پر اس کے چاروں طرف سرخ کپڑا لٹک رہا تھا وہ کچھ بھی نہ دیکھ پائی بھاری قدموں کی آواز، ہنسی، قہقہے، پھول، خوشبو۔ یہ سب وہ سن اور محسوس کر رہی تھی بس دیکھ نہیں رہی تھی رات کے آخری پہر وہ فارغ ہوئی تھی جب اسے باہر لے جایا جانے لگا تو پھر سے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی
" کیا بکواس کر رہے ہو اس کی بہن اس وقت کہاں تھی مجھے معلوم کر کے دو کہ وہ اب کہاں ہے وہ زندہ نہیں رہنی چاہیے اگر وہ بھی اپنے بھائی کی طرح ہیکر نکلی تو ہم پھر سے مصیبت میں پھنس سکتے ہیں اس کے گھر جاؤ اور اسے ختم کر دو بس"
ایک لڑکی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی پہلے وہ ٹھٹک کر رکی پھر اس کا رنگ سفید ہوا اس نے ایک جھٹکے سے اپنی آنکھوں سے پٹی کھینچ کر اتاری اس کی نظر اس آواز کی سمت گئی وہاں بہت سے لوگ تھے جن میں ایک لڑکی بھورے سوٹ میں ملبوس تھی جس کے بال کندھوں تک تھے مگر اس کے ہاتھ میں کوئی موبائل نہیں تھا پھر اس کی نظر سرخ کپڑوں میں ملبوس ایک اور لڑکی پر ٹھہر سی گئی وہ کسی کا ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ رہی تھی اس نے اس آدمی کو دیکھنا چاہا مگر اس کا چہرہ ماسک میں ڈھکا ہوا تھا جبکہ لڑکی کا ماسک اس کے ہاتھ میں تھا تبھی کسی نے اس کا بازو پکڑ کر اسے گاڑی میں دھکیل دیا وہ منہ کھولے سانس روکے گاڑی میں بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی
"یہ۔۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔۔ لوگ کیا۔۔۔۔۔۔ وہی؟"
اس نے گاڑی کا شیشہ ہٹا کر گردن نکال کر پھر سے اس کی طرف دیکھا مگر وہ گاڑی وہاں سے غائب ہو چکی تھی
"وہ لوگ مجھے بھی مار دیں گے"
اس کا وجود تک کانپ گیا
☆☆☆
وہ دبے قدموں اکیلی اس گھر میں داخل ہوئی اس نے اپنا چہرہ ڈھک رکھا تھا اس کے ہاتھ میں بلاک 42 تھا اگلے پانچ منٹ میں اس نے پورا گھر چھان مارا مگر وہ کہیں نہیں تھی
"ضرور اسے معلوم ہو گیا ہوگا کہ وہ بھی مرنے والی ہے۔ میں نے اتنے دن کیوں اس بات کو لٹکائے رکھا۔ ڈیم اٹ"
کچھ دیر وہ سوچتی رہی پھر پھرتی سے دیوار پھلانگ کر وہاں سے غائب ہو گئی
گھر کے پچھلی طرف درخت کے پیچھے چھپ کر بیٹھی وہ کانپ رہی تھی اور ایسا کئی دنوں سے ہو رہا تھا کہ وہ چھپ رہی تھی۔
جاری ہے
Bloods ep 6 link 👇🖇️
https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/03/bloods-ep-6-by-munaza-niaz.html
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment